صحیح وسام مواد غذائی
فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ ۲۴أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ۲۵ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا ۲۶فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ۲۷وَعِنَبًا وَقَضْبًا ۲۸وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ۲۹وَحَدَائِقَ غُلْبًا ۳۰وَفَاكِهَةً وَأَبًّا ۳۱مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ۳۲
ذرا انسان اپنے کھانے کی طرف تو نگاہ کرے. بے شک ہم نے پانی برسایا ہے. پھر ہم نے زمین کو شگافتہ کیا ہے. پھر ہم نے اس میں سے دانے پیدا کئے ہیں. اور انگور اور ترکادیاں. اور زیتون اور کھجور. اور گھنے گھنے باغ. اور میوے اور چارہ. یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے لئے سرمایہ حیات ہے.
ایک نکته
صحیح وسام مواد غذائی
جو کچھ گز شتہ آیات میں انسانوں اور چوپایوں کے لیے آیا تھا وہ آٹھ قسم کے مواد غذائی تھے اور جاذب توجہ یہ ہے کہ وہ سب نباتات سے تعلق رکھنے والی غذائیں ہیں ۔ یہ اسی اہمیت کی بنا پر ہے جو انسانی غذا کے سلسلے میں ان اجناس میووں اور پھلوں سے وابستہ ہیں -
غور سے دیکھا جائے تو انسان کی حقیقی غذا یہی چیزیں ہیں۔ حیوانی غذائیں تو دوسرے درجہ پر ہیں اور بہت کم مقدار میں ہیں۔
یہاں جو کچھ اس قابل ہے کہ اس پر توجہ کی جائے وہ یہ ہے کہ اس زمانے کا غذا شناسی کا علم، جو ایک وسیع اور اہم علم ہے ، وہ حقیقت جس چیز کی تفصیل وتشریح کرتا ہے وہ وہی چیز ہے جو ان آیات میں آئی ہے۔ اس طرح وہ علم عظمت قرآن کو پیش کرتا ہے خصوصًا و مواد غذائی جس کا اوپر والی آیات میں ذکر ہوا ہے۔
خصوصا وہ غذائی مواد جن کا اوپر والی آیات میں تذکرہ ہوا ہے ، ان میں سے ہر ایک غذا شناسی کی رو سے بہت ہی اہم اور قیمتی ہے ، بہرحال ان امور پر غور و خوض انسان کو اس کے خلق کی عظمت اور نوع بشر پر اس کی مہربانیوں سے بہت زیادہ آشنا کرتی ہے۔ جی ہاں! غذائے جسمانی کے بارے میں غور و فکر اور اسی طرح روح کی غذا کے بارے میں دائرۂ علم کے لحاظ سے بھی اور اکتساب کے طریقوں کے اعتبارسے بھی جو غورفکر ہے وہ انسان کو معرفت خدا تعمیرذات اور تہذیب نفس کی راہ میں بہت آگے لے جاتا ہے۔
جی ہاں ! آدمی کو چاہیئے کہ وہ اپنی غذا کے بارے میں بہت زیادہ غور و فکر کرے۔ یہ مختصرساجملہ کس قدر پُر معنی ہے۔