Tafseer e Namoona

Topic

											

									  انسان کو چا هے که وه اپنی غذا کی طرف دیکھے

										
																									
								

Ayat No : 24-32

: عبس

فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ ۲۴أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ۲۵ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا ۲۶فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ۲۷وَعِنَبًا وَقَضْبًا ۲۸وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ۲۹وَحَدَائِقَ غُلْبًا ۳۰وَفَاكِهَةً وَأَبًّا ۳۱مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ۳۲

Translation

ذرا انسان اپنے کھانے کی طرف تو نگاہ کرے. بے شک ہم نے پانی برسایا ہے. پھر ہم نے زمین کو شگافتہ کیا ہے. پھر ہم نے اس میں سے دانے پیدا کئے ہیں. اور انگور اور ترکادیاں. اور زیتون اور کھجور. اور گھنے گھنے باغ. اور میوے اور چارہ. یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے لئے سرمایہ حیات ہے.

Tafseer

									  تفسیر 
          انسان کو چا هے که وه اپنی غذا کی طرف دیکھے 
 چونکہ گزشتہ آیات کا موضوع مسئلہ معادتھا اور یہ آیات بھی کافی زیادہ صراحت کے ساتھ اسی مسئلہ کی بات کرتی ہیں تو ایسا نظر آتا ہے کہ تم زیر بحث آیات نظریۂ معاد کی دلیل کے طور پر ہیں۔ 
 پروردگار عالم ان کا آیتوں میں ہر چیز پر خدا کی قدرت کو بیان کر کے ، اور اسی طرح مردہ زمینوں کی بارش کے نزول کے ذریعہ زندگی سے جو عالم گیاه و نباتات میں ایک قسم کا معاد ہے ، اس کا ذکر کرکے امکان قیامت کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ چونکہ یہ آیات انواع و اقسام کی ان غذاؤں کے بارے میں ہیں جو خدا نے انسانوں اور چوپاؤں کے اختیار میں دی ہیں اور ان کی گفتگو کر رہی ہیں لہذا پروردگار عالم انسان کی جس شکرگزاری کو انگیخت دیتا ہے اور اس کو اپنے منعم کی معرفت کی دعوت دیتاہے پہلے فرماتا:  
 "انسان کو چاہیئے کہ اپنی غذا کی طرف دیکھے کس طرح دانے سے پیدا کیا ہے" (فلينظر الانسان الى طعامه)۔ ؎1 
 خارجی اشیاء میں انسان کے سب سے زیادہ قریب اس کی غذا ہے جو کچھ تبدیلی کے بعد انسان کے بدن کا جزو بن جاتی ہے۔ اگر اس کا وہ غذا نہ پہنچے تو یہ بہت جلد فنا ہو جائے۔ اسی لیے قرآن نے تمام موجودات میں سے دن ایسے غذائی مواد پر انحصار کیا ہے جو گیاه و نباتات واشجار سے حاصل ہوتی ہے۔ 
 واضح رہے کہ دیکھنے سے مراد ظاہری طور پر دیکھنا نہیں ہے بلکہ اس مواد غذائی کی ساخت اور بناوٹ کے بارے میں اور اس کے حیات بخش اجزاءکے بارے میں اور عجیب و غریب اثرات پر جو وہ وجود انسانی پر مرتب کرتی ہیں، غور و فکر کرنا ہے۔ 
 اور یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد ظاہری طور پر نگاہ کرنا ہی ہے ، وه نگاہ کرنا لعاب دہن کے غدودوں کی تحریک کا باعث کرتا ہے ، وہ غلط ہے، اس لیے کہ قبل و بعد کی آیات کے قرینے سے اس قسم کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     ممکن ہے فلینظر کا جملہ شرط مقدر کی جزا ہو اور تقدیر میں اس طرح ہے ان كان الانسان في شك من ربه ومن البعث فلينظر الٰى طعامه - 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
 بہ احتمال بھی ہے کہ اس آیہ شریفہ میں طعام کے معنی وسیع ہیں اور نگاہ کرنے اور دیکھنے کے معنی بھی وسیع ہیں۔ اسی بناء پر مندرجہ بالا تینوں تفسیریں اس میں جمع ہوسکتی ہیں ۔ یہ کہ یہاں انسان سے مراد کون شخص ہے کے آخرواضح ہے کہ تمام انسان اس میں شامل ہیں . عام اس کہ مومن ہوں یا کافر سب کو چاہیے کہ اپنے مواد غذائی، ان کے عجابات اور ان میں پوشیده اسرار و رموز پر غور کریں تاکہ بے ایمان افراد کو حق کا راستہ ملے اور مومن افراد کی ایمان کی قوت میں اضافہ ہو۔ 
 واقعی مواد غذائی ،پھل ، غذائی اجناس اور سبزیوں میں سے ہرایک چشم بصیرت کے لیے ایک ایسی تعجب خیز دنیا رکھتے ہیں جس کا مدتوں مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور ان سے درس کی حاصل کیے جاسکتے ہیں جو تمام عمر ہمیں روشني دانش دے سکتے ہیں۔ 
 اس کے بعد اس غذائی مواد اور اس کے منابع کی تفصیلات بتاتے ہوئے فرماتا ہے: "ہم نے آسمان سےبہت زیادہ پانی پھینکا" (انا صببنا الماء صبًا). 
 "وصب" اوپر سے پانی پھینکنے کے معنوں میں ہے یہاں اس سے مراد پانی کا بارش کی صورت میں برسنا ہے۔ آیت کے آخرمیں "صبا" کی تعبیر تاکید کے لیے ہے اور اس پانی کی فرادانی پر دلالت کرتی ہے۔ 
 جی ہاں ! وہ پانی اور اہم ترین سبب حیات ہے ، ہمیشہ بہت زیادہ مقدار میں پروردگار کے لطف و کرم سے آسمان سے انزال ہونا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ تمام نہریں اور چشمے اور پانی کے کنویں اپنے پانی کے ذخائربارش ہی سے حاصل کرتے ہیں اور سب کا اصل سبب بارش کی ہے کہ:؎ 
   اگرباراں بہ کوہستان بنارو      بہ سال دجلہ گردوخشک رودے 
 اگر پہاڑوں پر بارش نہ ہو تو ایک ہی سال میں دجلہ خشک نالے میں تبدیل ہو جائے۔ 
 اس لیے مواد غذائی کے مطالعہ کے وقت ہر چیزسے پہلے انسان بارش کے نظام کے طرف متوجہ ہوتا ہےکہ کسی طرح سورج ہمیشہ دریاؤں کی سطح پرچمکتا ہے اور وہاں سے بادل اٹھتے ہیں ، ہوائیں انہیں چلاتی ہیں اور پھر سطح زمین سے دور ہونے کے باعث اور سردفضا کے علاقہ میں اپنے جانے کی وجہ سے دوبارہ پانی میں تبدیل ہو کر برستے ہیں، آب مصفی ،جوہر قسم کی مضر اور نمکین آلودگیوں سے پاک کرتا ہے وہ چھوٹے چھوٹے قطروں کی شکل میں یا برف کے ان نرم گالوں کی صورت میں جو آہستہ سے زمین کی طرف آتے ہیں اور گھاس اور درختوں میں جذب ہوجاتے ہیں ، زمین پر نازل ہوتا ہے ۔
 پانی کا ذکر کرنے کے بعد جو نبات کے روسیدہ ہونے کا ایک اہم سبب ہے، ایک اور رکن زمین کا رخ کرتا ہے اور مزید فرماتا ہے : "پھرزمین کو ہم نے شگافتہ کیا"  (ثم شققنا الارض شقًا)۔ 
   بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ یہ شگافتہ کرنا کونپلوں کے زریعہ زمین کے چیرنے کی طرف اشارہ ہے۔ واقعی یہ بہت ہی عجیب و غریب چیز ہے کہ کونپل اس نرمی اور لطافت کے با وجود سخت قسم کی مٹی کو چیر کر اور بھی پہاڑی پتھروں کے اندر سے اپنا سر باہر نکالتی ہیں خالق عظیم نے اس لطیف و کونپل میں کیا عظیم قدرت ودیعت کی ہے۔ 
 بعض مفسرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ انسانوں کے ہل چلانے کے ذریعے اور زمین کو شگافت کرنا مراد ہے حتی کہ ان کیڑوں کے زریعہ جو دوسرے حیاتی عوامل کے ہمراه ایک قسم کاہل چلانے کا عمل انجام دیتے ہیں. یہ ٹھیک ہے کہ ہل چلانا انسان کا کام ہے لیکن چونکہ اس کے تمام وسائل خدا نے اس کے اختیار میں رکھے ہیں لہذا اس کو خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔ 
 تیسری تفسیر جواس تعبیر کے لیے نظر آتی ہے اور کئی پہلوؤں سے قابل ترجیح ہے، یہ ہے کے زمین کے شگافتہ  
ہونے سے مراد اس کی مٹی کے پردوں کا ریزہ ریزہ ہونا ہے۔ 
 اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ ابتدا میں سطح زمین کو قشف عظیم اور بہت بڑے طبقہ نے پوشیدہ کررکھا تھا۔ پے در پے شدید بارشیں ہوئیں انہوں نے پتھروں کو شگافتہ کیا ، اس کے ذروں کو جدا کیا اور زمین کے حصوں میں اور اس کے کچھ گڑھوں میں وسعت پیدا ہوئی اور اس طرح مٹی کے قابل زراعت تودے تشکیل پائے اور اب بھی سیلاب اس کے کچھ حصوں کوتحلیل کرکے دریا میں ڈال دیتے ہیں لیکن نئی مٹی جو برف اور بارش کی وجہ سے از سر نوتشکیل پاتی ہے اس کی جگہ لے لیتی ہے ورنہ زراعی مٹی کامیاب ہوجاتی . 
 اس طرح یہ آیت قرآن کے ایک علمی معجزے کی طرف اشارہ کرکے بتاتی ہے کہ پہلے بارشیں ہوتی ہیں، پھر زمینیں شگافتہ ہوتی ہیں اور زراعت کے لیے تیار ہو جاتی ہیں . نہ صرف یہ کہ ابتدائی دنوں میں یہ عمل صورت پذیر ہوا تھا بلکہ آج بھی جاری ہے۔ 
 یہ تفسیر، اس وجہ سے کہ بعد والی آیت میں گیاه و نباتات کے اگنے کے مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے زیادہ مناسب نظر آتی ہے تینوں تفسیروں کا اجتماع میں کوئی تضاد یا قباحت نہیں رکھتا ۔ ان دو بنیادی ارکان یعنی باقی اور مٹی کے ذکر کے بعد آٹھ کی اگنے والی چیزوں کی طرف ، جو انسان اور حیوان کی غذا کے بنیادی ارکان ہیں، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: 
 "اس کے بعد ہم نے زمین میں بہت سے اجناس اگائے" (قابتنا فيها حبًا). غذائی اناج جوانسان اور مختلف حیوانات کی غذا کا اصلی ذریعہ و سبب ہیں وہ اگرخشک سالی کی بنا پر ایک سال ملیں تو قحط پڑجائے اور بھوک تمام جهان کو گھیرلے اور تمام انسانوں پر مصیبت پڑھاجاۓ۔ 
 "حبًا" کی تعبیر نکرہ کی شکل میں بیان عظمت یا ان اجناس کے مختلف الاقسام ہونے کی دلیل ہے اور یہ جو بعض مفسرین نے اس کی تفسیر گندم اور جو سے کی ہے، اس کے لیے کرتی دلیل موجود نہیں۔ اس لیے کہ اس تفسیر میں تمام اناج شامل ہیں بعد کے مرحلے میں مزید کہتا: ہے
 "اسی طرح انگور اور بہت سی سبنریاں"  (وعنبا وقضبا)۔ 

 "عنب"  تمام پھلوں میں سے انگور کا ذکر غذائی مواد کی فراوانی کی بنا پر ہے جو اس پھل میں پوشیدہ ہے اور اسے ایک مکمل غذا کی شکل میں لے آیا ہے (توجہ فرمائیں کہ عنب انگور کو بھی کہا جا تا ہے اور یہ انگور کی بیل کو بھی اور آیات قرانی میں اس کا دونوں پر اطلاق ہوا ہے لیکن یہاں مناسب انگور ہی ہے)۔ 
 "قضب" (بروزن جذب) اصل میں ان سبزیوں کے معنی میں ہے جنہیں مختلف موقعوں پر توڑتے ہیں۔ یہاں مختلف قسم کی کھائی جانے والی سبزلوں کے معنی میں ہے اور انگور کے بعد اس کا ذکراس غذائی مواد کی اہمیت کی دلیل ہے جں پر موجودہ غذا شناسی کے علم میں حد سے زیادہ انحصار کیا جاتاہے۔ کھبی قضب قطع کرنے اور توڑنے کے معنی میں آتا ہے اور لفظ قضيب درخت کی شاخ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سمیت قاضب شمشیرقاطع کے معنوں میں ہے ۔ 
 ابن عباس سے منقول ہے کہ قضب سے یہاں مراد "رطب" تروتازہ کھجوریں ہیں جنہیں درخت سے توڑتے ہیں لیکن یہ تفسیر بہت ہی بعید نظر آتی ہے، اس لیے کہ بعد والی آیت میں رطب کی طرف علٰیحدہ اشاره ہواہے۔ 
 بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی پیشں کیا ہے کہ قضب بوئے جانے والے پھلوں کے معنی میں ہے (کھیرا تربوزوغيره) ، با گیاه و نبات کی جڑوں کے معنی میں ہے۔ لیکن بعید نہیں ہے کہ یہاں قضب کے معنی وسیع ہوں جس میں کھائی جانے والی سبزیاں بھی شامل ہوں ، بوئے جانے والے پھل بھی اور غذائی جڑیں بھی (جو جڑ کی صورت میں ہوتی ہیں) (آلو پیاز وغیرہ) اس کے بعد مزید کہتا ہے:  " اور زیتون اور بہت سے کھجوروں کے درخت"۔ (وزیتونًا و نخلاً). 
 ان دو پھلوں پر انحصار کی دلیل بھی واضح ہے اس لیے کہ موجودہ زمانے میں ثابت ہو چکا ہے کہ زیتوان اور کھجوریں اہم ترین ، طاقت بخش، مفید اور صحت آفریں موادِ غذائی ہیں ، اس کے بعد کے مرحلے میں کہتا ہے: 
 "اور یہ درخت باغات" (انواع و اقسام کے پھلوں کے ساتھ ) ۔ (وحدائق غلبًا) - "حدائق "حدیقہ کی جمع ہے، ایسے باغ کے معنوں میں جس کے اطراف میں دیوار ہو اور وہ محفوط ہو۔ 
 یہ اصل میں زمین کے اس ٹکڑے کے معنی میں ہے جس میں پانی ہو یہ لفظ حدقہ چشم (آنکھ کے ڈھیلے) سے لیا گیا ہے جس میں ہمیشہ پانی رہتا ہے۔ چونکہ اس قسم کے باغات عام طور پر پھلدار ہوتے ہیں لہذا ہو سکتا ہے کہ جنت کے انواع و اقسام کے پھلوں کی طرف اشارہ ہو۔ 
 "غلب" (بروزن قفل) اغلب اور غلبا کی جمع ہے جس کے معنی موٹی گردن والے کے ہیں یہ اصل میں غلبہ کے مادہ سے لیا گیا ہے اور یہاں بند اور گھنے درختوں کے معنی میں ہے ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے: 
 "پھل اورچراگاہ" (وفاکھة وابًا)۔ "اپ" (ب کی تشدید کے ساتھ) خود روگھاس اور اس چراگاہ کے معنوں میں ہے جو جانوروں کے ساتھ خود روگھاس اور اس پرچراگاہ کے معنوں میں ہے جو جانوروں کے چرانے کے لیے ہو۔ یہ اصل میں آمادگی کے معنی دیتا ہے اور چونکہ اس قسم کی چراگاہیں استفادہ کی غرض سے تیار ہوتی ہیں، لہذا انہیں اب کہا گیا ہے۔ " 
 بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اب سے مراد ایسا خشک میوہ ہے جو سردی کے موسم کے لیے خشک کیا جا سکے اور اس کا ذخیرہ کیا جاسکے۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ فائده پہنچانے کے لیے مستعد ہوتا ہے۔ 
 بہت سے اہل سنت اور شیعہ مفسرین نے اس آیت کے تیل میں تحریر کیا ہے کہ ایک دن حضرت عمر منبر پر تھے انہوں نے ان آیتوں کی تلاوت کی۔ اس کے بعد کہا ان سب کو تو میں جانتا ہوں لیکن اب کیا چیز ہے اس کو میں نہیں جانا ۔ اس کے بعد وہ رصا جو ان کے ہاتھ میں تھا، اس کو ہاتھ سے رکھ دیا اور کہا خدا کی قسم! یہ ایک طرح کا تکلف ہے۔ کیسی مشکل ہے کہ تواب کے معنی نہیں جانتا ۔  (لوگوں کو مخاطب کرکے کہا) تم ان چیزوں کی پیروی کرو جو تمہارے لیے بیان کی گئی ہے اور ان ہی پر عمل کرو جس بات کو تم نہیں جانتے اور نہیں سمجھتے اسے اپنے پروردگار کے سپرد کردو۔ ؎1 
 یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وہ لفظ اب کے مفہوم کو پیچیدہ سمجھتے تھے، حالانکہ لغتوں کے متن کی طرف توجہ کرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا کوئی بھی مفہوم میں ہے۔ 
 تعجب کی بات یہ ہے کہ درالمنشور میں آیا ہے کہ یہی سوال حضرت ابوبکر سے بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اگر کتاب خدا کے بارے میں ایسی بات کہوں جے نہیں میں جانتا تو کونسا آسمان مجھ پر سایہ ڈالے اور کونسی زمین ہوگی جو مجھے قبول کرے گی۔ 
 یہ ٹھیک ہے کہ بہت سے اہل سنت علماء نے ان دو روایتوں سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کوئی شخص ایسے مسائل کے بارے میں جنہیں وہ نہ جانتا ہوخصوصًا کتاب اللہ کے بارے میں اگرنہ جانتا ہو تو کوئی بات نہ کرے۔ پھر بھی اس سوال کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ وہ شخص جو خلیفۃ الرسول اورخلیفة المسلمین کی حیثیت سے حکومت کرنا چاہتا ہو وہ اس لفظ کے معنی سے آگاه نہ جو متن قرآن مجید میں ہے اور جو معانی کے اعتبار سے کوئی خاص پیچیدگی نہیں رکھتا ۔ 
 یہ اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ ہر زمانہ میں ایک خدا کی رہبر لوگوں کے درمیان ہو جو شریعت کے تمام مسائل سے آگاہ ہو اور ہر خطا و اشتباہ سے مسئون ومعصوم ہے۔ اسی لیے اس حدیث کے ذیل میں جو مرحوم مفید نے ارشاد میں نقل کی ہے ہم پڑھتے ہیں کہ جس وقت یہ ماجرا امیر المومنین حضرت علی سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا : 
 سبحان الله اما علم ان الاب هوالكلاء والمرعى وان قوله تعالٰى " وفاكهة وابًا" اعتداد من الله بانعامه على خلقه فيها غذاهم به و خلقه لهم والانعامهم مما تجی به 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ 
  ؎1    تفسیر روح المعانی ، قرطبی ، فی ظلال القران ، درالمنشور اور المیزان زیر یحث آیات کے ذیل میں۔ 
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
انفسهم وتقوم به اجساد مهم) " عجیب بات ہے کیا وہ نہیں جانتا کہ اب خود رو گھاس اور چراگاہ کے معنی میں ہے اور یہ ہے کہ " وفاكهة وابا" کا جملہ خدا کی اپنے بندوں پر عنایت ہے اس اعتبار سے کہ اس نے انہیں غذائی مواد دیئے ہیں اور انہیں ان کے لیے اور ان کے چوپایوں کے لیے ایسی چیزوں میں سے پیدا کیا ہے جو ان کی زندگی کا سبب اور ان کے جسم کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ؎1 
 یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ گزشتہ آیات میں جس میں بعض پھل خصوصیت کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں اور یہاں بطور کلی کھیل پیش کیا گیا ہے اور اس سے قطع نظر گزشتہ آیت میں جب میں باغوں کی بات بھی باظاہرباغوں کے پھل پیش نظر تھے، تو پھر یہاں میوے اور پھل کو کسی لیے پیشں کیا گیا ہے۔ہم جواب میں کہتے ہیں کہ بعض پھلوں کا خصوصیت کے ساتھ بیان ہواہے مثلاً انگور، زیتون اور خرما وغیرہ کا (درخت نخل کے قرینہ کے پیش نظر) تو یہ ذکر ان پھلوں کی حد سے زیادہ اہمیت کی بنا پر ہواہے ۔ ؎2 
 اب رہی یہ بات کہ "فاكهة" (پھل) ان کا "حدائق"  (باغات) سے الگ کیوں ذکر ہوا ہے تریہ ممکن ہے اس بنا یہ ہے کہ باغات پھلوں کے علاوہ دوسرے منافع بھی رکھتے ہیں اور ان کے خوبصورت منظر ہوتے ہیں، خوشگوار ہوا ان میں ہوتی ہے اور اس قسم کی دوسری چیزیں۔ 
 اس سے بھی قطع نظربعض خود رو درخت کی بجائے خود اور کچھ کی جڑیں اور چھلکے غذا کے طور پر استعمال  ہوتے ہیں (مثلاً چائے ، زنجبیل، دارچینی وغیرہ) اس کے علاوہ بہت سے درختوں کے پتے حیوانوں کے لیے مناسب خوراک کا کام دیتے ہیں۔ 
 ہمیں معلوم ہے کہ جو کچھ گزشتہ آیات میں آیا ہے اس میں انسان کی خوراک بھی شامل ہے اور حیوانات کی بھی۔ اسی لیے بعد والی آیت میں جو آخری زیربحث آیت ہے مزید کہتا ہے: 
 "تاکہ تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ ہوں"  (متاعًا لكم ولأنعامكم )۔ متاع ہر وہ چیز ہے جس سے انسان متمتع ہو اور فائدہ اٹھائے۔

۔--------------------------------------------------------------------------
  ؎1 ، ؎2       ارشاد مفید مطابق  نقل المیزان ، جلد 20 ص 319۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------