صرف پاک لوگوں کا ہاتھ قرآن کے دامن تک پہنچتا
كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ۱۱فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ۱۲فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ ۱۳مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ ۱۴بِأَيْدِي سَفَرَةٍ ۱۵كِرَامٍ بَرَرَةٍ ۱۶قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ۱۷مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۱۸مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ۱۹ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ۲۰ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ۲۱ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنْشَرَهُ ۲۲كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ ۲۳
دیکھئے یہ قرآن ایک نصیحت ہے. جس کا جی چاہے قبول کرلے. یہ باعزّت صحیفوں میں ہے. جو بلند و بالا اور پاکیزہ ہے. ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں. جو محترم اور نیک کردار ہیں. انسان اس بات سے مارا گیا کہ کس قدر ناشکرا ہوگیا ہے. آخر اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے. اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر اس کا اندازہ مقرر کیا ہے. پھر اس کے لئے راستہ کو آسان کیا ہے. پھر اسے موت دے کر دفنا دیا. پھر جب چاہا دوبارہ زندہ کرکے اُٹھا لیا. ہرگز نہیں اس نے حکم خدا کو بالکل پورا نہیں کیا ہے.
تفسیر
صرف پاک لوگوں کا ہاتھ قرآن کے دامن تک پہنچتا
گزشتہ آیات کے بعد جن میں گفتگو اس شخص کی سرزنش کے بارے میں تھی جس نے ایک حق طلب نابینا کی طرف توجہ کم کی تھی ،ان آیات میں قرآن مجید کی اہمیت ،
اس کے پاک مبداء اور اس کی نفوسں میں تاثیر کے مسئلہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے:
ہرگز اس کام کی تکرار نہ کر اور اس کو ہمیشہ کے لیے بھول جا۔ " کلا" ۔ یہ آیات چونکے خلق خدا کے تذکرو یاد آوری کا وسیلہ ہیں" (انهاتذكرة) ۔ ؎1
۔------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "انها" کی ضمیر جو مونث ہے آیات قرآن کی طرف لوٹتی ہے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------
اس چیز کی ضرورت نہیں کہ پاک دل مستضعفین سے غافل ہو کر اثر و رسوخ رکھنے والے مغرور افراد پر توجہ دے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ "کلا انها تذكرة" کا جملہ
مشرکین اور دشمنان اسلام کی ان تمام نعمتوں کا جواب ہو جو قرآن کے بارے میں تھیں۔ کبھی اسے شعر کہتے تھے، کبھی جادو کبھی اس قسم کی کہانت. قرآن کہتا ہے ان تہمتوں میں سے
کوئی بھی صحیح نہیں ہے بلکہ یہ آیات بیداری ، آگاہی ، یاد آوری اور ایمان کا وسیلہ ہیں اور اس کی دلیل و خود انہی میں پوشیدہ ہے اس لیے کہ جو شخص بھی اس کے نزدیک ہوتا ہے،
سوائے معاندین ، کج بحث اور ہٹ دھرم افراد کے، وہ یہ اثر اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد مزید کہناہے: ۔
"جو شخص چاہے اس سے پند و نصیحت حاصل کر سکتا ہے"۔ (فمن شاء ذكرهه) ۔ ؎1
تعبیر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جبر و اکراه درمیان میں نہیں ہے اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ انسان اپنے ارادے میں آزاد ہے۔ جب تک وہ نہ چاہے اور قبول ہدایت کا مصمم ارادہ نہ
کرے آیات قرآنی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
اس کے بعد مزید فرماتا ہے: "خدا کے یہ عظیم کلمات بیش قیمت صحائف میں ثبت ہیں"۔ (الواح و اوراق میں) (قي صحف مكرمة)۔
"صحف" صحیفہ کی جمع ہے جو لوح، تختی ، ورقہ یا کوئی اور چیز ہے جس پر کسی مفہوم کو لکھتے ہیں ، یہ تعبیر بتاتی ہے کہ آیات قرآن پیغمبر اکرم پر نزول سے
پہلے کچھ الواح پر بھی لکھی ہوئی تھیں اور وحی کے فرشتے انہیں اپنے ساتھ لے کرآتے تھے۔ بہت کی گراں قدر اور بیش قیمت الواح تھیں۔
یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے ا ن سے مراد گزشتہ انبیاء کی کتب ہیں غالبًا یہ قبل و بعد کی آیات سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ اسی طرح ہے یہ جو کہا گیاہے کہ اس
سے مراد لوح محفوظ ہے وہ بھی مناسب نظر نہیں آتا کیونکہ لفظ صحف صیغۂ جمع کی شکل میں لوح محفوظ کے بارے میں استعمال نہیں ہوا۔ اس کے بعد فرماتا ہے:
"یہ صحائف والواح بیش انسانیت اور پاکیزہ ہیں" ۔ (المرفوعة مطهرۃ)۔ یہ اس سے بالا تر ہیں کہ نا اہلوں کے ہاتھ ان کی طرف بڑھیں یا ان میں تحریف کرنے کی ان میں
طاقت ہو ۔ اور یہ اس سے زیا وہ پاک ہیں کہ نا پاک لوگوں کے ہاتھ انہیں آلودہ کریں ۔ نیز قسم کے تناقص، تضاد اور شک و شبہ سے پاک ہیں ۔ اس سے قطع نظر یہ آیات الٰہی سفیروں کے
ہاتھ میں ہیں۔ (بایدی سفرة )۔ (بلند مقام مطیع و فرماں بردار اورنیکو کار سفیر (كرام بررة )۔
"سفرة" (بر وزن طلبہ) سفر کے مادہ سے مسافر کی جمع ہے جس کے معنی اصل میں کسی چیز کے رخ
۔-------------------------------------------------------------- -----------------------------------------------------------------------------------------------
؎ 1 "ذكرة" کی ضمیر اسی چیز کی طرف لوٹتی۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں مراد آیات ہیں لٰہذاضمیر مؤنث ہے اور یہاں خود قرآن کی طرف اشارہ ہے اور مذکورلفظی ہے۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
سے پردہ اٹھانے کے ہیں ۔ اسی لیے وہ مختلف اقوام کے درمیان آمدورفت رکھتے ہیں اور ان کی مشکلات دیکھے ہیں اور مبہم باتوں سے پردہ اٹھاتے ہیں انہیں سفیر
کہا جا تاہے لکھنے والے شخص کو بھی مسافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ کسی مطلب کے رخ سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسی بنا پر ان سفرہ سے مراد الٰہی فرشتے ہیں جو وحی کے سفیر ہیں یا
خدا کی آیات لکھتے ہیں۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ سفرہ سے مراد یہاں قرآن کے حافظ قاری اور کاتب اور علماء و دانشمند ہیں جو آیات الٰہی کو ہر زمانے میں شیاطین کی دسترس سے
محفوظ رکھتے ہیں ۔لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے اس لیے کہ ان آیات میں گفتگو زمانۂ نزول وحی یعنی عصر پیغمبر سے ہے کہ آئندا سے۔
ایک حدیث ہمیں امام جعفرصادق کی ملتی ہے آپ نے فرمایا : الحافظ للقران العامل به مع السفرة الكرام البرة :- جو شخص قرآن کا محافظ مفسر اور اس پر عمل کرے تو وہ
اسفرہ کے عظیم فرمانبرداروں کے ساتھ ہوگا۔ یہ تعبیر اچھی طرح بتاتی ہے کہ قرآن کے حافظ ، مفسر اور اس پر عمل کرنے والے ان سفرہ کے ہمراہ ہیں ۔ ؎1
نہ یہ کہ یہ خود وہ ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس وقت یہ علماء اورحا فظين قران فرشتوں سے ملتا جلتا کوئی کام انجام دیں تو ان کے برابر قرارپائیں گے۔
بہرحال اس ساری گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام وہ لوگ جو حافظ قرآن اور احیائے طالب قرآن کی کوشش کرتے ہیں وہ (اکرام برره) کی طرح بلند منزلت کے حامل
ہیں ۔ "کرام" کریم کی جمع ہے جو عزیز و عظیم کے معنی میں ہے اور بارگاہ خدا میں وحی کے فرشتوں کی عظمت اور ان کے مقام کی رفعت کی طرف اشارہ ہے۔ کبھی کہا گیا ہے کہ
تعبیران کی ہر قسم کے گناہوں سے پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سوره انبیاء کی آیت 26، 27 میں فرشتوں کی تعریف میں آیا ہے (بل عباد مكرمون لا يسبقونه بالقول و هم با مرہ
يعملون)۔ "وہ خدا کے باعزت گرامی قدر ہندے ہیں جو بات کرنے میں کبھی اس سے سبقت نہیں کرتے اور ہمیشہ اس کے اوامر کا اجراء کرتے ہیں "۔
"بررة" بار کی جمع ہے (مثل طالب وطلبه) یہ "بر" کے مادہ سے ہے جس کے معنی وسعت کے ہیں۔ اسی لیے وسیع صحرا کوبر کہتے ہیں اور چونکہ نیکوکار افراد کا
وجود وسیع ہے اور اس کی برکتیں دوسروں تک پہنچی ہیں لہذا انہیں "بار" کہا گیا ہے۔
البته زیر بحث آیت میں نیکوکاری سے مراد امرالٰہی کی اطاعت اور گناہوں سے پاک ہونا ہے ۔ اسی طرح خدا نے فرشتوں کی تین صفتوں کے حوالے سے توصیت کی
ہے ۔ پہلی یہ کہ وہ وحی کے سفیر اور حامل ہیں ۔ دوسری یہ کہ ذاتی طور پر عزت دار اور گراں قدر ہیں ۔ ان کی تیسری صفت اعمال کی پاکیزگی، عبادت گزاری ،
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان، جلد 10 ص م438 -
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------تسلیم اور نیکوکاری ہے۔ اس کے بعد مزید
کہتا ہے :
ہدایت الٰہی سے متعلق ان تمام اسباب کے باوجود جوصحف مکرمہ میں مقرب خدا فرشتوں کے ذریہ انواع و اقسام کے تذکروں کے ساتھ نازل ہوتے ہیں پھر بھی یہ
سرکش اور ناشکر گزار انسان پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا۔ "قتل ہو جائے یہ انسان کس قدر کا فرو ناشکراہے"۔ (قتل الانسان ما اكفره)۔ ؎1
کفر یہاں ممکن ہے کہ عدم ایمان کے معنی میں، یاناشکر گزاری اور کفران نعمت کے معنوں میں یا حق پر ہر قسم کا پردہ ڈالنے کے معنی میں ہو اور مناسب یہی جامع
معنی ہیں کیونکہ گزشتہ آیات میں اسباب ایمان و ہدایت کی گفتگو تھی.
بعد والی آیت میں ہے وارڈ کا مریکی انواع و اقسام کی نعمتوں کی بات ہے ہرحالی به آن افراد پر موت کی نجیر سے مراد اس کے وہ معنی ہیں جو بلور گناہی حاصل ہوتے
ہیں بینی به شدت غضب تركا المان ہے ان افراد کے بارے میں جو کافر اور نا شکر گزار ہیں ۔ چونکہ عام طور پر سرکشی کا مسرحیمہ کروا کر تا ہے سزا اس غرور کو ختم کرنے کے لیے
بعد والی آیت میں فرماتاہے: ۔
"خدا نے اس انسان کو کس چیز سے پیدا کیا ہے" ۔(من ای شیء خلقه) ۔ "اسے ناچیز وحقیربے قیمت نطفہ سے پید کیا ہے پھر اسے موزوں بنایا اور تمام مرحلوں میں اس
کا حساب رکھا" ( من نطفة خلقه نقدرہ) - یہ انسان اپنی حقیقی خلقت کے بارے میں کیوں غور نہیں کرتا اور اپنے بنیادی سرچشمہ کی بےقیمتی کو فراموش کیوں کیے ہوئے ہے اور پھر اس
نطفہ ناچیز سے اس نادر وجود کی تخلیق کے سلسلہ میں خدا کی کا قدرت پر غور کیوں نہیں کرتا۔ اس لے کہ نطفہ سے انسان کی تخلیق میں وقت اور اس کی تمام وجودی جہتوں کا حساب،
اس کے پیکر کے اعضاء ، اس کی استعدادیں اور اس کی ضرورتیں یہ سب معرفت خدا کے لیے بہترین دلیلیں ہیں ۔
"قدرہ" کا جملہ تقدیر کے مادہ سے ناپ ترال اور موزوں بنانے کے معنی میں ہے ۔ اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ وجود انسانی کی ساخت میں سب سے زیادہ دھاتیں اور
دھات سے ملتی جلتی چیزیں استعمال ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک مقدار اور کیفیت کے لحاظ سے معین و مقرر اندازه رکھتی ہے۔ اگر اس میں کمی و بیشی واقع ہو تو انسانی وجود کا نظام
درس برم ہو جائے۔ اس سے قطع نظراعضائے بدن کی ساخت کی کیفیت اور ان کا ایک دوسرے سے تناسب و ارتباط دقیق اندازه پرمشتمل ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "قتل الانسان" کی تعبیر اسی قسم کی بد دعاہے اور زمخشری کے بقول (کشاف میں) یہ بدترین قسم کی نفرین ہے اور"مااکفرہ" میں لفظ ما تجب کے اظہار کے لیے ہے۔ اس
پرتعجب ہے کہ تمام اسباب ہدایت رکھتا ہے اور خدا کی نعمتیں بھی اسے حاصل ہیں پھر بھی کفر کی راہ اختیار کرنا ہے۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نیزوه استعداد یں اور میلانات جو انسان میں انفرادی طور پر ہیں اور مجموعه جہان بشریت میں چھپے ہوۓ ہیں، ضروری ہے کہ خاص حساب کے مطابق ہوں تاکہ
سعادت انسان کی تکمیل کریں۔
خدا وہ ہے جس نے یہ تمام حساب اس حقیر نطفہ میں انجام دیا ۔ وہ نطفہ جو اس قدر چھوٹا ہے کہ اگر تمام انسانی افراد کی تعداد کے مطابق زندگی کے اصلی سیل
(CELL) جو نطفہ کے پانی میں تیر رہے ہیں ایک جگہ جمع کر دیئے جائیں تو انگلی کی ایک پور کو پُر نہیں کر سکتے۔
جی ہاں ! اس قسم کے چھوٹے سے وجود میں خدا نے ان سب بدائع اور نقوش کی تصویرکشی کی ہے اور انہیں اس میں ودیعت کیا ہے۔ بعض مفسرین نے تقدیر کے
معنی آمادہ کرنا تجویز کیے ہیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ تقدیر سے مراد اس ناچیز نطفہ میں ایجاد قدرت ہے وہ خدا کتنا عظیم ہے جس نے اس معمولی سے وجود کو یہ سب قدرت و توانائی
بخشی ہے جو آسمان و زمین اور سمندروں کی گہرائیوں کو اپنی جولاں گاہ بنا سکتا ہے اور اپنے گردو پیش کی تمام توانائیوں کو زیر تسلط لا سکتا ہے۔ ؎1
ان تینوں تفسیروں کے درمیان جمع ممکن ہے. اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے:
"پھرراستے کو اس کے لیے آسان کر دیا" (ثم الببل يره)۔ شکم مادر میں جنین کی پرورش اس کے تکامل و ارتقاء اور اس کے بعد اس دنیا کی طرف اس کے منتقل کرنے
کوسہل و آسان بنا ديا۔ انسان کی پیدائش کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ پیدا ہونے کے لمحات سے پہلے وہ شکم مادر میں اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا سراوپر کی طرف ہوتا ہے اور اس
کا چہرہ ماں کی پشت کی جانب اور اس کے پاوں رحم کے نیچے حصه میں ہوتے ہیں لیکن جب تولدکا فرمان صادر ہوتا ہے تو وہ اچانک الٹا ہوجاتا ہے اس کا سر نیچے کی طرف ہو جاتا ہے
اور یہی صورت حال اس کی پیدائش کو اس کے اور اس کی ماں کے لیے آسان بنا دیتی ہے۔ البتہ بعض اوقات ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو سر کی بجائے پاوں کی طرف سے متولد ہوتے
ہیں اور ماں کے لیے مشکلات پیدا کردیتے ہیں۔
پیدائش کے بعد بھی بچپن کے دور میں جسم کی نشوونما پھررشد و بلوغ و عرائز کی نشوونما کو اس کے لیے آسان بنا دیا ہے اس کے بعد بدایت معنوی اور حصول ایمان
کو عقل اور دعوت انبیاء کے ذریعہ سہال کر دیا ۔ کیسا جامع اور جاذب توجہ جملہ ہے جو مختصر ہونے کے باوجود ان تمام معاملات کی طرف اشارہ کرتاہے " ثم السبيل يره" یہ نکتہ بھی
قابل توجہ ہے کہ فرماتا ہے:
"راہ کو انسان کے لئے آسان کیا" یہ نہیں فرماتا کہ اس کو اس راستے کے طے کرنے پر مجبور کیا ۔ یہ انسان
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 راغب نے مفردات میں کہا ہے "قدره بالتشديد: اعطاه القدرة يقال قدرني الله على كذا و قوانی علیہ" اس بناپرتقدیر کا مادہ عطائے قدرت و قوت کے معنی میں بھی آیا ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کے ارادہ کی آزادی اور اختیار کے بارے میں دوسری تاکید ہے ۔ پھراس طولانی راہ کو طے کرنے کے بعد انسان کی عمر کے اختتام کے مرحلہ کی طرف اشارہ ہے ۔ فرماتا ہے:
"پھراس کو مارتا ہے اور قبر میں پہناں کرتا ہے"۔ (ثم اماته فاقبره) - یقینًا (اماته) مارنا خدا کا کلم ہے لیکن قبرمیں پنہاں کرنے کا کام ظاہرًا انسان سے متعلق ہے لیکن
چونکہ اس کام کے لیے عقل و ہوش اور اسی طرح دوسرے وسائل کو خدا نے فراہم کیا ہے لہذا اس کام کی خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے۔
بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کام کے خدا کی طرف نسبت دینے سے مراد یہ ہے کہ اس نے انسان
کے لیے قبر کوخلق کیا ہے اور اور مٹی کے اندر کا حصہ ہے اور بعض نے اس کی میتوں کے دفن کرنے کے سلسلہ میں حکم تشریعی اور دستور الہی کے معنوں میں لیا ہے۔
بہر حال نوع بشر کے بارے میں الٰہی احترام میں سے ایک یہی چیز ہے یعنی ان کے اجسام کو دفن کرنا اس لیے کہ اگر دفن کرنے کا کوئی سلسلہ نہ ہوتا، یا اس کے
بارے میں کوئی حکم صادرنہ ہوتا اور بدن اتسانی زمین پر رہ جاتا اور بدبودار ہو جاتا اور اس کے بعد درند و پرند کا لقمہ بنتا توکیسی عجیب قسم کی ذلت و خواری تھی۔
اس بنا پر نہ صرف اس دنیا میں انسان کے حال پر اللہ کا کرم ہے بلکہ موت کے بعد بھی اس کا کرم اس کے شامل حال ہے۔ اس سے قطع نطر مردوں کے دفن کرنے کا
حکم (غسل و کفن و نماز کے بعد) ایک الہام بخش دستور ہے ۔اس کی رو سے انسان کے مردوں کو ہر طرح سے پاک و محترم ہونا چاہیے. زنده تو بہرحال ان سے بہتر ہیں۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں موت کواللہ کی نعمتوں میں شمار کیا گیا ہے. اگر وقت نظرسے کام لیا جائے تو صورت حال اسی قسم کی ہے، اس لیے کہ
اول تو موت اس دنیا کی تکالیت سے رہائی کی تمهیدہے۔ اس کے بعد انسان ایک دوسری دنیا میں منتقل ہو جاتا ہے جو بہت زیادہ وسیع ہے۔ دوسرے یہ کہ موجود نسل کی موت آنے والی
نسلوں کے لیے جگہ کے وسیع ہونے کا سبب بنتی ہے اور نوع انسانی کے تکامل حاصل کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔
اگریہ صورت حال سے نہ بوتو دنیا انسانوں کے لیے اس قدر تنگ ہو جاتی کہ روئے زمین پر زندگی گزارنا غیرممکن ہو جاتا۔ جاذب توجہ ہی بات ہے کہ ایک لطیف
اشاره کے ضمن میں سورہ رحمن کی آیت 26سے لے کر 28 تک فرماتا ہے:
(كل من عليها فان ويبقٰى وجه ربك ذوالجلام والاكرام فبای الاء ربكما و تكذبان)۔ " تمام وہ لوگ جو روئے زمین پر زندگی بسر کرتے ہیں مرجائیں گے صرف تیرے
پروردگار کی ذات گرامی و پُرجلال باقی رہ جائے گی پس تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے"۔
ان تینوں آیتوں کے مطابق موت خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جی ہاں! دنیا اپنی تمام نعمتوں کے باوجود مومن کے لیے ایک زندان ہے اور اس دنیا سے نکلنا
اس زندان سے آزاد ہونا ہے ۔ اس سے قطع نظر خدا کی عطا کی ہوئی بہت زیادہ نعمتیں بعض اوقات کسی گروہ کے لیے غفلت کا سبب بن جاتی ہیں اورموت کی یاد غفلت کے پردے ہٹا دیتی
ہے۔ لٰہزا موت اس لحاظ سے بھی تنبیہ کرنے والی اور خبردار کرنے کی نعمت ہے ۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر دنیاوی زند گی اگر جاری ر ہے تو وہ یقینًا انسان کو تھکا دینے والی ہے ۔
بر خلاف زندگی اخروی کے کہ وہ سراپا نشاط وخوشدل ہے ۔ ؎1
اس کے بعد انسانوں کے قبر سے اٹنے کے مرحلہ کو پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے:
"اس کے بعد جب چاہے گا اسے زندہ کر کے حساب اور جزا و سزا کے لیے محشور کر ے گا" (ثم اذا شاء انشره)۔
"انشره" انشار کے مادہ سے جمع کرنے کے بعد پھیلا نے کے معنی میں ہے ۔ یہ بڑی عمده تعبیر ہے جو یہ بتاتی ہے کہ موت کے بعد انسانوں کی زندگی کلی طور پر
جمع ہو جائے گی اور قیامت میں زیادہ عظیم اور بہتر ماحول میں ہو گی ۔
قابل توجہ یہ ہے کہ مرنے اور قبریں پنہاں ہونے کے مسئلہ میں مشیت الہی کی تعبیر سے کام لیا گیا ہے لکین یہاں کہتا ہے : "جس وقت خدا چاہے گا اسے زندہ کرے
گا" تعبیر کا یہ فرق ہو سکتا ہے کہ اس بنا پر ہو کہ کوئی فرد اس عظیم حادثہ (قیامت )کی تاریخ سے با خبر نہیں ہے صرف خدا کی جانتا ہے لیکن موت کے بارے میں اجمالی طور پر معلوم
ہے کہ انسان عمر طبعی کا ایک حصہ طے کرنے کے بعد، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے، اسے ضرور موت آئے گی ۔
آخری زیر بحث آیت میں فرماتا ہے انسان نے ان تمام نعمتوں کے با وجود اسی دن سے لے کر جس دن یہ بے قیمت نطفہ کی شکل میں تھا اس دن تک جب اس دنیا میں قدم
رکھا اور اپنی راہ کمال طے کی پھر اس دنیا سے وہ چلا گیا اور قبرمیں پنہاں ہو گیا اور اس نے اپنی صحیح راہ اختیارنہیں کی۔ "اس طرح نہیں ہے جیسا وہ خیال کرتا ہے اس نے ابھی تک
فرمان الٰہی کو انجام نہیں دیا" (كلا لما يقض ما اصرہ)۔ ؎2
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 شاعر کہتا ہے: من ازدو روزه عمرآمدم یہ جہاں اےخضر چہ می کنی تو کہ یک عمرجاوداں داری
بے حضرا! میں دو دن کی زندگی سے تنگ آگیا ہوں ، آپ کا کیاحال ہوگا جنہیں عمر جاودانی ملی ہے۔
؎2 بعض نے یہاں کلا کی تسفیر حقا کی ہے لیکن ظاہریہ ہے کہ میں اپنے مستهور ومعروف معنی لیے ہوئے ہے اور "ردع" کے معنی میں ہے اس لیے کہ بہت سے کوتاہ ہیں افراد
یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا کے معاملہ میں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں انجام د ے دی ہیں ۔ آیت کہتی ہے ایسا نہیں ہے جیسا وہ سوچتے ہیں۔
انھوں نے ابھی تک اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
"لما" کی تعبیر جو عام طور پر انتظار اور نفی کے پہلو کو لیے ہوئے ہوتی ہے اس سے اس طرف اشاره ہے کہ تمام الہی نعمتوں کی موجودگی سے اور بیداری کے اُن
تمام وسائل کے ہوتے ہوئے جو انسان کے اختیار میں ہیں یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ امرالہی کی اطاعت میں بہت زیادہ کوشاں ہوالیکن تعجب کی بات ہے کہ اس نے ابھی تک اس ذمہ داری
کو پورا نہیں کیا۔
یہ بات کہ انسان سے مراد یہاں کون سے افراد میں اس کے بارے میں دو تفسیریں پہلی یہ کہ اس سے مراد وہ انسان میں کفر، نفاق ، انکار اورظلم وعصیاں کی راہ پر
گامزن ہیں ، سوره ابراہیم کی آیت 34 کے قرینہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے جس میں فرماتاہے :
(ان الانسان لظلوم کفار) "انسان بہت ہی ظالم کافراور ناشکرگزارہے"۔ دوسری تفسیر یہ ہےکہ اس میں بہت انسان شامل ہیں، اس لیےکہ کسی شخص نے بھی ، عام اس
سے کہ مومن ہویا کافرحق عبودیت و بندگی کو اس طرح ادا نہیں کیا جس کی عظمت خدا مستحق ہے جیسا کہ کہتے ہیں :
بندہ ہماں بہہ کہ تفصیر خویش عذر بہ درگاہ خدا آورد
ورنہ سزا وار خدا وندش کس نتو اند کہ بجاآورد
وہی بندہ اچھا ہے جو بارگاہ خداوندی میں اپنی کوتاہی کا عذر پیش کرے ورنہ اس کی بارگاہ کے لائق کوئی شخص بھی بندگی کا فرض ادا نہیں کرسکتا۔