سورہ عبس آیہ 11 تا 23
كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ۱۱فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ۱۲فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ ۱۳مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ ۱۴بِأَيْدِي سَفَرَةٍ ۱۵كِرَامٍ بَرَرَةٍ ۱۶قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ۱۷مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۱۸مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ۱۹ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ۲۰ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ۲۱ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنْشَرَهُ ۲۲كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ ۲۳
دیکھئے یہ قرآن ایک نصیحت ہے. جس کا جی چاہے قبول کرلے. یہ باعزّت صحیفوں میں ہے. جو بلند و بالا اور پاکیزہ ہے. ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں. جو محترم اور نیک کردار ہیں. انسان اس بات سے مارا گیا کہ کس قدر ناشکرا ہوگیا ہے. آخر اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے. اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر اس کا اندازہ مقرر کیا ہے. پھر اس کے لئے راستہ کو آسان کیا ہے. پھر اسے موت دے کر دفنا دیا. پھر جب چاہا دوبارہ زندہ کرکے اُٹھا لیا. ہرگز نہیں اس نے حکم خدا کو بالکل پورا نہیں کیا ہے.
(11) كَلَّآ اِنَّـهَا تَذْكِـرَةٌ
(12) فَمَنْ شَآءَ ذَكَـرَهٝ
(13) فِىْ صُحُفٍ مُّكَـرَّمَةٍ
(14) مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ
(15) بِاَيْدِىْ سَفَرَةٍ
(16) كِـرَامٍ بَـرَرَةٍ
(17) قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآ اَكْفَرَهٝ
(18) مِنْ اَيِّ شَىْءٍ خَلَقَهٝ
(19) مِنْ نُّطْفَةٍ خَلَقَهٝ فَقَدَّرَهٝ
(20) ثُـمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٝ
(21) ثُـمَّ اَمَاتَهٝ فَاَقْـبَـرَهٝ
(22) ثُـمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٝ
(23) كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٝ
(11) کبھی ایسا نہ کر یہ (قرآن )، ایک یاد آوری ہے۔
(12) جوشخص چاہے اس سے نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔
(13) قیمتی الواح میں ثبت ہے۔
(14) بیش قدر اور پاکیزه الواح میں ۔
(15) ایسے سفیروں کے ہاتھ میں۔
(16) جو والا مقام فرمانبردار اور نیکو کار ہیں ۔
(17) موت آجائے انسان کو کس قدر کافر اور ناشکر گزار ہے؟
(18) خدا نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے؟
(19) اسے ناچیز نطفہ سے پیدا کیا پھر اس کا 0 لگایا اور اسے موزوں بنایا۔
(20) پھر اس کے لیے راستہ آسان کیا۔
(21) اس کے بعد اسے مار دیا اور قبر میں دفن کیا ۔
(22) پھر جس وقت چاہے گا اسے زندہ کرے گا ۔
(23) اس طرح نہیں ہے جیسے وہ خیال کرتا ہے اس نے ابھی تک علم خدا کی اطاعت نہیں کی ہے۔