حق طلب نابینا سے بے اعتنائی برتنے پرشدید عتاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ ۱أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ ۲وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ ۳أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرَىٰ ۴أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ ۵فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّىٰ ۶وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ۷وَأَمَّا مَنْ جَاءَكَ يَسْعَىٰ ۸وَهُوَ يَخْشَىٰ ۹فَأَنْتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ ۱۰
اس نے منھ بسو رلیا اور پیٹھ پھیرلی. کہ ان کے پاس ایک نابیناآگیا. اور تمھیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ نفس ہوجاتا. یا نصیحت حاصل کرلیتا تو وہ نصیحت ا س کے کام آجاتی. لیکن جو مستغنی بن بیٹھا ہے. آپ اس کی فکر میں لگے ہوئے ہیں. حالانکہ آپ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے اگر وہ پاکیزہ نہ بھی بنے. لیکن جو آپ کے پاس دوڑ کر آیاہے. اور وہ خوف خدا بھی رکھتاہے. آپ اس سے بے رخی کرتے ہیں.
تفسیر
حق طلب نابینا سے بے اعتنائی برتنے پرشدید عتاب
جو کچھ شان نزول میں بیان کیا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے اب ہم اس کی تفسیر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ پہلے فرمایا ہے:
"اس نے ترشروئی اختیار کی اور منہ پھیرا ، (عبس وتولٰی) ۔ "اس وجہ سے کہ نابینا اس کے پاس آیا تھا، (ان جاءه الاعمٰی) ۔" تو کیا جانتا ہے شاید وہ ایمان ، پاکیزگی اور تقوٰی کی جستجو میں ہو" (وما و يدريك لعله یزکی)۔ "یاحق کی باتیں سننے سے ذکر یافتہ ہوجائے اور یہ تذکر اس کے لیے مفید هو" (اويذكرنتنفيه الذكرٰی)۔ اوراگر سوفیصد پاک نہ بھی ہو اور تقوٰی اختیار نہ کرے تواس ذکر سے کم از کم نصحیت حاصل کرے اور بیدار ہو اور میں بیداری اجمالی طور پر اس پر اثر انداز ہو۔ ؎1
اس کے بعد اس عتاب کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے : "باقی رہا وہ جو اپنے آپ کو غنی اوربےنیازسمجھتا ہے"۔ (اما من استغنٰی)۔ "تو اس کی طرف رخ کرتا ہے اور توجہ کرتا ہے"۔ ( فانت له تصدی) اور اس کی ہدایت پراصرارکرتا ہے حالانکہ وہ غرور،ثروت و خودخواہی میں مبتلا ہے۔ وہ غرور جوطغیان وسرکشی کا منشاء دیا کہ سورہ علق کی آیت 6 ، 7 میں آیا ہے (ان الانسان ليلغٰي ان تراه استغنٰی) انسان طغیان وسرکشی کرتا ہے اس بنا پرکہ اپنے کہ اپنے آپ کو غنی سمجھتا ہے۔ ؎1
حالانکہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار نہ کرے اور ایمان نہ لائے تو تیری کوئی ذمہ داری نہیں۔ (وما عليك الایزکی) ۔ تیری ذمہ داری صرف تبلیغ رسالت ہے (خواه ازاں پندگیرندباملال) چاہے وہ نصیحت حاصل کریں چاہے انہیں ملال ہو۔ اس لیے ہر قسم کے افراد کے واسطح طلب نابینا سے لا پرواہی نہیں برتنی چاہیئے اور اسے آزردہ نہیں کرنا چاہییے خواہ تیرا مقصد یہ بھی ہو کہ بھی اکڑنے والے لوگ ہدایت حاصل کرلیں ۔ تاکید و
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس وجہ سے اس آیت میں اور گزشتہ آیت میں فرق یہ ہے کہ وہاں گفتگو کامل پاکیزگی اور تقوٰی کے بارے میں ہے اور یہاں تذکرکی اجمالی تاثیر کے بارے میں بات ہورہی ہے چاہے کامل تقوٰی کے مقام تک نہ پہنچے وہ حق طلب نابنیا تذکر سے فائدہ اٹھائے گا چاہے مکمل فائدہ ہو چاہےمختصر بعض مفسرین سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی آیت گنابوں سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری کسب اطلاعات و پیروي فرمان خدا کی طرف لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
؎2 راغب مفردات میں کہتاہے غنی استغنی و تغنی اور تغانی کے ایک ہی معنی ہیں پھر اس کے بقول تصدی "صدی (بروزن فتی) اصل میں آواز کے معنی میں ہے جو پہاڑ سے ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ اس کے بعد لفظ تصدی کسی چیز کے روبرو قرار پانے کے معنی میں ہے اور مکمل طور پر اسی کی طرف توجہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عتاب کو نئے سرے سے شروع کرتا ہے اور خطاب کی صورت میں فرماتاہے: ۔
"باقی رہا وہ شخص جو تیرے پاس آتا ہے اور ہدایت و پاکیزگی کے لیے کوشش کرتا ہے" (اما من جاءك یسعٰی)۔ "اور خدا سے ڈرتا ہے" (وهویخشی)۔ ؎1
اسی خوف خدا نے اسے تیرے پیچھے بھیجا ہے تاکہ وہ زیادہ حقائق سنے اور ان پرکاربند ہو اور اپنے آپ کو پاک و پاکیزہ کرے "تو اس سے غفلت کرتاہے اور دوسروں کی طرف متوجہ ہوتا ہے" (فانت عنه تلھٰی)۔ ؎1
"انت" تو کی تعبیر حقیقت میں اس طرف اشارہ ہے کہ تجھ جیسے انسان کے لیے یہ سزاوار نہیں ہے کہ اس قسم کے حق طلب انسان سے ایک لمحے کے لیے کبھی غافل ہو اور دوسرے کی طرف متوجہ ہو اور تیرے دوسروں کی طرف متوجہ ہونے کا مقصد بھی یہ ہو کہ ان کو ہدایت حاصل ہو۔ اس لیے ترجیح اس کمزور اور پاک دل گروہ ہی کو ہے۔
بہرحال یہ عتاب و خطاب اس اہم حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اسلام اور قرآن راہ حق کو طے کرنے والے کمزور افراد کے لیے خاص قسم کی اہمیت و احترام کا قائل ہے اور اس کے برعکس حالت پر تیز اور سخت تنقید کرتا ان لوگوں کے مقابلے میں جو نعمت الٰہی کی فراواني کي وجہ مغرور ہو گئےہیں یہاں تک کہ خدا راضی نہیں ہوتا کہ تو ان کی طرف متوجہ ہونے کے لیے اس حق طلب کمزور طبقہ میں کم سے کم رنجش بھی پیدا کرے۔
اس کی وجہ اس سے بھی واضح ہے کہ یہ لوگ ہمیشه اسلام کے مخلص سهارا بننے والے، مشکلات کے وقت دین کے عظیم پیشواؤں کی آواز پر لبیک کہنے والے ، میدان جنگ میں قربانی پیش کرنے والے اور شہید ہونے والے تھے ۔ جیسا کہ امیرالمومنین حضرت علی اپنے مشہور مالک اشتروالے فرمان میں فرماتے ہیں: وانما عماد الدين و جماع المسلمين والعدة للاعداء العامة من الأمة فليكن صغوك لهم و ميلك معهم . دین کا ستون اور مسلمانوں کے اجتماع کا سرمایہ اور دشمنوں کے مقابلے میں قوت و طاقت کا ذخیرو امت کے صرف عامه الناس ہیں لہذا ضروری ہے کہ ان کی بات کان دھر کے سننا اور ان کی طرف اپنی خاص توجہ رکھنا چاہیے۔ ؎3
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں خشیت سے مراد خوف خدا ہے، ایسا خون جوانسان کو زیادو سے زیاده تحقیق پر آمادہ کرتا ہے اس کے مشابہ جومتکلین نے دفع ضرر متحمل کا استثناد کرتے ہوئے وجوب معرفت خدا کے سلسلہ میں کہا ہے اور یہ جو فخررازی نے احتمال پیش کیا ہے کہ مراد کفارا خوف ہے، یا نابینا ہونے کی وجہ سے گر پڑنے کا خوف مقصود ہے بہت بعید ہے۔
؎2 "تلھٰی" لھوکے مادہ سے سرگرم کردینے والے کام کے معنی میں ہے اور یہاں اس سے غفلت برتنے اور دوسرے کی طرف متوجہ ہونے کے معنی میں ہے اور حقیقت میں تصدی کا نقطه مقابل ہے۔
؎3 نہج البلاغه جز خطوط خط 53 -