سورہ نازعات آیہ 42 تا 46
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۴۲فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا ۴۳إِلَىٰ رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا ۴۴إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَخْشَاهَا ۴۵كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ۴۶
پیغمبر لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا ٹھکانا کب ہے. آپ اس کی یاد کے بارے میں کس منزل پر ہیں. اس کے علم کی ا نتہائ آپ کے پروردگار کی طرف ہے. آپ تو صرف اس کا خوف رکھنے والوں کو اس سے ڈرانے والے ہیں. گویا جب وہ لوگ اسے دیکھیں گے تو ایسا معلوم ہوگاجیسے ایک شام یا ایک صبح دنیامیں ٹھہرے ہیں.
(42) يَسْاَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسَاهَا
(43) فِـيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْـرَاهَا
(44) اِلٰى رَبِّكَ مُنْـتَـهَاهَا
(45) اِنَّمَآ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشَاهَا
(46) كَاَنَّـهُـمْ يَوْمَ يَرَوْنَـهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ ضُحَاهَا
ترجمہ
(42) تجھ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کس زمانہ میں واقع ہوگی؟
(43) تجھے اس کی یاد آوری سے کیا کام؟
(44) اس کی انتہا تیرے پروردگار کی طرف ہے۔
(45) تیرا کام صرف ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔
(46) وہ اس دن جب قیامت کو دیکھیں گے تو اس طرح محسوس کریں گے گویا ان کا توقف (دنیا اور برزخ میں )سوائے عصر کے وقت یا صبح کے وقت سے زیادہ نہیں تھا۔