3- صرف دو گروه
فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ ۳۴يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ مَا سَعَىٰ ۳۵وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَنْ يَرَىٰ ۳۶فَأَمَّا مَنْ طَغَىٰ ۳۷وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۳۸فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۳۹وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ ۴۰فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۴۱
پھر جب بڑی مصیبت آجائے گی. جس دن انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا کیا ہے. اور جہنم کو دیکھنے والوں کے لئے نمایاں کردیا جائے گا. پھر جس نے سرکشی کی ہے. اور زندگانی دنیا کو اختیار کیا ہے. جہنم ّاس کا ٹھکانا ہوگا. اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے. تو جنّت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے.
3- صرف دو گروه
مندرجہ بالا آیات میں دو گروہوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ دنیا پرست طغیان وسرکشی کرنے والے اور صاحب تقوٰی خدا کا خوف کرنے والے۔ پہلے گروہ کی دائمی جگہ جہنم اور دوسرے گروہ کی جادوانی جائے سکونت جنت بنائی گئی ہے
البتہ یہاں ایک تیسرا گروہ بھی ہے۔ وہ مومنین جو عمل کے لحاظ سے کچھ کوتاہیوں کا شکار ہیں، اگر خدا انہیں معاف کرے تو وہ جنت والے گروہ سے ملحق ہوجائیں گے اور اگر معافی نہ ملے تو دوزخ میں جائیں گے لیکن ان کا ٹھکانہ وہاں نہیں ہو گا ۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہے۔