قیامت کی تاریخ صرف خدا جانتاھے
يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۴۲فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا ۴۳إِلَىٰ رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا ۴۴إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَخْشَاهَا ۴۵كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا ۴۶
پیغمبر لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا ٹھکانا کب ہے. آپ اس کی یاد کے بارے میں کس منزل پر ہیں. اس کے علم کی ا نتہائ آپ کے پروردگار کی طرف ہے. آپ تو صرف اس کا خوف رکھنے والوں کو اس سے ڈرانے والے ہیں. گویا جب وہ لوگ اسے دیکھیں گے تو ایسا معلوم ہوگاجیسے ایک شام یا ایک صبح دنیامیں ٹھہرے ہیں.
تفسیر
قیامت کی تاریخ صرف خدا جانتاھے
ان مطالب کے بعد جو قیامت کے بارے میں اور اس روز جو نیکوں اور بدکاروہں کاحال ہوگا اس کے سلسلہ میں گزشتہ آیات میں آئے . ان آیات میں معاد کے بارے میں مشرکین اور منکرین کے ہمیشہ سوال کرنے کو موضوع بناتے ہوئے فرماتا ہے :
"تجھ سے قیامت سے متعلق سوال کرتے ہیں کہ کب برپا ہوگی" (یشلونك عن الساعة ایان مرساها)۔ ؎1
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "مرسا" مصدری معنی میں ہے اور اسم زمان ، اسم مکان اور اسم مفعول کے معنی میں آتا ہے۔ مادہ "ارساء" سے ، البتہ یہاں مصدری معنی رکھتا ہے اور وقوع وثبوت اور پابرجا ہونے کے معنوں میں ہے،یہ تعبیر سرکشی کے لنگر انداز ہونے اور اسی طرح پہاڑوں کے روۓ زمین پرحالت ثبات میں ہونے کے بارے میں بھی آئی ہے مثلاً (وقال اركبوا فيها بسم الله مجراها ومرساها) (ہود )
تفسیر فخرازی جلد 29 ص 29۔ یہ بات تنفسیر مجمع البیان ، قرطبی ، فی ظلال اور دوسری تفسیروں میں بھی سورہ محمد کی آیت 18 کے ذیل میں مذکور ہے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
قرآن اس سوال کے جواب میں ، انہیں سمجھانے کے لیے کہ کوئی شخص بھی قیامت کے وقوع سے واقف
نہیں ہے اور نہ ہو گا ، پیغمبرؐ کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے:
"تجھے اس بات کی یاد آوری سے کیا سروکار"۔ (فيم انت من ذكراها). یعنی وقوع قیامت کی تاریخ تجھ سے بھی پنہاں ہے چہ جائیکہ دوسرے۔ یہ اس علم غیب میں سے ہے جو ذات پرورگار کے مختصات میں سے ہے اور اس حقیقت کی اور کسی کو خبر نہیں ہے۔
بارہا ہم نے کہا ہے کہ منجملہ ان مطالب کے جو سب سے پوشیدہ ہیں قیام قیامت کا وقت بھی ہے اس لیے کہ اس کا تربیتی اثر اس کے پوشیدہ ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اگر یہ بات معلوم ہو اور اس کا زمانہ دور کا ہو ، توسب غفلت کا شکار ہو جائیں گے اور اگر نزدیک ہو توبرائیوں سے پرہیز، آزادی و اختیار کی گرفت سے باہر ہوگا اور ان دونوں صورتوں میں تربیت کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے اور احتمال پیش کیے ہیں ۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ تو زمانہ قیامت بیان کرنے کے لیے مبعوث نہیں ہوا تو اس لیے مبعوث ہواہے کہ اصل وجود کی اطلاع دے نہ کہ لمحۂ وقوع کی ۔ دوسرے یہ کہ تیرا کام قیامت کے نزدیک ہونے کو بیان کرنا ہے۔
جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے کہ آپ نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کر کے فرمایا : (بعثت انا وا الساعة كهاتين) "میرا قیام اور قیامت کا قیام ان دو کی طرح ہے"۔ ؎1
پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے :
"قیامت کی انتہا تیرے پروردگار کی طرف ہے "(الي ربک منتهاها ) - صرف وہی جانتا ہے کہ قیامت کب برپا ہو گی ۔ کوئی دوسرا فرد اس سے آگاہ نہیں ہے اور قیام قیامت کی آگاہی کے لیے ہر طرح کا کی سعی و کوشش بے فائدہ ہے۔
یہ وہی مفہوم ہے جو سورہ لقمان کی آیت 34 میں بھی آیا ہے ۔ ( ان الله عنده علم الساعة )"قيامت کے وقوع کے زمانے اور وقت کا علم صرف خدا کو ہے"
سورہ اعراف کی آیت 187 میں فرماتا ہے : (قل انما علمها عند ربی) "کہہ دے اس کا علم میرے پروردگار کو ہے"۔ بعض نے کہا ہے کہ اوپر والے جملے سے یہ مراد ہے کہ قیامت کا تحقق اور انجام پانا خدا کے اختیار میں ہے۔
اور حقیقت میں اس چیز کے لیے جو گزشتہ آیت میں آئی ہے بیان علت کے برابر ہے ۔ ان دونوں تفسیروں کے جمع کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔
مزید وضاحت کے لیے فرماتا ہے : "تیرا کام صرف ان لوگوں کو ڈرانا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں" (انما انت منذارمن يخشاها) - تیری ذمہ داری ڈرانا اور خبردار کرنا ہے اور بس ، با قی رہا وقت کا تعین کرنا تو وہ تیرے فرائض میں داخل نہیں ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ڈرانے کو کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص کرتا ہے جو اس عظیم دن کا خوف و
ہراس رکھتے ہیں ۔ اور یہ اس مفہوم کے مشابہ ہے جو سوره بقرہ کی دوسری آیت میں آیا ہے (ذالك الكتاب لاریب فیه هدی للمتقین) اس آسمانی کتاب میں کوئی شک و تردد نہیں ہے یہ پرہیز گاروں کیلیے ہدایت کا سبب ہے۔
اس قسم کی تعبیریں اس طرف اشارہ ہیں کہ جب تک حق جوئی حق، حق طلبی اور پیش خدا احساس ذمہ داری کی روح انسان میں موجود نہ ہو تو کتب آسمانی کی تحقیق کرتاہے اور نہ معاد و قیامت کی اور نہ وہ انبیاء و اولیاء کی طرف سے کی جانے والی تخویف پر توجہ کرتا ہے۔
اس سورہ کی آخری آیت میں اس حقیقت کو پیش کرنے کے لیے کہ قیامت کے آنے میں زیاده وقت باقی نہیں ہے ارشاد فرماتا ہے : "جب قیامت کا دن دیکھیں گے تو اس طرح محسوس کریں گے گویا ان کا توقف اس جہاں میں عصر کے وقت یا صبح کے وقت سے زیادہ نہیں تھا" کانھم یوم يرونها لم يلبثوا الاعشية اوضحاها). دنیا کی مختصرسی عمر اسی تیزی سے گزر جائے گی اور برزخ کا دور بھی اس تیزی سے گزر جائے گا کہ وہ قیامت میں خیال کریں گے کہ یہ سارا زمانہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں تھا۔
یہ امر بھی ذاتی طور پرصحیح ہے کہ عمر دنیا بہت ہی مختصراور جلد گزرجانے وا لی ہے اور قیامت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے بھی تمام جہان کی عمر اس کے مقابلہ میں ایک لمحے سے زیادہ نہیں ہے۔
"عشية" عصر کے معنوں میں اور ضحٰی اس موقع پر بولا جاتا ہے جب سورج اوپر آیا اور اس کی شعائیں پھیل جائیں۔ بعض آیات قرآنی میں آیا ہے کہ قیامت میں جب مجرمین عالم برزخ یا دنیا میں توقف کی مقدار کے بارے میں گفتگو کریں گے تو بعض دوسروں سے کہیں گے کہ تم نے صرف دس دن رات عالم رخ د میں توقف کیا ہے (یتخافتون بینهم ان ليشتم الاعشرًا) ( طٰہٰ / 103) لیکن جو بہتر غور و کریں گے وہ کہیں گے تم نے صرف ایک دن کے برابربرزخ میں توقف کیا ہے (يقول ا مثلهم طريقة ان لبنتهم الا يومًا)
ایک دوسری جگہ مجرمین سے نقل کرتا ہے کہ جب قیامت برپا ہو گی تو مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ایک ساعت سے زیادہ توقف نہیں کیا (ویوم تقوم الساعة يقسم المجرمون مالبثوا غير ساعة) (روم / 55)
ان تعبیروں کا اختلاف اس بنا پر ہے کہ جوچاہتے ہیں اسی مدت کے مختصر ہونے کو ایک خاص اندازہ کے ساتھ ظاہر کریں ان میں سے ہرایک اپنے احساسات کو ایک الگ تعبیر کے ذریعہ بیان کرتاہے. ان سب کا ایک بات میں اشتراک ہے اور وہ اس جہان کی عمر کا قیامت کی عمر کے مقابلہ میں مختصر ہونا ہے۔ یہ ایسا مفہوم ہے جو انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے۔
پروردگار ! ہم سب کو عالم برزخ میں ، اس دنیا میں اور اس عظیم دان امن و امان اور سکون و اطمینان عطا فرما۔
پروردگار ! کوئی شخص بھی اس عظیم دن کی سختیوں سے رہائی حاصل نہیں کر سکتا سوائے اس طرح کہ ترا لطف و کرم ہو جائے ۔ یہ اپنا خاص لطف و کرم فرما۔
بارالٰہا ! ہمیں ایسے افراد میں سے قرار دے جو تیرے مقام سے خائف ہیں اور جو اپنے نفس کوہوا و ہوس سے روکتے ہیں اور بہشت بریں جن کا ملجا و مادیٰ ہے ۔1
آمین یا رب العالمین
سوره نازعات کا اختتام
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 سطورا ان ساعات ولمحات میں ضبط تحریر میں آئیں جب ہرلمحے عراق کی بعثی حکومت کی طرف سے بمباری اور بے خانماں دفن ہو جانے کا احتمال تھا۔ اس تاریخ سے ایک یا دو دن پہلے ایک بمباری میں اس شہر مقدس میں تقریبًا ایک سو پچاس مسلمان خصوصًا ہے گناہ بچے شہید ہوئے تھے لیکن مسلم ہے کہ ظلم و ظالم کی عمر کوتاہ ہوتی ہے۔