Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2 -    طغان اور دنیا پرستی کے درمیان ربط 

										
																									
								

Ayat No : 34-41

: النازعات

فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ ۳۴يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ مَا سَعَىٰ ۳۵وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَنْ يَرَىٰ ۳۶فَأَمَّا مَنْ طَغَىٰ ۳۷وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۳۸فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۳۹وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ ۴۰فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۴۱

Translation

پھر جب بڑی مصیبت آجائے گی. جس دن انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا کیا ہے. اور جہنم کو دیکھنے والوں کے لئے نمایاں کردیا جائے گا. پھر جس نے سرکشی کی ہے. اور زندگانی دنیا کو اختیار کیا ہے. جہنم ّاس کا ٹھکانا ہوگا. اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے. تو جنّت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے.

Tafseer

									2 -       طغان اور دنیا پرستی کے درمیان ربط 
 حقیقت میں مندرجہ بالا مختصر قسم کی آیات انسان کے اصول سعادت و شقاوت کی خوب صورت اور شائستہ طریقہ سے تصویرکشی کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ انسان کی شقاوت اس کی سرکشی اور دنیا پرستی میں ہے اور سعادت خوف خدا اور ترک ہوا و ہوس میں ہے۔ انبیاء و اولیاء کی تمام تعلیمات کا نچوڑ بھی یہی چیز ہے۔ ایک حدیث امیرالمومنین علیؑ سے منقول ہے: ۔ 
 (ان اخوف ما اخاف عليكم اثنان اتباع الهوى و طول الامل فاما اتباع الهوى فیصد عن الحق واماطول الأمل فينسي الأخرة) - زیادہ ہولناک چیزیں جن کا مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے وہ دو ہیں ہوائے نفس کی پیروی اورطویل آرزوئیں . ہوا و ہوس کی پیروی تو تمہیں حق سے روک دے گی اورطویل آرزوئیں آخرت کو فراموشی کے سپرد کر دیں گی۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1  نہج البلاغیہ خطبہ 42 - 
۔------------------------------------------------------------------
خواہش کی پرستش انسانی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اس کے برے اعمال کو اس کی نظر میں مزین کرکے پیش کرتی ہے اور تمیز کی حس ، جو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور انسان و حیوان میں وجہ امتیازہے اس سے چھین لیتی ہے اور اس کو اپنی ذات میں مشغول رکھتی ہے۔ 
 یہ وہی بات ہے جو حضرت یعقوبؑ جیسے روشن ضمیر پغمبر نے اپنے نالائق بیٹوں سے کہی تھی (بل سولت و لكم انفسکم امرًا)  (یوسف / 18)۔ 
 یہاں باتیں بہت سی ہیں بہتر ہے کہ ابلبیت علیهم السلام کی احادیث میں سے دو حدثوں کی طرف اشاره کرتے ہوئے جن میں سب کہنے کی باتیں کہی گئی ہیں ، ہم اس بحث کو ختم کریں۔ 
 امام باقر فرماتے ہیں: الجنة محفوفة بالمکارہ والصبر فمن صبر على المكاره في الدنيا دخل الجنة وجهنم محفوفة باللذات والشهوات فمن اعطى نفسها لذتهاوشهوتها دخل النار : جنت پریشانیوں ، صبرو شکیبائی اور استقامت میں گھری ہوئی ہے جو شخص پریشانیوں کے مقابلے میں (اور خواہشات کو ترک کرنے میں )دنیا میں صبر و شکیبائی سے کام لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔اور جہنم غیر شرعی لذتوں اور سرکش خواہشات میں گھری ہوئی  ہے جو اپنے نفس کو ان لذتوں اور خواہشوں کے مقابلہ میں آزاد چھوڑ دے، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ ؎1
  امام جعفرصادق فرماتے ہیں: لاتدع النفس و هواها فان هواهاني رداها وترك النفس وما تھوی واءها وکف النفس عمانتھوی دواء ها:  نفس کو ہوا ہوس ساتھ کے  نہ چھوڑ،  اس لیے کہ بواۓ نفس کی موت کا سبب اور نفس کو اس کی ہوا کے مقابلہ میں آزاد چھوڑ دینا اس کی بیماری ہے اور اس کو ہوا وہوس سے روکنا اس کی دوا ہے۔ ؎ 2
 نہ صرف جہنم خواہش کی پرستش کا نتیجہ ہے بلکہ دنیا کے جلانے والے جہنم مثلاً بد امنی، بدنظمی ،جنگیں ،خونریزیاں  لڑائیاں وغیرہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------- 
  ؎ 1  نورالثتقلين ، جلد 5 507 حدیث 46۔ 
  ؎ 2  نورالثتقلين ، جلد 5 507 حدیث 45۔