Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1-     مقام رب کیاہے

										
																									
								

Ayat No : 34-41

: النازعات

فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ ۳۴يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ مَا سَعَىٰ ۳۵وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَنْ يَرَىٰ ۳۶فَأَمَّا مَنْ طَغَىٰ ۳۷وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۳۸فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۳۹وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ ۴۰فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۴۱

Translation

پھر جب بڑی مصیبت آجائے گی. جس دن انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا کیا ہے. اور جہنم کو دیکھنے والوں کے لئے نمایاں کردیا جائے گا. پھر جس نے سرکشی کی ہے. اور زندگانی دنیا کو اختیار کیا ہے. جہنم ّاس کا ٹھکانا ہوگا. اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے. تو جنّت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے.

Tafseer

									      1-     مقام رب کیاہے 
 قابل توجہ یہ ہے کہ زیر بحث آیات میں فرماتا ہے : "جو شخص اپنے پروردگار کے مقام سے ڈرے "یہ نہیں فرماتا: "جو اپنے پروردگار سے ڈرے" یہ کہ مقام سے کیا مراد ہے اس سلسلہ میں متعد تفاسیر ہیں۔ 
 1-      اس پہلی تفسیر یہ ہے کہ اس مقام سے مراد مختلف مواقف قیامت ہیں جن میں انسان بارگاه خداوندی
۔-----------------------------------------------------------
  ؎1   تفسیر نورالثقلین ، جلد 5ص 506  حدیث 43- 
۔-------------------------------------------------------------  
 میں حساب کتاب کے لیے ٹھہرے گا۔ اس تفسیر کی بنا پر "مقام ربه" کے معنی (مقامه عند ربه) انسان کا بارگاہ خدا میں کھڑا ہونا ہیں۔ 
 2۔     مراد خدا کا علم اور تمام بندوں کے بارے میں اس کا مقام مراقبت و نگهبانی ہے جیسا کہ سورہ رعد کی آیت 33 میں آیا ہے (افمن هو قائم على كل نفس بما كسبت) کیا وہ جو سب کے سروں پر کھڑا ہے اور سب کے اعمال کا نگہبان ہے اس شخص کی طرح ہے جو صفت نہیں رکھتا۔ 
 اس تفسیر کی دوسری شا ہد وہ حدیث ہے جو امام جعفر صادق سے منقول ہے (من علم ان الله يراه و اسمع ما لقول والعلم ما يعلمه من خير او شرنيجزه ذالک عن القبيح من الاعمال فذالك ما الذي خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوٰی) جوشخص جانتا ہے کہ خدا اسے دیکھتا ہے اور جو کچھ یہ کہتا ہے اسے وہ سنتا ہے اور جو خیروشر یہ انجام دیتا ہے اس سے وہ آگاہ ہے اور یہ توجہ اسے قبیح اعمال  سے روکتی ہے، وہ ایسا شخص ہے جو اپنے پروردگار کے مقام سے خائف ہے اور اس نے اپنے آپ کو ہواۓ نفس سے باز رکھا ہے۔ 
 3-       مراد اس کا مقام عدالت ہے۔ اس لیے کہ اس کی ذات مقدس خوف کا سبب نہیں ہے خوف اس کی عدالت کا ہے اور حقیقت میں یہ خوف اس کے عدل کے ساتھ اپنے اعمال کے موازنہ سے محسوس ہوتا ہے جیسا کہ مجرم لوگ ایک عادل قاضی کو دیکھ کر لرزنے لگتے ہیں اورحکمہ عدالت کا نام سن کر ان کو وحشت ہو نے لگتی ہے جبکہ بے گناہ شخص نے اس سے خوف کھاتا ہے اور نہ اسے وحشت ہوتی ہے۔ 
 ان تینوں تفسیروں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ سب معانی آیت میں موجود ہوں.