وہ جو اپنے نفس کو هوا و هوس سے باز رکهیں
فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ ۳۴يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْإِنْسَانُ مَا سَعَىٰ ۳۵وَبُرِّزَتِ الْجَحِيمُ لِمَنْ يَرَىٰ ۳۶فَأَمَّا مَنْ طَغَىٰ ۳۷وَآثَرَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۳۸فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۳۹وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ ۴۰فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ ۴۱
پھر جب بڑی مصیبت آجائے گی. جس دن انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا کیا ہے. اور جہنم کو دیکھنے والوں کے لئے نمایاں کردیا جائے گا. پھر جس نے سرکشی کی ہے. اور زندگانی دنیا کو اختیار کیا ہے. جہنم ّاس کا ٹھکانا ہوگا. اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے. تو جنّت اس کا ٹھکانا اور مرکز ہے.
تفسیر
وہ جو اپنے نفس کو هوا و هوس سے باز رکهیں
اس اشارہ کے اور جوگزشتہ آیات میں معار کے لش دلائل کے بارے میں گئے گزرا زیر بحث آیات میں قیامت ، اس میں خدا سے ڈرنے والوں اور ہوائے نفس کے پرستاروں کی سرنوشت کی طرف رجوع کرتے ہوئے فرماتا ہے :
جس وقت وہ عظیم حادثہ رونما ہوگا تو نیکوکاروں اور بدکاروں میں سے ہر ایک اپنے اعمال کی جزا کوپہنچنے گا (فاذا جاوت الطامة الكبرٰی)۔ ؎1
"طامة" "طم" (بروزن فن) کے مادہ سے پر کرنے کے معنوں میں آتا ہے اور وہ چیز جو اعلٰی ہو اسے "طامة" کہتے ہیں اسی لیے سخت حوادث اور عظیم مصائب و مشکلات سے پر ہیں ان پربھی طامۃ کا اطلاق ہوتا ہے۔
یہاں قیامت کی طرف اشارہ ہے جو ہولناک حوادث سےپُر ہے، اس کی انتہائی توصیت کے ساتھ اس بے مثال حادثہ کی اہمیت و عظمت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تاکید کرتے ہوئے فرماتاہے: ۔
"یہ عظیم حادثہ جس وقت وقوع پذیر ہوگا سب کے سب خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں گے اور انسان اپنی کوشش اور اپنے اعمال کو خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، یا د کرے گا"۔ (يوم بتذكر الانسان ما سعٰی). لیکن اعمال کا یہ یاد کرنا انہیں فائدہ نہ دے گا۔
اگر انسان دنیا کی طرف واپس لوٹنے اور گزشتہ اعمال کی تلافی کرنے کے لیے مہلت طلب کرے گا تو اسے اجازت نہیں ملے گی اور اس مطالبہ کے جواب میں کلا کہیں گے۔ اگر توبہ کرے گا اور اپنے اعمال بد کی معافی مانگے گا تو کوئی فائده نہ پہنچنے گا کیونکہ توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوں گے لہذا سوائے آہ کرنے کے اور افسوس کرنے کے کوئی اور چارہ کار نہ ہوگا اور بقول قرآن اگر وہ دونوں باتوں کو دانتوں سے بھی
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "اذا" شرطیہ ہے اور اس کی جزا بعض مفسرین کے بقول بعد والی آیات میں (فاها من طغى .... واما من خاف مقام ربه) آتی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کی جزا کو اس طرح محزف کیا جائے اور بعد والی آیات سے معلوم ہوتی ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے " فاذا جاءت الطامة الكبرى يجزكل انسان بما عمل"۔ بعض نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ اس کی جزا يوم يتذكر الانسان سے معلوم ہوتی ہے لیکن یہ احتمال بعید ہے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کاٹیں گے تو گوئی فائدہ نہ ہوگا۔ "ويوم يعض الظالم على يديه" (فرقان - 27)۔
توجہ کرنی چاہیئے کہ يتذکر فعل مضارع ہے اور عام طور پر استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی اس روزانسان اپنے اعمال کومسلسل یاد کرے گا۔ یہ اس بنا پرکہ اس روز انسان کی روح اور اس کے قلب کے آگے سے پردے اٹھ جائیں گے اور تمام پوشیدہ حقائق پر آشکار ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے:
"اس دن جہنم ہر دیکھنے والے کے لیے آشکار ہو گا" (وبرزت الجحيم لمن یرٰی) جہنم اس وقت بھی موجودہے، بلکہ سورہ عنکبوت کی آیت 54 (وان جهنم لمحيطه بالکافرین کے مطابق کا فروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے لیکن عالمی دنیا کے پردے اس کی روایت سے مانع ہیں ۔ وہ دن جو ہر چیز کے شکار ہونے کا دن ہوگا، اسی روز جسم ہر چیز سے زیادہ آشکار ہوگا ۔
"لمن یرٰی" کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ جہنم اس دن اس قدر آشکار ہو گا کہ ہر شخص بلا استثناء اسے دیکھے گا ۔ وہ کسی سے مخفی نہ ہوگا ، نہ اچھے لوگوں سے نہ برے لوگوں سے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ یہ جملہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اس دن چشم بینا رکھتے ہوں گے کیونکہ سورہ طٰہٰ کی آیت 124 کے مطابق بعض لوگ اس دن نابینا محشور ہوں گے (ونحشره يوم القيامة اعمٰی) لیکن پہلے معنی جھنیں تمام مفسرین نے قبول کیا ہے زیادہ مناسب نظر آتے ہیں ، اس لیے کہ جہنم بدکاروں کے لیے خود عذاب ہے کئی گُنی سزاہے اور ایک گروہ کا محشر میں نابینا ہونا ممکن ہے بعض مواقف میں ہونہ کہ تمام مواقف میں۔ ؎1
باقی رہا وہ شخص جو سرکشی کرے (فاما من طغٰی). اور دنیاوی زندگی کی ہر چیز پر قدم رکھے ۔ (واثر الحياة الدنيا) - تو یقینًا جہنم اس کی جگہ اور ملجا و مادیٰ ہے (فان الجحيم في المادٰی) ۔ ؎2
پہلے جملے میں ان کے عقیدہ کے خراب ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لیے کہ طغیانی وسرکشی اپنے آپ کو بڑا سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنا خدا کی معرفت نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ جو شخص خدا کو اس کی عظمت کے ساتھ پہچان لے تو وہ اپنے آپ کو بہت خفیف اور چھوٹا دیکھے گا اور کبھی بھی جاوۂ عبودیت سے انحراف نہیں کرے گا۔
دوسرا جملہ ان کے عملی فساد کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ طغیان و سرکشی سبب بنتے ہیں کہ دنیا کی عجلد ختم ہو جانے والی لذتوں اور اس کی چمک دمک کو زیادہ قیمتی سمجھے اور ہر چیز پرانھیں ترجیح دے۔
۔------------------------------------------------------------------------
؎1 اس سلسلہ میں مزید وضاحت جلد13 ص 330 سوره طٰہٰ کی آیت 124 اکے ذیل میں ہوچکی ہے۔
؎2 آیت میں محذوف ہے اور تقدیر میں هي المأوى له يا هي مأواہ ہے اور ضمیر وضاحت کی بنا پر حزف ہوتی ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------------
یہ دونوں درحقیقت ایک دوسرے کے علت و معلول ہیں ، طغیان اور عقیدہ کا خراب ہونا فساد عمل اور دنیاکی ناپائیدار زندگی کو ہر چیز پر ترجیح دینے کا سرچشمہ ہے۔ آخر کار یہ دونوں جہنم کی جلا دینے والی آگ ہیں۔
حضرت علیؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں (ومن طغٰی ضل علٰى عمل بلا حجة) وشخض سرکشی کرے وہ گمراہ ہو جائے گا اور ایسے اعمال کرے گا جن کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ ؎1
یہ چیز خود کو بڑا سمجھانے سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان اس طرح اپنی تمام خواہشات کو بغیرکسی منطقی دلیل قبول کر لیتا ہے اور اس کے لیے اوج کا قائل ہوتا ہے۔
اس کے بعد جنتیوں کے اوصاف کو مختصر اور بہت ہی پرمعنی جملوں میں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے اور باقی رہا وہ شخص جو اپنے پروردگار کے مرتبہ سے ڈرے اور نفس کو ہوا و ہوس سے روکے... (و اما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوٰی)۔ "تو اس کا ٹھانہ جنت ہے "(فان لجنة هي الماوٰی) جی ہاں جنتی ہونے کی پہلی شرط خوف ہے جو معرفت سے پیدا ہو پروردگار کے مقام کو پہچاننا اور اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرنا۔
دوسری شرط جو حقیقت میں پہلی شرط کا نتیجہ اور معرفت و خوف کے درخت کا ثمر ہے، وہ یہ ہے کہ ہوائے نفس کو زیر تسلط رکھا جا ئے اور اسے سرکشی نہ کرنے دی جائے، اس لیے کہ ہوائے نفس تمام گناہوں
مفاسد اور بدبختیوں کا سر چشمہ ہے، یہ بدترین اور قابل نفرت بت ہے جسے معبود بنا لیا گیا ہے۔ (ابغض اله عبد علٰى وجه الارض الهٰوی) یہاں تک کہ وجود انسان میں شیطان کے نفوذ کا ذریعہ بھی ہوائے نفس ہے. کو زیر تسلط رکھا جائے اور اسے سرکشی نہ کرنے دی جائے، اس لیے کہ ہوائے نفس ،
اگر یہ اندرونی شیطان اور بیرونی شیطان ہم آہنگ نہ ہوں اور اند روفی شیطان اس پر دروازه نہ کھولیں تو اس کا وارو ہونا ممکن نہیں ہوتا جیسا کہ قرآن کہتا ہے (ان عبادی ليس لك عليهم سلطان الامن اتبعك من الغاوين(۔ "تجھے کبھی بھی میرے بندوں پر تسلط حاصل نہ ہو گا مگر وہ گمراہ جو تیر کی پیروی کرتے ہیں (حجر/ 42)۔