Tafseer e Namoona

Topic

											

									  تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمانوں کی معاد پر ایک دوسری دلیل

										
																									
								

Ayat No : 27-33

: النازعات

أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَاءُ ۚ بَنَاهَا ۲۷رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّاهَا ۲۸وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَاهَا ۲۹وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا ۳۰أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءَهَا وَمَرْعَاهَا ۳۱وَالْجِبَالَ أَرْسَاهَا ۳۲مَتَاعًا لَكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ۳۳

Translation

کیا تمہاری خلقت آسمان بنانے سے زیادہ مشکل کام ہے کہ اس نے آسمان کو بنایا ہے. اس کی چھت کو بلند کیا اور پھر برابر کردیا ہے. اس کی رات کو تاریک بنایا ہے اور دن کی روشنی نکال دی ہے. اس کے بعد زمین کا فرش بچھایا ہے. اس میں سے پانی اور چارہ نکالا ہے. اور پہاڑوں کو گاڑ دیا ہے. یہ سب تمہارے اور جانوروں کے لئے ایک سرمایہ ہے.

Tafseer

									  تفسیر 
         تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا آسمانوں کی معاد پر ایک دوسری دلیل 
 حضرت موسٰی اور فرعون کی سرگزشت تمام سرکشوں اور تکذیب کرنے والوں کے لیے ایک درس عبرت کے طور پر پشیں کرنے کے بعد دوبارہ معاد اور قیامت کے مسئلہ کی طرف لوٹتا ہے اور عالم ہستی میں اپنی غیرمتناہی قدرت کے نمونے امکانِ معاد کے لیے ایک دلیل کے طور پر بیان کرتا ہے اور انسانوں کو جو لامحدود نعمتیں اس نے دی ہیں ان کے کچھ حصوں کی تشریح کرتا ہے تاکہ شکرگزاری کے اس احساس کو جو خدا کی معرفت کا سرچشمہ ہے انسانوں کے دل میں بیدار کرے۔ 
 پہلے منکرین معیار کو مخاطب کر تے ہوۓ ایک ایسے استفہام کے طور پر جو تنبیہ کا پہلو لیے ہوئے ہے فرماتا ہے: 
 "کیا تمھاری تخلیق (موت کے بعد زندگی کی طرف بازگشت زیادہ مشکل ہے یا اُس باعظمت آسمان کی تخلیق جس کی خدا نے بنیاد رکھی ہے (ءانتم اشد خلقاام السماء بناها)۔ ؎1 
 یہ گفتگو حقیقت میں ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو گزشتہ آیات میں گزر چکی ہے۔ وہ کہتے تھے ۔ (ءانا لمردودون في الحافرة)۔ "کیا ہم پہلی حالت کی طرف پلٹ جائیں گے" ۔ 
  یہ آیت کہتی ہے کہ ہر انسان ادراک و شعور کے کسی مرحلہ میں بھی ہو وہ جانتا ہے کہ اس بلند آسمان کی تخلیق ، یہ تمام عظیم کُرے اور لاتعداد کہکشائیں، ان کی تخلیق صاف طور پر بتاتی ہے کہ انسان کی تخلیق ان کے مقابلہ میں کوئی شے نہیں ہے ، لہذا جو یہ قدرت رکھتا ہو وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرنے سے کس طرح عاجز 
ہو سکتا ہے۔ 
 اس کے بعد اس عظیم فرینش کے بارے میں تشریح کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے : " آسمان کی چھت کو اس نے بلند کیا اور اسے منظم و مرتب و موزوں کیا"۔ ( رفع سمكها نسواها)۔ 
 "سمك" (بروزن سقف) کے معنی اصل میں بلندی کے ہیں۔ بی چھت کے معنی میں بھی آیا ہے۔ فخررازی کی تفسیر کبیرمیں ہے کہ کسی چیز کی بلندی کا جب اوپر والی سمت سے نیچے کی طرف اندازه لگائیں میں تو اسے عمق کہتے ہیں اور اگر نیچے کی طرف سے اوپر کا اندازہ لگائیں تو اسے سمک کا نام دیا جاتا ہے۔ ؎1 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1    یہ آیت حقیقت میں مخذوف رکھتی ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (ام السماء اشد خلقًا) اور "بناها" ایک جلمہ مستانفہ ہے اور بعد میں آنے والی آیت کا مقدمہ ہے۔ 
  ؎2    تفسیر فخررازی / جلد 31 ص 46 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 "سواها" تسویہ کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی کسی چیز کی تنظیم اور اسے موزوں بنانے کے ہیں۔ یہ اشارہ ہے اس عظیم و دقیق نظم و ضبط کی طرف جو تمام آسمانی کرات میں کار فرما ہے ۔ اگر سمک سے مراد چھت ہو تو پھرہوا کے خطہ کی طرف اشارہ ہے جس نے محفوظ و محکم چھت کی طرح اطراف زمین کوگھیر رکھا ہے اور اسے آسمان کی طرف سے آنے والے منتشر پتھروں کے حملے سے ، اور ایسی شعاؤں سے ، جو موت کا سبب بن سکتی ہیں محفوظ کر رکھا ہے۔ 
 بعض مفسرین مندرجہ بالا تعبیر کو آسمان کے کروی ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے اس نے اطراف زمین کو گھیررکھا ہے اور وہ اس لیے کہ تسویہ اس سقف کے مرکز اصلی یعنی اجزائے زمین کے مساوی فاصلہ کی طرف اشارہ ہے جو کرویت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
 یہ احتمال بھی ہے کہ یہ آیت آسمان کے بلند ہونے اور کم سے آسمانی کروں کے بہت زیادہ طویل اور آنکھوں میں چکا چوند پیدا کرنے والے فاصلہ کی طرف اشارہ ہے اور اطراف زمین کی محفوط سقف کی طرف بھی اشارہ ہے۔ 
 بہرحال یہ آیت اس چیز کے مشابہ ہے جو سوره مومن کی آیت 57 میں آئی ہے (لخلق السماوات والارض اكبر من خلق الناس ولٰكن اكثر الناس لا يعلمون) آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے زیادہ اہم ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اس کے بعد اس عظیم عالم کے ایک اہم ترین نظام کی، یعنی نوروظلمت کے نظام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :  
 "اس کی رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا (واغطش ليلها واخرج ضحاها)۔ جن میں سے ہرایک ، انسان اور دوسرے زندہ موجودات کی زندگی میں، عام اس سے کہ وہ حیوان ہوں یا نباتات بہت گہرا اثر رکھتا ہے ۔ نہ تو انسان نور و روشنی کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے کیونکہ تمام برکتیں اور رزق کی نعمتیں اس کی حس و حرکت کے ساتھ وابستہ ہیں، نہ ظلمت کے بغیر اس کی زندگی ممکن ہے جو اس کے سکون و آرام کی رمز ہے۔ ؎1 
 "اغطش" "عطش" (بروزن عرش) کے مادہ سے تاریکی کے معنی دیتا ہے لیکن راغب مفردات میں کہتا ہے کہ اس کی اصل "اغطش"  سے لی گئی ہے جو اس شخص کے معنی میں ہے جو اپنی آنکھ میں نور کم رکھتا ہو۔ اور اس ضحیٰ کے معنوں میں ہے جب سورج کی روشنی آسمان و زمین میں پھلتی ہے۔ ؎2 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     زنده موجودات کی زندگی میں نور و ظلمت کے اہم آثارکے سلسلہ میں جلد 8 ص 343 و جلد 12، ص 41 و جلد 12 ص 146 پر ہم تفصیلی بحثیں کرچکے ہیں۔
  ؎2     قابل توجہ یہ ہے کہ "لیلھا" کی ضمیر اور"ضحاها" کی ضمیر آسمان کی طرف لوٹتی ہے اور نوروظلمت کی نسبت آسمان کی طرف اس بنا پر ہے کہ اس کا آسمانی ہے۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------  
 اس کے بعد آسمان سے زمین کا رخ کرتے ہوئے فرماتا ہے: 
 "زمین کو اس کے بعد پھیلایا  (اور بچھایا) - (والارض بعد ذالك رحاها)- 
 "دحا" "دحو" (بروزن محو) کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی میں پھیلانا بعض مفسرین نے اسے کسی چیز کو اس کی اصل سے ہلانے کے معنی میں لیا ہے اور چونکہ یہ دونوں معافی ایک دوسرے کے ساتھ بیان لازم وملزوم ہیں لٰہذا ایک ہی روح كلام رکھتے ہیں۔ 
 بہرحال "دحو الارض" سے مراد یہ ہے کہ ابتداء میں تمام سطح زمین کو اس پانی نے گھیر رکھا تھا جو پہلی سیلابی بارش سے مال بوا تھا، پانی آہستہ آہستہ زمین کے گڑھوں میں گجہ لیتا گیا، خشکیوں نے پانی کے نیچھے سے سر نکالا اور روز بروزاس میں وسعت پیدا ہوتی گئی یہاں تک کہ موجودہ حالت میں نمودار ہو گئی (یہ مسئلہ زمین و آسمان کی تخلیق کے بعد پیدا ہوا)۔ ؎1 
 زمین کو بچھانے اور زندگی کے لیے اس کے آمادہ ہوجانے کے بعد پانی اور نباتات کی بات درمیان میں لایا ہے اور فرماتا ہے:
 "خدا نے زمین سے اس کے پانی کو نکالا اور اسی طرح اس کی چراگاہوں کو" (اخرج منها ماءها ومرعاها)۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ پانی زمین کی نفوذ پذیر کھال کے درمیان چھپا ہوا تھا. اس کے بعد چشموں اور نہروں کی شکل میں جاری ہوا. یہاں تک کہ دریاؤں اور سمندروں کی صورت میں ظہور پذیر ہوا. "مرعی" اسم مکان ہے اس کے معنی چراگاہ ہیں۔ ؎2 
 اصل میں "رعی" سے حیوان کی حفاظت و نگهبانی کے معنی لیے جاتے ہیں چاہے غذا کے لحاظ سے ہو یا دیگرجہات سے، اسی لیے مراعات مخافظت و نگہبانی اورتدبیرامور کے معنی میں آیا ہے اور مشہور حدیث (كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته) بھی یہی بتاتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی حفاظت کو خود پرلازم سمجھیں۔ ؎3 
 لیکن چونکہ مختلف عوامل زمین کے آرام و سکون کو درہم و برہم کر سکتے تھے ، علاوہ دوسرے عوامل کے مثلاً بڑے بڑے مستقل طوفان اور مد و جزر جو زمین کی سطح پہ چاند سورج کی کشش سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح زلزلے جو زمین کے اندر پگھلنے والے مواد کے دباؤ سے معرض وجود میں آتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1      بعض مفسرین نے بعد ذالك کی تعبیر جو مندرجہ بالا آیت میں آئی ہے اس کی تفسیر "اس کے علاوہ کی" ہے۔ اب آیت کے معنی یہ بنتے ہیں کہ جو گزشتہ آیات میں آیا ہے، زمین کو بچایا اور پھیلایا۔
  ؎2     بعض نے اسے مصدرمیمی کے طور پر لیا ہے جسں کے معنی چرنے کے ہیں لیکن مناسب و کی مذکورہ بالا معانی ہیں۔ 
  ؎3     مفردات راغب ماده "رعی"۔ 
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 ان سب کو خدا نے پہاڑوں کے اس طاقتور جال کے ذریعہ، جس نے تمام روئے زمین کو گھیر رکھا ہے، کنٹرول میں رکھا اور زمین کو سکون و آرام دیا ۔ اسی لیے فرماتا ہے: "اور پہاڑوں کو زمین میں ثابت ومحکم کی (والجبال الرساها)۔ ؎1 
 انسانوں کی زندگی اور سکون و آرام میں پہاڑوں کے گہرے اثرات کے بارے میں تفصیلی بحث ہم سوره رعد کی آیت 3 کے ذیل میں (جلد 10 ص 114) کرچکے ہیں۔ آخر میں فرماتا ہے: 
 "ان سب چیزوں کو اس نے اس لیے انجام دیا تاکہ تمہارے فائدہ اٹھانے کا سبب اور اور تمہارے چوپایوں کے لیے وسیلہ و ذریعہ" (متاعًا لكم ولأنعامكم) - 
 جی ہاں ! آسمان کو بلند کیا ، نور و ظلمت کا نظام قائم کیا، زمین کو بچھایا اور پھیلایا اور اس سے پانی اور نباتات کو نکالا ، پہاڑوں کو زمین کی حفاظت کا نگهبان قرار دیا اور انسان کی زندگی کے تمام وسائل فراہم کیے اور سب کر انسان کافرمانبردار قرار دیا تاکہ انسان زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے اور غافل نہ رہے اوران تمام فرمانبرداروں کا پاس کرتے ہوئے جواللہ نے اس کے لیے پیدا کیے ہیں فرمان الٰہی کا فرمانبردار ہے۔ یہ سب ایک طرف مسئلہ معاد کے اثبات کے لیے اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں اور دوسری طرف معرفت توحید کی راہ میں اس کی عظمت کی دلیلیں ہیں۔ 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    "ارسی" از ماده  "رسو" (بروزن رسم )ثابت ہونے کے معنی میں ہے اور "ارسی" اس کے متعدد معانی کو بتاتا ہے یعنی پہاڑوں کو ثابت قدم رکھا۔