اُن انتھک فرشتوں کی قسم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا ۱وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا ۲وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا ۳فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا ۴فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا ۵
قسم ہے ان کی جو ڈوب کر کھینچ لینے والے ہیں. اور آسانی سے کھول دینے والے ہیں. اور فضا میں پیرنے والے ہیں. پھر تیز رفتاری سے سبقت کرنے والے ہیں. پھر امور کا انتظام کرنے والے ہیں.
تفسیر
اُن انتھک فرشتوں کی قسم
ان آیات میں پانچ موضوعات کی قسم کھائی گئی ہے اور ان قسموں کا مقصد مسئلہ معاد و قیامت کی حقانیت اور اس کے تحقیق کو بیان کرنا ہے۔ فرماتا ہے :"ان کی قسم جوسختی سے کھنچتے اور اکھاڑتے ہیں"۔
(والنازعات غرقًا)۔
اور ان کی قسم جو راحت و آرام کے ساتھ جدا کرتے ہیں ۔ (والناشطات نشطًا)۔
اور ان کی قسم جو سرعت و تیزی سے چلتے ہیں ۔ (والسابحات سبحًا).
اور وہ جو اچھی طرح سبقت لے جاتے ہیں . (فاالسابقات سبقًا)۔
اور وہ جو امور کی تدبیر کرتے ہیں ۔ (فالمدبرات امرًا)۔
اس سے پہلے کہ ہم ان آیات کی تفسیرپیش کریں جو الفاظ ان میں استعمال ہوئے ہیں مناسب ہے کہ باریک بینی کے ساتھ ان کی وضاحت کی جائے۔
"نازعات" "نزع" کے مادہ سے ہے۔ اس کے معنی کسی چیز کو اس جگہ سے اکھاڑنا یا کھینچنا ہیں ، مثلاً كمان کو تیر پھینکتے وقت کھینچنا کبھی کبھی یہ لفظ معنوی امور میں بھی استعمال ہوتا ہے. دل سے عداوت اور محبت کا نزع اس کے اکھاڑ پھننکنے کے معنی میں ہے۔ ؎1
"عرق" (ر کے زبر کے ساتھ) (بروزن شفق) بہت سے ارباب لغت کے بقول پانی میں ڈوب جانے معنی دیتا ہے کبھی کبھی کسی شدید حادثہ میں مبتلا ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے اور غرق بروزن فرق بقول ابن منظور (درلسان العرب) ایک اسم ہے جو مصدر کا جانشین ہوا ہے اور اغراق کے معنی میں ہے، اغراق کے معنی اصل میں آخری نقطے تک کمان کو کھینچنے کے ہیں۔ اس کے بعد مبالغہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے ، یہاں سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جو کچھ اوپر والی آیت میں آیا ہے وہ غرق ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ کسی کام کو اس کی ممکن حد تک انجام دینے کے معنوں میں ہے۔ ؎2
"ناشطات" "نشط" (بروزن ہشت) کے مادہ سے اصل میں گرہ کھولنے کے معنی میں ہے جو آسانی سے کھل جاتی ہے۔ اور وہ کنویں جن کی گہرائی کم ہے اور ان میں سے ڈول آسانی سے ایک ہی دفعہ میں باہر آجاتا ہے انہیں انشاط کہا جاتا ہے اور بطور کلی یہ لفظ ہر قسم کی اس حرکت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سہولت
کے ساتھ انجام پا جائے۔
"سابحات" "سبح" (بروزن سطح) کے مادہ سے پانی یا ہوا میں سریع و تیز حرکت کے معنوں میں ہے۔ اس لیے پانی میں نہانے یا گھوڑے کے تیز چلنے یا تیزی سے کسی کام کے پیچھے جانے کو کہا جاتا ہے تسبیح جو خدا کو ہر عیب و نقص سے پاک شمار کرنے کے معنی میں ہے، وہ بھی اسی سے لی گئی ہے۔ گویا جوشخض تسبیح کرتاہے وہ پروردگار کی عبادت کی راہ میں تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مفردات راغب مادہ "نزع"
؎2 کتاب لسان العرب ، تفسير مجمع البیان ، تفسیرکشاف اور مجمع البحرین سے رجوع کیا جائے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
"سابقات" ، "سبقت کے مادہ سے، آگے نکل جانے کے معنی میں ہے چونکہ گوۓ سبقت لے جاناعام طور پر تیز چلنے کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لیے کبھی کبھی جب اس مادہ سے سرعت اور تیزی کے مفہوم کا فائده بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔
"مدبرات" تدبیر کے مادہ سے کسی چیز کی عاقبت اور انجام کے بارے میں غور و فکر کرنا اور سوچنا ہے چونکہ عاقبت اندیشی اور آئندہ کے بارے میں سوچنا کا کے احسن طریقہ پر انجام پانے کا سبب ہوتا ہے لہذا لفظ تدبیر اس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
اب اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو کچھ ان آیات کے الفاظ کے معنی کے بارے میں کہاگیا ہے ہم تفسیر کی طرف رخ کرتے ہیں ، یہ پانچ قسمیں جو ابتدا میں ابہام کے ہالے میں گھری ہوتی ہیں اور ابہام بھی ایسا جو بہت زیادہ غور و فکر کا متقاضی ہے ، زہن و فکر کونئی جولانی عطا کرتا ہے اور باریک بینی و مطالعہ کا تقاضا کرتا
ہے، وہ یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ یہ افراد یا چیزوں کی طرف اشارہ ہیں ۔
مفسرین نے اس سلسد میں بہت کچھ گفتگو کی ہے اور بہت سی تفسیریں کی ہیں جن میں سے عمده تفسیریں تین محوروں کے گرد گھوتی ہیں ۔
1- ان قسموں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار و مجرمین کی ارواح کو قبض کرنے پر مامور ہیں جو ان روحوں کو بڑی شدت سے کفار و مجرین کے جسموں سے نکالیں گے۔ وہ ارواح و نفوس جوحق کے سامنے سر تسلیم کرنے پر بالکل آمادہ نہ تھے اور وہ فرشتے جو مومنین کی روحیں قبض کرنے پر مامور تھے جو مدارات نرمی اور نشاط کے ساتھ انہیں جدا کرتے ہیں ۔ وہ فرشتے جو فرمان الٰہی کے اجرا میں سرعت کے ساتھ حرکت کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ جو امور عالم کی اس کے فرمان کے ماتحت تدبیر کرتے ہیں۔
2- یہ قسمیں اشارہ ہیں آسمان کے تاروں کی طرف جو ہمیشہ ایک افق سے اکھاڑے جاتے ہیں اور دوسرے افق کی طرف روانہ ہو جا تے ہیں ، ایک گروہ آہستہ آہستہ سے چلتا ہے اور دوسرا گروہ تیزی سے راستہ طے کرتا ہے۔ یہ سب عالم بالا کے سمندر میں تیر رہے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتے ہیں اور آخر کار ان تاثیروں کی بنا پہ جو ان ستاروں میں ہے (جیسے سورج اور چاند کے نور کی تاثیر کره زمین میں) وہ خدا کے فرمان سے امور جان کی تدبیر کرتے ہیں۔
3- مراد جنگجو، غازی یا مجاہدین راه خدا کے گھوڑے ہیں جو اپنے گھروں اور وطنوں سے اکھڑ جاتے ہیں اور جدا ہو جاتے ہیں اس کے بعد نشاط، نرمی اور آرام کے ساتھ میدان جنگ کا رخ کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتے ہیں اور جنگی امور کی تدبیر کرتے ہیں۔
بعض اوقات کچھ مفسرین نے ان تفاسیر کو ایک دوسرے سے ملا دیا ہے ۔ پا نپچ قسموں میں سے کچھ کو ایک تفسیر سے اور دوسرے حصہ کو دوسری تفسیر سے لیا ہے لیکن کلام کی بنیاد وہی مذکوره بالا تین تفسیر ہیں۔ ؎1 جن کے درمیان کوئی تضاد موجود نہیں۔
لہذا ہو سکتا ہے کہ اوپر والی آیات سے ان سب کی طرف اشارہ ہو لیکن ان سب میں سے پہلی تفسیر،ان نکات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ، جو ذیل میں درج کیے جائیں گے ، زیادہ مناسب ہے۔ پہلے یہ کہ تفسیر روز قیامت کے مناسبت روشنی ہے جیسا کہ سورہ کی تمام آیات اس مفہوم کو لیےہوئے ہیں، دوسرے یہ کہ سوره مرسلات کی ان میں جیسی آیات سے مناسبت رکھتی ہیں جو آغاز میں ہیں ۔ ایک بات بھی ہے کے (فالمد برات امرًا کا جملہ زیادہ تر فرشتوں سے مناسبت رکھتا ہے جو امر خدا سے کاروبارجہاں کی تدبیر کرتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی اس کے اوامر کی انجام دہی سے روگردانی نہیں کرتے ـ(لايسبقونه بالقول وهم بامره یعملون) (انبیا / 27 )خصوصًا یہ کہ تدبیر امور کا مسئلہ یہاں بصورت متعلق بیان ہوا ہے اور اس میں کوئی قید و شرط میں لگائی گئی ہے ۔
ان سب باتوں سے قطع نظر ائمه معصومین سے کچھ روایات ان آیات کی تفسیر میں مروی ہیں جو انہی معانی و
سے مناسبت رکھتی ہیں۔ منجمله دیگر روایات کے ایک روایت ہمیں حضرت علی کی ملتی ہے کہ آپ نے (والنازعات غرقانًا) کی تفسیر میں ارشاد فرمایا : "اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کفار کی روحیں نہایت شدت کے ساتھ ان کے جسموں سے نکالیں گے جس طرح تیر اندا ز کمان کو آخری مرحلہ تک کھینچتاہے۔ ؎2
ایسے ہی معاني انہی جناب سے والناشطات، والسابحات اور فالمد برات کی تفسیرمیں نقل ہوئے ہیں ۔ ؎3
البتہ اسی تفسیر کو زیادہ کلی اور زیادہ عمومی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔ مومنین اور کفار کی روحوں کا کی قبض ہونا ممکن ہے کہ اس کا ایک مصداق ہو، لیکن اس کے تمام مضامین کو صرف اسی عنوان میں محدود کر دینا مناسب نہیں جیسا کہ اس طرح کیا جائے کہ ان قسموں سے مراد تمام تر وہ فرشتے ہیں جو خدا کے تمام او امر کا اجراء کرتے ہیں اور یہ اجرا پانچ مرحلوں میں تحقیق پاتا ہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بعض نے جوتھا احتمال پیش کیا ہے۔ موجودات کی طبیعی ارادی اورصنعتی حرکتوں کی قسم مراد لیا ہے۔ مثلا ایک نطفہ اپنی اصلی جگہ جو باپ کا صلب ہے وہاں سے اکھڑ کررحم مادر میں داخل ہو کر قرار پاتا ہے تو اپنی رفتار کر آہستہ آہستہ جاری رکھتا ہے اور تیز ہو جاتا ہے اور نطفے کے مواد حیاتی ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور آخر کار مکمل انسان بنا دیتے ہیں اور اس کی تدبیر کرتے ہیں حرکات ارادی میں بھی انسان اپنے ارادہ کرتا ہے پھر آہستہ سے پل پڑتاہے پر تیز ہو جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ وہ دوسروں سے سبقت حاصل کرے۔ آخر میں اپنے امراوراجتماعی زندگی کی تدبیر کرتا ہے۔ اسی طرح صنعتی وسائل مثلاً ہوئی جہاز اپنی حرکت میں ان تمام مراحل طے کرتا ہے۔ (لیکن اس تفسیر کی کوئی واضح لیل موجود نہیں ہے)
؎2 نورالثقلین ، جلد 5 ص ، 497 حدیث 4 -
؎3 نورالثقلین ، جلد 5 ص ، 497 حدیث 7 ، 8 ، 12
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پہلا مرحلہ پہلی شدید حرکت اور دو ٹوک ارادہ اور فیصلہ اس کے بعد آہستہ آہستہ چل پڑنا، پھر اس میں سرعت اور تیزی اور ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنا اور آخری امور کی تدبیر اور کاموں کو ترتیب دینا۔ لیکن بہرحال فرشتوں کا پروگرام کفار و مومنین کی ارواح کو قبض کرنے کے سلسلہ میں اس مفهوم کلی کا ایک مصداق ہے اور سورہ کے آئندہ مباحث کے لیے ایک تمہید شمار ہوتا ہے جو معاد کے بارے میں ہیں۔