پرهیزگاروں کی عظیم جزا کا ایک حصه
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ۳۱حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ۳۲وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ۳۳وَكَأْسًا دِهَاقًا ۳۴لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ۳۵جَزَاءً مِنْ رَبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ۳۶رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا ۳۷
بیشک صاحبانِ تقویٰ کے لئے کامیابی کی منزل ہے. باغات ہیں اورانگور. نوخیز دوشیزائیں ہیں اورسب ہمسن. اور چھلکتے ہوئے پیمانے. وہاں نہ کوئی لغو بات سنیں گے نہ گناہ. یہ تمہارے رب کی طرف سے حساب کی ہوئی عطا ہے اور تمہارے اعمال کی جزا. وہ آسمان و زمین اوران کے مابین کاپروردگار رحمٰن ہے جس کے سامنے کسی کو بات کرنے کا یارا نہیں ہے.
تفسیر
پرهیزگاروں کی عظیم جزا کا ایک حصه
گزشتہ آیات میں گفتگو سرکشی کرنے والوں کی سرنوشت اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کے ایک حصہ اور اس کی بدبختی کے سبب کے بارے میں تھی اور زیر بحث آیات میں اس کے نقطہ مقابل کی تشریح ہو رہی ہے، سچے مومنین اور پرہیزگاروں کے لیے قیامت میں جو نعمتیں ہیں ان کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تاکہ تقابل کی وجہ سے حقائق زیادہ واضح ہوں ۔
قرآن مجید کا یہی طریقہ دوسری صورتوں میں بھی ہے کہ وہ اضداد کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لاکر ان کی حقیقت و کیفیت کو مقابلہ اور موازنہ کے ذریعہ واضح کرتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے : "پرہیز گاروں کے ایسے عظیم و کامیابی اور نجات ہے"۔ (ان للمتقين مفازًا)۔
"مفاز" اسم مکان یا مصدر میمی ہے۔ یہ فوز کے مادہ سے ہے اور خیر و خوبی تا سلامتی کے ساتھ پہنچےکے معنی میں بھی آیا ہے جو اس معنی کالازمی حصہ ہے۔ اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مفاز نکرہ کی شکل میں بیان ہوا ہے عظیم کامیابی اور بہت بڑی سعادت تک پہنچنے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد اس سعادت کا تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"سرسبز و پر مسرت و محفوظ باغات انواع و اقسام کے انگوروں اور کھیلوں کے ساتھ "(حدائق و واعنابًا)۔ ؎1
"حدائق" حدیقہ کی جمع ہے جس کے معنی میں ایسا پر مسرت ، سرسبز اور پُر درخت باغ، جس کے گرد دیوار کھنچی ہوئی ہو اور وہ ہر لحاظ سے محفوط ہو،راغب مفردات میں کہتا ہے حدق دراصل اس زمین کو کہتے ہیں جس میں آنکھ کے ڈھیلے کی طرح ہمیشہ پانی موجود رہے۔
قابل توجہ یہ امر ہے کہ یہاں تمام پھلوں میں سے انگور کا ذکر ہوا ہے ، ان حد سے زیادہ خوبیوں اور مزے کی وجہ سے جو اس پھل میں ہے۔ اس لیے کہ بقول ماہرینِ غذا انگور ، علاوہ اس کے کہ اپنے خواص کے اعتبار سے ایک مکمل غذا شمار ہوتا ہے اور اس کے اجزائے غذائی شیر مادر سے بہت مشابہ ہیں۔ یہ بدن میں گوشت سے دکنی حرارت پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ اس میں اس قدر مفید اجزائے غذائی ہیں کہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک فطری دواخانہ ہے۔
اس کی زہر سے متضاد خاصیت ہے۔ یہ تصفیۂ خون کے لیے بہت مفید ہے. جوڑوں کے درد، ورم،
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "حدائق" "مفازًا" کا بدل ہے یا اس کا عطف بیان ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
انگلیوں کے جوڑے بند خصوصا انگوٹھے کے درد کے لیے فائدہ مند ہے اور خون کے اس بے رنگ بادہ کے اضافہ کو روکتا ہے جس کا ذائقہ شور و تلخ ہے۔ اس کے علاوہ انگور اعصاب کو تقویت دیتا ہے اور جسم میں احساس نشاط پیدا کرتا ہے اور انواع و اقسام کے وٹامن اپنے اندر رکھنے کی وجہ سے انسان کو قوت و طاقت بخشاہے انگور کے آثار و خواص کا ایک گوشہ ہے۔
اسی لئے پیغمبر اسلام کی ایک حدیث میں ہمیں ملتا ہے: (خير فواكهم العنب)۔ "تمهارے میووں اور پھلوں میں سے انگور سب سے بہتر ہے"۔
اس کے بعد جنت کی بیویوں کی طرف ، جو پرہیز گاروں کو ملنے والی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے : "ان کے لیے بہت ہی نوجوان حوریں ہیں جن کے سینوں کا ابھار نیانیاظاہر ہوا ہے اور جو کم سن ہیں"۔ (وكواعب اترابًا)۔
"كواعب" "كا عب" کی جمع ہے۔ یہ اس دوشیزہ کے معنوں میں ہے جس کے سینے کا ابھار نیانیا ظاہر ہوا جو جوانی کےآغاز کی طرف اشارہ ہے۔
"اتراب" ترب (بروزن حزب) کی جمع ہے جس کے معنی کم سن کے ہیں ۔ یہ زیادہ تر مؤنث کی صفت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض مفسرین کے بقول اصل میں "ترائب" سے لیا گیا ہے جس کے معنی سینے کی پسلیاں ہیں جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں اور کم سن ہونا ممکن ہے جنت کی خواتین کے لیے ہو، یعنی و سب نوجوان ہوں گی . حسن و جمال کی زیبائی اور قد و قامت کے اعتدال میں ایک جیسی ہوں گی ۔ یا کم سن ہونا ان کے اور ان کے شوہروں کے درمیان ہوگا اس لیے کہ شوہر اور توجہ کے درمیان سن کا برابر ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کو سمجھ سلکیں۔لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
اس کے بعد جنت کی چوتھی نعمت جو پرہیزگاروں کے انتظار میں ہے اسی کی اس طرح تشریح کرتاہے "اور لبریزمسلسل شراب طہور کے جام" (وکاسًا دهاقًا). یہ دنیاوی شراب کی طرح نجس شراب نہیں ہوگی جو عقل کو بیکار کر دیتی ہے اور انسان کو جانور کی حد تک گرا دیتی ہے، بلکہ ایسی شراب ہوگی جو عقل میں اضافہ کرے گی۔ وہ نشاط آفریں ، جاں پرور اور روح افزا ہوگی۔
"كاس" (بر وزن راس) مشروب سے لبریز جام کے معنوں میں ہے اور کبھی کبھی خود جام یا جو کچھ اس
میں ہے اس کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔
"دهاق" کی تفسیر بہت سے مفسرین نے لبریز کی ہے لیکن "ابن منظور" تے "لسان العرب" میں اس کے لیے دو اور معانی بھی تجویز کیے ہیں ، ایک پے در پے اور دوسرے صاف و شفاف ، اسی بنا پر اگر ان معانی کے مجموعہ کو ہم ذہن میں رکھیں تو آیت کا مفہوم اس طرح ہے کہ جنتیوں کے لیے شفاف ، لبریزاورپےدرپے شراب طہور کے جام ہوں گے۔
دنیا میں جام وشراب کی گفتگو اس کے غیر مطلوب معانی کا تقاضا کرتی ہے جبکہ جنت کی شراب دنیا کی شیطانی شرابوں سے بالکل متضاد ہے۔ لہذا بلا فاصلہ مزید کہتا ہے: "جنت والے وہاں نہ لغو و بہودہ بات سنیں گے اور نہ جھوٹ سنیں گے (لايسمعون فيها لغوًا ولا كذابا)۔
دنیا کی شراب عقل کو تباہ کر دیتی ہے اور ہوش و حواس کو ختم کر دیتی ہے اور انسان کو بہودہ گوئی اورغیر مناسب باتوں کے کہنے پر آمادہ کرتی ہے لیکن جنت کی شراب طهور انسان کو روح وعقل اور نور و صفاۓ باطن بخشتیی ہے۔
یہ کہ فیها کی ضمیر کا مرجع کیا ہے اس میں علماء نے دو احتمال تجویز کیے ہیں، پہلا احتمال یہ ہے کہ جنت کی طرف لوٹتی ہے اور دوسرا یہ کہ (کاس) جام کی طرف لوٹتی ہے۔
پہلی تفسیر کی بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا۔ جنت میں لغو اور جھوٹی بات نہیں سنیں گے جیسا کہ سورہ غاشیہ کی آیت 10 اور 11 میں آیا ہے ؛ ( في جنة عالية لاتسمع فيها الاغية)۔ "جن کی جنت عالی میں جگہ ہوگی جس میں تو لغو اور بیہودہ بات نہیں سنے گا"۔
دوسری تفسیر کی بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا "اس شراب کے جام کے پینے سے لغو اور جھوٹ حاصل نہیں ہوگا" جیسا کہ سورہ طور کی آیت 23 میں آیا ہے: (یتنازعون فيها کاسًا الا لغو فيها ولا تأثیم) "وہ جنت میں شراب طہور سے لبریز جام ایک دوسرے سے لیں گے جس میں نہ بے ہودہ گوئی ہے اورنہ گنا".
بہرحال اہل جنت کو ملنے والی عظیم معنوی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں دروغ گوئی ، بے ہودگی تہمت ،حق کی تکذیب ، باطل کی توجیہہ اور ان نامعقول باتوں کا نام و نشان تک نہ ہوگا جو پریزگاروں کے دلوں کو اس دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہیں ۔ اور واقعی کیا ہی خوبصورت اور اچھا ہو گا وہ ماحول جس میں ان غیر موزوں، تکلیف دہ اور رنج پہنچانے والی باتوں کا نشان تک نہ ہو گا اور سورہ مریم کی آیت 62 کے مطابق: "وہ سوائے اسلام اور صلح آمیز باتوں کے وہاں کوئی اور بات میں سنیں گے"۔ (یسمعون فيها لغوًا الاسلامًا)۔
ان نعمتوں کے بیان کے آخرمیں ایک اور معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے: "یہ جزا ہے تیرے پروردگار کی جانب سے اور کافی عطیہ ہے"۔ (جزاء من ربك عطا ء حسابًا)۔ ؎1
اس سے کونسی نعمت اور بشارت بالا ہے کہ ضعیف و کمزور بندہ اپنے مولائے کریم کی نوازش کرم اور
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 جزآ اس آیت میں ان نعمتوں کا حال ہے جو گزشتہ آیات میں آئی ہیں اور معنوی طور پر اس طرح ہے (اعطاهم جميع ذالك حالکونه جزاء من ربك)، (سب کچھ خدا نے انہیں دیا درآں حالیکہ یہ جزا ہے تیرے رب کی طرف سے) بعض نے یہ احتمال بھی بتایا ہے کہ یہ ایک فعل محذوف کامفعول مطلق ہے اوربعض نے اسے مفعول لاجله جاناہے لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لطف و کرم کا مورد قرار پائے، وہ اس کا اکرام کرے، اسے بزرگی عطا کرے اور خلعت بخشے ، یہ توجہ و عنایت اور یہ لطف و محبت مومنین کو اس قسم کا لطف سے گی جس کا کوئی نعمت مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بقول شاعر:
من کہ باشم کہ براں خاطر عاطر گزرم لطفہا می کنی اے خاک درت تاج سرم
میں کون ہوں جس کا اس کے پاک اور معطر دل میں گزر ہو. یہ تو اے وہ شخص جس کے در کی
خاک میرے سر کا تاج ہے، تیرا لطف و کرم ہے۔
"رب" کی تعبیر مخاطب کے سا تھ اور عطا کے لفظ کو لیے ہوئے یہ سب حد سے زیادہ لطف و کرم کو بیان کرتے ہیں جو ان نعمتوں میں پوشیدہ ہے۔
لفظ "حسابًا" بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق یہاں "کافیا" کے معنی میں ہے جیسا کہ بعض اوقات کہا جاتا ہے ، "احسبت" یعنی میں نے اس پر اتنا لطف و کرم کیا کہ اس نے "حسبی" کافی ہے"۔ کہا۔ ؎1
ایک حدیث میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ قیامت میں خدا مومنین کی حسنات کا حساب کرے گا اورہر نیکی کا دس گنا اور ستر گنا اجر عطا فرمائے گا، جیسا کہ خدا قرآن میں فرماتا ہے:(اجزاء من ربك عطاء حسابًا)۔ ؎2
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے عطیات، باوجود اس کے تفضل کا پہلو لیے ہوئے ہوتے ہیں، اعمال کے حساب کی بناء پر ہیں یعنی اس کے تفصلات وعطیات انسانوں کے اعمال صالح کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور اس طرح مندرجہ بالا آیت میں "حسابا" کی مشہورمعنی محاسبہ سے تفسیر کی جاسکتی ہے اور اس معنی اور گزشتہ معنی کا جمع ہونا بھی کوئی قباحت نہیں رکھتا۔ (غورکیجئے)۔
اس کے بعد آخری آیت میں مزید کہتاہے: "یہ عظیم عطیات وہی بخشتا ہے جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، ان کے پروردگار ہے. وہی خدا جو رحمٰن اور بخشنے والا ہے". (رب السماوات والأرض وما بينهما الرحمٰن)، جی ہاں ! وہ جو اس باعظمت جہان کا مالک مدبر اور مربی ہے اور اس کی رحمت نے ہر شے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہی قیامت میں نیکی کاروں اور پاک لوگوں کو یہ سب عطیات بخشنے والا ہے۔ حقیقت میں مندرجہ بالا آیت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر خدا اس قسم کا وعدہ کرتا ہے تو اُس نے اِس دنیا میں اُس کے ایک گوشہ کی اپنی رحمت عامہ کی شکل میں اہل آسمان و زمین کو نشاندہی کرائی ہے۔
آیت کے آخر میں فرماتا ہے : "کوئی اور شخص حق نہیں رکھتا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں بات کرے یا شفاعت کرے"۔ (لا يملكون منه خطابًا)۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر بیضاوی در ذیل آیہ زیرِ بحث
؎2 نورالثقلين ، جلد 5 ص 495 حدیث 29 ۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
"لا يملكون" میں جو ضمیر ہے ، ہو سکتا ہے کہ تمام اہل آسمان اور زمین کی طرف لوٹے یا ان تمام متقين اور سرکشوں کی طرف لوٹے جو حساب کتاب اور جزاء و سزا کی غرض سے عرصہ محشر جمع ہوں گے۔ بہرحال یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ایک دن کسی شخص کو اعتراض اور چون و چرا کا حق نہیں ہوگا اس لیے کہ خدائی حساب اس قدر باریک بینی پر مبنی اور عادلانہ ہے کہ کسی قسم کے چون و چرا کی گنجائش باقی نہیں رہتی . علاوہ ازیں کوئی شخص شفاعت کا حق نہیں رکھتا مگر اس کے اذن سے (من ذا الذي يشفع عنده الا باذنه) (بقرۃ / 255)۔