متقین کے لیے عطیات اور سرکشوں کے لیے عذاب
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا ۳۱حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا ۳۲وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا ۳۳وَكَأْسًا دِهَاقًا ۳۴لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا ۳۵جَزَاءً مِنْ رَبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا ۳۶رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا ۳۷
بیشک صاحبانِ تقویٰ کے لئے کامیابی کی منزل ہے. باغات ہیں اورانگور. نوخیز دوشیزائیں ہیں اورسب ہمسن. اور چھلکتے ہوئے پیمانے. وہاں نہ کوئی لغو بات سنیں گے نہ گناہ. یہ تمہارے رب کی طرف سے حساب کی ہوئی عطا ہے اور تمہارے اعمال کی جزا. وہ آسمان و زمین اوران کے مابین کاپروردگار رحمٰن ہے جس کے سامنے کسی کو بات کرنے کا یارا نہیں ہے.
چند نکات
متقین کے لیے عطیات اور سرکشوں کے لیے عذاب
مندرجہ بالا آیات جو پرہیز گاروں کو ملنے والے عطیات کی بات کرتی ہیں ان سے گزشتہ آیات کا موازنہ ہے جو سرکشوں کو ملنے والی سزاؤں کی بات کرتی ہیں . اس میں ایک پرکشش مقابل نظر آتا ہے۔
یہاں گفتگو "مفاز" (محل نجات) سے ہے اور وہاں "مرصاد" (کمین گاہ) سے ہے۔ یہاں بات پھلوں سے بھرے ہوئے باغات کی ہے اور وہاں غیر محدود مدت تک آگ میں غرق ہونے کی "احقاب" یہاں گفتگو پے بہ پے جاموں کی ہے جو شراب طہور سے لبریز ہوں گے، وہاں جلتے ہوئے اور ابلتے ہوئے پانی اور "حميم وغساق" کی ہے ، یہاں گفتگو خداوند رحمٰن کے وسیع و عریض عطیات کی ہے اور وہاں منصفانہ سزاؤں اور جزاء وفاق کی ہے، یہاں بات ہے نعمت الٰہی کی فراوانی کی اور وہاں عذاب کی فراوانی کی۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں گروہ ہر لحاظ سے دو مخالف قطب میں قرار پاتے ہیں کیونکہ وہ ا س دنیا میں ایمان و عمل کے لحاظ سے دو مخالفت قطب تھے۔
جنت کے مشروب
قرآن مجید کی مختلف آیتوں میں جنت کی شرابوں کی بہت زیادہ تعریف و توصیت ہوئی ہے جن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کو پینے والے اس قسم کی روحانی لذت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے جس کا اظہار الفاظ میں نہیں ہو سکتا۔ ایک جگہ اس کی تعریف شراب طہور کے عنوان سے کرتا ہے ( وسقاهم ربهم شرابًا طهورًا)- (سوره دهر / 21)۔
دوسری جگہ تاکید کرتا ہے کہ صاف و شفان خالص اور لذت بخش شراب، نہ تو درد سر پیدا کرتی ہے اور نہ سُستی لاتی ہے،نہ فساد عقل پیدا کرتی ہے (بطاف عليهم بكأس من معين بيضاء لذة للشاربين لافیها غول ولا هم عنہاينزفون) (صافات / 45 تا 47) ۔
ایک جگہ فرماتا ہے: "ایسے جام (مشروب پئیں گے جو کافور کی آمیزش رکھتے ہیں (ٹھنڈے اور سکون بخش ہیں ) (يشربون من كاس كان مزاجها كافورًا) (دهر /17)
دوسری جگہ مزید فرماتا ہے: "ایسے جام نہیں پلائیں گے جس کے مشروب میں زنجبیل کی آمیزش ہے (گرم کرنے والا اور نشاط آفریں مشروب). (ويسقون فيها كان مزاجها زنجبيلًا) (دھر / 17) -
زیر بحث آیات میں بھی ہم نے پڑھا ہے: " وہ لبالب زلال اور پے بہ پے جام رکھتے ہیں" (وکاسادھاتًا) اور ان سب چیزوں سے اہم بات یہ ہے کہ اس بزم روحانی کا ساقی خدا ہے وہ اس کے دست قدرت سے اور اس کی بساط رحمت سے جام حاصل کریں گے اور پیئیں گے اور اس کے عشق و
معرفت کے جذبہ سے سرشار ہوں گے۔ "وسقاهم ربهم ... (دہر: 21)
خداوندا ! ہمیں بھی وہ شراب طهور عطا فرما۔