جہنم ایک عظیم کمین گاہ
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا ۲۱لِلطَّاغِينَ مَآبًا ۲۲لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا ۲۳لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا ۲۴إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا ۲۵جَزَاءً وِفَاقًا ۲۶إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا ۲۷وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا ۲۸وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا ۲۹فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا ۳۰
بیشک جہنم ان کی گھات میں ہے. وہ سرکشوں کا آخری ٹھکانا ہے. اس میں وہ مدتوں رہیں گے. نہ ٹھنڈک کا مزہ چکھ سکیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا. علاوہ کھولتے پانی اورپیپ کے. یہ ان کے اعمال کامکمل بدلہ ہے. یہ لوگ حساب و کتاب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے. اورانہوں نے ہماری آیات کی باقاعدہ تکذیب کی ہے. اور ہم نے ہر شے کو اپنی کتاب میں جمع کرلیا ہے. اب تم اپنے اعمال کا مزہ چکھو اورہم عذاب کے علاوہ کوئی اضافہ نہیں کرسکتے.
تفسیر
جہنم ایک عظیم کمین گاہ
معاد کے متعلق دلائل اور قیامت کے بعض حوادث کو بیان کرنے کے بعد قرآن دوزخیوں اور جہنمیوں کی سرنوشت کی طرف رخ کرتا ہے . بات پہلے روزخیوں سے شروع ہوتی ہے۔ فرماتا ہے:"جہنم مکین گاہ ہے"۔ (ان جهنم کانت مرصادًا)۔ "اور سرکشوں کی بازگشت کا مقام ہے"۔ (واللطاغين مابًا)"۔ ؎1 "وہ اس میں طویل مدت تک رہیں گے"۔ (الابثين فيها احقابًا)۔
"مرصاد" اسم مکان ہے یا اس جگہ کے معنی میں ہے جہاں کمین گاہ بناتے ہیں۔ "راغب" "مفردات" میں کہتا ہے "مرصد" (بروزن مرقد) اور "مرصاد" دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے، اس فرق کے ساتھ گھر کہ "مرصاد" اس جگہ کو کہا جاتا ہے جو کمین گاہ کے لئے مخصوص ہو۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس شخص کے معنی میں ہے جو بہت زیادہ کام لیتا ہو ، معمار کی طرح جو اس شخص کے معنی میں جو بہت زیادہ تعمیر کا کام کرتا ہو . البته پیلے معنی زیادہ معروف ہیں اور مناسب بھی ہیں۔
اب یہ کہ دوزخ میں کون شخص دوزخیوں کی تاک میں ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد عذاب کے فرشتے ہیں، اس لیے کہ سورہ مریم کی آیت 71 کے مطابق تمام انسان ، عام اس سے نیک ہوں یا بد، دوزخ کے قریب سے گزریں گے یا اس کے اوپر سے عبور کریں گے (وان منکم الا واردها كان على ربك حتمًا مقضیًا) اس عمومی گزر گاہ میں عذاب کے فرشتے کمین گاہ میں ہیں اور وہ دو زخیوں کو اچک لیں گے ۔
اگر ہم اس کی صیغہ مبالغہ کے اعتبار سے تفسیر کریں تو پھر خود دوزخ ان کی تاک میں قرار پائے گا اور سرکشوں میں سے جو کوئی اس کے قریب ہو گا وہ اسے اپنی طرف کھینچ لے گیا اور اسے نگل لے گا۔ بہرحال اس عمومی گزرگاه پر سے سرکشوں میں سے کوئی نہیں گزر سکے گا مگر یہ کہ یا عذاب کے فرشتے اسے اچک لیں گے یا جہنم کی شدید کشش اسے کھینچ لے گی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 آیت محزوف رکھتی ہے، تقدیر اسی طرح ہے (اکانت للطاغين ماٰبًا)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"ماٰب" کے معنی مرجع یا محل بازگشت کے ہیں ، لوٹنے کی جگہ۔یہ کبھی منزل اور قرارگاہ کے معنی میں بھی آتا ہے اور یہں اسی معنی میں ہے۔ باقی رہا "احقاب" جو "حقب" (بروزن قفل) کی جمع ہے ،یہ زما نے کی غير محدود بات کے معنی میں ہے۔
بعض مفسرین نے اس کی اسی سال بحض نے ستر سال اوربعض نے چالیس سال تفسیر کی ہے۔ چونکہ اس تفسیر سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ دوزخی طویل مدت تک دوزخ میں رہیں گے ، اور آخر کارختم ہو جائیں گے۔ یہ چیز ہمیشہ رہنے والے عذاب سے متضاد ہے، اس لیے ہر ایک مفسر نے اس تفسیر میں کوئی نہ کوئی راہ اختیار کی ہے مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ احقاب سے مراد یہاں یہ ہے کہ طولانی مدتیں اور سال ہائے دراز پے در پے آئیں گئے اور گزر جائیں گے بغیر اس کے کہ وہ ختم ہوں . جور زمانن گزرے گا دوسرا ا س کا جانشین بن جائے گا۔
بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ آیت ان گنہگاروں کے بارے میں ہے جو آخر کار پاک ہو جائیں گےاور دوزخ سے آزاد ہو جائیں گے کہ ان کافروں کے بارے میں جو جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ ؎1
اس کے بعد جہنم کے شدیر عذابوں کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "وہ وہاں نے کوئی ٹھنڈی چکھیں گے جو جہنم کی وحشتناک گرمی کو کم کر سکے اور نہ انہیں کوئی خوشگوار مشروب ملے گا جو ان کی شدیش پیاس کو تسکین بخشے." (لا يذوقون فيها بردا ولاشرابًا)۔ "سوائے جلتے ہوئے پانی، پیپ اور لہو کے"۔ (الأحمیمًا و غساقًا)۔ "اور سوائے آگ کے گاڑھے، گرم ،خفقان میں مبتلا کر دینے والے اور گھٹن پیدا کرنے والے دھوئیں کے سائے کے ، جیسا کہ سوره واقعہ کی آیت 43 میں آیا ہے : (وظل من یجموم)۔
"حميم" نہایت گرم پانی کے معنی میں ہے اور غساق پیپ اور لہو کے معنی میں ہے جو زخم سے نکلتا ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی تفسیر بدبو دار بننے والی چیزوں سے کی ہے۔ یہ اس صورت میں ہوگا جبکہ جنت والے اپنے پروردگار کی طرف سے شراب طہور کے خوشگوارچشموں سے سیراب ہوں گے۔ (وسقاهم ربهم شرابًاطهورًا).(دھر - 21) اور ایسے مشروبات سے سیراب ہوں گے جو جنت کے خوبصورت ظروف میں ہوں گے اور جن پر مہرلگی ہوئی ہوگی۔ ۔ اسی مہر جو مشک سے ہو ۔ (ختامه مسك)۔ (مطففين /26)۔
ببین تفات ره از کجا است تابہ کجا
چونکہ ممکن ہے کہ ان سخت اور شدید عذابوں کا وجود بعض افراد کو عجیب نظر آئے لہذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 تفسیر نورالثقلین ، جلد 5صفحہ 494 حدیث 32- اور حدیث 26 ص 495۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"یہ سزا ان کے اعمال کے موافق و مناسب ہے"۔ (جزاء وفاقًا)۔ ؎1 ایسا کیوں نہ ہوا ہے کہ انہوں نے اس دنیا میں مظلوموں کے دل جلائے ہیں اور ان کے قلب و جان میں آگ لگائی ہے اور اپنے ظلم وستم اور سرکشی کی وجہ سے کسی پر رحم نہیں کھایا۔ لہذایہی مناسب ہے کہ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جاۓ اور ان کے مشروبات ایسے ہی ہوں ، اصولی طور پر جیسا کہ ہم نے بار بار تاکید بھی کی ہے۔
آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں گنہگاروں پر ہونے والے عذاب اور ان کو ملنے والی بہت سی سرائیں ان کے اعمال کی تجسیم ہیں جیسا کہ سورہ تحریم کی آیت 7 میں ہم پڑھتے ہیں (یاایها الذين كفروا لا تعتذروااليوم انها تجزون ما كنتم تعملون)۔ "اے کافرو! آج معزرت نہ کرو اس لئے کہ تمهاری سزا صرف وہی اعمال ہیں جنہیں تم انجام دیتے تھے " (جو اب مجسم ہو گئے ہیں اور تمھارت سامنے آگئے ہیں)۔ اس کے بعد اس سزا کی علت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"یہ اسی بناء پر ہے کہ وہ حساب کتاب کی امید اور خدا کا خوف نہیں رکھتے تھے"۔ (انهم كانوا لا یرجون حسابًا)۔ حساب اور روز جزا سے یہی بے اعتنائی ان کی سرکشی اور ظلم وستم کا باعث بنی تھی اور اسی ظلم و فساد نے ان کے لیے اس قسم کی درد ناک سرنوشت فراہم کی۔ حقیقت میں حساب کے متعلق عدم اطمینان سرکشی کا سبب ہے اور وہ ان سخت قسم کے عذابوں کا عامل و سبب ہے۔
توجہ رہے کہ "لايرجون" رجاء کے مادہ سے امید کے معنی میں بھی ہے اور عدم خوف و وحشت کے معنی میں بھی ۔ اصولی طور پر جب کوئی انسان سزا و عذاب کا امکان محسوس کرتا ہو تو وہ فطرتًا خون کھا تا ہے اور اگر یہ چیز محسوس نہ کرتا ہو تر پھروہ نہیں ڈرتا ۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں اس لیے وہ لوگ جو حساب کتاب پر یقین نہ رکھتے ہوں خوف و ہراس محسوس نہیں کر سکتے۔
"ان" کی تعبیر جو تاکید کے لیے ہے اور "کانوا" کا لفظ جو ماضی میں استمرار کو بیان کرتا ہے اور "حسابًا" جو نفی کے بعد نکرہ کی شکل میں آیا ہے اور عمومیت کے معنی دیتا ہے، یہ سب اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ وہ مطلقًا کسی قسم کے حساب کتاب کا خوف نہیں رکھتے تھے۔ باالفاظ دیگر وہ قیامت میں ہونے والے حساب کتاب کو بالکل فراموش کر چکے تھے اور اسے اپنی زندگی کے لائحہ عمل میں سے مکمل طور پر حزف کر چکے تھے۔ اور یہ ایک فطری امر ہے کہ ایسے افراد اس طرح کے بڑے گناہوں میں آلودہ ہوں اور آخرکار درد ناگ عذاب میں گرفتار ہوں۔
اسی لیے بلا فاصله مز ید کہتا ہے: "انہوں نے ہماری آیات کی مکمل طور پر تکذیب کی"۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 جزا منصوب ہے فعل محذوف کے منقول معطلق کے عنوان ان سے جو کلام کے قرینہ سے واضح ہوتا ہے اور وفاق بھی مصدر کے معنی رکھتاہے اور اس کی صفت ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے يجازيھم جزاء ذاوفاق -
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
( وكذبوا بايانا كذابا)۔ ؎1
ان پر ہوائے نفس اس طرح غالب آئی کہ انہوں نے خواب غفلت سے جگانے والی تمام الٰہی آیات کا شدت سے انکار کیا تاکہ وہ اپنی سرکشی کو اور بوا و ہوس کے مشغلے کو جاری رکھ سکیں اور اپنی غیر شرعی خواہشات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔
ظاہر ہے کہ لفظ آیات کے یہاں ایک وسیع معانی ہیں جس میں تمام آیات توحید و نبوت وتشريع و تکوین و منجزات انبیاء و احکام وسنن سب شامل ہیں اور ان سب آیات الٰہی کی تکذیب کی طرف ترجمہ کرتے ہوئے کہ جن سے عالم تکوین و تشریع چھلک رہا ہے، ہمیں تصدیق کر نی چاہیئے۔ وہ سزا میں ایسے ایسے منکر افراد کے لیے مناسب ہیں ۔
اس کے بعد ان سرکشوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اور جرم و حاکمیت و سزائے مناسب کے درمیان موازنہ کے موجود ہونے کے مسئلہ پر تاکید کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "ہم نے ہر چیز کا قطعی اور یقینی طور پر احصا ہے"۔ (وکل شيء احصيناه کتابًا۔ ؎2
تاکہ تم یہ گمان نہ کرو کہ کوئی چیز تمہارے اعمال میں سے بے حساب اور سزا کے رہ جائے گی اوریہ خیال بھی نہیں نہ ہو کہ یہ شدید قسم کی سزائیں غیرمنصفانہ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان کے تمام اعمال قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ، پوشیدہ ہوں یا ظاہر، یہ سب ثبت ہوتے ہیں حتٰی نیتیں اورعقائد
بھی لکھے جاتے ہیں ، یہ حقیقت بہت سی قرآنی آیات سے ثابت ہوتی ہے۔
ایک جگہ فرماتا ہے: (وكل شيء فعلوه في الزبر وكل صغير وكبيرمستطر) "جس کام کو انہوں نےانجام دیا وہ ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہے اور ہر چھوٹا بڑا کام کیا جاتا ہے"۔ (قمر / 52 ، 53)۔
دوسری جگہ فرماتا ہے: (ان رسلنا يكتبون ماتفكرون)۔ "جو کچھ تم کرتے ہو ہمارے رسول اسے لکھتے ہیں"۔ (یونس / 21)
علاوہ ازیں هم پڑھتے ہیں (ونكتب ماندموا واٰثارهم) "اور ہم ان تمام چیزوں کو جنہیں تم نے آگے بھیجا ہے اور اسی طرح ہم ان کے آثار کو لکھتے ہیں" (یٰسین /12)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "کذاب" (کاف کے زیر کے ساتھ) باب تفصیل کے مصدر کا ایک صیغہ ہے جو تکذیب کے معنی میں ہے بعض ارباب العنت نے یہ بھی کہا ہے کہ ثلاثی مجرد کا مصدر اور کذب کا معادل ہے بہرحال "کذبوا" کا مفعول مطلق ہے اور تاکید کے لیے ہے۔
؎2 اس آیت میں "كل" فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے جس پر فعل مذکور یعنی "احصيناه"دلالت کرتا ہے اور "کتابًا" مفعول مطلق کے عنوان منسوب ہے کہ "احصينا" "کتبنا" کے معنی میں ہے اور جس نے اسے حال سمجھا ہے۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اسی لئے جب مجرموں کے نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیں گے تو ان کی فریاد بلند ہو گی اور وہ کہیں گے: (ياويلتنا مال هٰذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة الا احصاها)۔ " وائے ہوہم پر، اس کتاب کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی چھوٹا بڑا کام ایسا نہیں ہے جسے ثبت نہ کیا گیا ہو اور وہ شمارہوا ہو"۔ (کہف / 49)۔
اس میں شک نہیں کہ جو شخص اس حقیقت کو اپنے دل سے باور کرے تو وہ اعمال کے انجام دینے میں بہت ہی باریک ہیں اور حساب کرنے والا ہوگا ، اوریہی اعتقاد انسان اور گناہ کے درمیان ہہت بڑی رکاوٹ ڈال دے گا اور وہ تربیت ذات کے اہم عوامل میں شمار ہوگا ۔
آخری زیربحث آیت میں گفتگو کے لب و لہجہ کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں غائب سے مخاطب بنا کر، تہدید آمیز غصہ سے بھرے ہوئے اور دل ہلا دینے والے جملے فرماتا ہے: " پس چکھو، ہم تم پر سوائے عذاب کے اورکسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے"۔ (فذوقوا فلن نزيدكم الدعذابًا)۔ جس قدر فریاد کرو "ياويلتنا" کہو، دنیاکی طرف بازگشت اور گناہوں کی تلافی کا مطالبہ کرو، تمہاری بات نہیں سنی جائیگی اور تم پر سواۓ عذاب اور کسی چیز کا اضافہ نہیں ہو گا۔ یہ سزا ہے ان لوگوں کی جو انبیائے خدا کی محبت آمیز دعوت فکر کے مقابلے میں یہ کہتے تھے: (سواء علينا اوعظمت ام لم تكن من الواعظين). "ہمارے لیے یکساں ہے کہ ہمیں تو نصیحت کرے یا نہ کرے" ـ(شعراء / 132)۔ اور یہ اس شخص کی سزا ہے کہ جب اس کے سامنے خدا کی آیات پڑھی جاتیں تو اس میں نفرت کے علا وہ کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا تھا۔ (ومايزيد هم الانفورًا). (اسراء /41) اور بالاخر یہ ہے سزا اس شخص کی جو کہ گناہ سے رو گرداں نہیں تھا اور جو ہرکار خیر سے بے تعلق تھا۔
ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے گی : (هذه الأية اشد ما في القران على اهل النار)- یہ آیت قرآن کریم کی شدید ترین آیت ہے جو دوزخیوں کے بارے میں آئی ہے۔ ؎1
ایسا کیوں نہ ہو جبکہ خداوند غفور و رحیم ان پر غضبناک ہوا ہے اور انہیں ایسے جملے سے مخاطب کیا ہے جس نے ان کے سامنے امیدوں کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں اور سوائے اضافہ، عذاب کے وعدہ کے انہیں اور کوئی چیزیں نہیں دیتا۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "تفسیرکشاف" جلد4 ص 690 یہی حدیث تفسیر صافی میں بھی زیر بحث آیت کے ذیل میں آئی ہے اور اسی طرح تفسیر روح البیان میں جلد 10 ص 307 پر۔