آخرکار روز موعود آکررھے گا
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا ۱۷يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا ۱۸وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا ۱۹وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا ۲۰
بیشک فیصلہ کا دن معین ہے. جس دن صورپھونکا جائے گا اور تم سب فوج در فوج آؤ گے. اورآسمان کے راستے کھول دیئے جائیں گے اور دروازے بن جائیں گے. اورپہاڑوں کو جگہ سے حرکت دے دی جائے گی اوروہ ریت جیسے ہوجائیں گے.
تفسیر
آخرکار روز موعود آکررھے گا
گزشتہ آیتوں میں معاد کے مختلف دلائل آئے تھے ۔ پہلی زیر بحث آیت میں ایک نتیجہ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے: "و جدائی کا دن سب کے وعدہ کا دن ہے"۔ (ان يوم الفصل کان میقاتاً)۔؎1
یوم الفصل کی تعبیر بہت ہی پر معنی ہے جو اس عظیم دن میں ہونے والی جدائیوں کو بیان کر تی ہے ،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 عام طور ہر پر "کان" جو فعل ماضی ہےاس کی تعبیر اس دن کے بارے میں جو آئندہ تحقیق پذیر ہوگا اور اس دن کے قطعی اور یقینی ہونے کے بیان کے لیے ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حق کی باطل سے علیدگی ، نیک مومنین کی بدکار مجرموں سے علیحد گی ، ماں باپ کی اولاد سے جدائی اور بھائی کی مھائی سے جدا ئی۔
"میقات" وقت کے مادہ سے "معیاد" اور "واعدہ" کی طرح متعین و مقرر وقت کے معنی میں ہے اور یہ جو ان معین مقامات کو "میقات" کہاجاتا ہے جہاں سے خانہ کعبہ کے زائرین احرام با ندھتے ہیں اس وجہ سے ہے کہ وہ معین وقت میں وہاں اکٹھے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد اس عظیم دن کی بعض خصوصیات اور حوادث
کی تشریک کرتے ہوئے کہتا ہے:
"وہی دن جس میں صور پھونکا جائے گا اور تم فوج در فوج میدان محشر میں وارد ہو گئے" (يوم ينفخ في الصور فتأتون انواجًا)- آیات قرآنی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور کے عنوان سے دو عظیم حادثے پرپا ہوں گے ، جن میں سے پہلے حادثہ سے عالم ہستی کا تمام نظام درہم برہم ہو جائے گا اور دوسرے حادثے کے نتیجے میں عالم درباره وجود میں آجائے گا اور مردے نئی زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے اور بڑی قیامت برپا ہو گی۔
نفخ کے معنی میں پھونکنا اور "صور" کے معنی میں بگل ، نفیری اور سائرن جو عام طور پر لشکر کو لڑانے یا روانہ کرنے کے لیے بجایا جاتا ہے اور اہل قافلہ اورلشکر والے اس کی صدا سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کو توقف کرناچاہئے یا روانہ ہوجانا چاہئے۔ یہ تعبیران دو حادثوں کا ایک لطیف کنایہ ہے، جو مندرجہ بالا آیت میں بیان ہوئے ہیں ، اور دوسرے "نفخ" صور کی طرف اشارہ ہے جو حیات تازہ کا سبب ہے اور صور قیامت ہے ۔ (نفخ صور اور اس سے متعلق نکات کے بارے میں ہم تفصیل کے ساتھ جلد ۱۹ سوره زمر کی آیت 38 کے ذیل میں صحفہ 534 تا 442 پرکر چکے ہیں)۔
زیر بحث آیت کہتی ہے "تم فوج در فوج میدان محشر میں وارد ہوگے" جبکہ سورہ مریم کی آیت 95 کہتی ہے:"ہر شخص اس دن تنہا ہوگا"۔(وللھم اٰتیہ یومالقیامۃ فردًا) اور سور اسرار کی آیت 71 کہتی ہے عرصہ محشر میں ہر گروہ اپنے امام کے ہمراہ وارد ہوگا۔ (یوم ندعوا كل اناس بامامهم)۔
ان آیات کے مفهوم اسی طرح جمع ہو سکتے ہیں کہ لوگوں کا فوج فوج ہونا اس سے تضاد نہیں رکھتا کہ ہرفوج اپنے امام کے ساتھ محشر میں وارد ہو گی۔ باقی رہا اکیلا ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت کے کئی مواقف ہیں ہوسکتا ہے کہ پہلے موقف میں لوگ گروہ درگروه ہدایت و ضلالت کے رہبروں کے ساتھ محشر میں وارد لیکن خدا کے محکمہ عدالت میں آجانے کے بعد فرد فرد ہوں۔
سوره ق کی آیت 21 میں قرآن کی تعبیر کے مطابق ہر شخص ایک مامور اور ایک گواہ کے ساتھ وہاں حاضر ہو گا ۔ (وجاءت كل نفس معها سائق و شهید)یہ احتمال بھی ہے کہ اکیلے کرنے سے مراد دوستوں، ساتھیوں اور یا رو انصار سے جدا ہونا ہے اس لیے وہاں انسان خود ہوگا یا اس کا عمل اس کے بعد مزید کہتا ہے:
" آسمان کھول دیا جائے گا اور وہ متعدد دروازوں کی شکل میں ہو جائے گا"۔ (وفتحت السماء فكانت ابوابًا) - ان دروازوں سے کیا مراد ہے اور ان کے کھیلنے کا کیا مفہوم ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عالم غیب کے دروازے عالم شهود میں کھل جائیں گے ، پردے ہٹ جائیں گے اور فرشتوں کا جہان دنیائے انسانیت میں اپنا راستہ نکال لے گا۔ ؎1
یہاں ایک جماعت نے اس آیت کو ایک ایسی چیز کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو دوسری آیت میں آتی ہے جس کے بارے میں فرمایا ہے: "جب آسمان پھٹ جائے گا"۔ (اذالسماء انشقت) (انشقاق /1)
دوسری جگہ ان معنی کے ایک دوسری تعبیر کے ساتھ بیان کرتا ہے. (اذا السماء انفطرت) (انقطار /1) درحقیقت آسمانی کروں میں اتنے شگاف پڑجائیں گے گویا وہ سب دروازوں کی طرح ہوں گے۔
یہ احتمال بھی ہے کہ انسان دنیا میں موجودہ حالات میں آسمانوں کی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر اس کے لیے ممکن ہو بھی تو وہ بہت محدود حد تک ہے، گو یا موجودہ حالات نے اس پر آسمان کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں دین قیامت میں انسان کره خاکی سے آزاد ہو جائے گا ، اور آسمانوں کی طرف سفر کرنے کے دروازے اس کے سامنے کھل جائیں گے اور اس چیز کے اسباب و حالات فراہم ہو جائیں گے۔
دوسرے لفظوں میں پہلے تو آسمان ایک دوسرے سے علیدہ ہو جائیں گے اور اس کے بعد سوره ابراہیم کی آیت 48 کے مطابق نئے آسمان اور نئی زمین ان کی جگہ لے لے گی (یوم تبدل الأرض غير الارض والسماوات) اور اس صورت میں اہل زمین کے لیے آسمانوں کے دروازے کھل جائیں گے اور آسمانوں کے راستے زمین والوں پر ظاہر ہو جائیں گے۔
جنت والے جنت کی طرف چلے جائیں گے اور بہشت کے دروازے ان کے سامنے کھلے ہوں گے۔ (حتى اذا جاء وها وفتحت أبوابها وقال لهم خزنتها سلام عليكم) "یہاں تک جنت والے جنت کی طرف آئیں گے اور اس کے دروازے کھلے پائیں گے اور جنت کے خازن ان سے کہیں گے کہ تم پر سلام ہو" (زمر/ 73)۔ "اور یہی وہ مقام ہے کہ فرشتے دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور ان کی خدمت میں تبریک پیش کریں گے"۔ (والملائكة يدخلون عليهم من كل باب ) (رعد / 23)۔
"اور کافروں کے سامنے دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے"۔(وسين الذين كفروا الي جھنم زمرًا حتى اذا جاء وهافتحت ابوابها)۔ (زمر /71 )۔ "اور اس طرح انسان ایک ایسے میدان میں قدم رکھے گا جس کی وسعت موجودہ زمین و آسمان جتنی ہوگی"۔ (وجنة عرضها السماوات والأرض) - ( آل عمران / 133)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 الميزان ، جلد 20ص 265۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آخری تریر بحث آیت میں قیامت میں پہاڑوں کی کیفیت کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے: "پہاڑوں کو چلایا جائے گا اور وہ آخر کار سیراب ہو جائیں گے"۔ (وسیرت الجبال فكانت سوابًا)۔
قرآن کی مخلتف آیتوں کے اجتماع سے قیامت میں پہاڑوں کی سرنوشت کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ پہاڑ کئی مرحلے طے کریں گے۔ "پہلے تو پہاڑ حرکت میں آجائیں گے"۔(چلنے لگیں گے)۔ (وتسبر الجبال سیرًا) (طور / 10)." پھر وہ اپنی جگہ سے اکھڑجائیں گے اور ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے" (وحملت الارض والجبال فدکتادكةواحدة)۔ (حاقہ / 14 )۔ "اور اس کے بعد ایک دوسرے پر پڑے ہوئے ریت کے تودوں کی طرح ہو جائیں گے"۔ (وكانت الجبال کثیبًا مھیلًا)۔ (مزمل/ 14)۔ "اس کے بعد دھنکی ہوئی اون کی شکل کے ہو جائیں گے جو تیز ہوا کے ساتھ اُڑ رہی ہو" (وتكون الجبال العھن المنفوش) (قارعہ /5) - "پھراس گرد و غبار کی طرح ہو جائیں گے جو فضا میں بکھر جاتا ہے "(وبست الجبال بسًا فكانت هباء منيثًا)۔ (واقعه / 5-6)۔
آخر میں جیسا کہ زیر بحث آیت میں آیا ہے صرف ان کے اثرات باقی رہ جائیں گے اور وہ دور سے سراب نظر آئیں گے اور اس طرح پہاڑ زمین پر سے ختم ہو جائیں گے اور زمین ہموار ہو جائے گی ۔ (ویسئلونك عن الجبال فقل ينسفھاربي نسفًا فيذرها قاعًا صفصفًا)۔ "تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دے کہ میرا پروردگا رانھیں تباہ و برباد کر دے گا اور زمین کو صاف ہموار کردےگا" (طٰہٰ / 105 ، 106)۔
"سراب" "سرب" (بروزن طرف) کے مادہ سے ڈھلان کی طرف لینے کے معنی میں ہے اور چونکہ بیابانوں میں گرمی کے دنوں میں جس وقت انسان ڈھلان کی طرف چلے تو دور سے اسے ایسی چیز نظر آتی ہے وہ گمان کرتا ہے کہ یہ پانی ہے حالانکہ سوائے روشنی (نور کے زرات) کے اور کوئی چیز نہیں ہوتی، اس کے بعد ہر اس چیز کو جس کانظاہر ہو لیکن اس کی کوئی حقیقت نہ ہو ، سراب کیا جانا ہے، اسی طرح مذکور بالا آیت اس حرکت کی ابتدا و انتہا کو بیان کرتی ہے۔ دوسرے مرحلے دوسری آیتوں میں آئے ہیں۔
حقیقت میں پہاڑغبار کی شکل میں فضا میں سراب کی شکل میں ہو جائیں گے ۔ وہ مقام جہاں پہاڑ اس تم کی سختی کے ہوتے ہوئے ایسی صورت اختیار کر لیں گے، تو ظاہر ہے کہ عام میں اس کے سامنے کس قسم سکے تغیرات رونما ہوں گے۔ لہذا وہ افراد اور قوتیں جو اس دنیا میں پہاڑ جیسا مضبوط جسم رکھتی تھیں ان کی سراب سے ز یادہ حیثیت نہیں ہوگی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حوادث نفخ اولٰی میں صورت پذیر ہوں گے جو اس عالم کے انتقام سے تعلق رکھتے ہیں یا نفخ ثانیہ میں جس سے قیامت کی ابتداء ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت (نيم ينفخ في الصور فتأتون انواجًا) بنا رہی ہے کہ ہر حوادث نفخ ثانیہ سے تعلق رکھتے ہیں جس میں زنده
ہو جانے والے انسان فرج در فوج معصیت میں وارد ہوں گے لہذا اس امرآیت کو بھی قاعدتا اسی نفخ سے متعلق ہونا چاہیئے، البته ممکن ہے کہ پہاڑوں کی اس حرکت کا آغاز پہلے نفخ میں صورت پذیر ہو اور ان کا سراب میں تبدیل ہونا دوسرے نفخ میں ہو۔
یہ احتمال بھی ہے کہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے تمام مرکلے نفخ اولٰی سے تعلق رکھتے ہوں البتہ پر ان دونوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے لہذا ان کا ذکر ایک ساتھ ہوا ہے جیسا کہ قرآن کی کچھ اور آیات میں بھی نفخ اولی و ثانیہ کے حواث کا زکر ایک جگہ ہواہے (ا س کا نمونہ سورہ تکویر و افطار) میں نظر آتاہے۔ (غور کیجئے )
قابل توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں پہاڑوں کا میخوں کے عنوان سے اور زمین کا گہوارے کے عنوان سے تعارف ہوا ہے اور زیر بحث آیات میں آیا ہے کہ وہ دن جس میں عالم کے فنا ہونے کا فرمان صادر ہوگیا تریہ گهواره درہم برہم ہو جائے گا اور عظیم میخیں اپنی جگہ سے اکھٹر بائیں گی ۔ واضح ہے کم حبس وقت کسی چیز کی میخوں کو کھینچا جائے تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے۔
٭ ٭ ٭