ان آیات کامسئلہ معاد سے تعلق
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا ۶وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ۷وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا ۸وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ۹وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ۱۰وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ۱۱وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا ۱۲وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا ۱۳وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا ۱۴لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا ۱۵وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ۱۶
کیا ہم نے زمین کا فرش نہیں بنایا ہے. اورپہاڑوں کی میخیں نہیں نصب کی ہیں. اور ہم ہی نے تم کوجوڑا بنایا ہے. اور تمہاری نیند کو آرام کا سامان قرار دیا ہے. اور رات کو پردہ پوش بنایا ہے. اور دن کو وقت معاش قراردیا ہے. اور تمہارے سروں پر سات مضبوط آسمان بنائے ہیں. اور ایک بھڑکتا ہوا چراغ بنایا ہے. اور بادلوں میں سے موسلا دھار پانی برسایا ہے. تاکہ اس کے ذریعہ دانے اور گھاس برآمدکریں. اور گھنے گھنے باغات پیداکریں.
ایک نکته
ان آیات کامسئلہ معاد سے تعلق
مندرجہ بالا گیا ره آیتوں میں اہم ترین نعمات الہی اور انسانی زندگی کے بنیادی ارکان یعنی نور وظلمت، حرارت ، پانی مٹی اور گیاه و نبات کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس دقیق نظام کا بیان ،ایک تو ہر چیز پر خدا کی قدرت کوواضح کرتا ہے جس کے بعد اس کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ کوئی یہ کہے کہ خدا مردوں کو دوباره کس طرح زندہ کرے گا، جیسا کہ منکرین معاد کے جواب میں سورہ یٰسین کی آخری آیتوں میں کمال وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، ، جہاں پروردگار عالم فرماتا ہے:
"کیا" وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس امر پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرے۔(یٰسین / 81)۔
دوسرے ان عظیم تشکیلات کا یقینا کوئی مقصد ہے اور یہ مقصد دنیا کی چند روزہ زندگی نہیں ہو سکتا جس میں من کھانے پینے، سونے اور جاگنے پر اکتفا ہو ۔ بلکہ حکمت خدا وندی کا یہ تقاضا ہے کہ اس کا کوئی بلند بالظاز ویگر نشاة اولٰى نشاة آخری کے لے یاد دہانی ہے اوربشر کی طولاني سیرگاہ کے لیے منزل کی حیثیت
رکھتی ہے ۔ جیسا کہ سورہ مومنون کی آیت 115میں فرماتا ہے:
(افحسبتم انما خلقناكم عبثاوانكم الينا لا ترجعون) " کیا تم نے گمان کیا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤگے"۔
تیسرے نیند اور بیداری کا مسئلہ جو خود موت اور نئی زندگی کا ایک نمونہ ہے اور مردہ زمینوں کا بارش سے نزول کے نتیجے میں زندہ ہونا جو منظر معاو کو ہر سال انسانوں کی آنکھوں کے سائے پیش کر تا ہے، قیامت اور موت کے بعد کی زندگی کی طرت پرمعنی اشارہ ہے جیسا کہ سوره فاطر کی آیت و میں بارش کی وجہ سے مروه زمینوں کی یہ بیر حیات کے بیان کے بعد فرماتا ہے:
وكذالك النشور قیامت میں قبروں سے اٹھنا بھی اسی طرح ہے۔