Tafseer e Namoona

Topic

											

									  معاد و قیامت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: النبا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ۱عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ ۲الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ ۳كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ۴ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ۵

Translation

یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوال کررہے ہیں. بہت بڑی خبر کے بارے میں. جس کے بارے میں ان میں اختلاف ہے. کچھ نہیں عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا. اور خوب معلوم ہوجائے گا.

Tafseer

									 2-      معاد و قیامت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے
 ہم کہہ چکے ہیں کہ اہم ترین مسئلہ جس پر قرآن کے تیسویں پارہ کی بشتر آیات میں ، بااتفاق مفسرین ، زور دیا گیا ہے وہ مسئلہ معاد و قیامت ہے اور مزکورہ سب آیتیں مکی ہیں۔ ان آیتوں میں قیامت کے دن سے متعلق انسان کے حالات کی تشریح و تفصیل ہے۔
 یہ اس بناء پر ہے کہ انسان کی اصلاح کے سلالہ کا پہلا قدم ہے تاکہ اسے معلوم ہو کہ حساب کا سامنا کرنا ہے ۔ ایسی عدالت میں پیش ہونا ہے جس کے حاکم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی صورت ہے جس میں نہ ظلم و جور کی کوئی گنجائش ہے نہ وہاں خطا و اشتباہ کا کوئی امکان ہے، نہ اس میں سفارش و رشوت کام آسکتی ہے ، نہ جھوٹ بولنے سے کام چل سکتا ہے اور نہ انکار کرنے کی گنجائش ہے۔
 خلاصۂ کلام یہ ہے کہ وہاں عذاب و سزا کے چنگل سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں ہے ، صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یہاں دنیا میں رہتے ہوۓ گناہ کو ترک کر دیا جاۓ ۔ تو اس قسم کے محکمے اور عدالت کے وجود پر ایمان رکھنا انسان کے دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور سوئی ہوئی روحوں کو بیدار کر دیتا ہے۔
 تقوٰی کی روح، عہد کی پاسداری، جوابدہی اور ذمہداری کا احساس انسان میں پیدا کرتا ہے اور اسے فرض شناسی کے عرفان کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ 
 جس ماحول میں فساد ہو اور وہاں تخریبی عناصر رخنہ اندزی کریں ، اصولی طور پر دو اسباب میں سے ایک اس کا سبب ضرور ہوتا ہے ۔ ایک تو نگرانی و نگہبانی کی قوت کی کمزوری، دوسرے نظامِ عدالت کا ضعف، اگر تیز نگاہ رکھنے والے انسانوں کے اعمال پر نظر رکھیں اور عدالتیں گہری نظر کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی سزا پر علمدرآمد کریں اور کوئی مجرم سزا سے نہ بچے تو اس قسم کے ماحول میں یقینًا فساد، گناہ، تجاوزعین الحدود، ظلم اور سرکشی کا تقیبًا خاتمہ ہوجاۓ گا۔ 
 چنانچہ جہاں مادی زندگی نگہبانوں اور عدالتوں کے اس طرح زیر سایہ ہو وہاں معنوی زندگی جو اللہ کے لیے ہو اس کا معاملہ واضح ہے۔ لہزا ایسے مبداء پر ایمان رکھنا جو ہر جگہ انسان کے ساتھ ہو (لا یعزب عنہ مشقال ذرۃ) "ایک ذرہ کی مقدار کا بوجھ بھی اس کے علم سے مخفی نہیں ہے"۔(سبا/3)۔  
 اور قیامت کے وجود پر ایمان جو (فمن یعمل مشقال ذرۃ خیرًا یرہ ومن یعمل مشقال ذرۃ شرًایرہ)(زلزال/7-8)۔ "اچھے اور برے کام ایک ذرہ بھی فراموشی کے سپرد نہیں ہوگا"۔  اور وہاں اس کے سامنے موجود ہوگا ، انسان میں ایسا تقوٰی پیدا کرتا ہے جو زندگی بھر راہ خیر میں اس کا راہنما ہوسکتا ہے۔