Tafseer e Namoona

Topic

											

									  اھم خبر

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: النبا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ۱عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ ۲الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ ۳كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ۴ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ۵

Translation

یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوال کررہے ہیں. بہت بڑی خبر کے بارے میں. جس کے بارے میں ان میں اختلاف ہے. کچھ نہیں عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا. اور خوب معلوم ہوجائے گا.

Tafseer

									  تفسیر
              اھم خبر
 سورہ کی پہلی آیت میں تعجب آمیز استفہام کے عنوان سے فرماتا ہے: "وہ ایک دوسرے سے کس چیز کے متعلق سوال کرتے ہیں"۔(عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ )۔ ؎1 اس کے بعد  بغیر اس کے جواب میں مزید فرماتا پے :"وہ ایک عظیم اور اہم خبر کے بارے میں سوال کرتے ہیں"۔(عَنِ النَّـبَاِ الْعَظِـيْمِ )۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1   مفردات راغب ، مادہ نباء ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "وہی خبر جس میں ہمیشہ اختلاف رکھتے ہیں"۔(اَلَّذِىْ هُـمْ فِيْهِ مُخْتَلِفُوْنَ ) ۔ اس خبر عظیم سے مراد کیا ہے، مفسرین نے اس سوال کے کئی جواب دیئے ہیں۔ ایک گروہ نے اسے قیامت کے دن کی طرف ، بعض نے قرآن مجید کے نزول کی طرف اور بعض نت توحید سے لے کر قیامت تک کے تمام اصولِ دین کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور چند رویات میں اس کی تفسیر مسئلہ امامت و ولایت کے ساتھ ہوئی ہے جس کی طرف آئندہ نکات کی بحث میں اشارہ ہوگا۔ اس سورہ کی تمام آیات میں غور و فکر کرنے سے اور ان تعبیروں کو پیش نظر رکھنے سے جو بعد والی آیات میں آئی ہیں مثلاً (ان یوم الفصل کان میقاتاً) کا جملہ جو زمین و آسمان میں خدا کی قدرت کی نشانیوں کے ذکر کے بعد آیا ہے اور اس حقیقت کی طرف توجہ کہ مشرکین کی شدید مخالفت مسئلہ معاد میں تھی، یہ سب امور پہلی تفسیر یعنی ،عاد و قیامت کی تائید کرتے ہیں۔ "نباء" بقول راغب مفردات میں اس خبر کے معنی میں ہے جو اہمیت رکھتی ہو اور فائدہ کی حامل ہو اور انسان اس کی نسبت علم و ظن غالب رکھے ۔ یہ تینوں باتیں نباء کے معنی  کی شرائط ہیں۔ ؎1
 اس بنا پر عظیم لا لفظ بہت زیادہ تاکید کا اظہار کرتا ہے اور بحیثیت مجموعی اس امر کی نشادہی کرتا ہے کہ یہ خبر جس میں ایک گروہ شک کرتا تھا، ایک جانی پہچانی اہم اور باعظمت حقیقت تھی اور جیسا کہ ہم نے کہا اس سے مراد قیامت تھی (یتساءلون) "ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں" کا جملہ ہوسکتا ہے کہ صرف کفار ہی کی طرف اشارہ  ہو کہ وہ ہمیشہ قیامت کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے۔ لیکن یہ سوال تحقیق اور ادراک کی غرض سے نہیں ہوتا تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اگر "نباء عظیم" سے مراد قیامت ہے تو اس سے ظاہر بظاہر سب کافر انکار کرتے تھے ، تو پھر یہ کیوں فرماتا ہے کہ وہ اس میں اختلا ف کرتے ہیں، تو جواب میں ہم کہتے ہیں کہ معاد کا انکار مطلق طور پر قطعی و یقینی نہیں ہے، اس لیے کہ کافروں میں سے بہت سے فناۓ جسم کے بعد روح کی بقاء کے قائل تھے، دوسرے لفظوں میں معادِ روحانی کو اجمالاً تسلیم کرتے تھے۔ جہاں تک معاد جسمانی کا تعلق ہے تو بعض اس میں شک کا اظہار کرتے تھے ۔
 اس بات کو قرآنی لب و لہجہ واضح کرتا ہے (نمل /66) کافروں میں سے بعض افراد شدت سے انکار کرتے تھے ، یہاں تک کہ پیغمبر اسلامؐ کو معاد جسمانی کا دعوٰی کرنے کی بناء پر معاذاللہ دیوانہ یا خدا سے جھوٹ منسوب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
  ؎1     مفردات راغب ، مادہ نباء ۔
  ؎2    توجہ کرنی چاہیے کہ باب تفاعل اگرچہ عام طور پر ایسے کام کے معنی میں آتا ہے جو بصورتِ متقابل انجام پوۓ، لیکن بعض موارد میں ثلاثی مجرد کے معنی رکھتا ہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے معنی بھی رکھتا ہے (بعض اہل لغت نے تفاعل کے پانچ معانی بیان کیے ہیں )1۔ کسی کام کے انجام دینے میں دو یادو سے زیادہ افراد کی مشارکت۔ 2۔ مطاوعت مثلاً تباعد۔ 3۔ واقعیت کے بغیر کسی چیز کا اظہار مثلاً تمارض(اپنے آپ کو مریض ظاہر کرنا)۔ ۔4 کسی چیز کا بتدریج وقوع مثلاً تحاور۔ 5۔ ثلاثی مجرد کے معنی میں مثلاً "تعالٰی" جو "علا" "بلند ہُوا"  کے معنی میں ہے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کرنے والا سمجھتے تھے
  "اور عنقریب انہیں معلوم ہو جاۓ گا"۔(كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ )۔ ؎1 "پھر بھی ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں اور عنقریب وہ آگاہ ھوجائیں گے"۔(ثُـمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ 
)۔اس دن باخبر ہوں گے جس دن ان کی واحسرتا کی فریاد بلند ہوگی، وہ اپنی کوتاہی اور کمی سے سخت پیشمان ہوں گے ۔(اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ يَّا حَسْرَتَا عَلٰى مَا فَرَّطْتُ فِىْ جَنْبِ اللّـٰهِ )(زمر/56)۔
وہ دن جس میں عذاب کی لہریں ان کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی اور وہ دینا کی طرف واپس لوٹنے  کا تقاضا کریں گے(ھل الٰی مرد من سبیل) کیا واپس لوٹنے کی کوئی راہ ہے؟ (شورٰی/44) یہاں تک کہ موت کے وقت جب انسان کی آنکھوں سے پردے اٹھ جائیں گے اور دوسری دنیا کے حقائق اس کے سامنے ظاہر ہوں گے اور اسے برزخ اور معاد کا یقین ہوجاۓ گا تو اس وقت اس کی فریاد بلند ہوگی مجھے واپس لوٹاؤ تکہ میں عملِ صالح انجام دوں۔ ( رَبِّ ارْجِعُوْنِ لَعَلِّـىٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَـرَكْـتُ) (مؤمنون/ 99، 100) سیعلمون کی تعبیر (اس لیے کہ عام طور پر مستقبل قریب کے لیے آتی ہے)۔ اس طرف اشارہ ہے کہ قیامتکا مرحہ نزدیک ہے اور دنیا کی ساری زندگی اس کے مقابلہ میں ایک لمحے سے زیادہ نہیں رکھتی ۔
 
 یہ ہے کہ اوہر والی دو آیتیں ، جو بصورت تکرار آئی ہیں، ان سے ایک واقعیت کی (ان کی مستقبل قریب میں  قیامت کے باعے میں آگاہی) تاکید مراد ہے یا دو الگ مطالب کا بیان ہے(پہلا اشارہ اس طرف ہے کہ مستقبل قیریب میں دنیاوی عذاب دیکھیں گے اور دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ اس کے بعد آخرت کے عذاب کو دیکھیں گے) اس سلسلہ میں مفسرین نے دو احتمال پیش کییے ہیں ، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے، یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اس مراد یہ ہے کہ انسان کے علم و دانش کی ترقی کے استھاستھ قیامت کے وجود کے دلائل و شواہد اس قدر زیادہ ہو جائیں گے کہ اس کا انکار کرنے والے بھی اقرار لیے بغیر نہ رہ سکیں گے، یلکن اس تفسیر میں مشکل یہ ہے کہ اس قسم کی آگاہی نوعِ بشر کے آئندہ کے لوگوں کے لیے ہوگی نہ کہ اس گروہ کے لیے جو زمانہ پیغمبر میں ماجاد تھا اور قیامت کے معاملہ میں اختلاف رکھتا تھا، جبکہ آیت اسی گروہ کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
  ؎1   علماۓ ادبِ عربی اور مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ "کلا" حرف  روع ہے اور اس کے معنی گزشتہ مطالب کی نفی بانہی ہوتا ہے لیکن بعض نے کہا ہے کہ نادر طور پر دوسرے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے جن میں سے انھوں نے تین معانی کا نام لیا ہے، تاکید اور الا استفہامیہ اور حرفِ جواب۔ جو نعم کی منزلت رکھتا ہو، ان میں سے بعض نے ہر ایک کو منتخب کیا ہے، مجمع البحرین اور دوسری کتب۔