Tafseer e Namoona

Topic

											

									  نہ دفاع کرنے کی قدرت ہے نہ فرار کی راہ

										
																									
								

Ayat No : 41-50

: المرسلات

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ ۴۱وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ ۴۲كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۴۳إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۴۴وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۴۵كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُمْ مُجْرِمُونَ ۴۶وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۴۷وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ۴۸وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۴۹فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ۵۰

Translation

بیشک متقین گھنی چھاؤں اور چشموں کے درمیان ہوں گے. اور ان کی خواہش کے مطابق میوے ہوں گے. اب اطمینان سے کھاؤ پیو ان اعمال کی بنا پر جو تم نے انجام دیئے ہیں. ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں. آج جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے. تم لوگ تھوڑے دنوں کھاؤ اور آرام کرلو کہ تم مجرم ہو. آج کے دن تکذیب کرنے والوں کے لئے ویل ہے. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو نہیں کرتے ہیں. تو آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے. آخر یہ لوگ اس کے بعد کس بات پر ایمان لے آئیں گے.

Tafseer

									  تفسیر
            نہ دفاع کرنے کی قدرت ہے نہ فرار کی راہ
 ان آیات میں قیامت کی تکزیب کرنے والوں اور اس عدلِ الٰہی کی داد گاہ کا ناکار کرنے والوں کی اصلی اور آخری سرنوشت بیان ہوئی ہے، ایسا بیان کو انسان کو سچ مچ ایک گہری وحشت میں ڈبو دیتا ہے، اور مصیبت کے پہلوؤں کو واضح کرتا ہے۔
 فرماتا ہے:"بلا تامل اس چیز کی طرف چل پڑو ، جس کا تم ہمیشہ انکار کیا کرتے تھے"!(اِنْطَلِقُـوٓا اِلٰى مَا كُنْتُـمْ بِهٖ تُكَـذِّبُوْنَ )۔
 چلو اس جلانے والی جہنم کی طرف جس کا تم ہمیشہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
 چلو ان انواع و اقسام کے عذابوں کی طرف، جنھیں تم نے اپنے اعمال کے ذریعہ پہلے سے فراہم کر رکھا ہے۔
 "انطلقوا" "انطلاق" کے مادہ سے، توقف کے بغیر چلنے کے معنی میں ہے، اور قید و بند سے ایک قسم کی آزادی بھی اس میں چھپی ہوئی ہے، اور یہ حقیقت میں عرصۂ محشر میں ان کی حالت کی وضاخت ہے کہ انھیں ایکطولانی مدت تک حساب کے لیے روک لیا جاۓ گا، پھر ان کو چھوڑ دیں گے اور کہیں گے کہ توقف کیے بغیر دوزخ کی طرف چل پڑو۔
 یہ گفتگو کرنے والا ممکن ہے خداتعالٰی ہو، جو براہراست ان سے خطاب کرے گا، یا عذاب کے فرشتے، بہرحال یہ ایک ایسا لب و لہجہ ہے جس میں گہری سرزنش ہے ، جو خود ایک درد ناک اور جانکاہ عذاب ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد اس عذاب کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوۓ کہتا ہے:"تین شاخوں والے ( آگ کے گلہ گھوٹنے والے دھوئیں کے) سایہ کی طرف چلو"۔(اِنْطَلِقُـوٓا اِلٰى ظِلٍّ ذِىْ ثَلَاثِ شُعَبٍ )۔
 ایک شاخ سر کے اوپر ، ایک شاخ دائیں طرف اور ایک شاخ بائیں طرف، اور اس طرح سے یہ گہرا مرگبار دھوآں انھیں گھیرلے گا اور انھیں نگل جاۓ گا۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "لیکن وہ آرام بخش سایہ نہیں ہوگا، اور دوزخیوں کو جہنم کی آگ کے شعلوں سے ہرگز نہیں بچاۓ گا"۔(لَّا ظَلِيْلٍ وَّلَا يُغْنِىْ مِنَ اللَّهَبِ )۔
 چونکہ وہ خود آگ ہی سے اٹھا ہے۔
 ممکن ہے "ظل" (سایہ) کی تعبیر سے یہ تصور پیدا ہو کہ کوئی سایہ ہوگا، جو آگ کے شعلوں کے جالانے میں کچھ کمی کر دے ، لیکن یہ آیت اس غلط خیال کو باطل کرتے ہعئی کہتی ہے: یہ سایہ ہرگز وہ سایہ نہیں جس کا تم تصور کرتے ہو، یہ ایک ایسا سایہ ہے، جو جلانے اور گلہ گھوٹے والا ہے، آگ کے گاڑھے دھوئیں سے اٹھتا ہے، اور شعلوں کی گرمی کو مکمل طور پر منعکس کر سکتا ہے۔ ؎1  
 اس گفتگو کی شاہد سورہ واقعہ کی آیات ہیں جن میں اصحاب شمال کے بارے میں فرماتا ہے: فِىْ سَمُـوْمٍ وَّحَـمِـيْمٍ  وَظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ وَظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ : "وہ ہلاک کرنے والی ہواؤں اور جلانے والے پانی میں ہوں گے اور تہہ بہ تہہ دھوئیں کے آرش زا سایہ مین، ایسا سایہ جو نہ تو ٹھنڈا ہوگا اور نہ ہی آرام بخش" (سورہ واقعہ 42 ــــــــ44)
 بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ تین شاخیں ان کے تینوں اصولِ دین یعنی توحید و نبوت اور معاد کو جھٹلانے کا ردِعمل ہیں، کیونکہ معاد کی تکذیب ، توحید و نبوت کی تکذیب سے جدا نہیں ہے۔
 اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ گناہ کے تینوں اسباب ، "قوت غضبیہ" "قوت شہویہ" اور "قوت وہمیہ" کی طرف اشارہ ہے، ہاں! وہ تاریک دھوآں شہوات کی تاریکیوں کا تجسم ہے۔
  زتاریکی خشم و شہوت حزر کن
   کہ از دو د آن چشم دل تیرہ گردد!
  غضب چاں در آید رود عقل بیروں
   ہوی چوں شود چیرہ جان خیرہ گرد!
 ترجمہ: غضب اور شہوت کی تاریکی سے بچ :
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    "اظلیل" "ظل" کی صفت ہے اور اسی  بناء پر حجرور ذکر ہوا ہے۔  
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  جس کے دھوئیں سے دل کی آنکھ اندھی ہوجاتی ہے
  جب  غصہ  آتا  ہے ،   تو عقل  خارج  ہوجاتی  ہے
                   اور جب خواہش نفسانی غلبہ کرتی ہے ، جان چندھیا جاتی ہے
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد اس جلانے والی آگ کی ایک اور خصوصیت کے سلسلہ میں مزید کہتا ہے: "وہ اپنے اندر سے ایسے شعولے باہر پھینکتی ہے ، جو ایک بہت بڑے قصر کی مانند ہوتے ہیں"۔(ِنَّـهَا تَـرْمِىْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ)۔
 وہ اس دنیا کی آگ کے شعلوں کی طرح نہیں ہوتے، جو بعض اوقات تو سوئی کے سرے کے برار بھی نہیں ہوتے۔
 "قصر" (محل) کی تشبیہ یہاں ایک پُر معنی تشبیہ ہے، شاید یہ تصور کیا جاۓ کہ زیادہ مناسب یہ تھا کہ یہ کہا جاتا کہ وہ شعلے پہاڑ کی طرح تھے، لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ پہاڑ ـــــــــــ جیسا کہ گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے ـــــــــــ انواع اقسام کی برکات کا منبع ہیں اور میٹھے، خوش مزہ اور خوشگوار پانی کا سر چشمہ ہیں، یہ ستم گروں کے قصر اور محلات ہیں، جو جلانے والے شعلوں اور شرربار آگ کا سبب بنتے ہیں۔ ؎2
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بعد میں آیت میں اس جلانے والی آگ کے شعلوں اور چنگاریوں کی ایک دوسری صفت کو بیان کرتے ہعۓ فرماتا ہے:"وہ زرد رنگ کے اونٹوں کے مانند ہیں"۔(كَاَنَّـهٝ جِمَالَتٌ صُفْرٌ )۔ ؎3
 "جمالۃ" "جمل" کی جمع ہے، جو اونٹ کے معنی میں ہے، (جسے حجو حجارہ) اور "صفر" (بروزن قفل) "اصفر" کی جمع ہے جو زرد رنگ کی چیز کے معنی میں ہے، اور بعض اوقات تاریک اور سیاہی مائل رنگوں پر بولا جاتا ہے، لیکن ہیاں وہی پہلا معنی ہی مناسب ہے کیونکہ آگ کے شعلے زرد اور سرخ مائل ہوتے ہیں۔
 گزشتہ آیت میں ان شعلوں کو حجم کے لحاظ سے بہت بڑے قصر سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس ایت میں کثرت، رنگ ، سرعت حرکت اور ہر طرف پراگندہ اور بکھرجانے کے لحاظ سے زرد رنگ کے اونٹوں سے تشبیہ دی گئی ہے، جو ہر طرف رواں دواں ہے۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    "شرر" (بروزن ضرر) "شرارہ" کی جمع ہے، جو ان چھوٹے چھوٹے اجزاء کے معنی میں ہے، جو آگ سے نکل کر ہوا میں اطھلنے ہیں، اور "شر" کے مادہ سے لیا گیا ہے۔
  ؎2     بعض مفسرین مثلاً فضررازی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ امھوں نے "قصر" کی رفسیر میں یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہ لکڑیاں ہیں، جنھیں سردیوں کے کیے بیابان سے کاٹ کر اکٹھا کیا کرتے تھے، اور ایک دوسرے کے اوپر جوڑ دیتے تھا۔(لہزا بعید نہیں ہے کہ یہ تفسیر بھی اس بناء پر ہو کہ ایک دوسرے پر ضڑی یوئی لکڑیوں کے انبوہ کا ایک بلند  قصر سے تشبیہ دیتے تھے)۔
  ؎3     "کانہ" کی ضمیر ممکن ہے "قصر" کی طرف لوٹے یا "شرر" کی طرف، لیکن چونکہ "شرر" جمع ہے ، لہزا تاویل کے بغیر ممکن نہیں ہے، مگر یہ کہ ہم "شرر" کو اسم جمع سمجھ لیں۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 جہاں شعلے اس قسم کے ہوں تو یہ بات واضح ہے کہ خود وہ آگ جلانے والی کیسی ہوگی ؟ اور اس ساتھ دوسرے کیسے کیسے دردناک عذاب ہوں گے؟ (خدا ہم سب کو اپنی رحمت اور لطف وکرم سے اس سے محفوظ رکھے)۔ 
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آیات کے اس حصہ کے آخر میں دوبارہ اسی تنبیہ کا تکرار کرتا ہے، اور فرماتا ہے"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"۔(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد اس ہولناک دن کے مشخصات اور امتیاتاز کی ایک اور فصل کو شروع کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے:"آج ایسا دن ہے کہ وہ کوئی بات نہیں کریں گے"۔(هٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ )۔ ؎1
 ہاں! اس دن خدا مجرموں اور گنہگاروں کے منہ پر سکوت اور خاموشی کی مہر لگا دے گا، جیسا کہ سورۂ یٰس کی آیہ 65 مین آیا ہے: "الیوم نختم علٰی افواھھم" آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے"، ان کے ہاتھ اور پاؤں کلام کرنے لگیں گے"۔یہاں تک کہ قرآن کی دوسری آیات کے مطابق ان کی جلد بھی کلام کرنے لگیں گی، اور تمام باتیں بیان کر دیں گی"۔ 
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد مزید کہتا ہے :"اور انھیں عزر خواہی کرنے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی"۔(وَلَا يُؤْذَنُ لَـهُـمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ)۔ ؎2
 نہ انھیں بات کرنے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی عزر خواہی اور اپنے آپ سے دفاع کرنے کی، کیونکہ وہاں تو تمام حقائق واضح و روشن ہیں، اور کہنے کی کوئی بات باقی نہیں ہے، ہاں! یہ پس پشت ڈالنے والی زبان، جس نے دنیا میں اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھایا، انبیاء کی تکذیب کی ، اولیاء کا استہزا کیا اور مزاق اڑایا، حق کو باطل اور باطل کو حق کرکے پیش کرتی رہی، وہاں ان اعمال کی سزا کے طور پر اس پر قفل لگ جانا چاہیے، اور اسے بیکار ہوجانا چاہیے، اور یہ بات خود ایک عذاب اور دردناکشکنجہ ہے کہ انسان میں اس قسم کے منظر میں اپنے آپ سے دفاع کرنے یا عزر خواہی کرنے کی قدرت نہ رہے۔
 ایک حدیث میں امام صادق سے آیا ہے کہ:
  "خدا اس سے برتر و عادل تر و بزرگ تر ہے کہ اس کا بندہ کوئی مناسب اور مدلل عزر رکھتا ہو، لیکن وہ اس 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1   توجہ رکھیں کہ یہاں "یوم" تنوین کے بغیر ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی "لاینطقون" کے جملہ کے مفہوم کی طرف اضافت ہے۔ 
  ؎2   اس بارے میں کہ "نیعتدون" کا جملہ مرفوع صورت میں کیوں آیا ہے، جبکہ قائدہ کی رو سے اسے منصاب ہونا چاہیے تھا، اور اس کی نون حزف ہونی چاہیے تھی۔ بعج نے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے عزر خواہی کو ترک کرنے کا سبب یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی عزر ہی نہ ہوگا، یہ اذنِ الٰہی کے نہ ہونے سبب سے نہ ہوگا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  عزر خواہی کی اجازت نہ دے، بلکہ درحقیقت نہ دے، بلکہ درحقیقت ان کے پاس کسی قسم کا مناسب، مدلل اور قابلِ قبول عزر ہوتا ہی
   نہیں، جسے وہ پیش کرسکیں۔ ؎1 
 البتہ بعض قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں مجرمین بعض اوقات بات کریں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ــــــــــ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے ـــــــ قیامت میں بہت سے مواقف ہوں گے، جن میں سے بعض میں زبان بیکار ہوجاۓ گی، اور اعضاء و جوارح کی گواہی کی نوبت آۓ گی، اور بعض دوسرے موافق میں زبان کھل جاۓ گی، اور وہ کچھ مطالب بیان کرے گی، جوان کی شدید حسرت و اندوہ، سرگردانی اور بدبختی کی نشانی ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اور پھر اس مقطع کے آخر میں کہتا ہے:"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔

    ـــــــــــــــــــــــــــــــ
 ایک دوسرے حصہ میں روۓ سخن مجرمین کی طرف کرتے ہوۓ اور اس روز کے منظر کے عنوان سے لہتا ہے:"آج وہی جدائی کا دن ہے، جس میں ہم نے تمھیں اور گزشتہ لوگوں کو جمع کردیاہے"۔(هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَـمَعْنَاكُمْ وَالْاَوَّلِيْنَ )۔
 آج ہم نے تمام لوگوں کو بغیر کسی استثناء کے ، اولین سے لے کر آخرین تک، سب کو حساب دینے اور فصلِخصومت کے لی اس میدان اور عطیم دادگاہ میں اکٹھا کر دیا ہے۔ 
    ــــــــــــــــــــــــــــــ
 "اب اگر میرے مقابلہ میں عزاب اور سزا کے چنگل سے فرار کرنے کی کوئی تدبیر تمھارے پاس ہے تو اسے انجام دو"۔(فَاِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِـيْدُوْنِ )۔ ؎2
 کیا تم میری حکومت کی حدود سے فرار کر سکتے ہو؟
 یا میری قدت پر غلبہ حصل کر سکتے ہو ؟
 یا فدیہ دے کر آزاد ہوجانے کی طاقت رکھتے ہو ؟
 یا حساب لینے والے مامورین کو دھوکہ دینے کی قدرت رکھتے ہو ؟
 جو کام بھی تم ہوسکتا ہے اسے انجام دو، لیکن جانلو کہ تم سے کوئی بھی کام نہیں ہوسکتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    "نورالثقلین" جلد 5 ص 49  
  ؎2    "فکیدون" میں "نون" مکسور ہے (نون کے نیچے زیر ہے) اور اس کی یہ زیر یاء متکلم کی جگہ ہے اور اصل میں "فکیدونی" تھا۔ ""یاء
خزف ہوگئی اور کسرہ جو اس کی نشانی ہے باقی رہ گئی، اور ضمیر متکلم ظاہر آیات کے مطابق خدا کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہے، اور یہ احتمال کہ یہ پیغمبرؐ کی ذات کی طرف لوٹے بہت بعید نظر آتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 حقیقت میں یہ امر اصطلاح کے مطابق (ایک عاجزی اظہار کرنے والا امر ہے) جو مقابل کے عجز و ناتوانی کو واضح کرنے کےلیے بیں کیا جاتا ہے، یہ اسی چیز کے مشابہ ہے جو قرآن مجید کے نارے میں آئی ہے کہ فرماتا ہے:"اھر اس چیز میں جو ہم نے اپنے بندوں پر نازل کی ہے تمھیں شک ہے تو اس جسی لے اؤ"
 "لید" (بروزن صید) جیسا کہ "راغب" "مفردات" میں کہتا ہے :ایک قسم کی تدبیر اور چارہ جوئی کے معنی میں ہے جو بعض اوقات قابلِ زمت ہوتی ہے اور قابلِ تعریف و مدح، اگرچہ اس کا زیادہ تر استعمال مزموم موارد میں ہی ہوتا ہے (جیسا کہ زیر بحث آیت میں بھی اسی طرح ہے)۔
یقینًا اس دن ان سے کچھ بھی نہ ہوسکے گا ، کیقنکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ دن ایک ایسا دن ہوگا کہ اس میں انسان کا ہاتھ ہر قسم کے وسائل و اسباب سے خالی ہوگا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیہ 166 میں آیا ہے:"و تقطعت بھم الاسباب:"اب سب اسباب منقطع ہوجائیں گے"۔
 قابل توجہ بات یہ کہ ایک طرف تو فرماتا ہے : "یوم الفصل" یعنی جدئیوں کا دن ، اور دوسری طرف سے فرماتا ہے، وہ دن "یوم الجمع" یعنی اکٹھا ہونے کا دن ہے اور ان دونوں میں سے ہر ایک، ایک ہی جگہ پر انجام  پائیں گے، پہلے ان سب کو اس عظیم دادگاہ میں جمع کریں گے، اور پھر وہ اپنے عقائد و اعمال کی بناء پر مختلف صفوں میں الگ الگ ہوجائیں گے، یہاں تک کہ وہ بھی جنت کی طرف روانہ ہوں گے، گوناگوں صفوں اور مختلف درجات میں ہوں گے، اور دوزخ کی طرف جانے والے بھی مختلف صفوں اور الگ الگ درجوں میں ہوں گے"۔
 ہاں ! وہ دن حق کی باطل سے اور ظالم کی مظلوم سے جدائی کا دن ہوگا۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 پھر اسی تہدید آمیز اور بیدار کرنے والے جملہ کا تکرار کرتے ہوۓ فرماتا ہے :"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔
   
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ