Tafseer e Namoona

Topic

											

									  اگر وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو پھر کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

										
																									
								

Ayat No : 41-50

: المرسلات

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ ۴۱وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ ۴۲كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۴۳إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ۴۴وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۴۵كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُمْ مُجْرِمُونَ ۴۶وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۴۷وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ ۴۸وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۴۹فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ۵۰

Translation

بیشک متقین گھنی چھاؤں اور چشموں کے درمیان ہوں گے. اور ان کی خواہش کے مطابق میوے ہوں گے. اب اطمینان سے کھاؤ پیو ان اعمال کی بنا پر جو تم نے انجام دیئے ہیں. ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں. آج جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے. تم لوگ تھوڑے دنوں کھاؤ اور آرام کرلو کہ تم مجرم ہو. آج کے دن تکذیب کرنے والوں کے لئے ویل ہے. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رکوع کرو تو نہیں کرتے ہیں. تو آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے جہنم ہے. آخر یہ لوگ اس کے بعد کس بات پر ایمان لے آئیں گے.

Tafseer

									  تفسیر
      اگر وہ قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟!
 ہم جانتے ہیں کہ قرآن کا پروگرام انزار کو بشارت کے ساتھ اور تہدید کو تشویق کے ساتھ ملاتا ہے، اور اسی طرح مومنین کی رسنوشت کو مجرموں کی سرنوشت کے مقابلہ میں بیان کرتا ہے، تاکہ مقابلہ کے قرینہ سے مسائل کا بہتر طریقہ پر ادراک ہوسکے۔ 
 اسی منت کی بنیاد پر اور والی آیات میں، قیامت میں مجرموں کی گوناگوں سزاؤں کو بیان کرنے کے بعد ، اس دن پرہزگاروں کی کیفیت کے بارے میں ایک پُرمعنی اور مختصر سا اشارہ کرتے ہوۓ فرماتا ہے:"تقوٰی اختیار کرنے والے لوگ کے درختوں کے سایہ میں اور چشموں کے درمیان ہوں گے"(اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِىْ ظِلَالٍ وَّّعُيُوْنٍ )۔
 یہ اس حالت میں جبکہ مجرمین ــــــــــــ جیسا کہ گزشتہ آیات میں معلوم ہو چکا ہے ـــــــــ گلہ گھونٹنے والے شرربار اور جلانے والے دھوئیں کے سایہ میں ہوں گے۔
 "ظلال" "ظل" کی جمع ہے جو سایہ کے معنی میں ہے، چاہے وہ سایہ دن میں درختوں کے سایہ کی طرح کا ہو یا وہ سایہ ہو، رات کی تاریکی میں حاصل ہوتا ہے جبکہ "فیء" اس سایہ کو کہا جاتا ہے جو صرف ایک نورانی مبدء کے مقابلہ میں وجود میں آتا ہے، جیسا کہ سورج کے مقابلہ میں درختوں کا سایہ ہوتا ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــ
    
 اس کے بعد مزید کہتا ہے :"وہ ان انواع و اقسام کے پھلون کے درمیان ہوں گے، جن کی انھیں خواہش ہوگی"۔(وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَ )۔
 یہ بات واضح ہے کہ پھلوں ، سایوں اور چشموں کا ذکر، ان پر خدا کی عظیم نعمتوں کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ ہے، ایسا گوشہ جو اہل دنیا کی زبان میں بیان کرنے اور تصویر کشی کے قابل ہے، لیکن وہ نعمتیں جو بیان میں نہیں آسکتیں، اور دنیا میں رہنے والوں کے دل و دماغ میں نہپیں سما سکتیں وہ اس سے کئی درجہ بلند و برتر ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــ
 قابل توجہ بات یہ کہ خدا کی اس مہمان سرا میں ان کی اعلٰی ترین طریقہ پر پذیرائی کی جاۓ گی، جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے کہ انھیں کہا جاۓ گا"کھاؤ اور مزے مزے لے لے کر پیؤ، یہ سب کچھ ان اعمال کے مقابلہ میں ہے جنھیں تم انجام دیاکرتے تھے"۔(كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِـيٓـئًا بِمَا كُنْـتُـمْ تَعْمَلُوْنَ )۔
 یہ جملہ چاہے براہِراست خدا کی طرف سے ان کو خطاب کرنے کے عنوان سے ہو، یا فرشتوں کے ذریعہ سے، ایک ایسے واضح لطف و محبت سے تو ام ہے ، جو ان کی روح اور جان کی ایک غذا ہے
 "بما کنتم تعلمون" (ان عمال کے مقابلہ میں جھنیں تم انجام دیا کرتے تھے)کی تعبیر اس بات کی طعف اشارہ ہے کہ یہ نعمتیں  کسی کو بطغیر حساب کتاب کے نہیں دیتے ، اور صرف دعوے، خیال اور تصور سے حاصل نہیں ہوتیں، یہ تو صرف اعمال صالح کے ذریعہ ہی ملتی ہیں۔
 "ھنیء" (بروزن لیح) "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق، ہر وہ چیز ہے جس کے لیے مشقت نہ کرنی پڑے، اور اس سے کوئی تکلیف اور پریشانی پیدا نہ ہو، اسی لیے گوارا اور خوش مزہ غذا اور پانی "ھنیء" کہا جاتا ہے، اور بعض اوقات خوشگوار زندگی پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
 اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت کے پھل ، کھتے اور مشروبات دنیا کے کھانے پانی کی طرح نہیں ہیں، جو بعض اوقات انسان کے بدن میں برے آثار چھوڑ دیتے ہیں ، یا ان سے غیر مطلوب عوارض پیدا ہوجاتے ہیں۔
 مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کھانے اور پینے کا حکم کیا ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اباحت کو بیان کرتا ہے یا واقعًا امر و فرمان و حکم ہے؟۔
 لیکن اس بات پر توجہ کرنی چاہیے کہ اس قسم کے اوامر، جو پذیرئی کے موقع پر دہیے جاتے ہیں، کہنے ولے کی ایک قسم کی طلب و خواہش ہوتی ہے، جسے مہمان کی عظمت و احترام کے لیے بیان کیا جاتا ہے اور میزبان یہ چاہتا ہے کہ مہمان زیادہ سے زیادہ کھاۓ ، تاکہ اس کا زیادہ احترام و اکرام ہو۔ 
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بعد والی آیت میں دوبارہ اسی مطلب پر تکیہ کرتا ہے کہ یہ نعمتیں کسی حساب کتابکے بغیر نہیں ملتیں، لہزا مزید کہتا ہے :"یقینًا ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے جزا دیتے ہیں"۔(اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَ )۔
 قابل توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں "تقوٰی" کے مسئلہ پر تکیہ ہوا ہے اور اس کے بعد وا؛ہ آیت میں "عمل" پر اور اس آیت میں احسان و نیکوکاری پر۔
 "تقوٰی" گناہ و سفاد و شرک و کفر سے ہر قسم کا پرہیز، اور "احسان" ہر اچھے کام کو انجام دیتا ہےاور "عمل" بھی اعمالِ صالح کے بیان کے لیے ہے ، تاکہ واضح ہوجاۓ کہ خدا کی نعمتوں کا پروگرام صرف اسی گروہ کے ساتھ مخصوص ہے ، نہ کہ ایمان کے جھٹے دعویداروں کے ساتھ ، اور ہر قسم کے فساد سے آلودہ افراد کے ساتھ ، اگرچہ وہ ظاہرًا اہلِ ایمان کی مسلک میں داخل ہیں۔  
    ــــــــــــــــــــــــــــ
 آخر میں پھر تکرار کرتا ہے :"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔
واۓ ہے ان کے لیے جو ان تمام نعمتوں اور محبتوں سے محروم ہوجائیں گے، کیونکہ اس محرومیت کی حسرت کا دکھ ، دوزخ کی جلانے والی آگ سے کم نہیں ہوگا۔
      ــــــــــــــــــــــــــ
 اور چونکہ معاد کا انکار کا ایک عامل، دنیا کی جلد گزرجانے والی لزات، اور ان لزتوں سے فائدہ اٹھانے کی بے قید و بند آزادی کی طرف میلان ہے، لہزا بعد والی آیات میں روۓ سخن مجرمین کی طرف کرتے ہوۓ تہدید لب و لہجہ میں فرماتا ہے: "ان مختصر سے چند دنوں میں کھالو اور فائدہ اٹھالو،  لیکن یہ جان لو کہ خدا کا عذاب تمھارے انتظارمیں ہے کیونکہ کہ تم مجرم ہو"۔(كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ )۔  
 "قلیلاً" کی تعبیر ممکن ہے کہ دنیا میں انسان کی عمر کی مختصر مدت کی طرف اشارہ ہے ، اور اس جہان کی نعمتوؐ کے آخرت کی بے حساب نعمتوں کے مقابلہ میں ناچیز ہونے کی طرف بھی۔
 اگرچہ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ خطاب آخرت میں مجرمین سے کہا جاۓ گا ، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ آخرت میں مجرموں کے لیے ، زندگی کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی، کسی قسم کا تصور نہیں ہے، لہزا اس زات کو قبول کرنا چاہیے کہ یہ گفتگو دنیا میں ان سے خطاب ہے۔
 حقیقت میں "متقین" اور پرہیزگار لوگوں کی آخرت میں انتہائی احترام کے ساےھ پزیرائی ہوگی اور "کلوا واشربوا ھنیئًا" کے پُرلطف جملہ کے ساتھ ان سے خطاب ہوگا، لیکن دنیا پرست اسی دنیا میں "کلواوتمتعواقلیلاً" کے تہدید آمیز جملہ کے ساتھ مخاطب ہوۓ ہیں۔
 پرہیزگاروں سے فرماتا ہے: بما کنتم تعملون : (یہ سب کچھ ان اعمالِ صالح کے مقابلہ میں ہے جنھیں تم انجام دیا کرتے تھے ) اور ان سے بھی کہتا ہے: انکم مجرمون : "یہ تہدید اس بناء پر ہے کہ تم مجرم ہو"۔ ؎1
 اور بہرحال یہ ابت اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ عذابِ الٰہی کا سرچشمہ انسان کا جرم و گناہ ہی ہے، جو ایمانی یا شہوتوں کے چنگل میں گرفتار ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ 
     ــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد اس تہدید کی ایک مرتبہ پھر :"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔ کے جملہ سے تکمیل کرتا ہے۔
 وہی لوگ جو دنیا کے زرق و برق اور اس کی لذتوں اور شہوتوں پر فریفتہ ہوگئے، اور انھوں نے عذاب الٰہی کو اپنے لیے خرید لیا۔
     ــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت میں ان کے انحراف، بدبختی اور آلودگی کےایک اور عامل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہتا ہے:"وہ بادۂ غرور سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1  حقیقت میں اس ایت میں کچھ مخذوف ہے، اور مجمع البیان کے قول کے مطبق تقدیر میں اس طرح: کلوا و تمتعوا قلیلاً فان الموت کائن لامحلۃ: لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ تقدیر میں یوں ہو :کلوا و تمتعوا قلیلاًوانتظروا العذاب فانکم مجرمون 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایسے سر مست ہیں ، کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پروردگار کے سامنے رکوع کرو ، تو وہ رکوع نہیں کرتے"۔(وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ ارْكَعُوْا لَا يَرْكَعُوْنَ )۔
 بہت سے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ ایت قبیلہ "ثقیف" کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جن سے پیغمبرؐ نے فرمایا تھا کہ "تم نماز پڑھو کرو" اس پر انھوں نے یہ کہا تھا: ہم ہرگز کسی کے سامنے خم نہیں ہوں گے، اور یہ ہمارے لیے عیب ہے، تو پیغمبر نے فرمایا:
  لا خیر فی دین لیس فیہ رکوع الا سجود
  "وہ دین جس میں رکوع و سجود نہ ہو کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا"۔ ؎1
 وہ نہ صرف رکوع اور سجدے کا انکار کرتے تھے، بلکہ یہ روحِ غرور نخوت ان کے افکار اور زندگی میں نمایاں تھی، نہ تو وہ ضدا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تھے، اور نہ ہی پیغمبر کے احکام مانتے تھے ، نہ لوگوں کے حقوق کا رسمی طعر پر اقرار کرتے تھے ، نہ خالق کے سامنے تواضح تھی، اور نہ ہی مخلوق کے سامنے فروتنی و انکسار، حقیقت میں یہ دونوں عامل (غرور و شہوت پرستی) جرم و گناہ اور کفر و ظلم و طغیان کے اہم ترین عوامل میں سے ہیں۔
 بعض نے یہ احتمال دیا ہے۔ "ارکعوا" (رکوع کرو) کا خطاب انھیں قیامت کے دن ہوگا، لیکن یہ احتمال بعید نظر آتا ہے، خصوصًا قبل و بعد کی آیات کو مد نظر رکھتے ہوۓ۔
     ـــــــــــــــــــــــــــــ 
 اور اس کے بعد دسویں اوت آخری بار اس سورہ میں فرماتا ہے:"واۓ ہے اس دن کے تکزیب کرنے والوں کے لیے"(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔

     ــــــــــــــــــــــــــــ

 اور آخری زیر بحث آیت میں ، جو سورۂ "مرسلات" کی آخری ایت ہے، ایک عتاب آمیز لب و لہجہ کے ساتھ جو سرزنش سے پُر ہے ایک تعجب آمیز استفہام کی صوعت میں فرماتا ہے : "اگر وہ اس قرآن کے ساتھ ، جس کی صداقت کے دلائل ، اس کی تمام آیات سے نمایاں ہیں، اور اس کی حقانیت اس کی تمام تعبیروں میں منعکس ہے، ایمان نہیں لاتے، تو پھر اس کے بعد اور کس بات پر ایمان لائیں گے؟"۔(فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَهٝ يُؤْمِنُـوْنَ )۔
 جو شخص اس قرآن پر ایمان نہ لائے ، جو اگر پہاڑوں پر نازل ہوجاتا، تو وہ لرزنے لگتے اور خشوع کرتے ہوۓ پھٹ جاتے، تو وہ کسی آسمانی کتاب اور کسی عقلی دلیل کو تسلیم نہیں کرےگا، اور روحِ عناد اور ہٹ دھرمی کی نشانی ہے۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1     "مجمع البیان" جلد 10 ص 419 ، اور اسی معنی کو "آلوسی" نے "روح المعانی" میں اور "قرطبی" نے اپنی تفسیر میں، اور "زمخشری" نے "کشاف" میں، اور "روح البیان" نے زیرِ بحث آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔