Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ان تمام مظاہر قدرت کے باوجود پھر بھی تم معاد میں شک رکھتے ہو ؟

										
																									
								

Ayat No : 16-28

: المرسلات

أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ ۱۶ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ ۱۷كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ ۱۸وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۱۹أَلَمْ نَخْلُقْكُمْ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ ۲۰فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ۲۱إِلَىٰ قَدَرٍ مَعْلُومٍ ۲۲فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ ۲۳وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۲۴أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا ۲۵أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ۲۶وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُمْ مَاءً فُرَاتًا ۲۷وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ ۲۸

Translation

کیا ہم نے ان کے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کردیا ہے. پھر دوسرے لوگوں کو بھی ان ہی کے پیچھے لگادیں گے. ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں. اور آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہی بربادی ہے. کیا ہم نے تم کو ایک حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا ہے. پھر اسے ایک محفوظ مقام پر قرار دیا ہے. ایک معین مقدار تک. پھر ہم نے اس کی مقدار معین کی ہے تو ہم بہترین مقدار مقرر کرنے والے ہیں. آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ہے. کیا ہم نے زمین کو ایک جمع کرنے والا ظرف نہیں بنایا ہے. جس میں زندہ مفِدہ سب کو جمع کریں گے. اور اس میں اونچے اونچے پہاڑ قرار دئے ہیں اور تمہیں شیریں پانی سے سیراب کیا ہے. آج جھٹلانے والوں کے لئے بربادی اور تباہی ہے.

Tafseer

									  تفسیر
           ان تمام مظاہر قدرت کے باوجود پھر بھی تم معاد میں شک رکھتے ہو؟!
 ان آیات میں بھی منکرین قیامت کو مختلف طریقوں سے خبردار کرتا ہے، اور گوناں گوں بیانات کے ساتھ انھیں غفلت کی گہری نیند سے بیدار کرتا ہے۔
 پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر گزشتہ تاریخ کی طرف لے جاتا ہے اور انھیں گزشتہ مصیبت زدہ اقوام کی سرزمین دکھاتا ہے، اور فرماتا ہے: "کیا ہم نے پہلی قوموں کو جنھوں نے کفرو انکار کی راہ اختیار کی تھی ہلاک نہیں کیا"۔(اَلَمْ نُهْلِكِ الْاَوَّلِيْنَ )۔
 ان کے آثار نہ صرف صفحات تاریخ پر ، بلکہ صفحہ روۓ زمین پر بھی نمایاں ہیں، قوم "عاد" اور "ثمود" اور "قوم نوح" و "قوم لوط" اور قوم "فرعون" جیسی اقوام، جن میں سے کوئی گروہ طوفان سے ، کوئی گروہ صاعقہ (بجلی) سے، کوئی گروہ تیز آندھی سے، اور کوئی قوم زلزلہ اور آسمانی پتھروں کے عزاب سے نابود ہوگئی۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "پھر ہم بعد میں آنے والی قوموں کو جو ان ہی جیسے اعمال رکھتی ہیں، ان کے پیچھے بھیج دیتے ہیں"۔(ثُـمَّ نُتْبِعُهُـمُ الْاٰخِرِيْنَ )۔
 کیونکہ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والی سنت ہے اور اس میں استثناۓ اور تبعیض نہیں ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک گروہ ایک جرم کی وجہ سے سزا دے اور اسی جرم کو دوسروں کے لیے پسند کرے۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس لیے بعد آیت میں مزید کہتا ہے:"ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں"۔(كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِيْنَ )۔
 یہ آیت حقیقت میں "اقوام اولین" کی ہلاکت، اور ان کے بعد آنے والی اقوام کی ہلاکت کی دلیل کے طور پر بیان ہوئی ہے ، کیونکہ خدائی عزاب میں ، نہ تو انتقام جوئی کو پہلو ہوتا ہے، اور نہ ہی شخصی حساب کا تصفیہ ، بلکہ وہ اصل استحقاق اور مقتضاۓ حکمت کے تابع ہوتا ہے۔
 بعضص نے کہا ہے کہ اولین سے مراد وہ قومیں ہیں جو ماضی بعید میں تھیں، مثلاً قومِ نوح و عاد و ثمود ، اور آخرین سے مراد وہ قومیں ہیں جو ان کے بعد آئیں ، مثلاً قومِ لوط و قوم فرعون۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ "نتبعھم" فعل مضارع کی صورت میں آیا ہے، جبکہ "الم نھلک" ماضی کو معنی رکھتا ہے، یہ واضح ہوجاتا ہے کہ "اولین" ان تمام گزری ہوئی قوموں کے لیے ایا ہے ، جو عزاب الٰہی کے ساتھ ہلاک ہوئیں، اور "اٰخرین" ان تمام کفار کو شامل ہے، پیغمبر کے زمانے میں تھے یا جو اس کے بعد عرصۂ وجود میں قدم رکھیں گے اور جرم و گناہ اور ظلم و فساد میں آلودہ ہوں گے۔
 اور انجام کار نتیجہ نکالتے ہوۓ مزید کہتا ہے :"واۓ ہے اس دن تکزیب کرنے والوں کیا کے لیے"۔(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔
 "یومئذ" یہاں روزِ قیامت کی طرف اشارہ ہے ، کیونکہ ان کی اصلی اور اہم سزا اسی روز کے ساتھ مربوط ہے، اور یہ تکرار تاکید مچلب کے لیے ہے، اور یہ جو بعض نے احتمال دیا ہے۔ کہ یہ ایت عذابِ دنیا کو بیان کررہی، اور اس کی مشابہ آیت کو اس سے پہلے آئی ہے وہ عذابَ آخرت کو بیان کرتی ہے، بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــ
 پھر ان کا ہاتھ پکر کر عالمِ جنین کی طرف لے جاتا ہے اور خدا کی عظمت و قدرت، اور اس اسرار آمیز دنیا میں، اس کی نعمتوں کی کثرت امھیں دکھاتا ہے، تاکہ ایک طرف تو مسئلہ معاد و قیامت پر خدا کی قدرت سے آگاہ ہوجائیں اور دوسری طرف خود کو اس کی بے شمار نعمتوں کا مرہونِ سمجھیں، اور اس کے آستانے پر سر تعظیم جھکائیں۔
 فرماتا ہے:"کیا ہم نے تمھیں پست اور ناچیز پانی سے پیدا نہیں کیا ہے؟"۔(اَلَمْ نَخْلُقكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ ٍ)۔
     ـــــــــــــــــــــــــــــ
 "پھر ہم نے اسے مناسب ، محفوظ، تیاروآمادہ قرارگاہ میں ٹھرایا"۔(فَجَعَلْنَاهُ فِىْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ؎1    "قرار" "محل استقرار" کے معنی میں ہے اور "مکین" "محفوظ" کے معنی میں ہے اور اصل میں "مکانت" سے ہے، جو تمکن کے معنی میں آیا ہے البتہ "مکانت" بعض اوقات "منزلت" کے معنی میں بھی آیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 ایسی قرارگاہ، جس میں ہر لحاظ سے ، حیات و زندگی اور انسانی نطفہ کی پرورش و رشدد محافظت کے لیے، تمام ضروریات موجود ہیں ، اور وہ اس قدر عجیب و غریب، عمدہ اور موزوں ہیں کہ ہر انسان میں ڈالتے ہیں۔
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــ   
 اس کے بعد مزاید کہتا ہے:"نطفہ کا اس محفوظ جگہ میں ٹھہرنا، ایک معین مدت تک جاری رہتا ہے"۔(اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ )۔
 وہ مدت جس کو سواۓ خد ا کے کوئی نہیں جانتا، ایسی مدت جو بہت سے تغیرات، دگرگونیوں اور تحولات سے پُر ہے، جس میں نطفہ کو ہر روز حیات و زندگی کا ایک نیا لناس پہنایا جاتا ہے، اور اس کو اس مخفی جگہ میں تکامل و ارتقاء کے راستہ پر آگے بڑھاتا ہے۔
 اس کے بعد نتیجہ نکالتا ہے:"ہم اس کام پر قدرت رکھتے تھے کہ ایک بے قدر و قیمت، حقیرو ناچیز مطفہ سے، ایسا شریف اور کامل انسان بنا ڈالیں، "پس ہم کتنے اچھے قادر و توانا ہیں"۔(فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُوْنَ)۔ ؎1 ، 2
 یہ وہی دلیل ہے جس پر قرآن نے مسئلہ معاد کو ثابت کرنے کے لیے بارہا انحصار کیا ہے، منجملہ ان کے سورہ حج کی ابتدائی آیات میں کہتا ہے"تم مردوں کے نئی زندگی کی طرف پلٹ آنے کی ، کیسے تردید کرتے ہو، حالانکہ تم اس انسان کی ، ایک بے قدر و قیمت نطفہ سے خلقت میں، اس کی قدرت کا مشاہدہ کرتے ہو، جس کا ہر روز ایک معاد و قیامت ہے تو مٹی اور بے قدر و قیمت نطفہ میں کیا فرق ہے؟"
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آخر میں پھر اسی جملہ کا تکرار فرماتے ہوۓ کہتا ہے :"واۓ ہو اس دن تکزیب کرنے والوں کے لیے"۔(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔
 واۓ ہے ان کے لیے جو اس کی قدرت کے یہ سب آثار دیکھتے ہیں، اور پھر بھی اس کا انکار کرتے ہیں۔
 امیر المومنین علی علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتا ہیں:
  ایھا المخلوق السوی والنشا المرعی فی ظلمات الارحام  ،  و
  مضا عفات الاستار ، بدئت من سلالۃ من طین ، وضعت فی 
  قرار مکین ، الی قدر معلوم ، واجل مقسوم  ،  تمور فی  بطن
  امک جنینا ، لا تحیر دعاء ، ولا تسمع نداء  ثم اخرجت   من
  مقرک الی دارلم تشھد ھا ، ولم تعرف سبل منا فعا فمن ھداک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    اس آیت میں ایک محزوف ہے اور تقدیر میں "فتعم القادرون نحن"ہے۔(اصطلاح کے مطابق مخصوص بالمدح محزوف ہے)۔
  ؎2    بعض مفسرین نے اس آیت کی اس طرح تفسیر کی ہے "ہم نے نطفہ کی ضروری اندازہ گیریوں، مختلف مقدرات ، اور جسم و جان میں خصوصیات کے ساتھ، تقدیر کی ہے، اور ہم اچھی تقدیر کرنے والے ہیں، لیکن یہ تفسیر اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ ــــــــــ کہ متن قرآن اور مشہور قرامت تشدید کے بغیر ہے ــــــــ بعید نظر آتی ہے۔ اگرچہ بعض نے یہ کہا ہے کہ ثلاثی مجرد کا مادہ بھی اندازہ کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ لیکن عام استعمالات میں لفظ "قادر" اس معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔    (غور کیجیے)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  لاجترارالغذاء من ثدی امک ، وعرفک عندالحاجۃ مواضع طلبک وارادتک
  "اے وہ مخلوق! جسے جسے مناسب جسم کے ساتھ نحفوظ ماحول میں پیدا کیا گیا ہے، رحم کی تاریکیوں اور کئی کئی پردوں
  میں  تیری  خلقت  کا  آغاز  گیلی  مٹی  کے  جوہر  سے ہوا  ہے ، اور ایک  محفوظ  قرارگاہ  میں  ایک  دقت  معلوم  اور  معین
  نہیں کیا تھا، اور اس کے منافع کے راستے کو تو پہچانتا نہیں تھا۔
  اب تو یہ بتا کہ تیری ماں کے پستان سے دودھ پینے کی ہدایت کس نے کی تھی ؟ اور تجھے اپنی ضرورتوں کو
  پورا کرنے کے طریقے کس نے بتائے تھے؟"؎1 
 ان آیات کے دوسرے حصہ میں خدا کی آفاقی آیات اور نشانیوں اور عظیم جہان میں اس کی نعمتوں اور مواہب کے ایک حصہ کو بیان کیا گیا ہے جو اس کی وسیع قدرت اور رحمت کی بھی ایک دلیل ہیں اور معاد کے امکان کی بھی ایک دلیل ہیں، جبکہ گزشتہ آیات میں خدا کی آیات انفسی اور خود انسان کی خلقت میں جو نعمتیں تھیں، ان کے بارے میں گفتگو تھی۔  
 فرماتا ہے :"کیا ہم نے زمین کو انسانوں کے اجتماع کا مرکز قرار نہیں دیا"۔(اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا)۔ ؎2
      ـــــــــــــــــــــــــــــــ
 "ان کی زندگی کی حالت میں بھی اور موت کی حالت میں بھی"۔(اَحْيَآءً وَّاَمْوَاتًا)۔ ؎3
 "کفات" (بروزن کتاب) اور "کفت" (بروزن کشف) جمع کرنے اور کسی چیز کو ایک دوسری کے ساتھ ملانے کے معنی میں ہے۔ اور پرندون کی سریع اور تیز پرواز کو بھی "کفات" کہا جاتا ہے، کیونکہ تیز پرواز کے وقت وہ اپنے پروں کو اکٹھے کر لیتے ہیں، تاکہ زیادہ تیزی کے ساتھ ہوا کو چیر کر آگے نکل جائیں۔
 اس سے مراد یہ ہے کہ زمین تمام انسانون کے لیے ایک قرارگاہ ہے، زندوں کو تو اپنے اوپر جمع کرتی ہے، اور ان کی تمام حاجتوں اور ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور ان کے مردوں کو بھی اپنے اندر جگہ دیتی ہے، کیونکہ اگر زمین مردوں کو دفن کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتی، تو ان سے پیدا ہونے والی عفونت اور بیماریاں تمام زندوں کے لیے ایک مصیبت کھڑی کر دیتیں۔
 ہاں! زمین ایک ماں کی طرح ، جو اپنی اولاد کو اپنے گرد جمع کرتی ہے، اور اپنے پروبال کے نیچے قرار دیتی ہے، انسانوں کو اپنے اوپر جگہ دیتی ہے، ان پر نوازش کرتی ہے، انھیں غزا کھلاتی ہے، لباس پہناتی ہے، گھر اور مسکن دیتی ہے اور اس کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    نہج البلاغہ ، خطبہ 163
  ؎2   "کفاتًا" "جعلنا" کا دوسرا مفعول ہے اور ایسا مصدر ہے جو اسمَ فاعل کے معنی میں آیا ہے۔
  ؎3   "احیاءًوامواتًا" ایک محزوف مفعول کی ضمیر کا حال ہے اور تقدیر میں "کفاتًا لکم احیاءً وامواتًا" تھا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور ان کے مردوں کو بھی اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے اور جزب کرلیتی ہے، اور ان کے برے آثار کو ختم کر دیتی ہے۔
 بعض نے "کفات" کی یہاں "پرواز سریع" کے ساتھ تفسیر کی ہے اور اس آیت کو سورج کے گرد زمین کی حرکت اور دوسری حرکات کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں، جو نزولِ قرآن کے موقع پر قطعًا کشف نہیں ہوئی تھی۔
 لیکن اس کے بعد والی آیت یعنی "احیاءً و امواتًا" کی طرف توجہ کرنے سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
 خصوصًا ایک روایت میں آیا ہے کہ امیرالمومنین علیؑ جب میدان صفین سے واپس لوٹ رہے تھے اور کوفہ کے قریب پہنچے تو جب آپکی نظر مبارک کوفہ کے دروازے سے باہر قبرستان پر پڑی تو فرمایا:
  ھٰذا کفات الاموات ای مساکنھم
  "یہ مردوں کے کفات یعنی ان کے مسکن اور گھر ہیں"
 پھر آپ نے کوفہ کے گھروں پر نظر کی فرمایا:
  ھٰذا کفات الاحیاء
  "یہ زندوں کے گھر ہیں"
 اس کے بعد آپ نے اوپر والی آیات کی تلاوت فرمائی: الم نجعل الارض کفاتًا احیاءً وامواتًا ۔؎1
 یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زندون اور مردوں کے گھروں کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے۔
     ــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد کرۂ زمین میں خدا کی ایک عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے:"ہم نے اس میں ثابت استوار اور بلند پہاڑ قرار دئیے ہیں"۔(وَجَعَلْنَا فِيْـهَا رَوَاسِىَ شَامِخَاتٍ)۔ ؎ 2
 یہ پہاڑ جن کی چوٹیاں اسمان کی طرف سر نکالے ہوۓ ہیں، اور ان کی جڑیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں، ایک طرف تو زمین کو زرہ کی مانند گھیرے ہوے ہیں، اور داخلی دباؤ اور خارجی مدد جزر سے پیدا ہونے والے دباؤ سے محفوظ رکھتے ہیں، اور دوسری طرف ہوا کے قشر کے زمین سے ٹکراؤ کو روکتے ہیں ، اور ہوا میں پنجہ ڈال کر اس کو اپنے ساتھ گردش میں لاتے ہیں اور تیسری طرف عظیم طوفانون اور آندھیوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس طرح کئی مختلف جہات سے اہل زمین کو سکون و آرام پہنچاتے ہیں۔
 اسی آیت کے ذیل میں پہاڑوں کی برکات میں سے ایک اور برکت کی چطرف اشارہ کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے:" اور تمھیں ہم نے خشگوار پانی پلایا"۔(وَّ اَسْقَيْنَاكُمْ مَّآءً فُرَاتًا)۔
 ایسا پانی جو تمھارے لہیے بھی خوشگورار اور باعثِ حیات ہے اور تمھارے جانوروں ، کھتیوں اور باغات کے لیے بھی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1      تفسیر برہان جلد 4 ص 417  (نقل از تفسیر علی بن ابراہیم)
  ؎2      "رواسی" "راسیہ" کی مجع ہے، جو ثابت و پا برجا کے معنی میں ہے اور "شامخات" "شامخ" کی جمع ہے جو بلند کت معنی میں ہے اور بعض عبارتوں میں جیسے "شمخ باتقۃ" تکبر سے کنایہ ہے (مفردات راغب)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 یہ ٹھیک ہے کہ تمام خوشگوار پانی بارش سے ہیں ، لیکن پہاڑوں کا بھی اس میں اہم ترین نقش و اثر ہے، بہت سے چشمہ اور ندی نالے پہاڑوں سے پھوٹتے ہیں اور بہت سے بڑے بڑے دریاؤں اور نہرون کا سرچشمہ برف کے وہ تہہ بہ تہہ تودے ہیں جو پہاڑوں کی چوٹی پر آکر جم جاتے ہیں اور انسانوں کے پانی کے اہم ترین ذخائر بناتے ہیں۔
 پہاڑوں کی چوٹیاں سطح زمین سے دور ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سرد ہوتی ہیں، اور سالہاسال تک برف کے ذخائر کو اپنے اندر جگہ دے سکتی ہیں، تاکہ وہ تدریجًا اور آہستہ آہستہ سورج کی حرارت سے پانی بن بن کر نہروں اور دریاؤں کی صورت میں جاری ہوتے رہیں۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس حصہ کے آخر میں پھرفرماتا ہے :"واۓ ہے اس دن تکزیب کرنے والوں کے لیے"۔(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ )۔
 وہی لوگ جو حق تعالٰی کی قدرت کی ان تمام آیات اور نشانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، اور خدا کی ان نعمتوں کو جن میں وہ غرق ہیں، مشاہدہ کرتے ہیں، پھر بھی وہ قیامت اور دادگاہِ قیامت اک ، جو اس کے عدل و حکمت کی مظہر ہے، انکار کرتے ہیں۔