Tafseer e Namoona

Topic

											

									  جنین کا پر غوغا عالم

										
																									
								

Ayat No : 1-4

: الانسان

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا ۱إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ۲إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ۳إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا ۴

Translation

یقینا انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا. یقینا ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنادیا ہے. یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے. بیشک ہم نے کافرین کے لئے زنجیریں - طوق اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کا انتظام کیا ہے.

Tafseer

									  ایک نکتہ
           جنین کا پُرغوغا عالم
 ہم جانتے ہیں کہ انسان کا نطفہ، مرد اور عورت کے نطہ سے ــــــــــــ جن میں پہلا "اسپرم" یا (جرثومہ) اور دوسرا "اوول" یا بیضہ کہلاتا ہے ـــــــــــ مل کر بنتا ہے۔
 "نطفہ" کا اصل وجود، اوراس کے بعد اس کی ترکیب ، اور پھر جنین کے مختلف مراحل ، عالمِ آفرنیش کے عظیم عجائبات میں سے ہیں، جس کے اسرار سے "جنین شناسی" کے علم کی پیش رفت پردہ ہٹ چکا ہے۔اگرچہ بہت سے اسرار ابھی تک پردۂ اخفا میں ہیں۔
 1- "سپرم" جو مرد کا نطفہ کے پانہ سے خارج ہوتا ہے، ایک بہت ہی چھوٹا سا خوردبینی زندہ و محترک موجود ہے، جو ایک سر، گردن اور متحرک دم کا حامل ہوتا ہے، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مرد کے ہر انزال میں دوسو سے پانچ سو ملین تک اسرم موجود ہوسکتے ہیں جو کئی ملکوں کی تعداد کے برابع ہوتے ہیں، لیکن اس بے شمار تعداد میں سے صرف ایک یا چند عدد بیضہ میں داخل ہوتے ہیں ، اور وہ بارور ہوجاتا ہے ۔ نر کے نطفہ کی اس تعداد کے وجود کی وجہ یہ ہے کہ سپرموں کے بیضوں تک پہنچنے اور اس سےترکیب پانے کے لیے، بہت زیادہ تلف ہوجاتے ہیں اور یہ اتنی بڑی تعداد نہ ہوتی تو شاید بارآور ہونے کا معاملہ مشکل ہوجاتا۔  
 2- رحم حملہ ہونے سے پہلے صرف ایک اخروٹ کے برابر ہوتا ہے، لیکن نطفہ کے انعقاد ، اور جنین کی پرورش کے بعد اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ وہ کافی جگہ کو گھیر لیتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کی دیوار اپنی پہلی حالت پر آجانے کی اتنی قابلیت رکھتی ہے کہ اس عظیم حجم کا بخوبی مقابلہ کر سکتی ہے۔
 3- رحم کی دیوار کی رگوں میں خون نہیں ہوتا، بلکہ وہ عضلات کے اندر پر نالے کی صورت میں جاری ہوتا ہے، کیونکہ اگر اس میں ہوتی ، تو یقنی طور پر رحم کی دیوار کی حد سے زیادہ کشش کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکتی۔
 4- بعض ماہرین کا نظریہ یہ ہے کہ عورت کا نطفہ "مثبت برقی بار" کا حامل ہوتا ہے اور "سپرم" "منفی برقی بار" رکھتا ہے، لہزا وہ ایک دوسرے کی طرف کھینچتےہیں ، اور اسی بناء پر دوسرے "سپرم" جو اس کے اطراف میں ہوتے ہیں، یپچھے دھکیل دیئے جاتے ہیں، اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "سپرم" کے داخل ہونے کے ساتھ ہی اس سے مخصوص کیمیائی مادہ نکلتا ہے جو باقی تمام سپرموں کو دور دھکیل دیتا ہے۔
 5- جنین ایک بڑے تھیلے کے اندر ایک گاڑھے قسم کے پانی میں ــــــــــــــ جسے "آمنی بوس" کہا جاتا ہے، غوطہ ور ہوتا ہے ، جو ماں کی طرح طرح کی تند و تیز حرکات ، یا شکم کے اوپر کسی چیز کے لگنے کے مقابلہ میں ضدِ ضرب کی خاصیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں جنین کو ایک خاص حد تک گرم رکھنے کی صورت میں حفاظت کرتا ہے اور بیرونی حرارت میں تبدیلیاں اس میں جلدی سے اثر نہیں کرتیں، اور سب سے زیادہ عمدہ اور قابل ِتوجہ بات یہ ہے کہ اسے بے وزنی کی حالت میں قرار دہ دیتا ہے، اور جنین کے مختلف اعضاء کو ، ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے سے ــــــــ جو بعض نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں ـــــــــــــ روکتا ہے۔
 6- جنین کی خوراک اور غذا "جفت" (آنول) "بندناف" کے راستہ سے صورت پزیر ہوتی ہے۔ یعنی ماں کا خون تمام غزائی مواد اور آکسیجن کے ساتھ آنول نال میں داخل ہوجاتا ہے اور نئے سرے سے صاف ہوکر بند ناف کی راہ سے جنین کے دل میں داخل ہوجاتا ہے، اور وہاں سے تمام اعضاۓ بدن میں تقسیم ہوجاتا ہے۔
 قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ دل کا دایاں اور بایاں بطن ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوۓ تھے۔ چونکہ وہاں خون کے صاف ہونے کا مسئلہ پھیپھڑے کے ذریعہ نہیں ہوتا، کیونکہ جنین سانس نہیں لیتا ، لیکن پیدا ہونے کے ساتھ ہی بطن کے دونوں غار (گڑھے) ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں، اور آلاتِ تنفس اپنا کام شروع کردیتے ہیں۔ ؎ 1
     ــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    اس بحث میں کتاب "اولین دانش گاہ و آخرین پیغمبر" کی جلد اول اور دوسری کتابوں سے استفادہ ہوا ہے۔