ہم نے ناچیز نطفہ کو انسان بنا دیا اور ہدایت کے تمام ذرائع اس کے اختیار میں دا دیئے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا ۱إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ۲إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ۳إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا ۴
یقینا انسان پر ایک ایسا وقت بھی آیا ہے کہ جب وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا. یقینا ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنادیا ہے. یقینا ہم نے اسے راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے. بیشک ہم نے کافرین کے لئے زنجیریں - طوق اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کا انتظام کیا ہے.
تفسیر
ہم نے ناچیز نطفہ کو انسان بنا دیا، اور ہدایت کے تمام ذرائع اس کےاختیار میں دے دیئے
اس کے باوجود کہ اس سورہ کے زیادہ تر مباحث قیامت اور جنت کی تعمتوں کے بارے میں ہیں، لیکن اس کی ابتداء میں گفتگو انسان کی خلقت کے بارے میں ہے ، کیونکہ اس زمینہ ساز خلقت کی طرف توجہ کرنا ، قیامت و معاد کی طرف توجہ کرنا ہے جیسا کہ ہم سورہ قیامت کی تفسیر میں اس سے چند صفحہ پہلے تشریح کر چکے ہیں۔
فرماتا ہے : "کیا ایسا نہیں ہے کہ انسان پر ایک طویل زمانہ ایسا گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر شے نہیں تھا"۔(هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الـدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَّذْكُوْرًا)۔
ہاں! اس کے وجود کے ذرات میں سے ہر ذرہ کسی گوشہ میں بکھرا پڑا تھا۔ مٹی کے درمیان، دریاؤں اور سمندروں کے پانی کے قطروں میں، اس ہوا میں جو زمین کی فضا میں موجود ہے، اس کے وجود کا اصلی مواد ، ہر ایک ان تینوں وسیع محیطوں کے کسی ایک گوشہ میں پڑا ہوا تھا، اور وہ خقیقت میں ان کت درمیان گم شدہ اور بالکل قابل ذکر نہیں تھا۔
کیا یہاں "انسان" سے مراد نوعِ انسانی ہے، اور یہ تمام افراد بشر کو شامل ہے؟یا اس سے خاص طور پر حضرت آدمؑ مراد ہیں۔؟
بعد والی آیت جو یہ کہتی ہے کہ ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا ہے، وہ پہلے معنی پر ایک واضح اور روشن قرینہ ہے، اگرچہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "انسان" پہلی آیت میں حضرت آدمؑ کے معنی میں ہے اور دوسری آیت میں اولاد آدم اشارہ ہے ، لیکن اس مختصر سے فاصلہ میں یہ جدائی بعید نظر آتی ہے۔
"لم یکن شیئًا مذکورًا" (کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا) کے جملہ کی تفسیر میں ، دوسرے نظریات کا بھی اظہار ہوا ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ : انسان جب عالمِ نطفہ میں تھا اور جنین تھا تو وہ قابل ذکر وجود نہیں تھا، لیکن بعد میں جب اس نے تکامل و ارتقاء کے مراحل طے کے لیے تو وہ ایک قابل ذکر وجود میں تبدیل ہوگیا۔
ایک حدیث میں امام باقرؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
"انسان" "علمِ خدا میں" مزکور تھا، اگرچہ "عالم خلق" میں مزکور نہیں تھا"۔؎2
بعض تفاسیر میں یہ بھی آیا ہے کہ یہاں "انسان" سے مراد علماء اور دانش مند ہیں، جو علم کے حاصل کرنے سے پہلے قابل ذکر نہیں تھے لیکن علم حاصل کرنے کے بعد ، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی ، تمام لوگوں کے درمیان ہر جگہ ان کا ذکر ہوتا ہے۔
بعض نے یہ نقل کیا ہے کہ "عمر بن خطاب " نے کسی سے آیت سنی تو کہا : اے کاش! آدم اسی طرح سے غیر مزکور رہتا اور ماں سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 مجمع البیان ، جلد 10 ص 406
؎2 ایضًا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پیدا ہی نہ ہوتا اور اس کی اولاد امتحان میں مبتلا نہ ہوتی۔ ؎1
یہ بات حیرت انگیز ہے چونکہ یہ تو مسئلہ آفرینش و خلقت پر ایک اعتراض ہے۔
ــــــــــــــــــــــــ
بہرحال اس مرحلہ کے بعد انسان کی خلقت اور اس کے قابل ذکر موجود ہونے کی بات آتی ہے، فرماتا: "ہم نے انسان کو ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے،ہم اس کو آزمائیں گےلہزاہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا قراردیا ہے"۔(اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍۖ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَاهُ سَـمِيْعًا بَصِيْـرًا )۔
"امشاج" "مشج" (بروزن نسج یا بروزن سبب) کی جمع ہےیا "مشیج" (بروزن مریض) کی جمع ہے، جو مخلوط اور ملی جلی چیز کے معنی میں ہے۔
"نطفہ مخلوط" سے انسان کی خلقت، ممکن ہے کہ عورت اور مرد کے نطفہ کے ملنے اور "اسپرا" اور "اوول" کی ترکیب کی طرف اشارہ ہو، جیسا کے روایات اہلِبیت میں اجمالی طور پر اس کی طرف اشارہ ہوا ہے یا ان مختلف استعدادوں کی طرف اشارہ ہے جو عامل وراثت کے لحاظ سے، کروموسوم اور اس کے مانند دوسری چیزوں کے طریق سے نطفہ کے اندر پائی جاتی ہے، یا نطفہ کی ترکیب میں مختلف مواد کے اختلاط کی طرف اشارہ ہے کیونکہ وہ دسیوں مختلف مادوں سے مل کر بنا ہے یا ان سب کا ایک دوسرے کے ساتھ اختلاط ، آخری معنی سب سے زیادہ جامع اور سب سے زیادہ مناسب ہے۔
یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ امشاج ، جنینی دور میں نطفہ کی مختلف حالات میں تبدیلیوں کا اشارہ ہے۔ 2
"نبتلیہ" کا جملہ انسان کے "تکلیف و ذمہ داری " تعہد و مسئولیت اور آزمائیش و امتحان کے مقام تک پہنچنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ خدا کی نعمتوں میں ایک بڑی نعمت ہے،جو اس نے انسان کو ودیعت فرمائی ہے اور اسے "تکلیف، ذمہ داری اور مسئولیت" لے لیے شائستہ اور اہل قرار دیا ہے۔
اور چونکہ آزمائش اور تکلیف "آگاہی اور علم" کے بغیر ممکن نہیں ہے ، اس لیے آہت کے آخر میں شناخت اور معرفت کے آلات ، آنکھ اور کان کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس نے انسانون کے اختیار میں دے دیئے ہیں۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں ابتلاء آزمائش سے مراد وہ تبدلیاں ہیں، جو جنین کو نطفہ کے مرحلہ سے کر ایک مکمل انسان تک پہنچنے کے لیے پیش آتی ہیں، لیکن "نبتلیہ" کی تعبیر اور اسی طرح "للانسان" کی تعبیر کی طرف توجہ کرنے سے پہلی تفسیر ہی زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
ضمنی طور پر اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تمام ادراکات کی اصل اور بنیاد اس کے حسی ادراکات ہوتے ہیں ، دوسرے لفظوں میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 مجمع البیان جلد 10 ص 406
؎2 اس بات پر توجہ رکھنا چایے کہ نطفہ کے مفرد ہونے کے باوجود ، اس کی صفت "امشاج" جمع کیصورت میں آئی ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ نطفہ مختلیف اجزاء سے ترکیب پایا ہے اور جمع کے حکم میں ہے اور بعض مثلاً "زمخشری" نے "کشاف" میں کہا ہے کہ امشاج مفرد ہے اگرچہ جمع کے وزن پر ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حسی ادراکات تمام "معقولات" کی "ماں" ہوتے ہیں ، اور بہت سے اسلامی فلاسفہ کا یہ نظیریہ ہے ، اور فلاسفہ یونان میں "ارسطو" بھی اسی نظیرہ کا طرفدار تھا ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
چونکہ انسان کی تکلیف و ذمہداری اور آزمائش ، علم آگاہی اور آلات شناخت کے علاوہ دو اور عوامل کی محتاج ہے۔ یعنی مسئلہ "ہدایت" و "اختیار" اس لیے بعد والی آیت میں ان دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ارشاد ہوتا ہے:"ہم نے اسے راستے کی نشاندہی کردی ہے، اب چاہیے وہ شاکر ہوجاۓ اور قبول کرلے یا کفران کرکے قبول نہ کرنے ولا والا بن جاۓ"۔(اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا )۔ ؎ 1
"ھدایت" یہاں ایک وسیع و عریض معنی رکھتاہے جو "ہدایت تکوینی" کو بھی شامل ہے اور "ہدایت فطری" اور "ہدایت تشریعی" کو بھی اگرچہ آیت کا سیاق زیادہ تر تشریعی کی طرف ہے۔
اس کی "وضاحت" اس طرح ہے کہ چونکہ خدا نے انسان کو ابتلاء و آزمائش اور تکامل و ارتقاء کے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔لہزا اس مقصد تک پیدا کیا ہے۔لہزا اس مقصد تک پہنچنے کے مقدمات تو اس نے اس کے وجود میں پیدا کی ہیں اور اسے ضروری قوتیں بخشی ہیں ، اور اسی کو ہدایت تکسینی کہتے ہیں، اس کت بعد اس کی فطرت یی گہرائیوں اس راستہ کو طے کرنے کا عشق پیدا کیا اور فطری الہامات کے طریق سے اسے راستہ کی نشاندہی کر دی ، لہزا اس لحاظ سے اسے "فطری" ہدایت بھی کر دی اور دوسری طرف سے آسمانی رہبر اور بزرگ انبیاء روشن اور واضح تعلیمات اور قوانین کے ساتھ عاستہ دکھانے کے لیے مبعوث کیے اور ان کے ذریعہ "ہدایت تشریعی" فرمائی، البتہ ہدایت کے یہ تینوں شعبے عمومی پہلو رکھتے ہیں، اور تمام انسانوں کو شامل ہیں۔
مجموعی طورپر یہ آیت انسانی زندگی میں تین اہم اور سرنوشت ساز مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
"مسئلہ تکلیف" و "مسئلہ ہدایت" اور "مسئلہ آزادی ارادہ و اختیار" کو ایک دوسرے کے لازم ملزوم اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں۔
ضمنی طور پر "انا ھدیناہ السبیل اماشا کرًا و اما کفورًا" کا جملہ مکتبِ جبر پر کطِ بطلان کھنیچتا ہے۔
"شاکرًا" اور "کفورًا" کی تعبیر وہ مناسب ترین تعبیر ہے جو یہاں ممکن ہوسکتی ہے، کیونکہ جن لوگوں نے خدا کی ہدایت جیسی عظیم نعمت کو قبول کرتے ہوۓ اس سامنے سر تسلیم خم کردیا اور راہِ ہدایت پر چل پڑے تو وہ اس نعمت کا شکر بجا لاۓ اور جنھوں نے مخالفت کی انھوں نے کفران کیا۔
اور چونکہ ہاتھ اور زبان سے کوئی شخص بھی اس کے شکر سے عہدہ برہآ نہیں ہوسکتا ۔ لہزا شکر کے بارے میں اسم فاعل کی تعبیر لایا ہے، جبکہ کفران کے بارے میں "کفورًا" (مبالغہ صیغہ) آیا ہے کیونکہ وہ لوگ جو اس نعمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں وہ سب سے بڑے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق "شاکرًا" اور "کفورًا" "ھدیناہ" کے مفعول کی ضمیر سے حال ہے، یہ اھتمال بھیا ہے کہ یہ "یکون" محزوف کی غیر ہو اور تقدیر میں اس طرح ہو (اما یکون شاکرًا واما یکون کفورًا)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کفران کا ارتکاب کرتے ہیں ،کیونکہ خدا نے انواع واقسام کے وسائل ہدایت ان کے اختیار میں دے رکھے ہیں اور یہ انتہائی کفران ہے کہ انھیں نظر انداز کرکے خطا اور غلطی کی راہ پر چل پڑیں۔
ضمنی طور پر اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ "کفورًا" ایک لفظ ہے جو کفرانِ نعمت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور کفر اعتقادی کے بارے میں بھی، (جیسا کہ راغب نے مفرادات میں بیان کیا ہے)۔
آخری زیرِ بحث آیت میں ، ان لوگوں کی سرنوشت کی طرف جو کفر و کفران کا راستہ طے کرتے ہیں ، ایک مختصر اور پر مونی اشارہ کرتے ہوۓ فرماتا ہے:"ہم نے کفار کے لیے زنجیریں ، طوق اور جلانے والے شعلے تیار کر رکھے ہیں"(اِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلْكَافِـرِيْنَ سَلَاسِلَ وَاَغْلَالًا وَّسَعِيْـرًا)۔
"اعتدنا" (ہم نے تیار رکھا ہے) کی تعبیر اس گروہ کی سزا کے حتمی و یقینی ہونے کے مسئلہ پر تاکید ہے یہ ٹھیک ہے کہ پہلے سے تیار کر رکھنا ، ایسے لوگوں کا کام ہے جو محدود توانائی رکھتے ہوں اور انھیں یہ احتمال ہو کہ ضرورت کے وقت توانائی پیدا نہ کرسکیں گے ، لیکن یہ مفہوم خدا کے بارے میں کوئی معنی نہیں رکھتا ، کیونکہ خدا تو جس چیز کا ارادہ کرے وہ "کن" کے فرمان سے فوارً موجود ہوتی ہے اس کے باوجود کافروں کی سزا کے قطعی ہونے کے بیان کے لیے اعلان کرتا ہے کہ ان کی سزا کے وسائل ابھی سے آنمادہ و تیار ہیں۔
"سلاسل" جمع ہے سلسلہ کی، جو زنجیر کے معنی میں ہے اور "اغلال" جمع ہے "غل" کی جو اس حلقہ (طوق) کے معنی میں ہے جسے گردن یا ہاتھوں میں ڈال دیتے ہیں، اس کے بعد اسے زنجیر سے باندھ دیتے ہیں ۔ ؎1
بہرحال غل و زنجیر کا ذکر اور اس کے بعد آگ جلانے والے شعلوں کا تزکرہ ، اس گروہ کی بہت بڑی سزا کو بیان کرتے ہیں، جس کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے، اور اس میں "عذاب" اور "اسارت" دونوں جمع ہیں۔
یہاں کی شہوات میں آزادی ان کے لیے وہاں کی اسارت کا سبب بن جاۓ گی اور وہ آگ جو انھوں نے اس دنیا میں بھڑکائی ہے وہ وہاں جسم اختیار کرے گی اور وہ ان کے دامن گیر ہوجاۓ گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "اغلال" کے معنی کی مزید وضاحت سورہ یٰس کی آیہ 8 کے ذیل میں (جلد 18 ص 321) مطالعہ فرمائیں۔