وہ خدا جس نے انسان کو ایک ناچیز نطفہ سے پیدا کیا۔
فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ۳۱وَلَٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ۳۲ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ ۳۳أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ۳۴ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ۳۵أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى ۳۶أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَىٰ ۳۷ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ۳۸فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ ۳۹أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۴۰
اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی. بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا. پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا. افسوس ہے تیرے حال پر بہت افسوس ہے. حیف ہے اور صد حیف ہے. کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ اسے اسی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا. کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتا ہے. پھر علقہ بنا پھر اسے خلق کرکے برابر کیا. پھر اس سے عورت اور مرد کا جوڑا تیار کیا. کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مفِدوں کو دوبارہ زندہ کرسکے.
تفسیر
وہ خدا جس نے انسان کو ایک ناچیز نطفہ سے ہیداکیا
موت سے مربوط مباحث کو جاری رکھتے ہوۓ، جو سفر آخرت کا پہلا قدم ہے اور وہ گزشتہ آیات میں آچکے ہیں ، زیر بحث آیات میں، کافروں کے اس توشۂ مسافرت سے خالی ہاتھ ہونے کی بات کرتا ہے۔
پہلے فرماتا ہے:"یہ منکرمعاد انسان ہرگز ایمان نہیں لایا، نہ ہی اس نے آیاتِ خدا کی تصدیق کی، اور نہ اس ک لیے نماز پڑھی"۔(فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّـٰى)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"بلکہ اس نے تکذیب کی راہ اختیار کی، اور حکم خدا کی طرف پشت پھیر لی"۔(وَلٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلّـٰى )۔
"فلا صدق" کے جملہ سے مراد قیامت، حساب وکتاب، جزا و سزا، آیات الٰہی، توحید و نبوت اور پیغمبراسلامؐ کی تصدیق نہ کرنا ہے، لیکن بعض نے اسے، اس کے نمازذکر ہونے کی باعث، کفار کی طرف سے "انفاق وصدقہ" کو ترک کرنے کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔
لیکن دوسری آیت اچھی طرح سے اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس تصدیق کا نقط مقابل تکذیب ہے۔ اس بناء پر پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے:"پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف پلٹ گیا جبکہ وہ متکبرانہ چال کے ساتھ چل رہا تھا"۔(ثُـمَّ ذَهَبَ اِلٰٓى اَهْلِـهٖ يَتَمَطّـٰى )۔
وہ اس گمان میں کہ اس نے بے اعتنائی اور پیغمبر اور آیات الٰہی کی تکذیب کی بناء پر اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔بادۂ غرور سے مست اپنے گھروالوں کی طرف آ ٓرہا تھا تاکہ معمول کے مطابق ان افتخار مسائل کو جوھگر سے باہر رونما ہوۓ تھے ان کے سامنے بیان کرے، یہاں تک کہ اس کا چلنا اور اس کے جسم کے اعضاء کی حرکت، سب ہی اس کے کبرو غرور کو بیان کررہے تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "صدق وصلٰی" کے جملوں میں جو ضمیر ہے وہ معاد کے منکر انسان کی طرف لوٹتی ہے جو کلام کے لب ولہجہ سے سمجھا جاتا ہے ، اور سورہ کے آغاز میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"یتمطی" "مطی" کے مادہ سے اصل میں پشت کے معنی میں ہے اور "تمطی" بے اعتنائی ، غرور یا تھکان اور بےحالی سے پشت کو کھینچنے کے معنی میں ہے اور یہاں وہی پہلا معنی مراد ہے۔
بعض اس کو "مط" (بروزن خط) کے مادہ سے، پاؤں یا باقی اعضاء بدن کو بے اعنتائی یا تھکان کے اظہار کے وقت کھینچنے کے معنی میں سمجھتے ہیں، لیکن اس کا "مطا" سے اشتقاق ظاہر لفظ کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ ؎1
بہرحال یہ مطلب اس چیز کے مشابہ ہے جو سورۃ "مطففین" کی آیہ 31 میں آیا ہے : وَاِذَا انْقَلَبُـوٓا اِلٰٓى اَهْلِهِـمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ : جس وقت وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جاتے ہیں تو استہزاء کے طور پر مومنین کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پھر اس قسم کے بےایمان افراد کو مخاطب کرتے ہرئے تہدید کے طور سے کہتا ہے :"عذابِ الٰہی تیرے لیے زیادہ مناسب ہے اور زیادہ مناسب ہے"۔(وْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"پھر بھی عذابِ الٰہی تیرے لیے زیادہ مناسب ہے اور زیادہ مناسب ہے"۔(ثُـمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى )۔
مفسرین نے اور دوسری متعدد تفاسیر بھی اس آیت کے لیے بیان کی ہیں منجملہ ان کے یہ ہیں کہ:
یہ ان کے لیے ایک تہدید ہے کہ تجھ پر عذاب ہو اور پھر تجھ پر عذاب ہو۔
یا یہ حالت جو تو رکھتا ہے یہی تیرے لیے زیادہ لائق ہے اور زیادہ لائق ہے۔
یا واۓ ہو تجھ پر یا پھر بھی داۓ ہو تجھ پر
یا دنیا کی نیکیاں تجھ سے دور رہیں یا آخرت کی بھلائیاں بھی تجھ سے دور رہیں۔
یا شرو عذاب تجھے دامنگیر رہے اور پھر شر وعذاب تجھے دامن گیر رہے۔
یا جس عذاب کا میدانِ بدر میں تونے مشاہدہ کیا ہے وہ تیرے لیئے اس دنیا میں زیادہ مناسب ہے اور قبروقیامت کا عذاب بھی تیرے لیے زیادہ مناسب ہے۔ ؎2
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 کیونکہ اگر یہ "مطا" کے مادہ سے ہو تو پھرتو ظہر لفظ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی لیکن اگر یہ "مط" کے مادہ سے ہو تو پھر "یتمطی" کا جملہ اصل میں "یتمطط" تھا جس کی آخری "طاء" "یاء" کے ساتھ تبدیل ہوگئی ہے۔
؎2 بعض تفاسیر کے مطابق یہاں "اولٰی" "افعل تقصیل "ہے اور بعض کے مطابق "الٰی" فعل ماضی ہے۔ باب افعال سے "ولی" کے مادہ اور جملہ کا مفہوم اس طرح ہوگا "قاربک اللہ العذاب "بعض نے یہ کہا ہے کہ 'اولٰی" اسماء افعال سے ہے اور "قارب" کا معنی رکھتا ہے لیکن مناسب وہی پہلا معنی ہے۔ (البیان فی غریب رساب القرآن، روح المعانی ، المیزان اور المنجد کی طرف رجوع کریں)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لیکن یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ ان معانی میں سے اکثر ایک کلی اور واضح معنی کی طرف لوٹتے ہیں ، جو عذاب ، مزمت ، شر اوع عقاب کی تہدید کو اپنے اندر لیے ہوۓ ہے ، چاہے وہ عذاب دنیا ہو یا عذاب برزخ و قیامت۔
روایات میں آیا ہے کہ روسولِ خدا سلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوجہل کا پاتھ پکڑا (اور بعض روایات کے مطابق اس کا گریبان پکڑا) اور پھرمایا:
اولٰی لک فاولٰی ثم اولٰی لک فاولٰی
تو ابوجہل نے کہا :
"مجھے کس چیز کی دھمکی دیتے ہو تم اور تمھارا پروردگار مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، میں اس سر زمین کے
قدرت مند ترین انسان میں سے ہوں۔"
اس موقع پر یہی جملے پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر آیات کی صورت میں نازل ہوۓ۔ ؎1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد قیامت کے بارے میں دو بہت ہی عمدہ استدلال پیش کرتا ہے، جن میں سے ایک تو "خلقت کے ہدف اور خدا کی حکمت" کے بیان کے طریق سے ہے اور دوسرا عالمِ جنین کے مختلف مراحل میں انسانی نطفہ کی تبدیلیوں اور تکامل وارتقاء کے استناد سے اس کی قدرت کے بیان کے طریق سے۔
پہلے فرماتا ہے: "کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے فضول اور بے مقصد چھوڑ دیا جاۓ گا"۔(َيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْـرَكَ سُدًى )۔
"سدًی" (بروزن ہدیٰ) مہمل ، فضول، بےہودہ اور بےمقصد کے معنی میں آتا ہے۔ عرب کہتے ہیں "اہل سدی" اس اونٹ کے بارے میں جو ساربان کے بغیر چھوڑا گیا ہو اور جہاں چاہے چرنے کے لیے چلا جاۓ۔
اس آیت میں "انسان" سے مراد قہی انسان ہے، جو معاد و قیامت کا منکر ہے، آیت کہتی ہے کہ اسے کیسے یقین اگیا کہ خدا نے اس وسیع و عریض عالم کو تو اس عظمت اور ان تمام عجائبات کے ساتھ انسان کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن خود انسان کی خلقت میں کوئی ہدف اور مقصد نہ رکھا ہو۔ یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ انسان کے اعضاء میں سے ہر عضو تو کسی خاص ہدف اور مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہو، آنکھ دیکھنے کی لیے ، کان سننے کے لیے اور دل غذا و آکسیجن اور پانی تمام بدن کے لٓسلولوں تک پہنچانے کے لیے ، یہاں تک کہ انسان کی انگلیوں کی لکیریں بھی حکمت و فلسفہ رکھتی ہیں لیکن اس کے پورے وجود کا کوئی ہدف و مقصد نہ ہو اور وہ یونہی فضول ، مہمل اور امرونہی اور ذمہ داری اور مسئولیت کے پروگرام کے بغیر ہی پیدا کردیا گیا ہو ؟
ایک عام آدمی بھی اگر ایک چھوٹی سی چیز بغیر کسی مقصد کے بناۓ تو اس پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کا نام عقل مند انسانون کی فہرست سے خارج کردیتے ہیں تو پھر خلیم علی الاطلاق خدا سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس قسم کی بے مقصد مخلوق کو پیدا کرے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 مجمع البیان جلد 10 ص 401
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب اگر یہ کہا جاۓ کہ ہدف و مقصد یہی دنیا کی چند روزہ زندگی ہے۔ یہی باربار کا کھانا اور سونا، جس میں ہزاروں قسم کے درد اور تکلیفیں ملی ہوئی ہیں، تو یقینًا یہ ایسی چیز نہیں ہے جو اس عظیم خلقت کی توجیہہ کر سکے۔
اس بناء پر ہن یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ انسان ایک عظیم ترین ہدف، یعنی جوار قرب رحمتِ حق میں جادوانی زندگی اور بے وقفہ اور بے پایاں تکامل و ارتقاء کے لیے پیدا ہوا ہے۔ ؎ 1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد دوسری دلیل کو پیش کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے :"کیا انسان ابتداء میں منی کا نطفہ نہیں تھا جو رحم میں ڈالا جاتا ہے"۔(اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى )۔
"پھر اس مرحلہ کے بعد جمعے ہوۓ خون کی صورت اختیار کی اور خدا نے اسے نئی خلقت بخشی اور موذوں بنایا"۔(ثُـمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّ ٰ ى )۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"پھر اس مرحلہ میں بھی متوقف نہ رہا، خدا نے اسی نطفہ سے دو جفت مرد و عورت ہیداکیے"۔(َجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَـرَ وَالْاُنْثٰى )۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کیا وہ ہستی، جو ایک جھوٹے سے حقیر و ناچیز نظفہ کو ظلمت کدہ رحمَ مادر میں، ہر روز ایک نئی آفرینش رطا کرتی ہے اور حیات و زندگی کا ایک نیا لباس اسے پہناتی ہے، اور ایک نئے سے نیا چہرے اسے دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کامل مزکر و مؤنث امسان ہوجاتا ہے ار ماں سے متولد ہوتا ہے، تو کیا ایسی ذات مردوؐ کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے!؟(َلَيْسَ ذٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلٰٓى اَنْ يُّحْيِىَ الْمَوْتٰى )۔
یہ بیان حقیقت میں ایسے منکرین کے مقابلہ میں ہے جو معاد جسمانی کے مسئلہ میں عام طور پر اس کے محال ہونے کا دم بھرتے ہیں اور مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد زندگی کی بازگشت کے امکان کی نفی کرتے ہیں اور قرآن اس مطلب کو ثابت کرنے کے لیے انسان کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس اس کی خلقت کے آغاز کی طرف پلٹاتا ہے۔ جنین کے عجیب و غریب مرحلے، اور ان مرحلوں میں ، انسان کی حیرت انگیز تبدیلیوں کی ، اسے نشاندہی کراتا ہے۔ تاکہ وہ جان لے کہ خدا ہر چیز پر قادر و توانا ہے، اور دوسرے لفظوں میں کسی چیز کے وقوع کی بطہترین دلیل اس کا وقوع میں آجانا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 ہم نے اس سلسلہ میں ایک بحث سورۃ مومنون کی آیہ 115 کے ذیل میں (جلد 14 ص 346 پر) بھی کی ہے۔