Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2: جہاں بشریت میں نظام جنیت

										
																									
								

Ayat No : 31-41

: القيامة

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ ۳۱وَلَٰكِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ۳۲ثُمَّ ذَهَبَ إِلَىٰ أَهْلِهِ يَتَمَطَّىٰ ۳۳أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ۳۴ثُمَّ أَوْلَىٰ لَكَ فَأَوْلَىٰ ۳۵أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى ۳۶أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَىٰ ۳۷ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ ۳۸فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ ۳۹أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ ۴۰

Translation

اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی. بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا. پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا. افسوس ہے تیرے حال پر بہت افسوس ہے. حیف ہے اور صد حیف ہے. کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ اسے اسی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا. کیا وہ اس منی کا قطرہ نہیں تھا جسے رحم میں ڈالا جاتا ہے. پھر علقہ بنا پھر اسے خلق کرکے برابر کیا. پھر اس سے عورت اور مرد کا جوڑا تیار کیا. کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ مفِدوں کو دوبارہ زندہ کرسکے.

Tafseer

									    2-     جہاں بشریت میں نظامِ جنسیت
 ان تمام باتوں کے باوجود ، جو جنین کی جنسیت کے عوامل کے بارے میں ہوئی ہیں اور اس بارے میں کہ کن امور کے ماتحت "مزکر" یا "مونث" کی جنس میں تبدیل ہوتی ہے، ابھی تک کوئی شخص ٹھیک طرح سے نہیں جانتا کہ اس کے عوامل اصلی کیا ہیں؟
 یہ ٹھیک ہے کہ بعض مواد غذائی یا چند ایک دوائیاں ممکن ہے کہ اس مسئلہ میں بے اثر نہ ہوں، لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی یقینی طور پر تعین کنندہ شمار نہیں ہوتی ، دوسرے لفظوں میں یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا علم خداہی کے پاس ہے۔
 دوسری طرف تمام معاشروں میں ہمیشہ ایک تعادل نسبی ان دونوں صنفوں کے درمیان نظر آتا ہے، اگرچہ اکثر معاشروں میں عورتوں کچھ زیادہ ہوتی ہے اور بعض معاشروں میں شاذ و نادر مردوں کی تعداد کچھ زیادہ ہوتی ہے لیکن مجموعی طور پر ان دونوں اصناف میں ایک تعادل نسبی پایا جاتا ہے،
اگر فرض کریں کہ کوئی ایسا وقت آجاۓ کہ یہ تعادل اور برابری ٹوٹ جاۓ اور مثلاً عورتوں کی تعداد مردوں سے دس گنا ہوجاۓ یا مردوں کی تعداد عورتون سے دس گنا ہوجاۓ تو پھر غور کیجیے کہ انسانی معاشرےکانظام کس طرح درہم برہم ہوسکتا ہے اور اس طرح سے کیسے عجیب و غریب مفاسد وجود میں آئیں گے کہ ہر ایک عورت کے مقابلہ میں دس مرد ہوں گے یا ہر دس مردوں کےمقابلہ میں ایک عورت ہو تو کیسا جنجال برپا ہونےکاخطرہ ہے۔  
 اوپر والی آیات جو یہ کہتی ہیں: فجعل منہ الزوجین الذکر والا نثیٰ تو یہ ان دونوں موضوعات کی طرف ایک لطیف اور سربستہ اشارہ ہے: ایک طرف تو انسانوں کے پراسرار تنوع اور ان کے جنینی دور میں ، ان دو جنسوں میں تقسیم ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری طرف اس تعدل نسبی ؎1 اور برابری کی طرف اشارہ ہے۔
 خداوندا! ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک ہی لمحہ میں تمام مردوں کو حیات و زندگی کا لباس پہنادے، کوئی بھی چیز تیری قدرت کے مقابلہ میں مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے۔
 پروردگارا! جس دن روحیں گلے تک پہنچ جائیںگی، اور ہم ہر چیز سے قطع امید کرلیں گے، تیری پاک ذات ہی ہماری امید ہے۔
 بارالٰھا! ہمیں خلقت و آفرینش کے ہدف سے آشنا فرما۔
       آمین یاربالعالمین
                   سورۃقیامت کا اختتام
                    7/ ربیع الاول 1407ھ
     اختتام ترجمہ      
                 20 صفر 1408ھ مطابق 14 اکتوبر 1987 ء
              بروز بدھ بوقت تقریباً ساڑھے سات بجے شب
                 18/ ای ماڈل ٹاؤن ــــــــــــــــــــــــــــــ لاہور
                صفدر حسین نجفی
     ـــــــــــــــــــ 
     ـــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1      یہ جو مشہور ہے کہ معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے اور اسے وہ تعداد ازدواج کی ایک دلیل قرار دیتے ہیں۔ قابل قبول ہے، لیکن یہ بات تعادل نسبی کے ساتھ منافات نہیں رکھتی مثال کے طور پر ایک معاشرے میں 50 ملین افراد ہیں، جن میں سے ممکن ہے کہ 26ملین عورتیں اور اور 24 ملین مرد ہوں یعنی ان دونوں کا فرق 1/10 یا اس سے بھی کم کا ہو۔ لیکن یہ بات کہ عورتوں کی تعداد مردوں سے کئی گنا زیادہ ہو کسی بھی معاشرے میں نہیں دیکھی گئی۔