میدان محشر میں کچھ چہرے ہنستے ہوئے اور کچھ بگڑے ہوئے ہوں گے۔
كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ ۲۰وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ ۲۱وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ ۲۲إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ۲۳وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ ۲۴تَظُنُّ أَنْ يُفْعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ۲۵
نہیں بلکہ تم لوگ دنیا کو دوست رکھتے ہو. اور آخرت کو نظر انداز کئے ہوئے ہو. اس دن بعض چہرے شاداب ہوں گے. اپنے پروردگار کی نعمتوں پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے. اور بعض چہرے افسردہ ہوں گے. جنہیں یہ خیال ہوگا کہ کب کمر توڑ مصیبت وارد ہوجائے.
تفسیر
میدانِ محشر میں کچھ چہرے ہنستے ہوۓ ، اور کچھ بگڑےہوۓ ہوں گے
ان آیات میں پھر دوبارہ معاد و قیامت سے مربوط مباحث کو شروع کرتا ہے قیامت کی کچھ خصوصیات اسی طرح معاد کے انکار کے علل و اسباب کو بیان کرتا ہے، فرماتا ہے : اس طرح نہیں ہے کہ معاد و قیامت کے دلائل مخفی ہوں اور تم اس کی حقانیت تک نہ پہنچ سکتے ہو، "بلکہ تم جلدی گزرجانے والی دنیا کو دوست رکھتے ہو"(كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ )۔
ـــــــــــــــــــــ
"اور اسی بناء پر تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو"(وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَةَ )۔
معاد کے انکار کی اصلی وجہ، خدا کی قدرت "بوسیدہ ہڈیوں" کو مجع کرنے اور پراگندہ مٹی کو اکٹھا کرنے میں شک اور ترود نہیں ہے بلکہ دنیا اور سرکش شہوات اور ہوس رانیوں کے ساتھ تمھارا شدید لگاؤ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ تم ہر قسم کے مونع اور رکاوٹوں کو اپنے راستے سے ہٹا دو، اور چونکہ معاد اور خدا کے امرو نہی کو قبول کرلینا اس راستے میں بہت سے موانع اور رکاوٹیں کھڑی کردیتا ہے اس لیے یہ لوگ اصل مطلب کے انکار کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں اور آخرت کو کلی طور پر چھوڑ دیتے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ مادیت کی طرف اور مبداء و معاد کے انکار کا ایک اہم سبب، شہوات و لذات اور ہر قسم کے گناہ کے مقابلہ میں بےقید و شرط آزادی حاصل کرتا ہے، نہ صرف گزشتہ زمانہ میں بلکہ موجود زمانہ میں بھی یہ معنی زیادہ واضع اور اشکار صورت میں صادق آتا ہے۔
یہ دونوں آیات حقیقیت میں اسی چیز کی ایک تاکید ہے جو گزشتہ آیات میں گزرچکی ہے، جسمیں فرمایا تھا : بل یرید الانسان لیفجر امامہ ۔ یسئل ایان یوم القیامۃ۔ ؎1
ـــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد اس دن میں نیکوکار مومینن اور بدکار کفار کی حالت کو بیان کرتے ہوۓ اس طرح کہتا ہے: "اس دن کچھ صورتیں ہنسی خوشی اور نورانی و خوب صورت ہوں گی"(وُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ )۔
"ناضرۃ" "نضرۃ" کے مادہ سے ایک خاص قسم کی خوشی کے معنی میں ہے جو وفورِ نعمت اور مرفہ حالی کی وجہ سے انسان کو حاصل ہوتی ہے جس میں سرور و زیبائی اور نورانیت ہوتی ہے، یعنی ان کے رخسار کا رنگ ان کی حالت کی خبر دیتا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں میں کس طرح سے غرق ہیں، حقیقت میں یہ اسی چیز کے مشابہ ہے جو مطففین کی آیی 24 میں آیا ہے: تعر ف فی وجوھم نضرۃ النعیم :ــــــــــــ"تم ان (بہشتیوں) کے چہروں پر ، نعمت کی شادابی کو مشاہدہ کروگے"
ـــــــــــــــــــــــــ
یہ تو مادی جزاؤں لے لحاظ سے ہے، لیکن ان کی روحانی جزاؤں کے بارے میں فرماتا ہے "وہ صرف اپنے پروردگار کی پاک ذاے کی طرف دیکھیں گے"(اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ )۔
دل کی آنکھ اور شہود باطنی کا دیدار کس سے وہ اس بے مثال ذات اور اس کمال و جمال مطلق کے مجزوب بن جائیں گے اور ایک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 بعض نے اوپر والی ایات میں "کلا" کو ان کے قرآن میجد میں تدبیر کرنے کی نفی میں سمجھا ہے لیکن یہ تفسیر صحیحنہیں ہے، کیونکہ ــــــــ
جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ـــــــــــ قرآن سے مربوط آیات میں مخاطب پیغمبر ہیں اور وہ جنبہ معترضہ رکھتی ہیں، لیکن زیر بحث آیاتتایات کا قیامت کے سلسلہ میں ایک تسلسل ہے۔
__________________________________________________________________________
روحانی اور ناقابلِ بیان لذت انھیں حاصل ہوگی، جس کا ایک ایک لمحمہ دنیا اوت جوکچھ دنیا میں ہے اس سے برتر و بالاتر ہے۔
اس بات پر توجہ رہے کہ "الٰی ربھا" کا "ناظرۃ" پر مقدم پہونا حصر کا فائدہ دیتا ہےیعنی اس کیطرف دیکھیں گے، نہ کہ اس کے غیر کی طرف۔
اور اگر یہ کہا جاۓ کہ بہشتی یقینی طور پر اس کے غیر کی طرف نگاہ کریں گے تو ہم کہتے ہیں: اگر وہ اسکے غیر کی طرف نگاہ کریں گے تو ان سب کو اس کے آثار میں سے سمجھیں گے اور اثر کی طرف ناگاہ کرنا مؤثر کی طرف نگاہ کرنا ہے، دوسرے لفظوں میں وہ ہر جگہ اسی کو دیکھیں گے اور ہر چیز میں اسی کی قدرت اور جمال و کمال کا مشاہدہ کریں گے ، لہزا جنت کی نعمتوں کی طرف توجہ بھی انھیں خدا کی ذات کی طرف نظر کرنے سے غافل نہیں کرے گی۔
اس عجہ سے بعض روایات میں ــــــــــ جو اس آیت کی تفسیر میں بیان کی گئی ہیں ــــــــــــــ آیا ہے کہ : وہ خدا کی رحمت، اس کی نعمت اور اس کے ثواب کی طرف نظر کریں گے۔"؎1 کیونکہ ان چیزوں کی طرف دیکھنا بھی ، اس ذاتِ مقدس کی طرف دیکھنا ہے۔
بعض بے خبروں نے اوپر والی آیت کو قیامت میں خدا کی حسی مشاہدہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس دن خدا کو اسی ظاہر آنکھ کے ساتھ دیکھیں گے۔
حالانکہ اس قسم کے مشاہدہ کا لازمہ، خدا کا جسمانی ہونا، اور اسی خاص مکان، کیفیت اور حالتِ جسمانی میں ہونا، اور ہم جانتے ہیں کہ اس کی پاک ذات ان آلودگیوں سے منزہ ہے جیسا کہ قرآن کی مختلف آیات میں بارہا اس پر تکیہ ہوا ہے۔ منجملہ ان کے سورۃ انعام کی آیہ 103 میں آیا ہے :لا تدرکہ الابصار وھویدرک الابصار : "اس کو آنکھیں نہیں دیکھتیں اور وہ آنکھوں کو دیکھتا ہے، یہ آیت مطلق ہے اور دنیا کے ساتھ کسی قسم کا اختصاص نہیں رکھتی۔"
بہرحال خدا کا حسی مشاہدہ کا نہ ہونا، اس سے کہیں زیادہ واضح ہے کہ ہم اس پر مزید بحث کرنا چاہیں، جو شخص قرآن اور معارفِ اسلامی سے معمولی بھی آشنائی رکھتا ہے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرےگا۔
بعض نے "ناظرۃ" کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ "انتظار" کے مادہ سے ہے، یعنی اس دن مامنین صرف خدا کی ذات پاک سے توقع رکھتے ہوں گے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے نیک اؑمال پر بھی تکیہ نہیں کریں گے۔ اور ہمیشہ اس کی رحمت اور نعمت کے منتظر رہیں گے۔
اور اگر یہ کہا جاۓ کہ اس انتظار میں ایک قسم کی پریشانی آمیختہ ہوگی حالانکہ وہاں مومنین کے لیے کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
تو وہ جواب میں یہ کہتے ہیں : اس انتظار میں ایک قسم کی پریشانی ہوتی ہے جس کے انجام کے بارے میں اطمینان نہ ہو ، لیکن جب اطمینان حاصل ہو، تو پھر ایسا انتظار آرام و سکون کے ساتھ آمیختہ ہوتا ہے۔ ؎ 2
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 نورالثقلین جلد 5 ص 464، 465
؎2 بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "نظر" جا انتظار کے معنی میں ہے وہ "الٰی" کے ساتھ مقدی نہیں ہوتا، نلکہ وہ حرفِ جبری کے بغیر مقدی ہوگا، لیکن اشعار عرب میں سے کچھ ایسے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ "نظر" جو انتظار کے معنی میں ہے وہ "الٰی" کے ساتھ متعدی ہوتا ہے مجمع البیان جلد 10 ص 398 ، اور تفسیر قرطبی جلد جلد 10 ص 6900 کی طرف رجوع کریں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"نظر کرنے" اور "انتظار کرنے" کے معنی کے درمیان جمع کرنا بھی بعید نظر آتا ہے، کیونکہ ایک لفظ کا استعمال متعدد معانی میں جائز ہے یلکن اگر بناۓ یہ ہو کہ ان دو موانی میں سے صرف ایک ہی مراد ہو تو ترجیح پہلے معنی کو ہے۔
ہم اس گفتگو کو ہیغمبراکرمِ کی ایک پُر معنی حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں، آپؐ نے فرمایا:
"اذا دخل الجنۃ الجنۃ یقول اللہ تعالٰی تریدون شیئًا ازیدکم ؟
فیقولون الم تبیض وجوھنا؟ الم تد خلنا الجنۃ و تنجینا من النار؟
قال فیکشف اللہ تعالٰی الحجاب فما اعطوا شیئًا احب الیھم من النظر الی ربھم! "
"جب اہل جنت ،جنت میں داخل ہو جائیں گے تو خداوندِ عالم فرماۓگا، کیا تم کوئی اور چیز چاہتے ہو کس کا
میں تمھارے لیے اضافہ کروں؟"
وہ کہیں گے: (پروردگارا! تع نے ہمیں سب دیا ہے) کیا تونے ہمارے چہروں کو سفید نہیں کیا؟ کیا تونے ہمیں
جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور جہنم سے رہائی نہیں بخشی؟
اس وقت تمام پردے ہٹ جائیں گے (اور وہ خدا کا چشم دل سے مشاہدہ کریں گے) اور اس حالت میں ان کے نزدیک
کوئی چیز اپمے پروردگار کی طرف نگاہ کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی۔ ؎1
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں "انس بن مالک" کے واسطہ سے آنحضرتؐ سے آیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
ینظرون الی ربھم بلاکیفیۃ ولا حد محدود ولاصفۃ معلومۃ:
"وہ اپنے پروردگار کو دیکھیں گے، لیکن کسی کیفیت کو نہیں اور نہ ہی کسی محدود حد اور مشخص صفت کو"۔ ؎2
ـــــــــــــــــــــــ
"مومنین کے کے اس گروہ کے مقابلہ میں ایک ایسا گروہ بھی ہوگا جن کے چہرے بگڑے ہوۓ ہوں گے" (وَوُجُوْهٌ يَّوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ )۔
"باسرۃ" "بسر" (بروزن نصر) کے مادہ سے، نا پختہ چیز اور واعدہ سے پہلے کام کرنے کے معنی میں ہے، اسی لیے کھجور کے کچے پھل کو "بسر" (بروزن عسر) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد چہرے کے بگڑنے اور ترشروہونے پر بولا جانے لگا، کیونکہ یہ وہ عکس العمل ہے، جس کا انسان رنج، تکلیف اور پریشانی کے آنے سے پہلے اظہار کرتا ہے۔
بہرحال جس وقت وہ لوگ عزاب کی نشانیوں کو دیکھیں گے اور اپنے نامۂ اعمال کو نیکیوں سے خالی اور برئیوں سے بھرا ہوا پائیں گے تو سخت پریشان، رنجیدہ اور غمگین ہوں گے اور منہ چڑھالیں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "روح المعانی" جلد 29 ص 145
؎2 "تفسیر المیزان" جلد 20 ص 204
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"انھیں معلوم ہے کہ وہ سخت عزاب جو ان کی کمر توڑڈالے گا ان پر واقع ہو کر رہےگا"۔()۔
بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں "ظن" علم کے معنی میں ہے یعنی انھیں اس قسم کے رزاب کے بارے میں یقین ہوجاۓ گا جبکہ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہاں "ظن" اپنے اصلی معنی یعنی گمان میں ہے البتہ وہ اجمالی طور پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ انھیں عزاب ہوگا، البتہ اس قسم کے کمر توڑ عزاب کے بارے میں وہ گمان کرتے ہیں۔ ؎1
"فاقرۃ" "فقرۃ" (بروزن ضربۃ) کے مادہ سے ہے اور اس کی جمع فقار ہے جو پشت کے مہروں کے معنی میں ہے ۔ اس بناء پر "فاقرۃ" اس سنگین اس حادثہ کو کہتے ہیں جو کمر کے مہروں کو توڑ دیتا ہے اور "فقیر" کو اس وجہ سے فقیر کہا گیا ہے کہ گویا اس کی کمر ٹوٹی ہوئی ہے۔ ؎2
بہرحال یہ تعبیر ان سنگین اور سخت سزاؤں سے کنایہ ہے جو دوزخ میں اس گروہ کے انتظار میں ہیں، یہ گروہ کمر شکن عذابوں کا منتظر ہے۔ جبکہ سابقہ گروہ پروردگار کی رحمت کے انتظار میں ہے اور محبوب کی ملاقات کے لیے آمادہ ہے۔ ان کے لیے بدترین عزاب ہے اور ان کے لیے بدترین جسمانی رحمت ، نعمت اور روحانی لذت ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 منجملہ ان شواہد کے جو اس موضوع کے سلسلہ میں نقل کیے ہیں، یہ ہے کہ اگر "ظن" علم کے معنی میں ہو تا اس کے بعد جو "ان" ہے اسے "متقلہ" نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مخففہ ہونا چاہیے۔ حالانکہ زیر بحث آیت میں "ان" مصدریہ ہے اور اس میں قرینہ یہ ہے کہ اس نے نصب دی ہے۔
؎2 "فاقرۃ" ایک محزوف موصوف کی صفت ہے اور تقدیر میں "داھیۃفاقرۃ" پے اور "تظن" فعل ہے جس کا فاعل "وجوہ" ہے اور تقدیر میں "ارباب الوجود" ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ