آیت 26 تا 30
كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ ۲۶وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ ۲۷وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ ۲۸وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ۲۹إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ ۳۰
ہوشیار جب جان گردن تک پہنچ جائے گی. اور کہا جائے گا کہ اب کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے. اور مرنے والے کو خیال ہوگا کہ اب سب سے جدائی ہے. اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی. آج سب کو پروردگار کی طرف لے جایا جائے گا.
26- كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ
27- وَقِيْلَ مَنْ ۜ رَاقٍ
28- وَظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُ
29- وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ
30- اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ِۨالْمَسَاقُ
ترجمہ
26- اس طرح نہیں ہے، جب تک اس کی جان گلے تک نہ پہنچے، وہ ایمان نہیں لاۓ گا۔
27- اور یہ کہا جاۓ گا: کیا کوئی ہے جو اس بیمار کو موت سے نجات دے ؟!
28- اور دنیا سے فراق کو یقین پیدا کرے۔
29- اور پاؤں کی پنڈلیاں (جان کنی کی شدت سے)ایک دوسرے کے ساتھ پیچ کھائیں۔
30- (ہاں) اس دن سب کا راستہ تیرے پروردگار (دادگاہ) کی طرف ہی ہوگا۔