Tafseer e Namoona

Topic

											

									  قرآن کا جمع کرنا اور اس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے۔

										
																									
								

Ayat No : 16-19

: القيامة

لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ۱۶إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ۱۷فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ ۱۸ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ۱۹

Translation

دیکھئے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں. یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں. پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں. پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے.

Tafseer

									          تفسیر
        قرآن کا جمع کرنا اور اس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے
 یہ آیات حقیقیت میں جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے، جسے گفتگو کرنے والا اپنی گفتگو جے درمیان میں لاتا ہے، مثلاً کائی شخص تقریر کررہا ہو اور وہ یہ دیکھا ہے کہ مجلس کا آخری حصہ لوگوں سے پر ہوگیا ہے جبکہ اس کا اگلا حصہ خالی ہے تو وقتی طور پر اپنی تقریر روک کر حاضرین کو آگے آنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے جگہ کھلی ہوجاۓ اور پھر اپنی تقریر کو شروع کردیتا ہے یا کوئی استاد درس کے دوران اپنے کسی شگرد کو غافل دیکھتا ہے تو وہ اپنی گفتگو کو توڑکر اسے تنبیہ کرتا ہے اور پھردرس کو جاری کردیتا ہے۔
 اگر کوئی بے خبر آدمی اس تقریر یا درس کو ٹیپ سے سنے تو ممکن ہے وہ اشتباہ میں پڑجاۓ اور ان جملوں کے قبل و بعد کے جملوں سے غیر مربوط ہونے پر تعجب کرے، لیکن مجلس کے مخصوص حالات میں وقت اور غور کرنے سے ان معترضہ جملوں کا فلسفہ واضح ہوجاتا ہے۔
 اس سادہ سے مقدمہ کی طرف توجہ کرنے کے بعد ہم زیر بحث آیات کی تفسیر پیش کرتے ہیں۔
 خدا نے قیامت، مومنین اور کفار کے حالات کے بارے میں جو سلسلہ گفتگو تھا، اسے وقتی طور پر چھوڑ دیا ہے اور اپنے پیغمبر کو قرآن کے بارے میں ، ایک مختصر سی یاد دہانی کراتا ہے، اور فرماتا ہے: "اپنی زبان کو اس کےپڑھنے میں جلدی کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دے"۔(پڑھنے میں جلدی کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دے)۔ 
 اس آیت کی تفسیر مین مفسرین نے بہت زیادہ اختلاف کیا ہے اور مجموعی طور پر اس کے لیے تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔
 پہلی تفسیر تو وہی معروف تفسیر ہے جو ابن عباس سے کتبِ حدیث وتفسیر میں بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ پیغمبر اس شدید عشق اور لگاؤ کی بناء پر، جو آپ قرآن کا حاصل کرنے اور اسے حفظ کرنے کے بارے میں رکھتے تھے، جب وحی لانے والا فرشتہ آپ کے سامنے قرآنی ایات کو پڑھتا تھا، تو آپ اس کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو ھرکت دیتے تھے اور جلدی کرتے تھے، خدا نے آپ کو منع کیا کہ یہ کام نہ کیجیے ہم خود اسے تمھارے لیے جمع کررہے ہیں۔
 دوسری تفسیر یہ ہے کہ : قرآن کے دونزول ہیں : "نزولِ دفعی" یعنی وہ سارا کا سارا یکجائی طور پر "شب قدر" میں پیغمبر کے پاک دل پر نازل ہوا اور "نزول تدریجی" کو 23سال کے عرصہ میں صورت پزیر ہوا، پیغمبرؐ اس جلدی کی بناء پر جو انھیں دعوت کی تبلیغ کے بارے میں تھی، اور بعض اوقات نزول تدریجی سے پہلے یا اس کے ہمرہ آیات کی تلاوت کرتے تھے، تو انھیں حکم دیا گیا کہ یہ کام نہ کریں اور ہر آیت کی اپنے موقع پر ہی تلاوت اور تبلیغ کریں۔
اس طرح سے اس آیت کا مضمون سورہ طٰہٰ کی آیہ 114 کے مانند ہے۔(وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٝ)"وحی کے مکمل ہونے سے پہلے قرآن کے بارے میں جلدی نہ کرو"۔
 یہ دونون تفاسیر ایک دوسرے سے کوئی زیادہ فرق نہیں رکھتیں اور مجموعی طور پر ان کی بازگشت اس معنی کی طرف ہے کہ پیغمبر کو وحی کے حاصل کرنے کے لیے بھی عجلت، اور جلد بازی نہیں کرنا چاہیے۔
 تیسری تفسیر جس کے طرفدار بہت ہی کم ہیں، یہ ہے کہ ان آیات میں مخاطب ، قیامت میں گنہگار ہیں، جنھیں حکم دیا جاۓ گا کہ اپنے نامۂ اعمال کو پڑھیں اور اپنا حساب خود کریں اور انھیں کہا جاۓ گا کہ اس کے پڑھنے میں جلدی نہ کریں ، یہ فطری بات ہے کہ وہ اپنا نامۂ اعمال پڑھتے وقت جب اپنی "برائیوں" تک پہنچیں گے تو پریشان ہو جائیں گے اور ان سے جلدی کے ساتھ گزر جانا چاہیں گے تو یہ حکم انھیں دیا جاۓ گا اور انھیں جلدبازی سے روکا جاۓ گا اور ان کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ جس وقت خدا کے فرشتے ان کے نامے پڑھیں تو وہ ان کی پیروی کریں ۔
 اس تفسیر کے مطابق ، یہ آیات جملہ معترضہ کی صورت میں نہیں ہیں بلکہ یہ گزشتہ اور آیندہ کی آیات کے ساتھ مربوط ہیں اور سب کی سب ایک دوسرے کے ساتھ ربط رکھتی ہیں، کیونکہ یہ سب ہی قیامت و معاد کے حالات کے ساتھ مربوط ہیں، لیکن پہلی اور دوسری تفسیر کے مطابق ـــــــــ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ـــــــــــ یہ آیات جنبۂ معترضہ رکھتی ہیں۔
 لیکن بہرحال تیسری تفسیر ـــــــــ خصوصاً قرآن کے نام کے ذکر کی طرف توجہ کرتے ہوۓ ۔ جو بعد کی آیات میں آیا ہے ـــــــــــ بہت بعید نظر آتی ہے اور اصولی طور پر آیات کا لب و لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گزشتہ دو تفسیروں میں سے کوئی سی ایک مراد ہے اور ان دونوں کے جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے اگرچہ بعد والی آیات کا لب و لہجہ پہلی تفسیر یعنی مشہور تفسیر کے موافق ہے   (غور کیجیے) ۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد مزید کہتا ہے : "اس  کو جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے"(اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٝ وَقُرْاٰنَهٝ)۔
 خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے جمع کرنے کے سلسلہ میں تو پریشان نہ ہو، ہم اس کی آیات کو جمع بھی کریں گے اور وحی لانے والے فرشتے کے ذریعہ تیرے سامنے پڑھیں گے بھی ۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 "اور جب ہم اسے پڑھ چکیں پھر تو اس کی پیروی کر اور اسے پڑھ"(فَاِذَا قَرَاْنَاهُ فَاتَّبِــعْ قُرْاٰنَهٝ)۔

     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 "پھر اس کو بیان کرنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے"۔(ثُـمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٝ)۔
 اس بناء پر قرآن کا جمع کرنا، اور اس کی تیرے سامنے تلاوت کرنا اور اس کے معانی کی توضیح و تفصیل بتانا، یہ تینوں امور ہمارے ذمہ ہیں۔لہزا تو کسی طرح بھی اس سلسلہ میں پریشان نہ ہو، جس ہستی نے اس وحی کو نازل کیا ہے، وہی تمام مراحل میں اس کا محافظ ہے تیری ذمہ داری تو صرف ایک طرف تو وحی لانے والے فرشتے کی تلاوت کی پیروی کرنا ہے اور دوسری طرف عامۂالناس کو اس رسالت کی تبلیغ کرنا ہے۔
 بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ جمع کرنے سے مراد وھی کی زبان میں جمع کرنا نہیں ہے، بلکہ پیغمبر کے سینہ میں جمع کرنا اور آنحضرتؐ کی زبان سے اس کی تلاوت ہے، یعنی جلدی نہ کرو۔ ہم ان تمام آیات کو تیرے سینہ میں جمع کردیں گے اور پھر اس کی قرات تیری زبان پر جاری کریں گے۔
 بہرحال یہ تمام تعبیریں پہلی تفسیر کی تائید کرتی ہین کہ پیغمبرؐ جبرئیل کے ذریعہ نزولِ وحی کے وقت، ہمیشہ جلدی کرتے تھے کہ آیات کو جلدی کے ساتھ تکرار کریں کہ کہیں ان کے حافظ سے نکل نہ جائیں اور اس موقع پر خدا کی طرف سے انھیں یہ بتایا گیا کہ آپ مطمئن رہیں کہ نہ صرف آیات کے جمع کرنے اور ان کے پڑھنے بلکہ ان کے معنی کی توضیح و تشریح کی بھی، خدا کی طرف سے ضمانت دی جاتی ہے۔
 جمنی طور پر یہ آیات قرآن کی اصالت اور اس کی ہر قسم کی تحریف اور تبدیلی سے حفاظت کو بیان کرتی ہیں، کیونکہ خدا نے اس کے جمع کرنے اس کی تلاوت کرنے اور اس کی معانی کی وضاحت و تشریح کرنے کا وعدہ دیا ہے۔
 حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبراکرمؐ ان کے نزول کے بعد ، جب جبرئیل آپ پر نازل ہوتے تو آپ مکمل طور سے سکوت اختیار کرتے اور جب جبرئیل چلے جاتے، تو پھر آپ آیات کی تلاوت شروع کرتے۔ ؎1
     ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1    مجمع البیان جلد 10 ص 397