Tafseer e Namoona

Topic

											

									  انسان خود اپنے لیے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

										
																									
								

Ayat No : 7-15

: القيامة

فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۷وَخَسَفَ الْقَمَرُ ۸وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۹يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ۱۰كَلَّا لَا وَزَرَ ۱۱إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ۱۲يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ۱۳بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ۱۴وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ ۱۵

Translation

تو جب آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی. اور چاند کو گہن لگ جائے گا. اور یہ چاند سورج اکٹھا کردیئے جائیں گے. اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کا راستہ کدھر ہے. ہرگز نہیں اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے. اب سب کا مرکز تمہارے پروردگار کی طرف ہے. اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں. بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے. چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے.

Tafseer

									                 تفسیر
             انسان حود اہنے لیے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
 گزشتہ آیات میں گفتگو اس سوال پر کہ ـــــــــ جو منکرینِ قیامت اور معاد کے بارے میں کرتے تھے ــــــــــــــ ختم ہوئی تھی، وہ کہتے تھے کہ اگر قیامت سث ہے تو کب آۓ گی، زیر بحث آیات گویا اس سوال کا ایک واضح جواب ہیں۔ 
 پہلے قیامت کے قبل کے حوادث کی طرف ــــــــــ یعنی انقلابِ عظیم کے سلسلہ میں جو دنیا میں پیدا ہوگا۔ اور اس دنیا کا نظام متلاطم اور خراب ہو ضاۓ گا، اشار کرتے ہوۓ فرماتا پے:"جب آنکھیں خوف اور وحشت کی شدت سے گردش کر رہی ہوں گی اور مضطرب ہو گی"۔(فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ )۔ ؎1
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "اور جس وقت چاند  بے نور اور منحف ہوجاۓ گا"۔(وَخَسَفَ الْقَمَرُ )۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 "اورجب سورج اور چاند ایک جگہ جمع ہو جائیں گے"۔(َجُـمِــعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ )۔
 اس بارے میں کہ "چاند اور سورج" کے جمع ہونے سے مراد کیا ہے؟ مفسرین نے مختلف تفاسیر بیان کی ہیں۔
 کبھی کہا ہے: دونوں ایک ساتھ اکٹھے ہو جائیں گے یا دونوں اکٹھے مشرق سے طلوع کرکے مغرب میں غروب ہوں گے۔
 اور کبھی کہا ہے: دونوں اس صفت میں کہ اپنا نور کھو بیٹھیں گے، جمع ہوں گے۔ ؎2
 یہ احتمال بھی ہے کہ چاند بتدریج سورج کی قوتِ جازبہ کے زیر اثر اس کے نزدیک اور انجام کار اس میں جذب ہوجاۓ اور پھر دونوں بنور ہوجائیں گے۔
 بہرحال یہاں دنیا کے آخر میں ظاہر ہونےوالے انقلابوں میں سے دو اہم ترین حصوں، یعنی چاند کے بے نور ہوجانے اور سورج اور چاند کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    "برق" "برق" کے مادہ سے (بروزن فرق) اصل میں روشی اور اس بجلی کے معنی میں ہے جو بادلوں کے درمیان ظاہر ہوتی ہے، اس کے بعد ہر قسم کی روشنی پر اطلاق ہونے لگا، آنکھوں کا  چمک مارنا، جس کی ترف اس آیت کا اشارہ ہوا ہے، شدید اور اضطراب آمیز حرکت کے معنی میں ہے کو ہول اور خوف کی شدت سے ہوتی ہے، بعض اسے آنکھ کے ڈھیلے کے رک جانے اور ٹکٹکی باندھ کر ایک ہی نکتہ کی طرف نگاہ کرنے کے معنی میں ــــــــــ جو عام طور  پر وحشت کی نشانی ہے ـــــــــ تفسیر کرتے ہیں اور اس معنی پر کہ آنکھ کا چمک مارنا، تحیر کے معنی میں ہے، اشعار عرب سے کچھ شواہد لاۓ ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
 ؎ 2  مرحوم  "طبرسی" مجمع البیان میں فرماتے ہیں کہ جمع تین قسم کی ہوتی ہے : ایک مکان میں جمع ہونا ایک وقت میں جمع ہونا اور چیز میں کئی اوصاف کا جمع ہوا ۔(مثلاً علم و عدالت کا ایک شخص میں جمع ہونا) لیکن ود چیزیں کے ایک صفت میں اشتراک کے منعی میں جمع ہونا ، مثلاًچاند اور سورج کا بے نور پونا، ایک قسم کی مجازی تعبیر ہے(جیسے قرینہ سے معولم ہونا چاہیے ) (مجمع البیان ، جلد 10 ص 395)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک دوسرے کی ساتھ جمع ہوجانے کی طرف اشارہ ہوا ہے، جن کی طرف قرآن کی دوسری آیات میں بھی کم وبیش اشارے ہوۓ ہیں، مثلاً سورۃ تکویر کی آیہ 1 میں فرماتا ہے "اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ" جس وقت سورج تاریک ہوجاۓ گا" اور ہم جانتے ہیں کہ چاند کا نور سورج دے ہے، تو جب سورج تاریک  ہوگا تو پھر چاند بھی تاریک ہوجاۓ گا اور نتیجہ میں کرہ زمین ایک وحشت ناک ظلمت اور تاریکی میں ڈوب جاۓ گا۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس طرح سے یہ دنیا ایک عظیم تحول اور انقلاب کے ساتھ ختم ہوجاۓ گی، اس کے بعد ایک دوسرے انقلاب سے(دوسرے نفخہ صور سے جو نفخہ حیات ہے)۔ انسانوں کا قبروں سے اٹھنا شروع ہوگا: "اس دن انسان کہے گا کہ فرار کی راہ کہاں ہے؟"(يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ )۔ ؎1
 ہاں کافر اور گنہگار انسان، جو قیامت کے دن کی تکذیب کیا کرتے تھے، اس دن شدت حجالت اور شرم سے کوئی پناہ گاہ تلاش کریں گے اور گناہ کے یاد کی سنگینی اور عذاب کے خوف سے فرار کی راہ ڈھونڈیں گے، بالکل اسی دنیا کی طرح کہ جب وہ کسی خطرناک حادثہ کا سامنا کرتے تھے تو بھاگنے کی سوچتے تھے، لہزا وہ اس جگہ کا بھی اس جگہ سے قیاس کریں گے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 لیکن بہت جلد ان سے کہہ دیا جاۓگا:"ہر گز ایسا نہیں، کوئی راہِ فرار اور پناہ گاہ نہیں ہے"(كَلَّا لَا وَزَرَ )۔ ؎2

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "بلکہ اصلی قرار گاہ پروردگار کی طرف ہے"اور اس کے علاوہ کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے (اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ِۨالْمُسْتَقَرُّ )۔
 اس آیت کے لیے اوپر والی تفسیر کے علاوہ دوسری تفسیر بھی بیان کی گئی ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ :اس دن آخری حکم خدا کے ہاتھ میں ہے۔
 یا یہ کہ آخری قرار گاہ، جنت اور دوزخ میں اس کے حکم سے ہوگی۔
 یا یہ کہ محکمہ اور حساب کے لیے اسی کی بارگاہ میں ٹھرنا ہوگا۔
 لیکن بعد والی  آیت کی طرف توجہ کرتے ہوۓ ، وہ تفسیر جو ہم نے انتخاب کی ہے سب سے زیادہ مناسب ہے۔
 بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو انسان کے ابدی تکامل وارتقاء کے راستے کو بیان کرتی ہیں اور یہ آیت ان آیات کے زمرے میں ہے جو کہتی ہے "والیہ المصیر" سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے" (تغابن ــــــــــــ3) اور

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1   "مفر" "فرار" سے اہم مکان ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ مصدر ہے، لیکن یہ احتمال یہاں بعید نظر آتا ہے ۔
  ؎ 2   "وزر" (بروزن قمر) اصل میں پہاڑی پناہ گاہ وغیرہ کے معنی میں ہے اور "وزیر" کو اس لیے "وزیر" کہتے ہیں، کہ لوگ اپنے کوموں میں اس کی پناہ لیتے ہیں بہرحال زیرِ بحث آیت میں ہر قسم کی پناہ گاہ کے معنی میں ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(يَآ اَيُّـهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيْهِ) "اے انسان تو سعی و کوشش اور زحمت و مشقت کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف بڑھ رہا ہے، اور تو اس سے ملاقات کرے گا" ( انشقاق ـــــــــــ 6) وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنتَهٰى  "اور یہ کہ اب تیرے پروردگار کی طرف پلٹ جائیں گے" (نجم ـــــــــــــ 42)۔ ؎1
 زیادہ واضح تعبیر میں انسان ایسے رہرد ہیں جو عدم کی رسحد سے چلے ہیں اور انھوں نے سلطنتِ وجود کا یہ سارا راستہ طے کیا ہے، اور اس سلطنتِ وجود میں بھی وہ خدا کے وجود ِ مطلق اور بے پایاں ہستی کی طرف چلے جاتے ہیں، اور اگر وہ اصل راستے اور سراط مستقیم سے منحرف نہ ہوں، تو یہ ارتقائی حرکت ابد تک جاری رہے گی اور وہ ہر روز قربِ خدا کے ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوں گے، لیکن اگر وہ اپنی راہ سے منحرف ہوجائیں تو گر کر تباہ ہوجائیں گے۔
    
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعداس گفتگوکو جاری رکھتے ہوۓ مزید کہتا: "اس دن انسان کو ان تمام کوموں سے جنھیں اس نے "مقدم" رکھا تھا یا "موخر"کیا تھا، آگاہ کیا جاۓ گا"۔(يُنَبَّاُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ)۔
 اس بارے میں کہ ان دونوں تعبیروں سے کیا مراد ہے؟ بہت سی تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔
 پہلی تفسیر یہ کہ اس سے مراد وہ اؑمال ہیں جو اس نے اپنی زندگی میں آگے بھیجے ہیں ، یا وہ آچار کو موت کے بعد اس سے باقی رہ گئے ہیں، چاہے وہ نیک سنت ہو یا بد، جو اس نے لوگوں میں چھوڑی ہے اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی نیکیاں اور برائیاں اس کو پہنچتی رہتی ہیں، یا کتاب اور تحریریں اور خیر وشر کی بیادیں، یا نکہ و بد اولاد، جن کے آچار اس تک پہنچیں گے۔  
 دوسری تفسیر یہ کہ اس سے وہ مال مراد ہے جو اس نے آگے بھیجا ہے اور وہ مال جو اس نے وارثوں کے لیے چھوڑا ہے۔
 بعض نے یہ بھی کہاہے کہ اس مراد وہ گناہ ہیں، جنھیں اس نے مقدم رکھا، اور وہ اطاعتیں ہیں جنھیں اس نے مؤخر رکھا تھ، یا اس کے برعکس۔ 
 یلکن سب سے مناسب پہلی تفسیر ہے ، خاص طور پر جبکہ ایک حدیث میں امام باقرؑ سے اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے، کہ آپ نے فرمایا :
  (ینبؤ) بما قدم من خیر و شر و ما اخر من سنۃ لیس
  بھا من بعدہ فان کان شرًا کان علیہ مثل و زرھم الا
  ینقص من وزرھم شیئًا ان کان خیرًا کان لہ مثل اجو 
  ھم،الا ینقص من اجورھم شیئًا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1    البتہ آیات کی تفسیر میں کچھ دوسرے نظریات بھی ہیں جو ہم نے انھیں آیات کے ذیل میں بیان کیے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  "اس دن انسان کو اس خیر واور شر سے باخبر کیا جاۓ گا جسے اس نے مقدم رکھا تھا، یا مؤخر کیا تھا۔ ان سنتوں
  کے طور پر جنھیں اس نے یادگار کے طور پر چھوڑا تھا، تاکہ وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں گے اس پر عمل کریں 
  اور اگر وہ بُری سنت تھی تو عمل کرنے والوں کے گناہوں کے برابر اس کے گناہ میں اضافہ ہوگا ان کے گناہوں میں
  کسی قسم کی کمی نہیں یوگی، اور اگر وہ اچھی سنت تھی تو ان ہی جیسے اجروثواب اس کےلیے بھی ہوں گے اور ان 
  کے اجرو ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی "۔ ؎ 1

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بعد والی آیات میں مزید کہتا ہے : "اگرچہ خدا اور اس کے فرشتے انسان کو اس کے تمام اعمال سے آگاہ کریں گے، لیکن اس اطلاعکی کعئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انسان خود اپنی حالت سے آگاہ ہے اور اس عظیم دن میں وہ خود اس کے اعضاء اس کی گواہی دیں گے"۔(بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْـرَةٌ )۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  "چاہے وہ ظاہر میں اپنے لیے کتنے عزر ہی تراشتا رہے"۔(وَلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْـرَهُ )۔
 یہ آیات حقیقت میں وہی چیز بیان کر رہی ہیں جو قرآن کی دوسری آیات میں، انسان کے اعمال پر اس کے اعضاء کی گواہی کے بارے میں آیا ہے، مثلاً سورہ حم سجدہ کی آیہ 20 میں آیا ہے : (شَهِدَ عَلَيْـهِـمْ سَمْعُهُـمْ وَاَبْصَارُهُـمْ وَجُلُوْدُهُـمْ بِمَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ) "ان کان اور آنکھیں اور بدن کی جلد ان کے اعمال کی گواہی دیں گے" اویٰس کی آیہ 65 میں آیا ہے "وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْهِـمْ وَتَشْهَدُ اَرْجُلُـهُـمْ بِمَا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ"  ان کے پاتھ ہم سے باتیں کریں گے، اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی جنھیں وہ انجام دیتے تھے گواہی دیں گے"۔
 اس بناء پر قیامت کی اس عظیم عدالت میں انسان کے اعمال کا بہتری گواہ وہ خود ہی ہے ، کیونکہ وہ اپنی حالت سے سب سے زیادہ آگاہ ہے، اگرچہ خدا نے اتمام حجت کے طور پر بہت سے دوسرے گواہ بھی اس کے لیے تیار کیے ہیں۔

 "بصیرۃ" مصدری معنی بھی رکھتا ہے (بینائی و آگاہی) اور وصفی معنی بھی (آگاہ شخص) اس لیے بعض نے اس کی "حجت" دلیل اور برہان کے منعی  مین جو آگاہی ہوتی ہے تفسیر کی ہے۔
 "معاذیر" "معزرت" کی جمع ہے، جو اصل میں ایسی چیز کے پیدا کرنے کے معنی میں ہے، جو گناہ کے آچار کو ختم کردے، جو کبھی تو واعقی عزر ہوتا ہے اور کبھی ظاہری، اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ "معاذیر" "معزار" کی جمع ہے، جو پردہ اور پوشش کے معنی میں ہے۔اس تفسیر کے مطابق آیت کا معنی اس طرح ہوتا ہے۔ انسان اپمے اوپر آگاہی رکھتا ہے،چاہے وہ اپنے اعمال پر کتنے ہی پردے ڈالےاوراوپنے کاموں کو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1       تفسیر برہان جلد 4 ص 406 ۔ اسی حدیث کے مانند تفسیر قرطبی جلد 10 ص 6891 میں بھی آیا ہے۔
  ؎ 2      پہلے احتمال کی بنا پر اس کی "تاء" مصدری ہے اور دوسرے احتمال کی بناء پر "تاء تانیث" ہے کیونکہ انسان یہاں "اعضاء و جوراح " کے معنی میں ہے یا "نفس" مے معنی میں ہے جو تانیث مجازی ہےاور بعض اسے "تاء مبالغہ" سمجھتے ہیں، جو انسان کی اپنے بارے میں شدت آگاہی کی خبر دیتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پوشیدہ رکھے لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔
 بہرحال اس عظیم دن حساب و جزا پر حاکم وہ ہستی ہے جو ظاہروباطن کے بھیدوں سے آگاہ ہے اور خود انسان کو بھی اس کے اعمال پر حساب کرنے والا قرار دیات ہے۔ جیسا کہ سورہ اسراء کی آیہ 14 میں آیا ہے: اقراء کتابک کفٰی بنفسک الیوم علیک حسیبًا" اپنے نامۂ اعمال کو پڑھ ، آج تو اپنے حساب کے لیے خود بھی کافی ہے۔
 اگرچہ زیر بحث آیات سب کیسب معاد اوع قیامت کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں لیکن ان کا مفہوم وسیع ہے، اس دنیا کو بھی شامل ہے یہاں بھی لوگ اپنے حال سے آگاہ ہیں ، اگرچہ کچھ لوگ جھوٹ موٹ اسے پس پشت ڈال کر ، ظاہر سازی اور ریاکای سے اپنے حقیقی چہرے کو چھپا لیتے ہیں۔
 اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
  ما یصنح احدکم ان یظھر حسنًا و یسر سیئًا الیس اذارجع الٰی نفسہ یعلم
  انہ لیس کذٰلک، واللہ سبحانہ یقول: بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ، ان
  السریرۃ اذا صلحت قویت العلانیۃ۔
  جب تم میں سے کوئی شخص اہمے ظاہر کو آراستہ کرے، لیکن پوشیدہ طور پر بدکار ہو تو وہ کیا کرسکتا ہے کیا جب وہ
  اپنے نفس کی طرف لوٹتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ وہ ایسا نہیں ہے؟ جیسا کہ خداوند تعالٰی فرماتا ہے: بلکہ اپنی حالت سے 
  آگاہ ہے جب انسان کا باظن صالح اور درست ہوجاۓ تو اس کے ظہر کو بھی تقویت پہنچتی ہے۔ ؎ 1
 بیمار کے روزہ کی احادیث میں بھی آیا ہے کہ امام صادق ؑ کے ایک صھابی آپ سے سوال کیا : ماحد المرض الذی یفطر صاحبہ ؟ اس بیماری کا میعار کیا جس سے افطار جائز ہوجاتا ہے تو امام نے اس کا جواب دہا :
  بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ، ھوا علم بمایطیق
  انسان اپنی حالت پر سب سے زیادہ آگاہ ہے اور وہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ اس میں کس قدر توانائی ہے ؎ 2
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    "مجمع البیان" جلد 10 ص 396 
  ؎2     وہی مدرک (اس حدیث کو مرحوم صدوق نے "من لا یحضر") کی کتاب صیام میں بھی نقل کیا ہے جلد 2 ص 132 باب مدالمرض یفطر صاحبہ حدیث 1941