آیت 7 تا 15
فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ ۷وَخَسَفَ الْقَمَرُ ۸وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۹يَقُولُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ۱۰كَلَّا لَا وَزَرَ ۱۱إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ ۱۲يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ۱۳بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ۱۴وَلَوْ أَلْقَىٰ مَعَاذِيرَهُ ۱۵
تو جب آنکھیں چکا چوند ہوجائیں گی. اور چاند کو گہن لگ جائے گا. اور یہ چاند سورج اکٹھا کردیئے جائیں گے. اس دن انسان کہے گا کہ اب بھاگنے کا راستہ کدھر ہے. ہرگز نہیں اب کوئی ٹھکانہ نہیں ہے. اب سب کا مرکز تمہارے پروردگار کی طرف ہے. اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیا کیا اعمال کئے ہیں. بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے. چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے.
7- فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ
8- وَخَسَفَ الْقَمَرُ
9- وَجُـمِــعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ
10- يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّ
11- كَلَّا لَا وَزَرَ
12- اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ِۨالْمُسْتَقَرُّ
13- يُنَبَّاُ الْاِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ
14- بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْـرَةٌ
15- وَلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْـرَهُ
ترجمہ
7- اس وقت آنکھیں شدت وحشت سے پھرنے لگیں گی۔
8- اور چاند بے نور ہوجاۓگا۔
9- اور سورج اور چاند ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔
10- اس دن انسان کہے گا : بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
11- ہر گز ایسا نہیں، کوئی راہِ فرار اور پناہ گاہ نہیں ہے۔
12- اصلی پناہ گاہ تو تیرے پروردگار کی طرف ہے۔
13- اس دن انسان کو ان تمام کوموں سے جو آگے یا پیچھے کیے ہیں، آگاہ کیا جاۓ گا۔
14- بلکہ امسان تو خود اپنی حالت سے آگاہ ہے۔
15- اگرچہ (ظاہر میں) وہ اپنے لیے عزر (اور بہانے) تراشے۔