1: عدالت وجدان اور قیامت صغری
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ۱وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ۲أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ ۳بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ ۴بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ۵يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ۶
میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں. اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں. کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے. یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں. بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے. وہ یہ پوچھتا ہے کہ یہ قیامت کب آنے والی ہے.
چند نکات
1- عدالتِ وجدان اور قیامت صغرٰی
قرآن مجید سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ روح اور نفسِ انسانی تین مراحل رکھتی ہے:
1- "نفسِ امارا" یعنی سرکش نفس، جو انسان کو ہمیشہ برائیوں اور بدیوں کی دعوت دیتا ہے اور شہوت اور فجور کو اس کے سامنے زینت بخشتا ہے، یہ وہی چیز ہے کہ جب اس ہوس باز عورت، عزیز مصر کی بیوی نے اپنے برے کام کے انجام دیتا ہے اور شہوت اور فجور کو اس کے سامنے زینت بخشتا ہے، یہ وہی چیز ہے کہ جب اس ہوس باز عورت، عزیز مصر کی بیوی نے اپنے برے کام کے انجام کا مشاہدہ کیا تو کہا: وماابرئ نفسی ان ان النفس لامارۃ بالسوء "میں ہر گز اپنے نفس کو بَری قرار نہیں دیتی، کیونکہ سرکش نفس ہمیشہ برائیوں کا حکم دیتا ہے" (یوسف ـــــــــ 53)
2- "نفس لوامہ" جس کی طرف زیر بحث آیات میں اشارہ ہوا ہے، وہ بیدار اور نسبتاً آگاہ و باخبر نفس ہے، اگرچہ اس نے گناہ کے مقابلہ میں مصئونیت حاصل نہیں کی ہے لہزا اس بعض اوقات لغزش ہوجاتی ہے۔
اور وہ گناہ کر بیٹھتا ہے لیکن تھوڑی دیر کے بعد بیدار ہوجاتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے اور سعادت کی راہ کی طرف لوٹ آتا ہے، اس کی طرف سے انحراف کامل طور پر ممکن ہے لیکن یہ وقتی ہوتا ہے، دائمی نہیں، اس سے گناہ تو سرزد ہوجاتا ہے لیکن زیادہ دیر نہیں گزرنے پائی کہ وہ اپنے طور پر ملامت ، سرزنش اور طوبہ کا آغاز کردیتاہے۔
یہ وہی چیز ہے کہ جسے "اخلاقی وجدان" کے عنوان سے یاد کرتے ہیں اور بعض انسانوں میں بہت قوی اوت طاقتور ہوتا ہے، بعض میں بہت ضعیف وناتواں، لیکن اس کےباوجود یہ ہر انسان میں باوجود ہوتا ہے یہ اور بات ہے کہ کثرتِ گناہ کی وجہ سے اسے بیکار بنا دیا جاۓ۔
3- "نفس مطمئنہ" یعنی تکامل وارتقاء کو پہنچی ہوئی روح، جو اطمینان کے مرحلہ تک پہنچی ہوئی ہو، جس نے سرکش نفس کو رام کرلیاہو اور تقواۓ کامل اور احساس مسئولیت کے مقام پر پہنچ گئی ہو کہ اس کے لیے آسانی کے ساتھ لغزش کرنا ممکن نہ رہے۔
یہ وہی چیز ہے ، جس کے بارے میں سورۃوالفج کی آیہ 27، 28 میں فرماتا ہے: یاایتھاالنفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ، ـــــــــ "اے نفسِ مطمئنہ! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آ، جبکہ تو بھی اس سے راضی ہے اور وہ بھی تجھ سے خوش ہے"۔
بہرحال ــــــ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ــــــــــ یہ "نفسِ لوامہ" انسان میں ایک چھوٹی سی قیامت ہے اور نیک یا بد کام انجام دینے کے بعد، جان کے اندر اس کا محکمہ بلا فاصلہ قائم ہوجاتا ہے اور وہ اس کا حساب و کتاب کرتا ہے۔
اسی لیے بعض اوقات وہ ایک اچھے اور اہم کام کے مقابلہ میں ایسا اندرونی سکون محسوس کرتا ہے اور اس کی روح مسرت و نشاط سے اس طرح لبریز ہوجاتی ہے کہ جس کی لذت شان اور زیبائی کسی بیان اور قلم سے قابلِ توصیف نہیں۔
اس کے برعکس وہ بعض اوقات کسی غلطی اور عظیم جرم کے بعد ایسے وحشت ناک خواب، اور غم واندوہ کے طوفان میں گرفتار ہوتا ہے اور اندر ہی اندر اس طرح جلتا رہتا ہے کہ زندگی سے کلی طور پر سیر ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس پریشانی کے چنگل سے آزاد ہونے کے لیے قاضی کو اپنا تعارف کراتے ہوۓ سولی پر چڑھنے کے لیے اپنے آپ کو سپرد کردیتا ہے۔
یہ عجیب و غریب اندرونی عدالت، قیامت کی عداللت کے ساتھ بلا کی مشاہبت رکھتی ہے۔
1- حقیقت میں یہاں قاضی و شاہد اور حکم کا اجراء کرنے والا ایک ہی ہے جیسا کہ قیامت میں بھی اسی طرح ہے: "عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک : "پروردگارا! تو پنہاں اور آشکار بھیدوں سے آگاہ ہے اور تو وہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا"۔ (زمر ــــــــــــ 46)
2- یہوجدانی عدالت سفارش، رشوت، پارٹی بازی اور انسانوں میں رائج سفارشی خطوں کو قبول نہیں لرتی، جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی یہی آیا ہے:
وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْـهَا شَفَاعَةٌ وَّّلَا يُؤْخَذُ مِنْـهَا عَدْلٌ وَّلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ
"اس دن سے ڈرو جس میں کسی شخص کو کسی کی جگہ پر سزا نہیں دی جاۓ گی اور نہ ہی کوئی سفارش قبول
ہوگی، اور نہ ہی کوئی فدیہ و رشوت کو قبول کیا جاۓ گا، اور نہ ہی ان کی کوئی مدد و نصرت کی جاۓ گی"۔ (بقرہ ــــــــــــــ 48)
3- عدالتِ وجدان: اہم ترین اور ضخیم ترین اومال ناموں کی مختصر ترین مدت میں جانچ پڑتال کرلیتا ہے اور اپنا آخری فیصلہ بڑی تیزی کے ساتھ صادر کردیتا ہتے، نہ اس میں نئے سرے سے درخواست دینے کی ضرورت ہے نہ تجدید نظرکی، اور نہ ہی مہینوں اور سالوں تک چکر لگانے، جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی بات ہے : وَاللّـٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۚ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ "خدا حکم کرتا ہے، اور اس کا حکم رد ہوتا ہے اور نہ ٹوٹتا ہے اور اس کا حساب و کتاب بہت ہی تیزہوگا"۔ (رعد ــــــــــ 41)
4- اس کی سزا اور کیفر کردار، اس جہان کی رسمی عدالتوں کی سزاؤں کے برخلاف، اس کے اولین شعلے اس کے دل و جان کی گہرائیوں میں بھڑکتے ہیں اور وہاں سے باہر کی طرف سرایت کرتے ہیں، پہلے وہ انسان کی روح کو تکلیف و آزار پہنچاتے ہیں، اس کے بعد اس کے آچار جسم اور چہرہ میں اور اس کے خواب و خوراک کے دگرگوں اور تبدیل ہونے میں ظاہر و آشکار ہوتے ہیں، جیسا کہ قیامت کی عدالت کے بارے میں بھی بیان ہوا ہے (ناراللہ الموقدۃ التی تطلع علی الا فئدۃ ) "خدا کی روشن کی ہوئی آگ دلوں سے شعلے نکالتی ہے"۔ (ہُمبزہ ـــــــــــــــ 6، 7)
5- اس وجدان کی عدالت کو، دیکھنے والوں اور گواہوں کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ خود متہم انسان لی معلومات اور آگاہیوں کو، اس کے نفع میں، یا اس کے برخلاف "گواہیوں" کے عنوان سے قبول کرتا ہے، جیسا کہ قیامت کی عدالت میں بھی، انسان کے وجود کے ذرات ، یہاں تک کہ اس کے ہاتھ پاؤں اور اس کے بدن کی جلد اس کے اعمال کے گواہ ہوں گے، جیسا کہ فرماتا ہے: حَتّـٰٓى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْـهِـمْ سَمْعُهُـمْ وَاَبْصَارُهُـمْ وَجُلُوْدُهُـمْ "ھب وہ جہنم کی آگ کے پاس پہنچے گے تو ان کے کان، آنکھیں اور بدن ان کے خلاف گواہی دیں گے"۔ (حٰم السجدۃ ـــــــــ 20)۔
ان دونوں عدالےوں کے درمیان، یہ عجیب و غریب مشابہت مسئلہ معاد کے فطری ہونے کی ایک اور نشانی ہے۔ کیونکہ یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک انسان کے وجود میں تو ـــــــــ جو اس عالمِ ہستی کے عظیم سمندر میں ایک چھوٹا سا قطرہ ہے ـــــــــــ اس قسم کا حساب و کتاب اور مرموز و اسرار آمیز عدالت موجود ہو، لیکن اس عظیم عالم کے اندر بالکل کوئی حساب و کتاب، عدالت و مھکمہ موجود نہ ہو، بھلا یہ چیز بادر کرنے کے قابل ہے ؟؎1