Tafseer e Namoona

Topic

											

									  قیامت کے دن اور ملامت کرنے والے

										
																									
								

Ayat No : 1-6

: القيامة

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ۱وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ۲أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَهُ ۳بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ ۴بَلْ يُرِيدُ الْإِنْسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ ۵يَسْأَلُ أَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ۶

Translation

میں روزِ قیامت کی قسم کھاتا ہوں. اور برائیوں پر ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں. کیا یہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے. یقینا ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں کے پور تک درست کرسکیں. بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے سامنے برائی کرتا چلا جائے. وہ یہ پوچھتا ہے کہ یہ قیامت کب آنے والی ہے.

Tafseer

									  تفسیر 
      قیامت کے دن کی اور ملامت کرنےوالے وجدان کی قسم
 یہ سورہ دو پُر معنی قسموں کے ساتھ شروع ہورہا ہے، فرماتا پے: "قیامت کے دن کی قسم"(لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ)۔
 "اور 1قسم ہے انسان کے بیدات وجدان اور ملامت کرنے والے نفس کی"(وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ)۔
 اس بارے میں کہ "لا" ان دونوں آیات میں "زائدہ" اور تاکید کے لیے ہے(اس بناء پر قسم کی نفی نہیں کرتا ، بلکہ اس کی اور تاجید کرتا ہے)۔ یا "لا" نافیہ ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ کہے کہ یہ موضوع اس قدر اہم ہے کہ میں اس کی قسم نہیں کھاتا،(جیسا کہ لوگ ایک دوسرے سے کہتے ہیں، میں تیری جان کی قسم نہیں کھاتا کہ قہ قسم سے برتر ہے)مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
 اکثر مفسرین نے پہلے احتمال کو انتخاب کیا، جبکہ بعض دوسری تفسیر کے طرفدار ہیں اور ان کا نظریہ یہ پے کہ "لا" زائدہ ابتداۓ کلام میں نہیں آتا، بلکہ اسے وسطِ کلام میں ہونا چاہیے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے، کیونکہ قرآن نے قیامت سے زیادہ اہم امور مثلاً خدا کی ہاک ذات کی قسم کھائی ہے، اس بناء پرکوئی وجہ نہیں کہ یہاں قیامت کے دن کی قسم  نہ کھائی جاۓ اور "لا" زائدہ کے آغازِکلام مہں ہونے کی کئی مثالیں موجود ہیں ، جیسا کے امرءالقیس کے اشعار میں آیا ہے کہ اس نے اپنے قصائد کے آغاز میں لاء زائدہ کا استمال کیا ہے۔ ؎ 1  
 لیکن ہمارے نظریہ کے مطابق "لا" کے زائدہ ہونے یا نافیہ ہونے کے بارے میں بحث کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ، کیونکہ دونوں کا آخری نتیجہ ایک ہے اور وہ اس موضوع کی اہمیت ہے ، جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے۔
 اہم بات یہ کہ ہم یہ دیکھیں کہ ان دونوں قسموں (قیامت کے دن کی قسم اور بیداروجدان کی قسم) کے درمیان کیا راطبہ ہے۔
 حقیقت یہ ہے کہ معاد کے وجود کی ایک دلیل ۔ انسان کی روح کے اندر، "محکمہ وجدان" کا وجود ہے، جو نیک کام کو انجام دینے کے وقت، انسان کی روح کی خوشی اور نشاط سے پر کردیتا ہے۔، اور اس طریقہ سے اسے جزا دیتا ہے اور برے کام کے انجام دینے یا کسی جرم کا ارتقاب کرنے کے موقع پر، اس کی روح سخت دباؤ ڈال کر اسے سزا دیتا ہے اور شکنجہ میں جکڑتا ہے۔ یہاں تک بعض روایات وجدان کے عزاب سے نجات ہانے کے لیے انسان خودکشی تک کا اقدام کرلیتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1     لاوابیک ابنۃ الومر
    لایدعی القوم انی افر
 "اے دختر عامر تیرے باپ کی قسم ہے، قوم ہر ھگز یہ دعوٰی نہیں کرسکتی کہ میں بھاگ جاؤنگا"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 یعنی حقیقیت میں وجدان نے اس اس کے قتل کرنے کا حکم صادر کیا ہے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے اجراء کرتا ہے۔
 "نفس لوامہ" کاردعمل اور اثر انسانوں کے وجود میں بہت ہی وسیع و عریض ہے اور ہر لحاظ سے قابلِ غور و مطالعہ ہے، اور ہم نکات کی بحث میں اس کی طرف مزید اشارہ کریں گے۔
 جب "عالم صغیر" یعنی انسان کا وجود اپنے اندر ایک چھٹا سا محکمہ اور عدالت رکھتا ہے تو "عالمِ کبیر" اپنی اس عظمت کے باوجود ایک عظیم مھکمہ عدل کیوں نہ رکھتا ہوگا۔
 اور یہ وہ مقام ہے جہاں سے ہم "وجدان اخلاقی" کے وجود سے "قیامت اور معاد" کے وجود کی ٹوہ لگاتے ہیں اور یہیں سے ان دونوں قسموں کا ایک عمدہ ربط واضح ہوجاتا ہے اور دوسرے لفظوں میں پہلی قسم دوسری قسم کی دلیل ہے۔
 اس بارے میں کہ کہ "نفس لوامہ"؎1 سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین نے اس کی بہت سی تفسیریں بیان کی ہیں ، ان میں ایک مشہور تو وہی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ یعنی "اخلاقی وجدان" جو انسان کو غکط اعمال کے وقت اسی دینا میں ملامت کرتا ہے اور تلافی و تجدید نظر پر اسے ابھارتا پے۔ 
 دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس مراد تمام انسانون کا قیامت میں اپنی خود ملامت کرنا ہے، مقمنین اس لیے اہنے آپ کو ملامت کریں گے کہ کہ ہم نے نیک اعمال تھوڑے کیو کیے؟ اور کفار اس وجہ دے کہ انھوں نے کفروشرک اور گناہ کی راہ کیوں اختیار کی؟
 ایک اور تفسیر یہ ہے کہ اس مراد صرف کافروں کا نفس ہے، جو قیامت میں ان کی ، ان کے برے اعمال کی وجہ سے بہت زیادہ ملامت اور سرزنش کرے گا۔
 لیکن قبل و بعد کی آیت کے ساتھ مناسب وہی تفسیرہی ہے۔ 
 ہاں! یہ عدالت وجدان اتنی عظمت و احترام کی حامل ہے کہ خدا اس کی قسم کھا رہا ہے اور اس کو عظیم شمار کر رہا ہے اور واقعاًوہ عظیم و بزرگ ہے کیونکہ وہ انسان کی نجات کا یاک اہم عامل شمار ہوتی ہے، بشرطیکہ وجدان بیدار ہو اور کثرتِ گناہ کی وجہ سے ضعیف و ناتواں نہ ہوجاۓ۔
یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ ان دو پر اہمیت اور پر معنی قسموں کے بعد یہ بیان نہیں ہوا کہ یہ کس چیز کے لیے قسم کھائی ہے اور اصطلاح کے مطابق "مقسم لہ" محزوف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد والی آیات کے سیاق سے مطلب بالکل واضح ہے، اس بناء پر اوپر والی آیات اس طرح کا مرنی دیتی ہے ہیں "قیامت کے دن اور نفسِ لوامہ کی قسم ہے کہ تم سب قیامت میں اٹھاۓ جاؤ گے اور اپنے اعمال کا بدلہ پاؤ گے۔ ؎2"
 قابل توجہ بات یہ کہ قیامت کے دن کی قسنٓم کھائی گئی ہے جو قیامت، اور قبروں سے اٹھنے کا دن ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قبروں سے اٹھنے کا مسئلہ اتنا مسلم شمار کیا گیا ہے کہ منکرین کے مقابلہ میں اس کی قسم تک کھائی جاسکتی ہے۔
 اس کے نبعد ایک استفہام انکاری کے عنوان سے بعد والی آیت میں مزید کہتا پے :"کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے"۔(اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْـمَعَ عِظَامَهٝ)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1  "لوامہ" مبالغہ کا صیغی ہے، اور بہت زیادہ ملاممت کرنے والے کے معنی ہےا
  ؎ 2  تقدیرمیں "لتبعثن یوم القیامۃ" یا "انکم تبعثون" ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "ہاں! ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی انگلیوں (کے سرے کی لکیروں)تک کوبھی ٹھیک اسی طرح بنا دیں"(بَلٰى قَادِرِيْنَ عَلٰٓى اَنْ نُّسَوِّىَ بَنَانَهٝ )۔
 ایک روایت میں ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخص جو ہیغمبر کی ہمسائیگی میں رہتا تھا اور اس کا نام "علی بن ربیعہ" تھا، آنحضرتؐ کی خدمت میں آیا اور اس نے روزِ قیامت کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کس طرح ہے؟ اور کب آۓ گی؟ اس کےبعد اس نے مزید کہا : اگر اس دن کو اپنی آنکھ سے دیکھ لوں تو پھر بھی تیری تصدیق نہیں کروں گا اور تجھ پر ایمان نہیں لاؤں گا ، کیا یہ ممکن کہ خدا ان ہڈیوں کو جمع کرے؟ یہ بات قابل یقین نہیں ہے۔
 اس موقع پر اوپر والی ایات نازل ہوئیں اور اس کو جواب دیا، لہزا پیغمبر نے اس ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے شخص کے بارے میں فرمایا:
  اللھم اکفنی شرجاری السوء
  خداوندا! اس برے ہمسایہ کے شر کو مجھ سے دور کر۔ ؎1
 اس معنی و مفہوم کی نظیر قرآن کی دوسری آیات میں نظر آتی ہے، منجملہ ان کے سورہ یٰس کی آیہ 78 میں آیا ہے ہے کہ معاد کے منکرین میں سے ایک شخص ایک بوسیدہ ہڈی کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے ہوۓ تھا اور پیغمبر سے یہ کہ رہا تھا ، (من یحی العظام وھی رمیم) "ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا، درآں حالانکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہیں" 
 ضمنی طور پر "یحسب" کی تعبیر ("حسبان" کے مادہ سے ہے گمان کے منعی میں) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ منکرین اپنی کہی ہوئی بات پر ہر گز ایمان نہیں رکھتے تھے بلکہ صرف بے ہودہ اور بے بنیاد خیال اور گمان پر تکیہ کرتے تھے۔
 لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انھوں نے خصوصیت کے ساتھ ہڈیوں پرہی کیوں تکیہ کیا ہے۔
 اولاً تو ہڈیاں باقی اعضاء کی نسبت زیادہ دیر تک قائم رہتی ہیں، لہزا جب یہ ہی بوسیدہ اور ؒک ہو جائیں اور ان کے غبار کے ذرات پراگندہ ہوجائیں تو ان کی بازگشت کی امید سطحی افراد کی نظر میں کم ہوجاتی ہے۔
 ثانیاً ہڈی انسانی بند کا اہم ترین رکن ہے کیونکہ بدن کا ہر ستون ہڈیوں سے مل کر بنتا ہے اور تمام حرکات اور گھومنا پھرنا اور بدن کی اہم کارکردگی ہڈیوں کے ذریعہ ہی انجام پاتی ہیں اور انسان کے بدن میں ہڈیوں کی کثرت اور مختلف اشکال اور اندازے، خدا کی خلقت کے عجائبات میں شمار ہوتے ہیں اور انسان کی پشت کے ایک ہی مہرے کی قدروقیمت کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب وہ بیکار ہوجاۓ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا سارا بدن مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔
 "بنان" نعت میں "انگلیوں" کے معنی میں بھی آتا ہے اور "انگلیوں کے سروں" (پوروں) کے معنی میں بھی، اور دونوں صورتوں میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    اس روایت کو "مراغی" نے اور اسی طرح "روح المعانی" اور "تفسیر صافی" نے مختصر سے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک ہی نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نہ صرف ہڈیوں کو جمع کرے گا اور انھیں پہلی حالت کی طرف پلٹاۓ گا بلکہ انگلیوں کی چھوٹی پتلی اور باریک ہڈیوں کو بھی ان کی اپنی جگہ پر قرار دے اگ، اور ان سے بھی بالا تر بات یہ ہے کہ انگلیوں کے پودوں تک کو موزوں صورت پہلی حالت میں پلٹا دے گا۔
 یہ تعبیر ممکن ہے، انسانی پوروں کی لکیروں کی طرف، ایک لظیف اشارہ ہو، کہتے ہیں کہ انسان روۓ زمین میں ایسے پیدا ہوتے ہیں، جن کے پوروں کی لکیریں ایک دوسرے کے ساتھ ملتی ہوں یا دوسرے لفظوں میں باریک اور پیچیدہ لکیریں جو ہر انسان کے پوروں میں نقش ہوتی ہیں، اس شخص کے تعارف کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اس لیے ہمارے زمانہ میں "انگشت نگاری" (پوروں کی لکیروں کے آثار کو ضبط کرنے) کا شبعہ ایک مستقل علم کی صورت اختیار کرگیا ہے اور اس کے ذریعہ بہت سے محرم پہچانے جاتے ہیں اور بہت سے جرموں کا انکشاف ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ایک چور کمرے یا کسی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنا ہاتھ دروازے کے قبضہ یا کمرے کے شیشے یا تالے اور صندوق پر رکھتا ہے تو اس کی انگلی کی لکیریں اس پر رہ جاری ہیں، تو فوراً اس کا نمونہ حاصل کرکے، چوروں اور مجرموں کے سابقہ ریکارڈ کے ساتھ مطابقت کرکے، مجرم کو ڈھونڈ لیا جاتا ہے۔
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بعد والی آیت میں معاد کے انکار کی ایک حقیقی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرماتا ہے:"ایسا نہیں ہے کہ انسان ہڈیوں کے جمع کرنے اور مردوں کو زندہ کرنے پر خدا کی قدرت کے بارے میں شک رکھتا ہو، بلکہ ان کا مقصد انکار کرنے سے یہ ہے کہ وہ ساری زندگی گناہ کرتا رہے"(بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٝ )۔
 وہ چاہتا ہے کہ انکار معاد کے ذریعہ ہر قسم کی ہوس رانی ظلم و بیداد گری اور گناہ کے لیے آزادی حاصل کرے اور اس طریقہ سے جھوٹ طور سے سیر کرے، اور مخلوقِ خدا کے مقابلہ میں بھی اپنے لیے کسی جوابدہی کا قائل نہ ہو، کیونکہ معاد قیامت پر ایمان رکھنا اور دادگاہ عدل الٰہی کا قائل ہونا، ہر قسم کے عصیان و گناہ کے مقابلہ میں ایک عظیم رکاوٹ ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس لگام کو پکڑلے اور اس بند کو توڑ دے اور آزادانہ طور پر جو عمل چاہے وہ کرتا پھرے۔
 یہ بات گزشتہ زمانوں کے ساتھ ہی منحصر نہیں تھی آج بھی مادیت کی طرف میلان اور مبداءو معاد کے انکار کا ایک سبب ،فسق و فجور، ذمہ داریوں سے گریز اور ہر قسم کے خدائی قانون کو توڑنے کے لیے آزادی حاصل کرنا ہے ، ورنہ مبداءومعاد کے دلائل واضح و آشکار ہیں۔ 
 تفسیر علی بن ابراہیم میں آیا ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:
  یقدم الذنب و یؤخر التوبۃ و یقول سوف اتوب
  "آیت میں ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے جو گناہ کو آگے رکھتا ہے اور توبہ کو تاخیر میں ڈالتا ہے، اور کہتا ہے،
  میں بعد میں توبہ کرلوں گا"۔
 بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں "فجور" سے مراد "جھٹلانا"ہے، اس طرح سے آیت کا معنی یہ ہے: انسان چاہتا ہے کہ معادوقیامت کو جو اس کے سامنے ہے جٹھلاۓ، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔
     ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اور اس کے بعد مزید کہتا ہے :"اس لیے پوچھتا ہے قیامت کب آۓگی؟"(يَسْاَلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ )۔
 ہاں! وہ ذمہ داریوں سے گریز کے لیے قیامِ قیامت کےوقت کے بارے میں،استفہامِ انکاری کے طور پر پوچھتا ہے، تاکہ اپنے فسق و فجور کے لیے راستہ ہموار کرے۔ 
 اس نکتہ کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ قیامت کے وقت کے بارے میں ان کا سوال کرنا، اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ اصل قیامت کو قبول کرتے ہیں اور صرف اس کےوقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں، بلکہ یہ سوال اصل قیامت کے انکار کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید ہے ٹھیک اس طرح سے جیسا کہ کوئی کہے "فلاں شخص سفر سے آۓ گا" اور جب اس کے آنے میں طول ہو اور وہ نہ آۓ تو دوسرا شخص جو اس مسافر کے آنے منکر ہو ، یہ کہتا ہے : وہ مسافر کب آۓ گا؟

     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ