آیت 49 تا 56
فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ۴۹كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ ۵۰فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۵۱كَلَّا ۖ بَلْ لَا يَخَافُونَ الْآخِرَةَ ۵۳كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ ۵۴فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ۵۵وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ۵۶
آخر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں. گویا بھڑکے ہوئے گدھے ہیں. جو شیر سے بھاگ رہے ہیں. ہرگز نہیں ہوسکتا اصل یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں ہے. ہاں ہاں بیشک یہ سراسر نصیحت ہے. اب جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے. اور یہ اسے یاد نہ کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے کہ وہی ڈرانے کا اہل اور مغفرت کا مالک ہے.
49- فَمَا لَـهُـمْ عَنِ التَّذْكِـرَةِ مُعْرِضِيْنَ
50- كَاَنَّـهُـمْ حُـمُـرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ
51- فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ
52- بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْـهُـمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً
53- كَلَّا ۖ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ
54- كَلَّآ اِنَّهٝ تَذْكِـرَةٌ
55- فَمَنْ شَآءَ ذَكَـرَهٝ
56- وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّـٰهُ ۚ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
ترجمہ
49- وہ اس تذکرہ گریزاں کیوں ہیں؟
50- گویا وہ وحشت زدہ گدے ہیں۔
51- جو شیر سے بھاگے رہے ہیں۔
52- بلکہ ان میں سے ہر ایک اس بات کا منتظر ہے(کہ خدا کی طرف سے)ایک علیحدہ خط اسے بھیجا جاۓ۔
53- جیسا وہ کہتے ہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔
54- جیسا وہ کہتے ہیں ایسا نہیں ہے، وہ (قرآن) تو ایک تزکر اور یاد آوری ہے۔
55- جو شخص چاہتا ہے اس سے نصحیت حاصل کرتا ہے۔
56- اور کوئی شخص نصیحت نہیں لیتا مگر یہ کہ خدا چاہے وہ اہل تقوٰی اور اہل مغفرت ہے۔