Tafseer e Namoona

Topic

											

									  حق سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شیر سے گدھے

										
																									
								

Ayat No : 49-56

: المدثر

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ ۴۹كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ ۵۰فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۵۱كَلَّا ۖ بَلْ لَا يَخَافُونَ الْآخِرَةَ ۵۳كَلَّا إِنَّهُ تَذْكِرَةٌ ۵۴فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ ۵۵وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ التَّقْوَىٰ وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ۵۶

Translation

آخر انہیں کیا ہوگیا ہے کہ یہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں. گویا بھڑکے ہوئے گدھے ہیں. جو شیر سے بھاگ رہے ہیں. ہرگز نہیں ہوسکتا اصل یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں ہے. ہاں ہاں بیشک یہ سراسر نصیحت ہے. اب جس کا جی چاہے اسے یاد رکھے. اور یہ اسے یاد نہ کریں گے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہے کہ وہی ڈرانے کا اہل اور مغفرت کا مالک ہے.

Tafseer

									  تفسیر
         حق سے اس طرح بھاگتےہیں جس طرح شیر سے گدھے
 اسی بحث کو جاری رکھتے ہوۓ جو گزشتہ آیات میں مجرموں اور دوزخیوں کے بارے میں آئی تھیم زیر بحث آیات میں اس معاند اور ہٹ دھرم گروہ کی حق بات سننے، اور ہر قسم کی پندو نصحیت سے وحشت کرنے کو ، واضح ترین صورت میں بیان کرتا ہے۔
 پہلے کہتا ہے :"وہ اس تذکر اور یادآوری سے روگراں کیوں ہیں"۔(فَمَا لَـهُـمْ عَنِ التَّذْكِـرَةِ مُعْرِضِيْنَ)۔ ؎1
 وہ قرآن جیسی شفا بخش دوا سے فرار کیوں کرتے ہیں؟ وہ ہمدرد طبیب کی بات کو رد کیوں کرتے ہیں؟ واقعاً تعجب کا کام ہے۔
      ـــــــــــــــــــــــــــــ
 "گویا وہ وحشت زدہ ہوکر بھاگنے والے گدھے ہیں"۔(كَاَنَّـهُـمْ حُـمُـرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ )۔
 "جنھوں نے شیر یا(شکاری)سے فرار کیا ہے"۔(فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ )۔
 "حمر" "حمار" کی جمع ہے، گدھے کے معنی میں، البتہ یہاں شیر یا شکاری کے چنگل سے قرار کے قرینہ سے، وحشی گدھا یا "گوخور" مراد ہے ۔ ؎2 دوسرے لفظوں میں یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے جو وحشی اور اہلی دونوں قسم کے گدھے کو شامل ہے۔
 "قسورۃ" "قسر"کے مادہ سے ـــــــــــ (جو قہر و غلبہ کے معنی میں ہے)ـــــــــ لیا گیا ہے، اور وہ شیر کے ناموں میں ایک نام ہے اور بعض نے اس کی تیر انداز یا شکاریکے معنی میں تفسیر کی ہے، لیکن یہاں پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔
 مشہور ہے کہ "وحشی گدھا" "شیر" سے عجیب و غریب وحشت رکھتا ہے، یہاں تک کہ وہ شیر کی آواز کو سنتا ہے تو اس طرح وحشت اس پر طاری ہوجاتی ہے کہ وہ دیوانہ وار ہر طرف کو بھاگتا ہے، خاص طور پر اس وقر جب شیر ان کت گلہ میں پہنچ جوۓ تو وہ اس طرح سے پراگندہ ہوکر ہر طرف کو دوڑتے ہیں یہ نظارہ عجیب افراتفری کا عالم پیش کرتا ہے۔(آج کل فلموں میں شیر کو جانوروں کا شکار کرتے ہوۓ عام دکھایا جاتا ہے)
 بہرحال یہ آیت ، مشرکین کے قرآن کی روح پرورآیات سے وحشت کرنے اور وحشی ہونے کی بناء پر ہر چیز سے گریزاں بھی ہے ، حالانکہ ان کے سامنے "تذکرہ" (یاد آواری ، بیداری اور ہوشیاری کے ایک وسیلہ کے) سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔  
      ــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1      اس جملہ میں "ما" "مبتدا" ہے اور "لھم" "خبر" اور "معرضین" "لھم" کی ضمیر کے لیے حال ہے اور "عن التذکرۃ" "جارو مجرور" "معرضین" سے متعلق ہے بعض کا نظریہ یہ ہے کہ "عن التذکرۃ" "معرضین" سے مقدم ہونا حصر پر دلالت کرتا ہے، یعنی وہ صرف مفید قسم کی یاد آوریوں سے منہ پھیرتے ہیں۔ بہرحال یہاں "تذکرہ" سے مراد ، ہر قسم کی مفید و سود مند یاد آواری پے، جن کا راس ورئیس قرآن ہے مجید ہے۔
  ؎2   "گورخر" "گور" بمعنی "صحرا" اور "خر" بمعنی (گدھا) سے مرکب ہے، اسی لیے اس کو خروحشی اور خر صحرائی بھی کہتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 "لیکن اس نادانی اور بے خبری کے باوجود وہ ایسے مغرور اور متکبر ہیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ توقع رکھتا ہے کہ خدا کی طرف سے اسے ایک علحیدہ خط دیا جاۓ گا۔"(بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْـهُـمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً )۔
 یہ اس چیز کے مشابہ ہے ، جو سورہ اسراء کی آیہ 93 میں آئی ہے:(وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِـيِّكَ حَتّـٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهٝ)"اگر تو آسمان پر بھی چڑھ جاۓ تو بھی ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے، مگر یہ کہ (خدا کی طرف سے) ہم پر تو کوئی خط نازل کرے"، یا سورہ انعام کی آیہ 124 کی طرح ہے جو یہ کہتی ہے : (قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّـٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِىَ رُسُلُ اللّـٰهِ) "وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان نہیں لائیں گے، جب تک کہ وہی چیز کو اللہ کے رسولوں پر نازل ہوتی ہے، ہمیں نہ دی جاۓ"۔
 اور اس طرح سے ان میں سے ہر ایک یہ توقع رکھتا تھا کہ وہ اولوالعزم پیغمبر ہو اور خدا کی طرف سے اس کے نام کا خصوصی خط آسمان سے نازل ہو، اور اس قسم کی چیز زن پر نازل ہو بھی جاتی تب بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ ایمان لے آئیں گے۔
 بعض روایات میں ایا ہے کہ ابوجہل اور قریش کی ایک جماعت نے کہا: اے محمدؐ! ہم تجھ پر اس وقت ایمان نہیں لائیں گے ، جب تک کہ تو آسمان سے ایسا ایک خط نہ لے آئے جس کا عنوان یہ ہو:"خداوند رب العالمین کی طرف سے فلاں بن فلاں کے نام، اور اس میں رسمی طور پر یہ حکم دیا جاۓ کہ ہم تجھ پر ایمان لے آئیں"۔ ؎ 2
     ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے :"جس طرح سے وہ کہتے ہیں ایسا نہیں ہے "(کلا)۔ 
 ان پر آسمانی کتاب کا نازل ہونا اور اسی قسم کے دوسرے مطالب یہ سب بہانے ہیں۔
 "حیقیت میں وہ آخرت سے نہیں ڈرتے"۔(بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ )۔
 اگر وہ آخرت سے ڈرتے ہوتے۔ تو یہ سب بہانے نہ کرتے ، رسول خدا کی تکذیب نہ کرتے، آیات الٰہی کا مذاق نہ اڑاتے اور عذاب پر مامور فرشتوں کی تعداد کو استہزاء کا ذریعہ نہ بناتے۔
 اور یہاں سے تقوٰی، گناہ سے پرہیز اور انواع و اقسام کے گناہانِ کبیرہ سے پاک ہونے میں ، معاد پر ایمان کا اثر واضح ہوجاتا ہے۔
 حق کی بات یہ کہ یہ کہانا پڑتا ہے کہ عالمَ محشر پر ایمان اور قیامت میں جزاو سزا ملنے کا عقیدہ، انسان کو ایک نئی شخصیت عطا کرتا ہے اور بے قیدوبند، متبکر ، خود خواہ اور ظالم افراد کو، عہد کی پابندی کرنےوالے، متقی، متواضع اور عدالت پیشہ انسان میں تبدیل کرسکتا ہے۔
     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1 "صحف" "صحیفہ" کی جمع ہے، جو اس ورق کے معنی میں ہے، جسے اِس طرف اور اُس طرف کرتے ہیں،(چونکہ "صحف" اور "صحیفہ" کا اصل مادہ چہرہ کی مانند) پھیلی ہوئی چیز کے معنی میں ہے، اس لیے خط اور کتاب پر اس کا اطلاق ہونے لگا۔
  ؎ 2 تفسیر "قرطبی" و تفسیر "مراغی" اور دوسری تفاسیر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد ایک مرتبہ اور تاکید کرتا ہے کہ جس طرح وہ قرآن کے بارے میں سوچتے ہیں ایسا نہیں ہے"(كَلَّآ)۔
 "یقیناً قرآن تو تذکر اور یاد آوری ہے" (انہ تذکرۃ)۔
     ـــــــــــــــــــــــ
 "اور جو شخص چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے"(فَمَنْ شَآءَ ذَكَـرَهٝ )۔
 قرآن نے راستے کی نشاندہی کردی ہے، اور دیکھنے والی آنکھوں کوبی اختیار دےدیا ہے اور نورِ آفتاب بھی ہے تاکہ انسان اپنے آگے دیکھ کر چلے۔
     ــــــــــــــــــــــ
 اس باوجود اس سے پندو نصیحت حاصل کرنا، خدا کی مشیت اور توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے: "اور وہ نصیحت نہیں لیتے مگر یہ کہ خدا چاہے" ۔ (وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَآءَ اللّـٰهُ )۔
 اس جملہ کی تفسیریں ہیں ، ایک تو وہی جو ہم نے اوپر بیان کی ہے، یعنی انسان پروردگار کی عنایت کے دامن سے متوسل ہوئے بغیر کی راہ کو طے نہیں کرسکتا، اور نہ ہی اس کی توفیق و امداد کے بغیر ہدایت پاسکتا ہے ؎ 1
    تاکہ از حانبِ معشوق بنا شد کششی
      کوشش عاشق بے چارہ بہ جائے نہ رسد

    "جب تک محبوب کی طرف سے کشش نہ ہو
      بےچارے عاشق کی کوشش کچھ کام نہیں دیتی"
 البتہ یہ خدائی اعداد استعداد رکھنے والوں پر نازل ہوتی ہے۔
 دوسری یہ کہ : "فمن شاء ذکرہ" کا جملہ جو گزشتہ آیت میں آیا ہے، ممکن ہے یہ توہم پیدا کرے کہ ہر چیز خود انسان کے ارادہ کے ساتھ وابستہ ہے اور اس کا ارادہ ہر لحاظ سے استقلال رکھتا ہے، تو یہ آیت اس اشتباہ کو دور کرنے کے لیے کہتی ہے کہ انسان مختار و آزاد ہونے کے باجود مشیت الٰہی کے ساتھ وابستہ ہے، وہ مشیت جو سارے عالمِ ہستی اور جہان آفرینش پر حکم فرما ہے دوسرے لفظوں میں انسان کا یہی اختیار و آزادی بھی، اس کی مشیت کے ساتھ ہے اور وہ جس لمھہ چاہے، اس کو اس سے لےلے۔
 تیسری یہ کہ کہتا ہے: وہ کسی قیمت پر ایمان نہیں لائیں گے، مگر یہ کہ خدا چاہے اور انھیں مجبور کردے، اور ہم جانتے ہیں کہ خدا کسی کو ایمان یا کفر پر مجبور نہیں کرتا ۔
 البتہ پہلی اور دوسری تفسیر بہتر اور زیادہ مناسب ہے۔
 اور آیت کے آخر میں کہات:"وہ اہل تقوٰی اور اہل مغفرت ہے"(هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ )۔
 مناسب یہی ہے کہ اس کے عتاب سے ڈریں اور کسی چیز کو اس کا شریک قرار نہ دیں، اور یہی شائستہ بات ہے کہ اس کی مغفرت کے امیدوار رہیں۔
 حقیقت میں یہ جملہ "خوف" و "رجاء" کے مقام اور"وعزاب" و "مغفرت" الٰہی کی طرف اشارہ ہے، اور یہ حقیقت میں پہلی آیت کی کے لیے علت کو بیان کرتی ہے۔ 
 اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : خدا فرماتا ہے:
  ان اھل ان اتقی، ولا یشرک بی عبدی شیئًاوانا اھل ان لم یشرک بی شیئًا ان ادخلہ الجنۃ
  
  "میں اس لائق ہو کہ مجھ سے ڈرا جاۓ اور میرا بندہ کسی چیز کو میرا شریک قرار نہ دے اور میں اس کا اہ
  ہوں کہ اگر میرا بندہ کسی چیز کو میرا شریک قرار نہ دے تو میں اسے جنت میں داخل کروں"۔ ؎1
 اگرچہ تمام مفسرین نے ـــــــــــ جہاں تک ہم نے دیکھا ہے ـــــــــــ "تقوٰی" کی یہاں مفعول کے معنی میں تفسیر کی ہے، اور یہ کہا ہے کہ خدا اس کا اہل ہے کہ اس سے (اس کے شرک اور نافرمانی سے) پرہیز کریں، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ فاعل کت معنی میں تفسیر کی ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ خدا اس کا اہل تقوٰی ہے اور وہ ہر قسم کے ظلم ، قبیح فعل اور ہر قسم کے خلاف حکمت کام سے پرہیز کرتا ہے، اور حقیقت میں تقوٰی کا بالا ترین مقام خدا ہی کے لیے ہے، اور بندوں میں جو کچھ ہے وہ اس غیر متناہی تقوٰی کی ایک ضعیف سی چنگاری ہے، اگرچہ خدا کے بارے میں اسم فاعل کے معنی میں "تقوٰی" کی تعبیر بہت کم ہوتی ہے۔  
 بہرحال یہ سورہ "انزار" اور "وظائف اور زمہ داریوں" کے حکم سے شروع ہوا اور "تقوٰی" کی دعوت اور "مغفرت کے وعدے" پر ختم ہوا، یہ  وہ مقام ہے جہاں ہم انتہائی خضوع و عضرع کے ساتھ اس کی مقدس بارگاہ میں عرض کرتے ہیں:
      ــــــــــــــــــــــــــ
 پروردگارا! ہمیں تقوٰی اور اپنی مغفرت کے مستحق ادراد میں قرار دے۔
 خداوندا! جب تک تیری توفیق اور تیرا لطف ہماری دستگیری نہیں کرے گا ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہمیں اس عنایت کا مشمول فرما۔
 بارالہا! جال سخت ہے اور راستہ پرپیچ و خم ہے اور شیطان گمراہ کرنے پر آمادہ ہے، اس راستہ کو تیری مدد کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا ہماری مدد فرما۔
        آمین یارب العالمین
       سورہ مدثر کا اختتام 19 ماہِ صفر 1470 ہجری
           اختتام ترجمہ
                                                                           پونے پانچ بجے سہ پہر بروز پیر 11 صفر 1408 ہجری
     مطابق 5 ستمبر 1987 ء - 81 اِی ماڈل ٹاؤن لاہور
        صفدر حسین جنفی
      ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ    
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1      تفسیر برہان ، جلد 4 ص 405