تم اہلِ دوزخ کیوں ہوگئے
كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ۳۸
ہر نفس اپنے اعمال میں گرفتار ہے.
تفسیر
تم اہلِ دوزخ کیوں ہوگئے؟
اسی بحث کو جاری رکھتے ہوۓ جو گزشتہ آیات میں دوزخ اور دوزخیوں کے بارے میں آئی ہے۔ ان آیات میں مزید کہتا ہے :"ہر شخص اپنے اعمال کے لیے گرو ہے"۔(كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ )۔
"رھینۃ" "رھن" کے مادہ سے (گرو) کے معنی میں ہے اور یہ وہ چیقہ ہے جو عام طور پر (قرض) کے مقابلہ میں دیتے ہیں گویا انسان کا تمام وجاود اس کے وظائف ، تکالیف اور زمہداریوں کے انجام دینے میں گروہ ہے، جس وقت انھیں انجام دے لیتا ہے ، آزاد ہوجاتا ہے۔ ورنہ قیدِ اسارت میں رہے گا۔
اہلِ لغت کے بعض کلمات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ "رہن" کے معانی میں سے ایک ملازمت و ہمراہی ہے۔ ؎ 1 اس معنی کے مطابق ایت کا مفہوم اس طرح ہوگا، کہ سب لوگ اپنے اعمال کے ہمراہ ہوں گے چاہے نیکو کار ہوں یا بدکار۔
لیکن بعد والی آیات کے قرینہ سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
لہزا بلا فاصلہ فرماتا ہے: "مگر اصحابِ یمین، جو اس اسارت کی قید سے آزاد ہیں"۔(اِلَّآ اَصْحَابَ الْيَمِيْنِ)۔
انھوں نے ایمان اور عمل صالح کے ساۓ میں، اسارت کے طوق اور زنجیروں کو توڑ دیا ہے، لہزا وہ بے حساب جنت میں داخل ہونگے۔ ؎2
اس بارے میں کہ یہاں "اصحاب الیمین" سے کون لوگ مراد ہیں ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 لسان العرب "مادہ" رہن"
؎ 2 اس بارے میں کہ یہاں استنثناء "متصل" ہے یا "منقطع" بعض نے مثلاً مرحوم شیخ طوسی نے "بتیان" میں اسے "منقطع" قرار دیا ہے اور بعض نے مثلاً "روح البیان" نے اسے متصل جانا ہے۔ یہ فرق ان مختلف تفسیروں کے ساتھ مربوط ہے جو ہم نے "رھینۃ" کے مفہوم کے بارے میں ذکر کی ہیں۔ جس تفسیر کو ہم نے انتخاب کیا ہے، اس کے مطابق استثناء منقطع ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق استثناء ہوگا۔ (غور کیجیے)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعض نے تو اس کی ایسے افراد کے ساتھ تفسیر کی ہے جن کا نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوگا۔
اور بعض انھیں ایسے مومنین سمجھتے ہیں، جنھوں نے بالکل گناہ نہ کیا ہو، اور بعض فرشتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور دوسرے احتمالات بھی ہیں۔
لیکن جو کچھ قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے اور اس پر قرآن گواہ ہے، وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان اور عملِ صالح کے حامل ہیں اور اگر ان سے کوئی چھوٹے موٹے گناہ ہوۓ بھی ہوں، تو وہ ان کی نیکیوں کے تحت الشعاع میں ہیں اور (ان الحسنات یذھبن السیئات)۔ (ہود 114) کے حکم میں ہیں۔
ان کے نیک اعمال ان کے اعمالِ بد کو چھپالیں گے، یا تو وہ بلا حساب کے جنت میں وارد ہوجائیں ، اور اگر ان کا حساب ہوا بھی، تو وہ سہل ، سادہ اور آسان ہوگا، جیسا کہ سورہ انشقاق کی آیہ 8،7 میں آیا ہے: فَاَمَّا مَنْ اُوْتِىَ كِتَابَهٝ بِيَمِيْنِهٖ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْـرًا "لیکن وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کے کے دائیں ہاتھ میں ہوگا، اس کا حساب آسان ہوگا"
اہل سنت کے مشہور مفسر "قرطبی" نے امام باقرؑ سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
نحن و شیعتنا اصحاب الیمین ، وکل من ابغضنا اھل البیت فھم المرتھنون
"ہم اور ہمارے شیعہ اصحابِ یمین ہیں اور جو شخص ہم اہلِ بیت کو دشمن رکھتا ہے، تو وہ اپنے اعمال کی قید میں ہے"۔ ؎ 1
اس حدیث کو دوسرے مفسرین ، منجملہ "مجمع البیان" اور تفسیر "نورالثقلین" کے مؤلف اور بعض دوسروں نے بھی زیرِ بحث آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
اس بعد "اصحاب الیمین" اور ان کے مدمقابل گروہ کے حالات کے ایک گوشہ کی تشریح کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے : "وہ جنت کے پر نعمت اور باعظمت باغوں میں ہوں گے اور اس حال میں وہ سوال کریں گے" (فِىْ جَنَّاتٍۖ يَّتَسَآءَلُوْنَ)۔ ؎2
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
"گنہگاروں سے"(عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ)۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 تفسیر "قرطبی" جلد 10 ص 78 68
؎ 2 "یتساءلون" اگرچہ باب "تفاعل" سے ہے، جو عام طور پر دو افراد یا چند افراد کے درمیان ہونے والے کام کے لیے آتا ہے۔ لیکن یہاں بعض
دوسرے مقامات کے مانند ہی یہ معنی نہیں دیتا اور یہاں یہ "یسالون" کے معنی دیتا ہے۔ ضمنی طور پر "جنات" کا نکرہ ہونا اس کی عظمت کے بیان کے لیے ہے۔ اور بہرحال "فی جنات" ایک محزوف مبتداء کی خبر ہے اور تقدیر میں یہ "ھم فی جنات" ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وہ کہیں گے : "تمھیں دوزخ میں کس چیز نے پہنچا دیا"(مَا سَلَكَكُمْ فِىْ سَقَر)
ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بہشتیوں اور دوزخیوں کے درمیان کلی طور پر ربطہ منقتع نہیں ہوگا، جنتی اپنے عالم سے دوزخیوں کی حالت کا مشاہدہ کر سکیں گے اور ان سے گفتگو کرسکیں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مجرمین "اصحاب الیمین" کے اس سوال کا کیا جواب دیتے ہیں؟ وہ اس سلسلہ میں اپنے چار گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔
پہلا یہ کہ "وہ کہیں گے:"ہم نماز گزاروں میں سے نہیں تھے"۔(قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ)۔
اگر ہم نماز پڑھتے، تو نماز ہمیں خدا کی یاد دلاتی اور فحشاء اور منکر سے روکتی، اور ہمیں خدا کی صراط مستقیم کی دعوت دیتی"۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرا یہ کہ "ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے"(وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ )۔
"اطعام مسکین" کا معنی اگرچہ غریبوں ، مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، لیکن ظاہرًا اس مراد ۔ ضرورت مندوں کی ہرضرورت و حاجت میں مدد کرنا ہے، چاہے وہ خوراک ہو یا پوشاک و مسکن وغیرہ۔
جیسا کہ مفسرین نے تصریح کی ہے، اس مراد "زکات واجب" ہے، کیونکہ مستجی انفاقات کو ترک کرنا جہنم میں داخل ہونے کا سبب نہیں بنتا، اور یہ آیت دوبارہ اس مطلب کی تاکید کرتی ہے کہ زکات کا حکم اجمالی طور پر مکہ میں ہی نازل ہواتھا، اگر چہ جزئیات کی تشریح اور حدود کی خصوصیات کا تعین ، خصوصًا اس کا بیت المال میں مرتکز ہونا ، مدینہ میں ہوا تھا۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
تیسرا یہ کہ "ہم ہمیشہ اہلِ باطل کے ساتھ ہم نشین اور ہم صدا ہوجاتے ہیں"۔(وَكُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِيْنَ )۔
"نخوض" "خوض" (بروزن حوض) کے مادہ سے، اصل میں پانی میں داخل ہونے اور اس میں حرکت کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد تمام امور میں داخل ہونے اور ان میں آلودہ ہونے کے لیے بھی بولا جانے لگا، لیکن قرآنِ مجید میں اکثر باطل اور بے بنیاد مطالب میں وارد ہونے کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔
"باطل میں خوض" ایک وسیع و عریض معنی رکھتا ہے، جو ان لوگوں کی مجالس میں داخل ہونے کو بھی شامل ہے، جو آیاتِ خدا کا مزاق اڑاتے ہیں اور اسلام کے خلاف پروپگنڈا کرتے ہیں، یا بدعت کی ترویج کرتے ہیں، یاپست اور چھچھوری باتیں کرتے ہیں، یا ان گناہوں کو جنھیں انھوں نے انجام دیا ہے۔ فخریہ اور مزے لےلے کر بیان کیا گیا ہے، جو خدا کے دین کو کمزور کرنے اور اس کے مقدمات کا استہزاء اور مزاق اڑانے اور کفر و شرک و بے دینی کی ترویج کے لیے قائم کی جاتی ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد مزید کہتا ہے:"اور ہم ہمیشہ روز جزا کا انکار کیا کرتے تھے"۔(وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ)۔
ــــــــــــــــــــــــــ
"یہاں تک کہ ہماری موت کا وقت آپہنچا"۔(حَتّـٰٓى اَتَانَا الْيَقِيْنُ )۔
یہ بات واضح ہے کہ معاد و قیامت اور حساب و جزا کے دن کا انکار تمام الٰہی اور اخلاقی قدروں کو متزلزل کردیتا ہے اور انسان کو گناہ کے ارتکاب کی جرات دلاتا ہے اور اس راستے کی رکاوٹوں کو دور کر دیتا ہے، خصوصًا اگر یہ مسئلہ آخر عمر تک ایک مسلسل عمل کی صورت اختیار کرلے۔
بہرحال ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اولاً کفار بھی، اصول دین کی طرح سے، فروغ دین کے بھی مکلف ہیں اور اس سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ چاروں امور یعنی نماز، زکوۃ، اہل باطل کی مجالس کو ترک کرنا اور قیامت پر ایمان رکھنا، ایمان کی ہدایت اور تربیت میں حد سے زیادہ اثر رکھتے ہیں اور اس طرح سے جہنم، واقعی نماز گزاروں، زکوٰۃ دینے والوں، باطل کو ترک کرنے والوں اور قیامت پر ایمان رکھنے والوں کی جگہ نہیں ہے۔
البتہ نماز اس لحاظ سے کہ وہ خدا کی عبادت ہے لہزا وہ خدا پر ایمان کے بغیر اسے حاصل نہیں ہوسکتی ، اس بناء پراس کا ذکر، خدا پر ایمان و اعتقاد اور اس کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی ایک رمز ہے۔ لہزا یہ کہا جاتا پے کہ یہ چاروں امور توحید سے شروع ہوتے ہیں اور معاد و قیامت پر ختم ہوتے ہیں اور خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی ایک رمز ہے۔ لہزا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ چاروں امور توحید سے شروع ہوتے ہیں اور معاد و قیامت پر ختم ہوتے ہیں اور خالق و مخلوق اور انسان کے خود اپنے آپ سے ربط کو پانے اندر سموۓ ہوۓ ہے۔
مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ "یقین" سے مراد یہاں موت ہے، کیونکہ یہ مومن و کافر دونون کے لیے ایک یقینی امر شمار ہوتی ہے اور انسان ہر چیز میں شک کرسکتا ہے لیکن موت میں شک نہیں کر سکتا ۔ سورہ حجر کی آیہ 99 میں آیا ہے (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّـٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ) "اپنے خدا کی عبادت کر یہاں تک کہ تجھے یقین (موت) آجاۓ"۔
لیکن بعض نے یہاں یقین کی، انسان کی موت کے بعد ، برزخ و قیامت کے مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل ہونے کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے جو پہلی تفسیر کے ساتھ ایک جہت سے ہم آہنگ ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آخری زیر بحث ایت میں اس گروہ کے برے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہتا ہے:"لہزا شفاعت کرنے والوں میں سے کسی شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کی حالت کو کوئی فائدہ نہیں دےگا"۔(فَمَا تَنْفَعُهُـمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِيْنَ )۔
نہ تو خدا کے انبیاء ، رسولوں اور آئمہ معصومین کی شفاعت اور نہ ہی فرشتوں، صدیقین، شہدا اور صالحین کی شفاعت ، کیونکہ شفاعت کے لیے مناسب حالات کی ضرورت ہے اور انھوں نے تمام اسباب کو کلی طور پر ختم کردیا ہے۔ شفاعت اس شفاف پانی کے مانند ہے، جسے کسی کمزور پودے کی جڑ پر ڈالا جاۓ، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اگر پودا کلی طور پر مر چکا ہو تو یہ صاف ستھرا پانی اسے زندہ نہیں کرسکتا، دوسرے لفظوں میں جیسا کہ ہم شفاعت کی بحث میں بیان کر چکے ہیں ۔ "شفاعت" شفع کے مادہ سے ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ضمیمہ کرنے کے معنی میں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کی شفاعت کی جاری ہے اس نے راستہ کا کچھ حصہ اپنے پاؤں سے طے کیا ہے اور سخت قسم کے نشیب و فراز میں پیچھے رہ گیا ہے، شفاعت کرنے والا اس کا ضمیمہ بن کر اس کی مدد کرتا ہے تاکہ وہ باقی راستہ طے کرلے۔ ؎ 1
ضمنی طور پر یہ آیت، دوبارہ مسئلہ شفاعت اور بارگاہ خداوندی میں شفاعت کرنے والوں کے تنوع اور تعداد کی تاکید کرتی ہے اور ان لوگوں کے لیے جو اصل شفاعت کے منکر ہیں، ایک دندان شکن جواب ہے۔ اسی طرح یہ اس بات کے لیے ایک تاکید بھی ہے کہ شفاعت ب قیدو شرط کے نہیں ہوگی اور گناہ کے لیے ہری جھنڈی کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی تربیت کا ایک ایسا عامل ہے جو اسے کم از کم اس مرحلہ تک پہنچادے، کہ اس میں شفاعت کرانے کی قابلیت پیدا ہوجاۓ، اور خدا اور اس کے اولیاء سےاس کا رابطہ کلی طور پر منقتع نہ ہوجاۓ۔
یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر والی آیت کا مفہوم یہ نہیں کہ شفاعت کرنے والے اس قسم کے لوگوں کی شفاعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ چونکہ شفاعت ان کی حالت کے لیے سود مند نہیں ہوگی، لہزا وہ ان کی شفاعت نہیں کریں گے، کیونکہ اولیاء خدا لغو و بہیودہ کاموؐ کے مرتکب نہیں ہوتے۔
---------------------------