Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2: ترتیل کا معنی

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: المزمل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۱قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ۲نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ۳أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۴إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ۵

Translation

اے میرے چادر لپیٹنے والے. رات کو اٹھو مگر ذرا کم. آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر دو. یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو. ہم عنقریب تمہارے اوپر ایک سنگین حکم نازل کرنے والے ہیں.

Tafseer

									          2-  ترتیل کا معنی
 اوپر والی آیات میں جس چیز پر تکیہ کیا گیا ہے وہ قرآن کی قراءت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ "ترتیل" کا مسئلہ ہے۔
 "ترتیل" کی تفسیر میں معصومینؑ سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ، جن میں سے ہر ایک اس کے وسیع الالجاد و جہات میں سے کسی ایک جہت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
 ایک حدیث میں امیرالمومنین علیؑ سے آیا ہے۔
  بینہ بیانًا ولاتھذہ ھذاالشعرولاتنثرہ نثرالرمل، ولکن اقرع بہ القلوب
  القاسیۃ الایکونن ھم احد کم اٰخرالسورۃ
  "ترتیل" یعنی اس کو واضح طور پر بیان کر، نہ تو اشعار کی طرح جلدی اور یکے بعد دیگرے پڑھ، اور نہ 
  ہی ریت کے ذروں کی طرح اس کو بکھیر دے۔ لیکن اس طرح پڑھ کہ اس سے سخت اور سنگین دلوں کو    نرم کردے، اور انھیں بیدار کردے، ہرگز تمھارا مقصد یہ نہ ہو کہ تم لازمی اور حتمی طور پر آخر سورہ    تک پہنچو اوراسے ختم کرکےرہو (بلکہ اہم بات یہ کہ ہےکہ تم آیات کے مطالب اور معانی سمجھو)؎1 
 ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے "ترتیل" کی تفسیر میں آیا ہے :
  اذا مررت باٰیۃ فیھا ذکرالجنۃ فاسال اللہ الجنۃ ، وازا مررت باٰیۃ فیھا ذکر
  النار فتعوذ باللہ من النار
  "جس وقت تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جنت کا ذکر ہو تو رُک کر خدا سے جنت کا سوال کرو
  (اور اس کے لیے اصلاح کرو)اور جب تم کسی ایسی آیت سے گزرو جس میں جہنم کا ذکر ہو، تو خداسے
  اس سے پناہ مانگو (اور خود کو اس سے دور رکھو)"۔ ؎ 2
 ایک اور رواہات میں اسی امام سے آیا ہے کہ آپ نے "ترتیل" کی تفسیر میں فرمایا:
  ھوان تتمکث فیہ و تحسن بہ صوتک
  "ترتیل" یہ ہے کہ تو آیات کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور انھیں اچھی آواز میں پڑھے"۔ ؎ 3
 ایک اوع حدیث میں انھیں حضرت سے اس طرح نقل ہوا ہے:
  ان قرٰن لا یقر اھذارمۃ، ولٰکن یرتل ترتیلا اذا مررت باٰیۃ فیھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1   "مجمع البیان" جلد 10 ص 378 ، یہ حدیث اصول کافی جلد 2 - باب "ترتیل الوراٰن بالصوت الحسن ٓ" اور دوسری کتابوں میں بھی مختصر فرق کے ساتھ آئی ہے۔
  ؎ 2   وہی مدرک
  ؎ 3   "مجمع البیان" جلد 10 ص 378
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ذکر النار وقفت عندھا و تعوذت باللہ من النار
  "قرآن کو جلدی جلدی ، سرعت اور تیزی کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہیے۔ جس وقت تم کسی ایسی آیت
  سے گزرو جس میں جہنم کاذکر ہو، تاوہاں رک جاؤ،اورحدا سے جہنم کی آگ کی پناہ مانگو"۔ ؎ 1
 اور آخری ﷽ات یہ کہ پیغمبر کے حالات میں نقل ہواہے کہ آنحضرتؐ آیات کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے پڑھتے اور اپنی آواز کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ ؎ 2
 یہ روایات اور دوسری روایات جو اسی مفہوم کی اصولِ کفی، نورالثقلین ، درمنثور اور حدیث و تفسیر کی تمام کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ آیاتِ قرآنی کو اس طرح نہیں پڑھنا چاہیے، جو مطالب و مضامین اور پیام سے خالی ہوں بلکہ ان تمام امور کی طرف توجہ رکھنی چاہیے، جو پڑھنے اور سننے والوں میں اس تاثیر کو گہرا کردے، اور اس بازت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ اللہ کا پیام ہے اور اس کا مقصد اس کے مطالب و مضامین کو تحقق بخشنا (اور عملی جامہ پہنانان ہے) 
 لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان اس واقعیت سے بہت دور ہوگئے ہیں ، اور انھوں نے قرآن کے صرف الفاظ پر اکتفا کرلیا ہے اور ان کا مقصد صرف سورت اور قرآن کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ بغیر اس کے کہ وہ یہ جانیں کہ یہ آیات کس مقصد کے لیے نازل ہوئی ہیں؟ اور کس پیام کی تبلیغکر رہی ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن کے الفاظ بھی محترم ہیں ، اور ان کو پڑھنا بھی فضیلت رکھتا ہے ؟ لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ الفاظ اور تلاوت ان م  مطالب ان کے مطالب و مضامین کو بیان کرنے کا مقدمہ اور تمہید ہے  
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
  ؎ 1    "نورالثقلین" جلد 10 ص 447
  ؎ 2 "مجمع البیان"  زیر بحث آیت کے ذیل میں