Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3: نماز شب کی کی فضلیت

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: المزمل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۱قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ۲نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ۳أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۴إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ۵

Translation

اے میرے چادر لپیٹنے والے. رات کو اٹھو مگر ذرا کم. آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر دو. یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو. ہم عنقریب تمہارے اوپر ایک سنگین حکم نازل کرنے والے ہیں.

Tafseer

									    3-  نمازِشب کی فضیلت

 یہ آیات دوبارہ شبزندہداری، نمازشب، اور اس وقت ــــــــــــــجبکہ غافل لوگ خوابِ غفلت میں پڑھے سوۓ ہوۓ ہوتے ہیں ـــــــــ قرآن کی تلاوت کی اہمیت کو گوشزد کرتی ہیں، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ  رات کو عبادت کرنا، خصوصًا سحر کے وقت، اور طلوعِ فجر کے نزدیک، روح کی صفائی، تہذیب نفوس اور انسان کی معنوی تربیت، پاکیزگی قلب، دل کی بیداری، ایمان وارادہ کی تقویت اور انسان کے دل و جان میں تقوٰی کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں حد سے زیادہ اثر رکھتا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ کی آزمائش سے، انسان اس کے آثار ، واضح طور پر اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔
 اسی بناء پر آیاتِ قرآنی کے علاوہ روایاتَ اسلامی میں بھی اس مطلب پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے۔
 منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے :
  ان من روح اللہ تعالٰی ثلاثۃ:التھجد باللیل و افطار الصائم ولقاء الاخوان
  "تین چیزیں خدا کی مخصوص عنایات میں سے ہیں، شبانہ عبادت (نمازِ تہجد) روزہ داروں کو افطار کرانا اور 
  مسلمان اور مامن بھائیوں کی زیارت و ملاقات کرنا"۔ ؎ 1
 ایک اور حدیث میں انھیں جناب سے آیا ہی کہ آپ نے آیہ "انالحسنات یذھبن السیئات"(نیک کام برے کاموں کے اثر کو زائل کردیتے ہیں) کی تفسیر میں فرمایا:
  صلاۃ اللیل تذھب بذنوب النھار
  "نمازِ تہجد دن کے گناہوں کو ختم کردیتی ہے"۔ ؎ 2
 سورہ اسراء کی آیہ 79کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلہ میں ایک تفصیلی بحث کر چکے ہیں۔ اور ہم نے وہاں پر نماز تہجد کی اہمیت کے بارے میں بہت عمدہ روایات نقل کی ہیں۔ ؎3
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1 ،  ؎ 2  "بحارالانوار" جلد  ص 143
  ؎ 3  "تفسیر نمونہ"  جلد 12 ص 227