Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1: تلاوت قرآن اور دعا و عبادت کے لیے رات کو اٹھنا

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: المزمل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۱قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ۲نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ۳أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۴إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ۵

Translation

اے میرے چادر لپیٹنے والے. رات کو اٹھو مگر ذرا کم. آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر دو. یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو. ہم عنقریب تمہارے اوپر ایک سنگین حکم نازل کرنے والے ہیں.

Tafseer

									          چند نکات
     1- تلاوتِ قرآن اور دعا و عبادت کے لیے رات کو اٹھنا
 ہم بیان کرچکے ہیں کہ اگرچہ ان آیات میں مخاطب پیغمبر کی ذاتِ اقدس ہے۔ لیکن سورہ کا متن اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مومنین بھی اس پروگرام میں پیغمبر کی ذات کے ساتھ ہیں۔
 اب بحث صرف یہ ہے کہ یہ قیام اور شب زندہ داری، پیغمبرؐ کی دعوت کے آغاز میں سب پر واجب تھی یا نہیں؟
 بعض مفسرین کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ امرواجب تھا، بعد میں سورہ کی آخری آیت نے آکر اس حکم کو منسوخ کردیا اور اس میں تقریباً ایک سال کا فاصلہ تھا۔
 یہاں تک کہ بعض کا عقیدہ تو یہ ہے کہ یہ حکم پنجگانہ نمازوں کی تشریع سے پہلے تھا اور جب پنجگانہ نمازیں مشروع قرار دے دی گئیں تو اس بعد یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ 
 لیکن ـــــــــ جیسا کہ مرحوم "طبرسی" نے بھی "مجمع البیان" میں نقل کیا ہے ـــــــــ اس سورہ کی آیات کے ظاہر میں کوئی ایسی نظر نہیں آتی کو "نسخ" کے اوپر دلیل ہو اور بہتر یہی ہے کہ یہ قیام و عبادت مستحب اور سنت مؤکدہ ہے اور اس میں ہر گز وجوب کا پہلو تھا ہی نہیں، سواۓ پیغمبراکرامؐ کی ذات کے لیے، کیونکہ قرآن کی بعض دوسری آیات کے مطابق نمازِشب آپؐ پر واجب تھی اور اس میں کوئی مانع اور حرج نہیں کہ یہ مسئلہ پیغمبرؐ کے لیے واجب اور مسلمانوں پر مستحب ہو، اور اس سے قطعِ نظر اوپر والی آیات میں جو کچھ آیا ہے وہ "نمازِشب" میں منحصر نہیں ہے۔ص کیونکہ نماز شب تو آدھی رات یا دوتہائی رات یا ایک تہائی رات تک کو بھی شامل نہیں رکھتی۔ جو کچھ آیت میں بیان ہوا ہے وہ ترتیل قرآن کت لیے اٹھنا ہے۔
 اس بناء پر یہ کام انتدا میں مستحب مؤکد کی صورت میں تھا اور اس کے بعد اس میں تضفیف کردی گئی اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ ہر کام کے آغاز میں،  خصوصًا ایک عظیم انقلاب کی ابتداء میں، ہمیشہ زیادہ قوت و توانائی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ لہذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ پیغمبر اور مسلمانوں کو ، اس قسم کا فوق العادہ حکم دیا گیا ہو کہ وہ رات کا زیادہ حصہ بیدار رہیں اور اس جدید پروگرام اور اس کی انقلابی تعلیمات سے آشنا ہوں، اور اس سے آگاہی کے علاوہ خود کو اس پر عمل کرنے کے لیے روحانی طور پر تیار کریں۔ 


     ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ