اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے کھڑا ہوجا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۱قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ۲نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ۳أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ۴إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ۵
اے میرے چادر لپیٹنے والے. رات کو اٹھو مگر ذرا کم. آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر دو. یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو. ہم عنقریب تمہارے اوپر ایک سنگین حکم نازل کرنے والے ہیں.
تفسیر
اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے کھڑا ہوجا
جیسا کہ اس سورہ کے آغاز کے لب و لہجہ سے پتا چلتا ہے، یہ پیغمبر کو استقامت کے لیے اور ایک عظیم و سنگین ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے آمادگی کی ایک آسمانی دعوت ہے کہ جسے پہلے سے خود کو تیار کیے بغیر انجام دنیا ممکن نہیں ہے ، فرناتا ہے :"اے اپنے اوپر کپڑا لپیٹنے والے"۔ (يَآ اَيُّـهَا الْمُزَّمِّلُ)۔ ؎ 1
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"رات کو، تھوڑے سے حصہ کے سوا ، قیام کیا کر"۔(قُمِ اللَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"آدھی رات یا اس میں سے تھوڑا کم کر دے"۔(نِّصْفَهٝٓ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا)۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"یا آدھی رات پر کچھ اضافہ کردے"۔(اَوْ زِدْ عَلَيْهِ)۔
"اور قرآن کو انتہائی غور وخوض سے اور انتہائی وضاحت و فصاحت کے ساتھ تلاوت کیا کر"۔(وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَـرْتِيْلًا)۔
قابل توجہ بات یہ ہےکہ ان آیات میں مخاطب پیغمبرؐ ہیں لیکن "یاالھاالرسول" اور "یاالھاالنبی" کے عنوان سے نہیں بلکہ "یاالھاالمزمل" کے عنوان جو اس بات کی اشارہ ہے کہ یہ اپنے اوپر کپڑا لپیٹ کر گوشۂ تنہائی میں بیٹھ رہنے کا دور نہیں ہے ، بلکہ یہ کھڑے ہونے اور خود کو تیار کرنے اور عظیم رسالت کو انجام دینے کے لیے آمادگی کا دور ہے۔
اور اس کام کے لیے رات کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ :
اولاً دشمنوں کی آنکھ اور کان نیند کی حالت میں ہیں، اور
ثانیاً زندگی کے کارونار بند ہیں، اور اس بناء پر انسان غوروفکر اور تربیتِ نفس کے لیے زیادہ سے زیادہ آمادگی رکھتا ہے۔
اسی طرح اس پروگرام کے لیے متن اصلی کے عنوان سے "قرآن" کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ یہ اس سلسلہ کے تمام ضروری اسباق کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے اور یہ ایمان کی تقویت، استقامت ، تقوٰی اور پرورشِ نفوس کا بہترین وسیلہ ہے۔
"ترتیل" کی تعبیر کو اصل میں موزوں "تنظیم" و "تربیت" کے معنی میں ہے اور یہاں آیاتِ قرآنی کو تاُنی (ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا) ضروری نظم، حروف کی صحیح ادائیگی ، الفاظ کو وضاحت کے ساتھ پڑھنا ، آیات کے مفاہیم میں دقت و تامل اور ان کے نتائج میں غوروفکر کرنا ہے۔
واضح کہ قرآن کی اس طرح سے تلاوت انسان کو معنوی نشوونما، اخلاقی شہامت اور تقوٰی وپرہیزگاری سرعت کے ساتھ بخش سکتی ہے اور اگر بعض مفسرین نے اس کی نماز پڑھنے کے معنی میں تفسیر کی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کا ایک حصہ "تلاوتِ قرآن" ہی ہے۔
"قم اللیل" کے جملہ میں "قیام" کی تعبیر، سونے کے مقابلہ میں کھڑا ہونے کے معنی میں ہے، نہ کہ صرف پاؤں پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "مزمل" اصل میں "متزمل" تھا۔ "تزمل" کے مادہ سے جس کا معنی اپنے اوپر کپڑا لپیٹنااور "زمیل" جو ہم ردیف کے معنی میں ہے(وہ شخص جو کسی کے پیچھے سواری پرہو) اور اس کے بعد رفیق اور ساتھی کے معنی میں آیا ہے۔ یہ اس بناء پر ہے کہ وہ ارتباط اور قریبی تعلق رکھتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کھڑا ہونے کے معنی میں ہے۔
لیکن ان آیات میں "شبِ زندہ داری" کی مقدار کے بارے میں کو مختلف تعبیریں آئی ہیں ، وہ حقیقت میں "اختیار" کو بیان کرنے کے لیے ہیں، اور وہ پیغمبر کو یہ اختیار دیتی ہین کہ آدھی رات یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ بیدار رہیں اور قرآن کی تلاوت کریں ، پہلے مرحلہ میں "ساری رات" سواۓ تھوڑی سی مقدار کے زکر کرتا ہے، اور اس کے بعد اس میں تحفیف کرکے آدھی رات تک پہنچاتا ہے، اور اس کے بعد آدھے سے بھی کم ۔
بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے "دو تہائی" "آدھی" اور "ایک تہائی" رات کے درمیان تحییر مراد ہے۔ اس ایت کے قرینہ سع جو اسی سورہ کے آخر میں آۓ گی، جس میں فرماتا ہے : (اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ)۔
ضمنی طور پر سورہ کے آکر کی اسی آیر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اس رات کے قیام میں اکیلے نہیں تھے، بلکہ مومنین کا ایک گروہ بھی اس خود سازی و تربیتی اور آمادگی کے پروگرام میں پیغبر کے ساتھ تھا اور انھوں نے اس راہ میں آپ کو ایک اسوہ اور نمونہ کے طور پر قبول کیا ہوا تھا۔
بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ "قُمِ اللَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا" کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ بعض راتوں کے سوا تمام راتوں میں قیام کی کر ، اور اس طرح سے استثناء رات کے حصوں میں نہیں ہے، بلکہ راتوں کے افراد میں ہے۔ لیکن یہ تفسیر " " کے مفرد ہونے اور "نصف" (آدھی) اور اس سے کمتر کی تعبیر کے ساتھ درست نظر نہیں آتی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد اس سخت اور اہم حکم کے"ہدف تہائی" اور "مقصد اصلی" کو اس طرح بیان کرتا ہے: "ہم عنقریب ایک سخت بات کا تجھ کو القاء کریں گے"۔(اِنَّا سَنُلْقِىْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا)۔
اگرچہ مفسرین "قول ثقیل" کے بارے میں الگ الگ بیان رکھتے ہیں، جو مسئلہ ایک ہی پہلو کو پیش کرتے ہیں ،
لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قول کا سنگین ہونا، جس سے بلا شک و شبہ قرآن مجید مراد ہے، مختلف پہلوؤں سے ہے۔
آیات کے مفہوم اور مطالب کے لحاظ سے سنگین ۔
دلوں کے تحمل کے لحاظ سے سنگین ، یہاں تک کہ خود قرآن کہتا ہے : (لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٝ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّـٰهِ): "اگر ہم اس قرآن کو پہاڑوں پر نازل کرتے، تو تُو اسے خاشع اور شگافتہ دیکتا" (حشر ــــــــ 21)
وعدوں اور وعیدوں ، ذمہ داریوں اور مسئولیتوں کے بیان کہ لحاط سے سنگین۔
تبلیغ اور دعوت کی راہ کی مشکلات کے لحاظ سے سنگین۔
ترازوۓ عمل اور عرصۂ قیامت میں سنگین
اور آخر میں پروگرام پیش کرنے اور اس کے مکمل اجراء کے لحاظ سے سنگین،
ہاں ! اگرچہ قرآن کا پڑھنا سہل و آسان اور زیبا و دلنشین ہے لیکن اس کے مفاد اور معانی کو لانا اسی نسبت سے سنگین اور مشکل ہے، خصوصًا پیغمبرکی دعوت کے آغاز میں ، اور آپ کے مکہ میں قیام کرنے کے وقت ، جب ماحول کو جہالت، بت پرستی اور خرافات کے تیرہ و تاریک بادلوں نے گھیر رکھا تھا، لیکن پیغمبراکرامؐ اور ان کے تھوڑے سے ساتھی، قرآن مجید کی تربیت سے مدد لیتے ہوۓ ، اور نمازِ شب سے اعانت طلب کرتے ہوۓ اور پروردگار کی پاک ذات کے تقرب سے استفادہ کرتے ہوۓ ان تمام مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے اور اس "قول ثقیل" کے بار کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اسے منزلِ مقصود تک پہنچا دیا۔
ــــــــــــــــــــــــــ