Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2: آئمہ کے علم غیب کو ثابت کرنے کی ایک اور راہ

										
																									
								

Ayat No : 25-28

: الجن

قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا ۲۵عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۲۶إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا ۲۷لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا ۲۸

Translation

کہہ دیجئے کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ وعدہ قریب ہی ہے یا ابھی خدا کوئی اور مدّت بھی قرار دے گا. وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے. مگر جس رسول کو پسند کرلے تو اس کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر کردیتا ہے. تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے اور وہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اس پر حاوی ہے اور سب کے اعداد کا حساب رکھنے والا ہے.

Tafseer

									     2- ائمہ کے علمِ غیب کو ثابت کرنے کی ایک اور راہ 
 یہاں اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے کہ پیغمبرؐ اور آئمہ معصومین اجمالی طور پر اسرارِ غیب سے آگاہ تھے دو اور راستے بھی ہیں :
 پہلا یہ کہ ان کی ماموریت کسی خاص مکان و زمان میں محدود نہیں تھی، بلکہ پیغمبر کی رسالت اور آئمہ کی امامت جہانی اور جادوانی ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اس قسم کی وسیع ماموریت اور ذمہداری رکھتا ہو ، اور وہ اپنے محدود  زمانہ اور ماحول کے سوا کسی قسم کی آگاہی نہ رکھتا ہو؟ کیا وہ شخص ، جو مثلاً کسی ملک ایک بہت بڑے حصہ کی امارت اور گورنری پر مامور ہو، اس علاقہ سے بے خبر ہوسکات ہے اور پھر یوں وہ اپنی ماموریت کو اچھی طرح انجام دے سکتا ہے ؟   
 دوسرے الفاظ میں : پیغمبرؐ اور امام کو اپنی مدتِ حیات میں، احکامِالٰی کو اس طرح بیان و اجراء کرنا چاہیے کہ وہ ہر زمانہ اور مکان کے تمام انسانون کی ضروریات کے لیے جواب دہ ہوں اور یہ ممکن نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اسرارِ غیب کے ایک حصہ کو جانتے ہوں۔ 
 دوسرا یہ کہ: قرآن مجید میں تین آیات ایسی ہیں کہ اگر ہم انھیں ایک دوسری کے ساتھ رکھ دیں تو اس سے پیغمبرؐ اور آئمہ کے علم کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے۔پہلی یہ قرآن اس زخص کے بارے میں جو "ملکہ سبا" کا تخت آنکھ جھپکنے میں سلیمانؑ کے پاس لے آیا (یعنی آصف بن برخیا) کہتا ہے:
  قال الذی عندہ علم من الکتاب ان اٰتیک بہ قبل ان یرتدالیک طرفک فلما راٰہ مستورًا عندہ قال ھٰذا من فضل ربی
  "اس شخص نے ، جو کتاب میں سے کچھ علم رکھتا تھا، کہا میں اس کو آنکھ جھپکنے پہلے ےیرے پاس لے آؤںگا، جب
   سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا ہو دیکھا تو کہا : یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے"۔ (نمل ـــــــــ  40)
 دوسری آیت میں ہے 
  قُلْ كَفٰى بِاللّـٰهِ شَهِيْدًا بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهٝ عِلْمُ الْكِتَابِ 
  "کہہ دیجیے میرے اور تمھارے درمیان گواہی کے لیے خدا اور وہ شخص جس کے پاس علمِ کتاب ہے کافی ہے"۔ (رعد ــــــــ 43)
 دوسری طرف بہت سی احادیث میں ، جو اہل سنت اور شیعہ کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ، اس طرح آیا ہے کہ ابو سعیدخدری کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ خدا سے "الذی عندہ علم من الکتاب" مے معنی پوچھے ، تو آپ نے فرمایا : وہ میرے بھائی سلیمان بن داؤد کا وصی تھ، تو میں نے کہا"ومن عندہ علم الکتاب" کون ہے، تو آپ نے فرمایا :
            ذاک اخی علی بن ابی طالب
            "وہ میرے بھائی علی ابی طالب ہیں"۔ ؎ 1
 اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "علم من الکتاب" جو "آصف" کے بارے میں آیا ہے، علمِ جزئی کو بیان کرتا ہے ، اور "علم الکتاب" جو علی کے بارے میں آیا ہے ، وہ علمِ کلی کو بیان کرتا ہے، اس سے "آصف " اور علیؑ کے مقام علمی کے درمیان فرق واضح ہوجاتا ہے۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1   "احقاق الحق" جلد 3 ص 280-281  اور  "نورالثقلین" جلد 2  ص 523 کی طرف رجوع کریں۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 تیسری طرف سورہ نحل کی آیہ 89 میں آیا ہے :  وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَىْءٍ:  "ہم نے قرآن کو تجھ پر نازل ہے، جو ہر چیز کو بیان کرتا ہے"۔
 واضح رہے کہ جو شخص اس قسم کی کتاب کے اسرارِ کا عالم ہو اسے غیب کے اسرار کو جاننا چاہیے اور اس چیز پر ایک واضح اور آشکار دلیل ہے کہ اولیاء خدا میں سے کوئی انسان حکمِ خدا سے اسرارِ غیب پر آگاہ ہوسکتا ہے۔  
 علمِ غیب کے سلسلہ میں ہم نے سورہ انعام کی آیہ 50 ، 59  (جلد 5 ص 245 ، 268) اور آیہ 188 سورہ اعراف (جلد 7 ص 46) کے ذیل میں بھی بحث کی ہے۔