Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3: جن کی خلقت کے بارے میں تحقیق

										
																									
								

Ayat No : 25-28

: الجن

قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا ۲۵عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۲۶إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا ۲۷لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا ۲۸

Translation

کہہ دیجئے کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ وعدہ قریب ہی ہے یا ابھی خدا کوئی اور مدّت بھی قرار دے گا. وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے. مگر جس رسول کو پسند کرلے تو اس کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر کردیتا ہے. تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے اور وہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اس پر حاوی ہے اور سب کے اعداد کا حساب رکھنے والا ہے.

Tafseer

									     3- "جن" کی خلقت کے بارے میں تحقیق 
 "جن" جیسا کہ اس لفظ کے لغوی مفہوم سے معلوم ہوتا ہے ایک ایسا نظر نہ آنے والا موجود ہے جس کے بہت سے مشخصات قرآن میں ذکر ہوئے ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں :
 1- ایک ایسا وجود ہے جو آگ کے شعلہ سے پیدا ہوا ہے، انسان کے برخلاف جو مٹی سے پیدا ہوا ہے(و خلق الجان من مارچ من نار)  (الرحمٰن ــــــــــ 15)
 2-    وہ علم و ادراک اور حق واباطل کی پہچان ، اور منطق و استعدلال کا حامل ہے (سورہ جن کی مختلف آیات)
 3-    وہ تکلیف و مسئولیت (فرائض و وظائف) رکھتا ہے۔ (سور جن اور سورہ رحمٰن کی آیات)
 4-    ان میں سے ایک گروہ مومن و صالح اور ایک گروہ کافر ہے۔(و انا منا الصالحون و منا دون ذالک)  (جن ـــــــ 11)
 5-    وہ حشر و نشر اور معاد و قیامت رکھتے ہیں (واما القاچطون فکانوا الجھنم حطبًا)  (جن ــــــ 15)
 6-     وہ آسمانوں میں نفوذ کرنے ، اور وہاں سے خبریں لینے اور چوری چھپے سننے کی قدرت رکھتے تھے، لیکن پھر انھیں دیا گیا۔ (وانا کنا نقعد منھا مقاعدللسمع فمن یستمع الاٰن یجدلہ شھابًا رصدًا)   (جن ـــــــــــ 9)
 7-     وہ بعض انسانوں کے ساتھ رابط پیدا کرلیا کرتے تھے، اور اس محدود آگاہی کے ذریعہ جو وہ بعض پوشیدہ اسرار کے بارے میں رکھتے تھے، انسانوں کو گمراہ کرتے تھے۔ (وانہ کان رجال من الانس یعوذون برحال من الجن فزادوھم رھقًا)                                         (جن ـــــــــ  6)
 8-     ان میں کچھ ایسے افراد بھی پاۓ جاتے ہیں، جو بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں، جیسا کہ انسانوں میں بھی ایسے افراد ہیں (قال عفریت من الجن انا اٰتیک یہ قبل ان تقوم من مقا مک) ایک سرکش جن نے سلیمان سے کہا : "میں ملکہ سباء کا تخت ، اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے (دربار برخواست کرکے)اس کی سر زمین سے یہاں آؤں گا"  (نمل ــــــ 39)
 9-      وہ انسانوں کے بعض ضروری کاموں کے انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں (ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ ۔۔۔۔ یعملون لہ ما یشاء من من محاریب و تماشیل و جفان کالجواب) "جنات کا ایک گروہ خدا کے حکم سے سلیمان کے سامنے کام کیا کرتا تھا اور اس کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ عبادت خانے، تصویریں اور بڑے بڑے برتن تیار کیا کرتے تھا"۔ (سبا ـــــــــــــ 12- 13)  
 10-    ان کی خلقت روۓ زمین پر انسانوں کی خلقت سے پہلے تھی (والجان خلقناہ من قبل)
( حجرـــــــــ27) اور کچھ دوسری خصوصیات۔
اس کے علاوہ قرآنی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ عام لوگوں میں مشہور ہے اور وہ انھیں "پم سے بہتر" سمجھتے ہیں، اس کے برخلاف انسان ایک ایسی نوع ہے جو ان سے بہتر اور برتر ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ تمام خدائی پیغمبر انسانوں میں سے انتخاب ہوۓ، اور وہ پیغمبر اسلام پر جو نوع بشر میں سے تھے، ایمنان لاۓ اور آپ کی جمیعت اور پیروی کی، اور اصولی طور پر شیطان پر آدم کے سامنے سجدہ کا واجب ہونا جو قرآن کی تصریح کے مطابق اس وقت گروہ جن (کے بزرگوں) میں سے تھا۔ (کہف ـــــــــ 50) نوع انسان کی جن پر فضیلت پر دلیل ہے۔
 یہاں تک تو ان مطالب سے گفتگو تھی۔ جو قرآن مجید سے، اس نظر نہ آنے والے موجود کے بارے میں معلوم ہوتے ہیں، جو ہر قسم کی بے ہودگی اور غیر علمی مسائل سے خالی ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ عامتہ الناس نے بہت سی خرافات اس موجود کے بارے میں گھڑی ہوئی ہیں جو عقل و منطق کے ساتھ سازگار نہیں ہیں اور اسی بناء پر ایک خرافاتی اور غیر منطقی چہرہ اس موجود کو دیا گیا ہے کہ جونہی لفظ "جن" بولا جاتا ہے تو چند ایک خرافات بھی اس کے سامنے آجاتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ انھیں عجیب و غریب اور وحشت ناک شکلوں اور دمدار و سم وار و موذی و پرآزار ، کینہ پرور و بد رفتار سمجھتے 
ہیں جو گرم پانی کے ایک برتن کو کسی خالی جگہ میں انڈیلنے سے گھروں کو آگ لگاسکتے ہیں۔ اور اسی قسم کےدوسرےموہومات۔
 حالانکہ اگر وجود جن کو ان خرافات سے الگ کیا جاۓ تو اصل مطلب مکمل طور پر قابلِ قبول ہے، کیونکہ زندہ موجودات کے صرف ان ہی چیزوں میں منحصر ہونے پر، جنھیں ہم دیکھتے ہیں ، کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ علماء اور علوم طبیعی کے ماہرین کہتے ہیں کہ وہ موجودات ، جنھیں انسان اپنے حواس کے ساتھ روک کرسکتا ہے، ان موجودات کے مقابلہ میں، جو اس کے ساتھ قابلِ ادراک نہیں کچھ بھی نہیں ہیں۔
 ان آخری آیام تک جب تک کہ خوردبین سے زندہ موجودات کا انکشاف نہیں ہوا تھا، کوئی شخص یہ یقین نہیں کرتا تھا کہ پانی ایک قطرہ میں ، یا خون کے ایک قطرہ میں ہزارہا زندہ جاندار موجود ہیں، جن کو دیکھنے کی انسان میں قدرت نہیں ہے۔  
 نیز ماہرین کہتے ہیں: ہماری آنکھ نہ صرف محدود رنگوں کو ہی دیکھتی ہے، اور ہمارا کان محدود و صوتی امواج کو ہی سنتا ہے، وہ رنگ اوت آواز جو ہماری آنکھ اور کان سے قابل ادراک نہیں ہیں، ان سے بہت ہی زیادہ ہیں جو قابل ادراک ہیں۔
 جب عالم کی وضع و کیفیت اس طرح کی ہو، تو پھر کون سی تعجب کی بات ہے ، کہ انواع و اقسام کے زندہ موجودات اس عالم موجود  ہوں، جنھیں ہم اپنے حواس کےساتھ درک نہ کرسکتے ہوں ، اور جب پیغمبراسلامؐ جیسا مخبر صادق ان کے متعلق خبر دے ، توہم اسے قبول کیوں نہ کریں؟  
 بہرحال ایک طرف تو قرآن نے ، جو کلام ناطقِ صادق ہے، جنات کے وجود کی ان خصوصیات کے ساتھ، جو اوپر ذکر ہوئی ہیں، خبر دی ہے، اور دوسری طرف کوئی عقلی دلیل اس کی نفی پر موجود نہیں ہے، لہذا اس کو قبول کرلینا چاہیے اور غلط و ناروا توجہیات سے بچنا چاہیے، اور اسی طرح سے عوام کے خرافات سے اس سلسلہ میں اجتناب کرنا چاہیے۔
 یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ "جن" کبھی ایک زیادہ وسیع مفہوم پر بولا جاتا ہے، جو نظر نہ آنے والے کئی موجودات کے انواع کو شامل ہے۔ عام طور پر گھونسلوں میں چھپا رہتا ہے، اس وسیع معنی داخل ہے۔
 اس بات کی شاہد وہ روایت جو پیغمبرؐ سے نقل ہوئی ہے، آپ نے فرمایا:
  خلق اللہ الجن خمسۃ اصناف: صنف کالریح فی الھواء، و صنف
  حیات و صنف عقارب، و صنف حشرات الارض ، و صنف کبنی
  اٰدم علیھم الحساب والعقاب
  "خدا نے جنوں کو پانچ اقسام میں پیدا کیا ہے: ایک صنف تو ہوا کی طرح فضا میں ہے(جو نظر نہیں
  آتی)۔ایک صنف سانپوں کی صورت میں ہے، ایک صنف بچھوؤں کی صورت میں ہے، ایک صنف
  زمین ہیں اور ایک صنف ان میں سے انسان کی مانند ہے ، جس پر حساب و عتاب ہے"۔ ؎ 1
  اس روایات اور اس کے وسیع مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے بہت سی مشکلات، جو روایات و حکایات ہیں، جنات کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، حل ہوجائیں گی۔
 مثلاً بعض روایات میں امیرالمومنین علیؑ سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:  
  لا تشرب الماء من ثلمۃ الاناء الا من عروتہ فان الشیطان یقعد علی
  العروۃ والثلمۃ
  برتن کے ٹوٹے ہوۓ حصہ اور اس کے دستے والی طرف سے پانی نہ پئو، کیونکہ شیطان اس کے 
  دستہ اور ٹوٹے ہوۓ حصہ پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔ ؎ 2 
 اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ "شیطان" "جنوں" میں سے ہے، اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ برتن کی ٹوتی ہوئی جگہ، اور اسی طرح اس کا دستہ ، انوع و اقسام کے جراثیم کی اجتماع کی جگہ ہوتا ہے۔ یہ بعید نظر نہیں آتا کہ "جن و شیطان" "عام مفہوم " کے لحاظ سے اس قسم کے موجودات کو بھی شامل ہوں، اگرچہ اس کا ایک خاص معنی ہے، جو ایک ایسا موجود ہے جو فہم و شعور اور مسئولیت و 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1    "سفینۃ المجار" جلد اول ص 186 (مادہ جن) 
  ؎ 2    "کتاب کافی"  جلد 6 ص 385 کتاب الا شربہ باب الاوانی حدیث 5
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تکلیف (فرائض و وظائف) رکھتا ہے، اور اس سلسلہ میں روایات بہت زیادہ ہیں۔ ؎ 1
 پروردگارا! اس دن جس میں جن وانس تیری دادگاہ عدل میں حاضر ہوں گے، اور سب بدکار اپنے کیے پر پیشمان ہوں گے، تو ہمٰن اپنے سایہ لطف میں قرار دے۔
 خداوندا ! تیرہ مکل کا دامن واسیع اور کشادہ ہے اور ہماری معلومات اور معرفت محدود ہے، ہمیں لغزیشوں ، خطاؤن اور غیر حق فیصلے کرنے سے مصنون و محفوظ رکھ۔
 بارِالہا ! تیرے پیغمبر کا مقام اتنا بلند ہے کہ اس کی دعوت کو انسانوں کے عکاوہ جن و پری نے بھی قبول کیا ہے، ہمیں اس دعوت پر ایمان لانے والوں میں سے قرار دے ۔
      آمین یاربالعالمین
      اختتام سورہ جن
         روز جمعہ 21 محرالحرام 1407 ھ
            1365/7/4  
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

        اختتام ترجمہ 
           بروز جمعہ یکم صفر 1408ھ
              بمطابق 25 ستمبر 1987 ء
        بوقت تقریباً ساڑے پانچ بجے صبح
                 18 ای ماڈل ٹاؤن۔ لاہور
_______________________________________________________________
  ؎ 1 کتاب "اولین دانش گاہ و آخرین پیغمبر" کی پہلی جلد میں اس سلسلہ میں تقریباً تیس ورایات جمع کی گئی ہیں