1: علم غیب کے بارے میں ایک وسیع تحقیق
قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا ۲۵عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۲۶إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا ۲۷لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا ۲۸
کہہ دیجئے کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ وعدہ قریب ہی ہے یا ابھی خدا کوئی اور مدّت بھی قرار دے گا. وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے. مگر جس رسول کو پسند کرلے تو اس کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر کردیتا ہے. تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے اور وہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اس پر حاوی ہے اور سب کے اعداد کا حساب رکھنے والا ہے.
چند نکات
علمِ غیب کے بارے میں ایک وسیع تحقیق
قرآن کی مختلف آیات میں غور کرنے سے اچھی طرح واخح ہوجاتا ہےکہ علم غیب کے سلسلہ میں دو قسم کی آیات موجود ہیں ، پہلی قسم کی آیات تو وہ ہیں جو علمِ غیب کو خدا کے ساتھ مخصوص کرتی ہیں ، اور اس کے غیر سے اس کی نفی کرتی ہیں مثلًا سورہ انعام کی آیہ 59، وَعِنْدَهٝ مَفَاتِـحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ : غیب کی چابیاں خدا ہی کے پاس ہیں ، اسکے سوا کوئی شخص انھیں نہیں جانتا اور سورہ نمل کی آیہ 45 ، قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّـٰهُ ، کہہ دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں سے کوئی شخص بھی غیب کو نہیں جانتا ، سوائے خدا کے۔
اور پیغمبرؐ کے بارے میں سورہ انعام کی آیہ 50 میں جو کچھ آیا ہے، مثلًا :قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِىْ خَزَآئِنُ اللّـٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : کہہ دیجیے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں ، اور میں غیب کو نہیں جانتا۔
سورہ اعراف کی آیہ 188 میں آیا ہے : وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْـثَرْتُ مِنَ الْخَيْـرِۚ " اگر میں غیب کو جانتا ہوتا تو میں بہت سی خیر فراہم کرلیتا"۔ اور آخر میں سورہ یونس کی آیہ 20 میں آیا ہے : فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّـٰهِ : "کہہ دیجے کہ غیب رو خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے"
اور اسی قسم کی دوسری آیات ۔
دوسرا حصہ ان آیات کا ہے جو وضاحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ اولیاء خدا "اجمالی طور پر" علمِ غیب سے اغاہی رکھتے ہیں ، جیسا کہ آل عمران کی آیہ 179 میں آیا ہے : وَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ يَجْتَبِىْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ يَّشَآءُ :"اور خدا تم کو اپنے غیب سے آگاہ نہیں کرے گا لیکن خدا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے (غیب کے لیے) منتخب کر لیتا ہے (اور اسرارِ غیب کا ایک حصہ انھیں عظا کر دیتا ہے)"۔
اور حضرت عیسٰے عکیہ السلام کے معجزات میں بیان ہوا ہے کہ انھوں نے فرمایا : وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِىْ بُيُوْتِكُمْ ۚ : "میں تمھیں اس جو تم کھاتے ہو یا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرت ہو، خبر دیتا ہوں"، (آل عمران ـــــــــــــ 49)
زیرِ بحث آیت بھی، اس استثناء کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو اس میں آیا ہے ، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خدا علمِ غیب کا ایک حصہ اپنے برگزیدہ رسولوں کو عطا فرماتا ہے (کیونکہ نفی سے استثناء ہمیشہ اثبات میں ہوتا ہے)۔
دوسری طرف قرآن کی وہ آیات جو غیب کی خبروں پر مشتمل ہیں ، وہ بھی کم نہیں ۔ مثلاً سورہ روم کی دوسری آیت سے لے کر چوتھی تک غُلِبَتِ الرُّوْمُ
فِىٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُـمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِـمْ سَيَغْلِبُوْنَ فِىْ بِضْعِ سِنِيْنَ : "رومی مغلوب ہوگئے ہیں، اور یہ شکست نزدیک کی سرزمین میں واقع ہوئی ہے، لیکن وہ اس مغلوبیت بعد عنقریب غالب ہوں گے ، چند ہی سالوں کے اندر اندر"۔ اور سورہ قصص کی آیت 85 جو کہتی ہے: اِنَّ الَّـذِىْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ۚ : "وہ ہستی جس نے قرآن کو تجھ پر فرض کیا ہے، وہ تجھے تیری جگہ (مکہ) کی طرف پلٹائےگا"۔
اور سورہ فتح کی آیہ 27 کہتی ہے : لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ اٰمِنِيْنَ : "انشاءاللہ تم مسجدالحرام میں انتہائی امن و امان کے ساتھ داخل ہوگئے" ۔
اور اسی قسم کی دوسری آیات۔
اصولی طور پر آسمانی وحی جو پیغمبرون پر نازل ہوتی ہے، ایک قسم کا غیب ہی ہے جو انھیں عطا کیا جاتا ہے۔ یہ کیسے کہا جاسکاتا ہے کہ وہ غیب سے آگاہی نہیں رکھتے جبکہ ان کے اوپر وحی نازل ہوتی ہے۔
اب سب بتوں سے قطعِ نظر ہمارے پاس بہے سی ایسی روایات موجود ہیں جو اس کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرامؐ اور آئمہ معصومین اجمالی طور پر غیب کا علم رکھتے تھے اور بعض اوقات اس کی خبر دیا کرتے تھے۔ مثلاً فتح مکہ کی داستان اور "حاطب بن ابی بلتعہ" کے وقعہ میں جس میں مکہ کے لوگوں کو خط لکھا تھااور وہ خط مشرکینِ مکہ کے پاس پہنچانے کے لیے "سارہ" نامی عورت کے حوالے کیا گیا تھا، تاکہ وہ انھیں لشکرَاسلام کے قریب الوقوع حملہ سے آگاہ کردے۔ٓ اور وہ عورت اس خط کو اپنے گیسوؤں کے درمیان چھپا کر مکہ کی طرف چل پڑی تھی۔ پیغمبرؐ نے علیؑ اور کچھ دوسرے مسلمانوں کو اس کے پیچھے بھیجا، اور فرمایا: تمھیں ایک منزل گاہ پر جس کا نام روضۂ "خاج" ہے ایک عورت ملے گی اس کے پاس "حاطب" کا خط ہے، جو مشرکینِ مکہ کے نام ہے، تم اس سے وہ خط لےلو، جب وہ سب کے سب وہاں پہنچھے تو انھیں وہ عورت مل گئی، شروع میں اس نے سختی کے ساتھ انکار کیا، لیکن آخر کار اس نے اعتراف کرلیا اور انھوں نے وہ خط اس سے لے لیا۔ ؎ 1
اس کے علاوہ جھنگَ "موتہ" کا واقعہ اور جعفر اور لشکرِ اسلام کے بعض دوسرے کماندروں کی شہادت کی خبر دینا۔ جسکی پیغمبرؐ نے ، مدینہ میں مسلمانوں کو ، اسی لحمہ میں، جبکہ یہ واقعہ رونما ہوا تھا، خبر دیتھی۔ ؎ 2 اور اس قسم کے اخبارِ غیب کی مثالیں پیغبرؐ کی زندگی میں کم نہیں ہیں۔
نہج البلاغہ میں بھی آئندہ کے واقعات کی بہت سی پیشین گوئیاں نظر آتی ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ علیؑ ان اسرارِ غیب کو جانتے تھے۔ مثلاً وہ باتیں جو خطبہ 13 میں اہلِ بصرہ کی مزمت میں بیان ہوئی ہیں ۔ جس میں آپ فرماتے ہیں :
کانی بمسجد کم کجؤ جؤ سفینۃ قد بعث اللہ علیھا الوذاب من فوقھا و من تحتھا و غرق من فی ضمنھا
"گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمان و زمین سے خدا کا عذاب تم پر نازل ہورہا ہے اور تم سب کے سب اس میں غرق ہوئے ہو، صرف تمھاری مسجد کی چوٹی کشتی کے سینہ کی طرح پانی کے اوپر نمایاں ہے"
اور دوسری رویات میں بھی جو علمئے اہل سنت اور شعہ کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں، آئندہ کے واقعات کے بارے میں آنحضرتؐ سے بہت سی پیشین گوئیاں آئی ہیں ، جیسا کہ "ہجر بن قیس" کے بارے میں ہے کہ آپ نے فرمایا : تجھے میرے بعد لعنت کرنے پر مجبور کریں گے ۔ ؎ 3
اور جو کچھ آپؐ نے "مروان" کے بارے میں فرمایا کہ وہ بڑھاپے کے بعد ضلالت و گمراہی کا پرچم کندھے پر اٹھائے گا ۔ ؎ 4
اور جو کچھ "کمیل بن زیاد" نے حجاج سے کہا تھا کہ امیرالمومنین نے مجھے خبر دی ہے کہ تو میرا قاتل ہے۔ ؎ 5
اور جو کچھ آپنے خوارج نہروان کے بارے میں فرمایا تھا ، کہ ان کی جنگ میں ہمارے گروہ کے سد آدمی بھی نہیں مارے جائیں گے، اور ان میں سے دس آدمی بھی نجات نہیں پائیں گے اور حقیقتاً اسی طرح واقع ہوا۔ ؎ 6
اور جو کچھ امام حسینؐ کی قبر کی جگہ کے بارے میں سرزمینِ کربلا کے قریب سے عبور کے وقت "اصبغ بن بناتہ سے فرمایا"۔ ؎ 7
کتاب فضائل الخمسہ میں، اہل سنت کی کتابوں سے، علیؑ کے علم کی حد سے زیادہ وسعت کے بارے میں، بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں، ان سب کا یہاں بیان طول کا باعث ہوگا۔ ؎ 8
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 اس واقعہ کی تفصیل حوالہ کے ساتھ اسی جلد میں سورہ ممتحنہ کی تفسیر میں ہے۔
؎ 2 "کامل ابن اثیر" جلد 2 ص 237 (واقعہ غزوہ موتہ)۔
؎ 3 مستدرک الصححین جلد 2 ص 358
؎ 4 طبقات ابن سعد جلد 5 ص 30
؎ 5 الاصابہ ابن حجر، جلد 5 قسم 3 ص 325
؎ 6 "ہیثمی" نے "مجمع" جلد 6 ص 241 پر
؎ 7 "الریاض النظرہ" جلد 2 ص 222
؎ 8 "فضائل الخمسہ" جلد 2 ص 231 تا 253
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہل بیت کی روایات میں بھی متعدد حدیثوں میں معصومین کے لیے علمِ غیب کا اشارہ ہوا ہے۔ منجملہ ان کے کتاب کافی جلد اول متعدد ابواب میں اس بارے میں تصریح یا اشارے نظر آتے ہیں۔
مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانور کی جلد 26 میں ، اس سلسلہ میں بہت سی احادیث جو 22 حدیثوں تک پہنچتی ہیں نقل کی ہیں۔
مجموعی طور پر پیغمبر اکرامؐ اور آئمہ معصومین کے لیے اسرارِ غیب سے آگاہی کے سلسلہ میں روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔
اب بحث صرف یہ ہے کہ ان روایات و آیات کے درمیان، جن میں سے بعض غیر خدا سے علمِ غیب کی نفی کرتی ہیں بعض اثبات کرتی ہیں کس طرح جمع کی جائے؟
یہاں جمع کے لیے مختلف طریقے موجود ہیں۔
جمع کے طریقوں میں سے مشہور ترین طریقہ یہ ہے کہ علمِ غیب کے خدا کے ساتھ اختصاص سے مراد علمِ ذاتی واستقلالی ہے اس بناء پر اس کا غیر مستقل طور پر ہرگز علمِ غیب سے آگاہی حاصل نہیں کرسکتا، اور ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کے الطاف و عنایت سے ہے اور تبعی جنبہ رکھتا ہے۔
اس مجع کا شاہد یہی زیرِ بحث آیت ہے، جو کہتی ہے : خدا کسی کو بھی اپنے اسرارِ غیب سے آگاہ نہیں کرتا ، مگر وہ رسول جس سے وہ راضی ہے ۔
"نہج البلاغہ" میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ جب علیؑ آیندہ کے واقعات کی خبر دے رہے تھے (اور اسلامی ممالک پر مغلوں کے حملہ کی پیشین گوئی کررہے تھے) اور آپ کے اصحاب میں سے ایک نے عرض کیا : اے امیرالمومین کیا آپ علمِ غیب جانتے ہیں ؟ حضرت ہنسے اور فرمایا :
لیس ھو بعلم غیب، وانما ھو تعلم من ذی علم
"یہ علمِ غیب نہیں ہے، یہ ایک ایسا علم ہے جو صاحبِ علم (پیغمبرؐ) سے میں نے حاصل کیا ہے"۔ ؎ 1
اس جمع کو بہت علماء و محقیقن نے قبول کیا ہے۔
2- اسرارِ غیب دو قسم کے ہیں ، ایک قسم تو خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا۔ مثلاً قیامِ ﷺیامت اور اسی قسم کے دوسرے امور، اور ایک قسم وہ ہے کہ جس کی وہ انبیاء واولیاء کو تعلیم دیتا ہے۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں اسی خطبہ کے ذیل میں جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا ہے ، آیا ہے کہ :
وانما علم الغیب علم الساعۃ وما عددہ اللاہ سبحانہ بقولہ : ان اللہ عندہ علم الساعۃ ، وینزل الغیث و
یعلم ما فی الاوحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدًا و ما تدری نفس بای ارض تموت
"علمِ غیب تو صرف قیامت کا علم ہے اور وہ ہے جسے خدا نے اس آیت میں شمار کیا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے : قیامت کے وقت سے آگاہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 نہج البلاغہ ، خطبہ 128
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور وہی بارش کو نازل کرتا ہے ، اور جو کچھ ماؤں کے رِحم میں ہے، اسے جانتا ہے اور کوئی بھی شخص یہ نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرےگا، اور کس سرزمین میں مرے گا"۔
اس کے بعد امام نے اس معنی کی تشیح میں مزید فرمایا:
"خداوند اس سے جو رحموں میں برقرارہے، آگاہ ہے کہ لڑکا ہے یا لڑکی ، بدصورت ہے یا خوبصورت، سخی ہے یا بخیل، سعادت مند ہے یا شقی و بد ﷽خت ، اہل دوذخ ہے یا اہلِ جنت؟.......... یہ سب علوم غیب ہیں۔ جنھیں خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور ان کے علاوہ وہ علوم ہیں جن کی خدا نے اپنے پیغمبر کو تعلیم دی ہے اور انھوں نے ان کی تعلیم مجھے دی ہے ۔ ؎ 1 "
3- ان دونوں قسم کی آیات و روایات کے درمیان جمع کرنے کا ایک دوسرا راستہ یہ ہے کہ اسرارِغیب دو جگہ ثبت ہیں "لوح محفوظ" (علم خدا کے مخصوص خزانہ ) میں، جس میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغیر رونما نہیں ہوتا، اور اس سے کوئی بھی شخص آگاہ نہیں ہے اور (لوح محو و اثبات) جو مقتضیات کا علم ہے نہ کہ علت تامہ کا، اور اسی بناء پر وہ تغیر اور تبدیلی کے قابل ہے اور جسے دوسرے نہیں جانتے وہ اسی حصہ سے مربوط ہے۔
اسی لیے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے :
ان اللہ علمًا لم یعلمہ الاھو، وعلمًا اعلمہ ملائکتہ و رسولہ فما اعلمہ ملائکتہ و انبیاءہ و رسلہ فنحن نعلمہ
"خدا کا ایک علم تو ایسا ہے جسے اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا، اور ایک علم ایسا ہے ، جس سے
اس نے فرشتوں اور انبیاء کو آگاہ کیا ہے، جو کچھ اس نے فرشتوں ، انبیاء اور رسولوں کو دیا ہے ،
ہم بھی جانتے ہیں"۔ ؎ 2
امام علیؑ بن حسینؑ سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
لولا اٰیۃ کتاب اللہ لحدثتکم بما کان وما یکون الٰی یوم القیامۃ ! فقلت لہ ایۃ اٰیۃ ؟ فقال قول اللہ : یمحوا اللہ مایشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب
"اگر قرآنِ مجید میں ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمھیں اس سے بھی جو کہ پہلے گزر چکا ہے ، اور ان واقعات کی بھی
جو قیامت تک ہونے والے ہیں خبر دیتا، راوی کہتا ہے ، میں نے کہا : وہ کون سی آیت ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 نہج البلاغہ ، خطبہ 128
؎ 2 بحارالانوار جلد 26 ص 120 (حدیث 5) اس سلسلہ میں دوسری متعدد روایات بھی اس ماخز میں نقل ہوئی ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
فرمایا: خدا فرماتا ہے : یمحوااللہ مایشاء (خدا جس چیز کو چاہتا ہے محو کر دیتا ہے، اور جس چیز
کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے)، ام الکتاب (اور لوحِ محفوظ ) اسی کے پاس ہے "۔ ؎ 1
4- ایک دوسرا راستہ یہ ہے کہ خدا تو تمام اسرارِ غیب سے بالفعل آگاہ ہے، لیکن انبیاء و اولیاء ممکن ہے بہت سے اسرارِغیب کو بافعل نہ جانتے ہوں ، لیکن جب وہ ارادہ کرتے ہیں تو خدا انھیں ان کی تعلیم دے دیتا ہے، اور یقیقنًا یہ ارادہ بھی خدا کے اذان و رضا سے ہی انجام پاتا ہے۔
اسی بناء پر ان آیات و روایات میں جمع ، جو یہ بتلاتی ہیں کہ وہ نہیں جانتے ، تو وہ بالفعل نہ جاننے کی طرف اشارہ ہے، اور جو یہ کہتی ہیں کہ وہ جانتے ہیں وہ ان کے جاننے کی طرف اشارہ ہے۔
اس کی مثال ٹھیک اس طرح ہے کہ کقئی شخص ایک خط کسی آدمی کو دے کہ وہ دوسرے تک پہنچادے، تو یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسے خط کے مضمون کا کوئی علم نہیں ہے ، حالانکہ وہ خط کو کھول کر پڑھ سکتا ہے ، کبھی تو صاحبِ خط نے اسے مطالعہ کی اجازت دی ہوئی ہوتی ہے ۔ اس صورت میں اسے ایک لحاظ سے خط کے مضمون کا عالم سمجھا جاسکتا ہے اور لبھی اسے اجازت دی ہوئی نہیں ہوتی۔
اس مجع کی شاہد وہ ورایات ہیں جو کتاب کانی کے ایک باب میں ہے ان الائمۃ اذا شاء وا ان یعلموا علموا :"آئمہ جب کسی چیز کو جاننا چاہتے ہیں تو انھیں اس کا علم دے دیا جاتا ہے"کے عنوان کے تحت وارد ہوئی ہیں"۔
منجملہ ان کے ایک حدیث میں امام صادقؑ سے آیا ہے :
اذا ارادالامام ان یعلم شیئا اعلمہ اللہ بذالک
"جب امام کسی چیز کو جاننا چاہتا ہے تو خدا اسے اس کی تعلیم دے دیتا ہے"۔
مجع کی یہ وجہ ، پیغمبرؐ اور اور امام کے علم کے سلسلہ میں بہت سی مشکلات کو حل کردیتی ہے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ وہ اس پانی اور کھانے کو جس میں ذہر ملا ہوا ہوتا ہے، کس طرح کھا لیتے ہیں ، حالانکہ یہ بات جائز نہیں ہے کہ انسان کوئی ایسا کام کرے جو اس کے لیے خطرے کا موجب ہو، ایسے موقع کے لیے یہ کہنا پڑے گا کہ پیغمبر یا امام کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ اس کا ارادہ کریں کہ اسرارِ غیب ان پر آشکار ہوں ۔
اسی طرح بعض اوقات مڈلحت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر یا امام کسی مطلب پر آگاہ نہ ہوں ، یا کوئی امتحان اور آزمائش ایسی صورت پزیر ہو جو ان کے تکامل وارتقاء کا موجب بنے ، جیسا کہ "لیلۃ المبیت" کی داستان میں آیا ہے کہ علیؑ پیغمبرؐ کے بستر پر سوۓ، حالانکہ خود آنجناب سے نقل سے نقل ہوا ہے کہ آپ یہ نہیں جانتے تھے، کہ صبح کے وقت جب مشریکنِ قریش اس بستر پر حمہ کریں گے تو شہید ہوجائیں گے یا جان سلامت رہے گی۔
یہاں مصلحت یہ ہے کہ امام اس کام کے انجام سے آگاہ نہ ہو ، تاکہ خدائی آزمائش اور امتحان پورا ہوجاۓ اور اگر امام جانتے کہ وہ پیغمبر کے بستر پر سوئیں گے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 نورالثقلہن جلد 2 ص 512 (حدیث 160)
؎ 2 "کتاب کانی" باب ان الائمۃ اذآ شاء وا ان یعلموا علموا (حدیث 3) اسی مضمون کی دوسری روایات بھی اسی باب میں نقل ہوئی ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور صبح کو صحیح و سالم اٹھیں گے، تو یہ کوئی فخر کی بات نہیں تھی اور آیات قرآنی اور دیگر روایات میں اس ایثار و قربانی کی اہمیت کے سلسلہ میں جو کچھ وارد ہوا ہے کچھ قابلِ توجہ نظر نہیں آتا۔
ہاں علمِ اردی کا مسئلہ ، اس قسم کے تمام اشکالات و اعتراضات کا جواب۔
5- علمِ غیب کے سلسلہ میں مختلف رویات کے لیے جمع کی ایک اوت صرت بھی موجود ہے (اگرچہ یہ راہ ان روایات کے ایک حصہ پر صادق آتی ہے) اور وہ یہ ہے کہ ان روایات میں مخاطب مختلف تھے، وہ لوگ جو آئمہ کے بارے میں علمِ غیب کے مسئلہ کی قبولیت کی استعداد اور قابلیت رکھتے ہیں، انھیں تو حق مطلب بیان کر دیا جاتا تھا لیکن مخالف یا ضعیف و کم استعداد افراد کے لیے ، سننے والے کی سمجھ کے مطابق بات کی جاتی ہے۔
مثلاً ایک حدیث میں آیا ہے کہ ابوالبصیر اور امام صادقؑ کے بزرگ اصحاب میں سے کچھ اور افراد ایک مجلس میں بیٹھے ہوۓ تھے کہ امام غصہ میں بھرے ہوۓ مضلس میں داخل ہوۓ ، جب آپ بیٹھ گئے تو حاضرین مجلس سے فرمایا:
یاعجبا لا قوام یزعمون انا نعلم الغیب ! ما یعلم الغیب الااللہ عزوجل، لقد ھممت
بضرب جاریتی فلانۃ، فھربت منی فما علمت فی ای بیوت الدارھی
"تعجب ہے کہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم علمِ غیب جانتے ہیں (حالانکہ) خدا کے کوئی بھی علم غیب نہیں
جانتا۔ میں اپنی ایک کنیز کو تادیب کرنا چاہتاتھا، وہ میرے آگے سے بھاگ گئی اور مجھے یہ علم نہ ہوا کہ وہ گھر
کے کس کمرے میں ہے"۔ ؎ 1
حدیث کا راوی کہتا ہے کہ جس وقت امام اس مجلس سے اٹھے، تو میں اور کچھ دوسرے اصحاب آپ کی منزل میں داخل ہوئے اور ہم نئ کہا: ہم آپ پر قربان ہوں ، آپ نے اپنی کنیز کے بارے میں اس طرح فرمایا، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کے پاس بہت سے علوم ہیں ، اور ہم علمِ غیب کا تو کوئی نام نہیں لیتے ؟
امام نے اس سلسلہ میں تشریح کی جس کا مفہوم اسرارِ غیب پر آپ کی آگاہی تھا۔
واضح رہے اس مجلس میں کچھ ایسے افراد تھے ، جو ان معانی کے ادراک اور مقامِ امام کی معرفت کے لیے ضروری استعداد نہیں رکھتے تھے۔
اس بات پر توجہ رکھنا چاہیے کہ ان پانچوں طریقوں میں آپس میں کوئی منافات نہیں ہے اور سب ہی صادق ہوسکتے ہیں۔
(غور کیجیے)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 اصولِ کافی جلد 1 باب نادر فیہ ذکر الغیب حدیث 3