Tafseer e Namoona

Topic

											

									  عالم الغیب خدا ہے

										
																									
								

Ayat No : 25-28

: الجن

قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا ۲۵عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ۲۶إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا ۲۷لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا ۲۸

Translation

کہہ دیجئے کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ وعدہ قریب ہی ہے یا ابھی خدا کوئی اور مدّت بھی قرار دے گا. وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا ہے. مگر جس رسول کو پسند کرلے تو اس کے آگے پیچھے نگہبان فرشتے مقرر کردیتا ہے. تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچادیا ہے اور وہ جس کے پاس جو کچھ بھی ہے اس پر حاوی ہے اور سب کے اعداد کا حساب رکھنے والا ہے.

Tafseer

									       تفسیر
     عالم الغیب خدا ہے
 چونکہ گزشتی آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا تھا کہ اس گروہ کا استہزاء اور سر کشی اسی طرح سے جاری رہے گی ، جب تک کہ عذاب کا خدائی وعدہ نہیں آپہنچتا اور اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ جیسا کہ مفسرین نے اس آیت کے شانِ نزول میں بیان کیا ہے ، کہ بعض مشرکین نے "نضر بن حارث" کے مانند، گزشتہ آیات کے نزول کے بعد اسی سوال کو پیش کیا تھا، قرآنِ مجید اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے۔
 "کہہ دیجیے کہ میں نہیں جانتا، وہ چیز کا تم سے واعدہ کیا گیا ہے (دنیا کا عذاب اور قیام قیامت) قریب ہے، یا میرا پروردگار اس کے لیے کوئی زمانہ قرار دے گا۔" (قُلْ اِنْ اَدْرِىٓ اَقَرِيْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ يَجْعَلُ لَـهٝ رَبِّىٓ اَمَدًا)۔ 
 یہ علم خدا کی پاک ذات ساتھ مخصوص ہے، اور اس نے یہ چاہا ہے کہ یہ اس کے بندوں سے پوشیدہ رہے ۔ تاکہ مخلوق کے امتحان اور آزمائش کا موضوع مکمل ہو، کیونکہ اگر وہ یہ جان لیں کہ وہ دور ہے یا نزدیک ہے تو دونوں صورتوں میں امتحان کا اثر کم ہوجائے گا۔
 "امد" (بروزن صمد)زمانہ کے معنی میں ہے، اس فرق کے ساتھ کہ "مفردات" میں "راغب" کے قول کے مطابق کہ "زمان" تو ابتداء اور انتہاء دونوں کو شامل ہوتا ہے، لیکن "امد" صرف کسی چیز کی انتہاء کے زمانہ کو کہتے ہیں۔
 اہلِ لغت نے یہ بھی کہا ہے کہ "امد" اور "ابد" معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے نزدیک ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ "زمان" تو ابتداء اور انتہاء دونوں کو شامل ہوتا ہے، لیکن "امد" صرف محدود مدت چاہے وہ جتنی بھی طولانی ہو۔
 بہرحال ، قرآن مجید کی آیات میں بارہا یہ مطلب ہمارے سامنے آتا ہے کہ جب بھی قیامت کے زمانہ کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو پیغمبراکرمؐ اس سے بے اطلاع ہونے کا اظہار فرمایا کرتے تھے کہ "اس کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے"۔
 ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن "جبرئیل" ایک بدو عرب کی صورت میں پیغمبرؐ کے سامنے ظاہر ہوئے، اور ان سوالات میں سے جو انھوں نے آنحضرتؐ سے کیے ، ایک یہ تھا کہ :
         اخبرنی عن الساعۃ
         "  بتلائیے قیامت کب برپا ہوگی"؟
 پیغمبرؐ نے فرمایا :
        ماالمسئول عنھا باعلم من السائل
        "  جس سے سوال کر رہے ہو وہ (اس مسئلہ میں)سوال کرنے والے سے زیادہ آگاہ نہیں ہے"۔
 اس مرد ِعرب نے دوبارہ بلند آواز میں کہا:
        یامحمدؐ متی الساعۃ؟ 
       "  اے محمدؐ ! قیامت کب آئے گی"؟
 پیغمبرؐ نے فرمایا :
       ویحک انھا کائنۃ فمااعددت لھا ؟
        "  وائے ہو تجھ پر قیامت تو آ کر رہے گی، یہ تو بتا کہ تونے اس کے لیے کون سی چیز تیار کر رکھی ہے"۔
 اعرابی نے کہا :
                         
                          "   میں نے نماز و روزہ تو کوئی زیادہ فراہم نہیں کیا لیکن خدا اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہوں"۔
 پیغمبرؐ نے فرمایا :
            فانت مع من احببت
          "    پس تو اس کے ساتھ رہے گا جسے تو دوست رکھتا ہے"۔
 اصحابِ پیغمبرؐ میں سے ایک صحابی "انس" کہتے ہیں:

         فما فرح المسلمون بشیء فرحھم بھذا الحدیث
         "   مسلمان کسی حدیث پر اتنا خوش نہیں ہوئے ، جتنا کہ اس حدیث پر خوش ہوئے"۔ ؎ 1  
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد بحث کو جاری رکھتے ہوئے، علمِ غیب کے بارے میں ایک قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "عالم الغیب خدا ہے وہ کسی کو بھی اپنے غیب کے اسرار سے آگاہ نہیں کرتا"(عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٓ ٖ اَحَدًا) ۔ ؎2
     ــــــــــــــــــــ
 اس کے بعد اس کلی مسئلہ سے استثناء کے عنوان سے مزید کہتا ہے : "مگر وہ رسول کہ جسے اس نے برگزیدہ کیا ہے اور اس سے وہ راضی ہے"۔ (الامن ارتضٰی من رسول)۔
 وہ اسے جتنا چاہتا ہے علمِ غیب کی تعلیم دیتا ہے اور وحی کے ذریعہ اس تک پہنچاتا ہے۔
 
 "  پھر اس کے آگے اور پیچھے نگرانی کرنے والے نگہبان بھیجتا ہے"۔(فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلقہ رصدًا)۔ 
 "  رصد" اصل میں "مصدری" معنی رکھتا ہے اور کسی چیز کی نگرانی اور نگہبانی کے لیے آمادگی کے معنی میں ہے اور "اسم فاعل" اور "مفعول" پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور یہ مفرد و جمع دونوں استعمال ہوتا ہے۔ ص یعنی ایک نگرانی کرنے والا اور نگہبان فرد، یا نگرانی کرنے والے اور نگہبانوں کی ایک جماعت، دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور یہاں اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جھنیں خدا نزولِ وحی کے بعد حکم دیتا ہے کہ وہ اس کے پیغمبر کا ہر طرف سے احاطہ کیے رہیں ۔ اور شیاطین ، جن و انس اور ان کے وسوسوں سے، اور ان چیزوں سے، جو وحی کی اصالت کو خدشہ وار کرتی ہیں، محافظت اور پاسداری کریں، تاکہ اللہ کا پیغام کمی و زیادتی اور کسی معمولی سے معمولی خدشہ کے بغیر بندوں تک پہنچ جائے۔ 
 اور یہ بات خود پیغمبرؐ کے معصوم ہونے کی دلیل ہے کہ وہ غیبی قوتوں اور خدائی امدادوں اور اس کے فرشتوں کی نگرانی کے ذریعہ لغزیشوں اور خطاؤں سے مومون و محفوظ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
   ؎ 1  تفسیر  "مرافی" جلد 29 ص 105
  ؎ 2   "عالم الغیب"  ایک مبتدائے محذوف کی خبر ہے اور تقدیر "ھو العلم الغیب" ہے اور بعض نے اسے "ربی" کی صفت یا بدل قرار دیا ہے، جو گزشتہ آیت میں ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آخری زیرِ بحث آیت میں جو اس سورہ کی آخری آیت ہے، ان نگرانی کرنے والے نگہبانوں کے وجود کی دلیل کو اس طرح بیان کرتا ہے "مقصد یہ ہے کہ خدا جان لے کے پیغمبروں  نے اپنے پروردگار کے پیغامات بے کم و کاست پہنچا دیئے ہیں، اور جو کچھ ان کے پاس ہے ، خدا اس پر احاطہ رکھتا ہے، اور اس نے ہر ایک چیز کا باریکی کے ساتھ شمار کیا ہے"۔(لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسَالَاتِ رَبِّـهِـمْ وَاَحَاطَ بِمَا لَـدَيْهِـمْ وَاَحْصٰى كُلَّ شَىْءٍ عَدَدًا)۔ ؎ 1
  یہاں "علم" سے مراد علم فعلی ہے اور دوسرے لفظوں میں آیت کا معنی یہ نہیں ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کے بارے میں کسی چیز کو نہیں جانتا تھا اور بعد میں اس نے جانا ہے۔ کیونکہ خدا کا علم ازلی و ابدی اور بےپایاں ہے،بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ علم الٰہی خارج میں تحقق پائے اور عینی صورت اختیار کرے۔ یعنی پیغمبراس کی رسالت کی عملی طور پر تبلیغ کریں اور اتمام
حجت کریں۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
_____________________________________________________________________________
  ؎ 1   بہت سے مفسرین نے "لیعلم" کی ضمیر کو پیغمبراسلامؐ کی طرف لوٹایا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا اسرارِ وحی و رسالت کے لیے محافظ اور نگہبان قرار دیتا ہے ، تاکہ پیغمبرؐ جان لیں کہ انھوں نے وقت کے ساتھ، وحیِ الٰہی کو اس کے پاس پہنچا دیا اور کسی قسم ک شک اور تردد وحیِ الٰہی کی اصالت میں نہ کرے لیکن یہ تفسیر اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ رسالت تو پیغمبر کا کام ہے ، نہ کہ فرشتوں کا ، اور "رسول" کی تعبیر گزشتہ آیت میں اور "رسالات" کی تعبیر چند گزشتہ آیات میں، خود پیغمبرؐ کی ذات کے بارے میں آئی ہے۔ بعید نظر آتی ہے اور حق وہی پہلی تفسیر ہے۔