Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1: خدائی رہبروں کی صداقت

										
																									
								

Ayat No : 20-24

: الجن

قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا ۲۰قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ۲۱قُلْ إِنِّي لَنْ يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا ۲۲إِلَّا بَلَاغًا مِنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ۚ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۲۳حَتَّىٰ إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا ۲۴

Translation

پیغمبرآپ کہہ دیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا ہوں. کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ فائدہ کا. کہہ دیجئے کہ اللہ کے مقابلہ میں میرا بھی بچانے والا کوئی نہیں ہے اور نہ میں کوئی پناہ گاہ پاتا ہوں. مگر یہ کہ اپنے رب کے احکام اور پیغام کو پہنچادوں اور جو اللہ و رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم ّہے اور وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والا ہے. یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے اس عذاب کو دیکھ لیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور اور کس کی تعداد کمتر ہے.

Tafseer

									      چند نکات

 1-    خدائی رہبروں کی صداقت
 خدائی رہبروں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ "شیطانی رہبروں" کے بر خلاف ہرگز لمبے چوڑے وعدے نہیں کرتے اور اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے اور متکبر و مغرور نہیں ہوتے۔
 جبکہ فرعون انا ربکم الا علٰی ، "میں تمھارا اعلٰی اور بلند تر خدا ہوں "وھٰذہ الانھار تجری من تحتی: اور دریائےِ نیل کی بڑی بڑی شاخیں سب میری نظروں کے سامنے جاری ہیں"۔ کی احمقانہ فریاد بلند کرتا تھا، اور رہبرانِ الٰی، تواضع اور فروتنی سے، اپنے آپ کو خدا کے بندوں میں سے ایک چھوٹا سا بندہ بتلاتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ وہ اس کے ارادہ کے مقابلے میں اپنی طرف سے کوئی قدرت نہیں رکھتے۔
 سورہ کہف کی آہی 110 میں آیا ہے: قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰٓى اِلَـىَّ  : کہہ دیجیے میں تو تم جیسا ہی ایک بشر ہوں، سوائے  اس کے کہ میری طرف وحی ہوتی ہے۔
 اور دوسری جگہ آیا ہے : وما ادری ما یفعل بی الا بکم ان اتبع الا ما یوحٰی الی وما الا نذیر مبین"میں نہیں جانتا کہ خدا میرے ساتھ اور تمھارے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہو جس کی مجھ پر وحی ہوتی ہے اور میں ایک واضح ڈرانے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں"۔(احقاف ـــــــــ 9)
 ایک اور دوسری آیت میں آیا ہے : قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِىْ خَزَآئِنُ اللّـٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّـىْ مَلَكٌ ؛"کہہ دیجیے  میں یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے معرے پاس ہیں میں تو غیب کا علم بھی نہیں رکھتا (سوائے اس کے جس کی خدا مجھے تعلیم دیتا ہے) اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں"۔ (انعام ۔  ـــــــــ 50)
 اگر وہ مادی ودرت کی انتہائی بلندی پر بھی پہنچ جاتے تو بھی ہرگز آپے سے باہر نہ ہوتے اور سلیمان کی طرح کہتے : ھذا من فضل ربی : یہ قدرت و شوکت میرے پروردگار کا فضل ہے۔ (نمل ۔ ــــــــــــ 40)
  قابل توجہ بات یہ کہ قرآن مجٰد میں متعدد آیات میں سخت قسم کی تعبیریں نظر آتی ہیں ، جن میں پیغمبر کی ذات کو مخاطب کرتے ہوئے انھیں عتاب کرتا ہے، اور اس بات کی تننبیہ کرتا ہے کہ وہ اپنی تمام ذمہداریوں کا خیال رکھیں۔
 یہ آیات اور گزشتہ آیات کا مجموعہ جن کی تعداد قرآن میں کم نہیں ہے، اس پیغمبر کی حقانیت پر ایک زندہ مسند ہے۔ ورنہ اس میں کونسی رکاوٹ ےھی کہ ان لوگوں کے سامنے جو آپ کے لیے ہر قسم کے مقام اور منزلت کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے، اپنے لیے بڑے سے بڑے مقام کا دعوٰی کرتے، جو فکر بشر کی دسترس سے بھی بالا تر ہوتا اور ہر قسم کے چوں و ثرا سے دور بھی۔ جیسا کہ تاریخ نے شیطانہ رہبروں کے بارے میں اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کی ہیں۔ 
 ہاں ! زیرِ بحث آیات اور ان ہی جیسی آیات کی تعبیریں رسول اللہؐ کی دعوت کی حقانیت کے زندہ شواہد ہیں۔