Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2: جمیعت کے افراد کازیادہ ہونا اہم نہیں جمیعت کا ایمان اہم ہے۔

										
																									
								

Ayat No : 20-24

: الجن

قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا ۲۰قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ۲۱قُلْ إِنِّي لَنْ يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا ۲۲إِلَّا بَلَاغًا مِنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ۚ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۲۳حَتَّىٰ إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا ۲۴

Translation

پیغمبرآپ کہہ دیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا ہوں. کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ فائدہ کا. کہہ دیجئے کہ اللہ کے مقابلہ میں میرا بھی بچانے والا کوئی نہیں ہے اور نہ میں کوئی پناہ گاہ پاتا ہوں. مگر یہ کہ اپنے رب کے احکام اور پیغام کو پہنچادوں اور جو اللہ و رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم ّہے اور وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والا ہے. یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے اس عذاب کو دیکھ لیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور اور کس کی تعداد کمتر ہے.

Tafseer

									 2-  جمعیت کے افراد کا زیادہ ہونا اہم نہیں جمیعت کا ایمان اہم ہے

 قرآنی آیات میں یہ مطلب بہت زیادہ نظر آتا ہے کہ ہر زمانے کے طاغوت اپنی جمعیت اور افرادی قوت کی دوسروں پر زیادتی پر فخر کرتے تھے اور انبیاء کے مقابلے میں اتراتے تھے۔

 فرعون موسٰیؑ کے طرف داروں کی تحقیر کے لیے کہتا ہے : "ان ھٰؤلاء لشرذمۃ قلیلون:"  "یہ بہت ہی تھوڑے سے آدمی ہیں"۔ (شعراء ـــــــــ 54)
  اور مشرکین عرب یہ کہا کرتے تھے : "نحن اکثرا موالاً واولادًا وما نحن بمعذبین:" "ہم بہت مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں ہوگا"۔(سباـــــــ35)
 اور کبھی ایک بے ایمان آدمی ایک مومن آدمی کے مقابلہ میں اپنی ثروت اور افرادی قوت پر فخر کرتے ہوئے کہتا : انا اکثر منک مالاً و اعز نفرًا  "میرے پاس تجھ سے زیادہ دولت و ثروت اور زیادہ قوی افراد ہیں" (کہف ــــــــــ 34) لیکن اس کے مقابلہ میں، افراد مومن، انبیاء اور خدائی رہبروں کی پیروی میں ، جمعیت کی زیادتی اور افرادی قوت پر تکیہ نہیں کرتے تھے۔ ان کی منطق یہ تھی " کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ: کتنے ہی چھوٹے گروہ ایسے ہیں ہوئے ہیں جو خدا کے حکم سے بڑے بڑے گرہوں پر کامیاب ہوئے ہیں " (بقرہ  ــــــــــــ249)
    امیر المومنین علیؑ فرماتے ہیں : 
 ایھا الناس لا تستو حشوا فی طربق الھدی لقلۃ اھلہ
 اے لوگو ! ہدایت کی راہ میں افراد کی کمی سے ہرگز وحشت نہ کرو۔ ؎ 1
 تاریخ انبیاء خصوصًا پیغمبر اسلامؐ کی تاریخِ زندگی ، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بے ایمان اور بکثرت جمعتیں، ہر قسم کی قدرت رکھنے کے باوجود، مومنین کے تھوڑے سے یاور وانصار کے مقابلہ میں کس طرح سے شکست اور درماندگی کا شکار ہوئے۔ قرآن مجید میں "بنی اسرائیل" و "فرعون" اور "طالوت" و "جالوت" کی داستان میں اور "جنگ بدر" و "احزاب" مربوط آیات میں بھی یہ معنی اچھی طرح منعکس ہوئے ہیں۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1  "نہج البلاغہ" خطبہ 201