کہہ دیجئے : میں کسی سودوزیاں کا مالک نہیں ہوں۔
قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا ۲۰قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ۲۱قُلْ إِنِّي لَنْ يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا ۲۲إِلَّا بَلَاغًا مِنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ۚ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۲۳حَتَّىٰ إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا ۲۴
پیغمبرآپ کہہ دیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا ہوں. کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ فائدہ کا. کہہ دیجئے کہ اللہ کے مقابلہ میں میرا بھی بچانے والا کوئی نہیں ہے اور نہ میں کوئی پناہ گاہ پاتا ہوں. مگر یہ کہ اپنے رب کے احکام اور پیغام کو پہنچادوں اور جو اللہ و رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم ّہے اور وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والا ہے. یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے اس عذاب کو دیکھ لیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور اور کس کی تعداد کمتر ہے.
تفسیر
کہہ دیجیے میں کسی سود و زیاں کا مالک نہیں ہوں
ان آیات میں توحید کی بنیادوں کو مستحکم کرنے اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے لیے ــــــ جس کی طرف گزشتہ آیات میں بھی اشارہ ہوا تھاــــــــپہلے پیغمبر کو حکم دیا جاتا ہے:"کہہ دیجیے : میں تو صرف اپنے ہروردگار کو پکارتا ہوں اور کسی کو بھی اس کا شریک قرار نہیں دیتا۔"(قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّىْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٓ ٖ اَحَدًا)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد حکم ہے :"کہہ دیجیے : میں تمھارے لیے سود وزیاں کا مالک نہیں ہوں اور ہدایت دوسرے کے ہاتھ میں ہے"(قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا)۔
____________
پھر مزید کہتا ہے:"کہہ دیجیے : !(اگر میں بھی اس کے حکم کے خلاف کروں گا) تو کوئی بھی مجھے اس کے مقبلے میں پناہ نہیں دے گا اور میں اس علاوہ کوئہ اور ملجاء اور پناہ گاہ نہیں پاؤں گا۔"(قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْـرَنِىْ مِنَ اللّـٰهِ اَحَدٌ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا)۔ ؎ 1
اس طرح سے نہ کوئی مجھے پناہ دے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی چیز میری پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ یہ باتیں ایک طرف تو خدا کی بارگاہ میں ممکل عبودیت کا اعتراف ہے، اور دوسری طرف سے پیغمبرؐ کے بارے میں ہر قسم کے غلو کی نفی کرتی ہیں اور تیسری طرف سے یہ بتاتی ہیں کہ نہ صرف بتوں سے ہی کوئی کام نہیں ہو پاتا بلکہ خود پیغمبر بھی اس عظمت کے باوجود عذابَخدا کے مقبلہ میں ملجاء اور مستقل پناہ نہیں ہوسکتے۔ اور چوتھی طرف سے ان بہانہ جوئیوں اور بے محل توقعات کو ــــــــــجو ہٹ دھرم لوگ پیغمبرؐ رکھتے تھے اور ان سے خدائی کاموں کے تقاضے کرتے تھےــــــــ ختم کرت ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ توسل اور شفاعت بھی اذانِ خدا سے ہی ہے۔
"ملتحدًا" مطمئن پانہ گاہ کے معنی میں ہے اور اصل میں "لحد" (بروزن مہد) کے مادہ سے اس گڑھے کے معنی میں ہے کو ایک کنارے پر بنایاگیاہو، جیسا کہ مردوں کے لیے قبر کی گہرائی میں کھودا جاتا ہے، جو قبر کی گہرائی میں ایک طرف کو زیادہ کھودتے ہیں اور مردے کے جسم کو اس میں رکھتے ہیں تاکہ اس میں مٹی نہ گرے اور جانوروں کے آسیب سے بھی زیادہ محفوظ وہے، اس کے بعد ہر دوسری مطمئن جگہ اور پناہ گاہ پر اس کا اطلاق ہوا ہے۔
جیسا کہ گزشتہ آیات میں بھی ہم نے اشارہ کیا ہے کہ ان تعبیرات کا مقصد یہ کہ پیغمبر صلی اللہ عیلہ وسلم خدا کے مقبلہ میں اور مستقل طور پر کوئی نقش و اثر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 بعض نے اس آیت کے لیے ایک شانِ نزول بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ کفار قریش پیغمبرؐ سے کہا م اپنے دین سے پھر جاؤ تاکہ ہم تمھیں پناہ دیں تو اوہر والی آیات نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا (تفسیر ابوالفتوح رازی جلد 11 ص 293)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نہیں رکھتےاس کے باوجود وہ خدا سے لوگوں کے لیے مشکلات کے حل کا تقاضا کرسکتے ہیں ، یا شائستہ اور لائق افراد کے لیے ہدایت کی درخواست کر سکتے ہیں اور یہ عین توحید ہے نہ شرک۔
قابل توجہ بات یہ کہ ان آیات میں "ضر" (نقصان) کے مقابلہ میں "رشد" (ہدایت) کو قرار دیا گیا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقی سود اور نفع ہدایت میں ہے ۔ جیسا کہ جنات کی باتوں میں بھی گزشتہ آیات میں "شر" اور "رشد" کے مقچلہ میں قرار پایا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بود والی آیت میں مزید کہتا ہے:"میرا وضیفہ تو صرف خدا کی طرف سے ابلاغ اور اس کے پیغامات کو پہچانا ہے"۔(ِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللّـٰهِ وَرِسَالَاتِهٖ ۚ)۔ ؎ 1
یہ تعبیر اسی چیز کے مشابہ ہے جس کی طرف آیاتِ قرآنی میں باربار اشارہ ہوا ہے، جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ 92 میں آیا ہے :(انَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ)"پیغمبر کے زمہ تو صرف واضح طور پر ابلاغ کرنا (اور پہچانا ہے)"
اور سورہ اعراف کی آیہ 188میں آیا ہے: (قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِىْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّـٰهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْـثَرْتُ مِنَ الْخَيْـرِۚ وَمَا مَسَّنِىَ السُّوٓءُ ۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْـرٌ لِّـقَوْمٍ يُؤْمِنُـوْنَ)۔
"کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے لیے بھی سودوزیاں کا مالک نہیں ہوں، اور اگر میں غیب کی خبر رکھتا ہوتا تو اپنے لیے بہت سا نفع جمع لر لیتا اور
کوئی بھی خرابی مھجے نہیں پہنچتی۔ میں تو صرف اس گروہ کے لیے جو ایمان لے آتے ہیں، ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں "۔
اس جملہ کے لیے بہت سے مفسرین نے ایک اور تفسیر بھی بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ : میں اپنی نجات کے لیے دعوتِ حق کے ابلاغ اور اس کی رسالت کے اداکرنے کے سوا، کسی کی کوئی پناہ گاہ نہیں رکھتا۔ ؎ 2
یہ بات کہ "بلاغ" احکامِ الہٰی مے معنی میں ہے اور "رسالت" ان کے اجراء کے معنی میں۔
لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی معنی کی طرف لوٹیں اور یہ ایک دوسرے کی تاکید ہوں، اور قرآن کی بہت سی آیات اس طرح ہیں، جو ان دونوں کو ایک ہی معنی کی صورت میں بیان کرتی ہیں، مثلًا سورہ اعراف کی آیہ 62، جو یہ کہتی ہے ، "ابلغکم رسالات ربی" "میں اپنے پروردگارکی رسالتیں تمھیں پہنچاتا ہوں"(اور دوسری متعدد آیات)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 چونکہ "بلاغ" صرف "عن" کے ساتھ متعدی ہوتاہے۔ اس لیے بعض نے "من" کو "عن" کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے "کائنا" کا لفظ مقدر سمجھا ہے (اِلا بلا غًا کائنًا من اللہ)
؎ 2 اس تفسیر کے مطابق یہ جملہ گزشتہ جملے (ولن اجد من دونہ ملتحدًا) سے استنثناء ہے اور پہلی تفسیر کے مطابق یہ گزشتہ آیات سے استثناء ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بہرحال آیت کے آخر میں خبردار کرتا ہے کہ "جو شخص خدا اور اس کے رسول کی معصیت اور نافرمانی کرے گا، اس کے لیے جہنم کی آگ ہےاور وہ ہمیشہ اسی میں رہے گا"(وَمَنْ يَّعْصِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ فَاِنَّ لَـهٝ نَارَ جَهَنَّـمَ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا اَبَدًا)۔
یہ بات واضع ہے کہ اس سے مراد ہر گنہگار نہیں ، بلکہ اس سے مراد مشرکین اور کافرین ہیں، کیونکہ ہر گنہگار ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہنے کا مستحق نہیں ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد مزید کہتا ہے : " کفار و مشریکن کی یہ وضع و کیفیت، کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کا استہزاء کرتے اور انھیں ضعیف اور کمزور شمار کرتے ہیں اس وقت یونہی جاری رہے گا، جب کہ وہ اس چیزکو نہ دیکھ لیں جس کا ان سے واعدہ کیا گیا ہے،۔ اس وقت وہ جانیں گے کہ کس کے مددگار زیادہ ہیں، اور کس کی جمعیت کم ہے"۔(حَتّـٰٓى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا)۔
اس بارے میں کہ " مَا يُوْعَدُوْنَ " کے جملہ سے دنیا کا عذاب مراد ہے یا آخرت کا یا دونوں کہ؟ بہت سی تفسرین بیان کی گئی ہین، لیکن مناسب یہ ہے کہ اس کامعنی عام اور وسیع ہو۔ خاص طور پر جبکہ تعداد کی زیادتی اور کمی ، اور ناصر و مددگار کا ضوف و قدرت زیادہ تر دنیا کے ساتھ مربوط ہے ۔ لہذا بہت سے مفسرین نے اس کی جنگِ بدر کے مسئلہ کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ جس میں مسلمانوں کی قدرت و قوت آشکار ہوئی تھی اور بہت سی روایات میں مہدی (ارواحنا فداہ) کے ظہور کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے۔ اس بناء پر اگر ہم آیت کی اس کے وسیع معنی کے ساتھ تفسیر کریں تو یہ سب باتیں شامل ہوں گی۔
علاوہ ازیں سورہ مریم کی آیہ 75 میں بھی ایا ہے : حَتّــٰٓى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَةَ ۚ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَاَضْعَفُ جُنْدًا ۔ "یہ کیفیت اسی طرح برقراررہے گی جب تک کہ وہ خدا کے واعدے کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لیں گے یا اس دنیا کا عذاب یا آخرت کا عذاب، اس دن وہ جان لیں گے کہ کس شخص کی حیثیت بدتر اور کس کا لشکر زیادہ کمزور و ناتواں ہے"۔
بہرحال آیت کا لب و لہجہ بتاتا ہے کہ دشمنانِ اسلام اپنے افراد کی قدرت اور کثرت پر ناز کیا کرتے تھے اور انھیں ضعیف و ناتواں شمار کرتے تھے ، قرآن اس ذریعہ سے مومنین کو تسلی دیتے ہوئے اور ان کی دلداری کرتے ہوئے انھیں خوشخبری دیتا ہے کہ آخر کار ان کی کامیابی اور دشمنوں کی شکست و ناتوانی کا دن آپہنچے گا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "حتٰی" عام طور پر کسی چیز کی غایت اور نیابت کے لیے آتا ہے اور یہاں اس کے لیے دو وجوہ بیان کیے گئے ہیں پہلا یہ کہ ایک محدوف جملہ کی غیت ہے ، اور تقدیرمیں اس طرح ہے "ولا یزالون یستھزءون و یستضعفون المؤمنین حتٰی اذاراواما یوعدون" اور دوسری یہ کہ "یکونون علیہ لبدًا" کی غایت ہو، جو پہلے کی چند آیات میں آیا ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے۔