آیت 20تا 24
قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا ۲۰قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا ۲۱قُلْ إِنِّي لَنْ يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا ۲۲إِلَّا بَلَاغًا مِنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ۚ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۲۳حَتَّىٰ إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا ۲۴
پیغمبرآپ کہہ دیجئے کہ میں صرف اپنے پروردگار کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتا ہوں. کہہ دیجئے کہ میں تمہارے لئے کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ فائدہ کا. کہہ دیجئے کہ اللہ کے مقابلہ میں میرا بھی بچانے والا کوئی نہیں ہے اور نہ میں کوئی پناہ گاہ پاتا ہوں. مگر یہ کہ اپنے رب کے احکام اور پیغام کو پہنچادوں اور جو اللہ و رسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم ّہے اور وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والا ہے. یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے اس عذاب کو دیکھ لیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار کمزور اور کس کی تعداد کمتر ہے.
20- قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّىْ وَلَآ اُشْرِكُ بِهٓ ٖ اَحَدًا
21- قُلْ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا
22- قُلْ اِنِّىْ لَنْ يُّجِيْـرَنِىْ مِنَ اللّـٰهِ اَحَدٌ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا
23- اِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللّـٰهِ وَرِسَالَاتِهٖ ۚ وَمَنْ يَّعْصِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ فَاِنَّ لَـهٝ نَارَ جَهَنَّـمَ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا اَبَدًا
24- حَتّـٰٓى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا
ترجمہ
20- کہہ دیجیے : میں تو صرف اپنے ہروردگار کو پکارتا ہوں اور کسی کو بھی اس کا شریک قرار نہیں دیتا۔
21- کہہ دیجیے : میں تمھارے لیے کسی نقصان یا ہدایت کا مالک نہیں ہوں
22- کہہ دیجیے : !(اگر میں بھی اس کے حکم کے خلاف کروں گا) تو کوئی بھی مجھے اس کے مقبلے میں پناہ نہیں دے گا۔
23- میری ذمہ داری تو صرف خدا کی طرف سے ابلاغ رسالت اور اس کے پیغاموں کو پہچانا ہے، اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ، تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
24- (کفار کی یہ کار شکنی اسی طرح جاری رہے گی)جب تک کہ وہ اسے دیکھ نہ لیں، جس کا نھیں وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وقت انھیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مددگار زیادہ ضعیف ہیں اور کس کی جمعیت بہت ہی کم ہے۔