ہم تمھیں ان فراواں نعمتوں کے ذریعے آزمائیں گے۔
وَأَنْ لَوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُمْ مَاءً غَدَقًا ۱۶لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا ۱۷وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا ۱۸وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا ۱۹
اور اگر یہ لوگ سب ہدایت کے راستے پر ہوتے تو ہم انہیں وافر پانی سے سیراب کرتے. تاکہ ان کا امتحان لے سکیں اور جو بھی اپنے رب کے ذکر سے اعراض کرے گا اسے سخت عذاب کے راستے پر چلنا پڑے گا. اور مساجد سب اللہ کے لئے ہیں لہذا اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا. اور یہ کہ جب بندہ خدا عبادت کے لئے کھڑا ہوا تو قریب تھا کہ لوگ اس کے گرد ہجوم کرکے گر پڑتے.
تفسیر
ہم تمھیں ان فراواں نعمتوں کے ذریعے آزمائیں گے
یہ آیات ظاہرًا جن مومنین کی اپنی قوم سے گفتگو کو جاری رکھے ہوئے ہیں (اگرچہ کچھ مفسرین نے اس خدا کا کلام سمجھا، جو جملہ معترضہ کے طور پر جنوں کی گفتگو کے درمیان آیا ہے)لیکن چونکہ اس کا جملہ معترضہ ہونا خلاف ظاہر ہے اور آیات کی تعبیر گزشتہ آیات کے لب و لہجہ سے زیادہ مشابہ ہے ، جو مومنین کی گفتگو تھی، لہذا اس کا جنون کا کلام نہ ہونا بعید ہے ؎ 1
بہرحال گزشتہ آیات میں، قیامت میں مومنین کے لیے اجر و ثواب کے بارے میں گفتگو تھی، اوت ان آیات میں ان کے دنیاوی اجروثواب کی گفتگو ہے : فرماتا ہے: "گروہ(جن و انس) ایمان کے طریقہ پر استقامت کریں، توہم انھیں فراواں پانی سے سیراب کریں۔"(وَاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِيْقَةِ لَاَسْقَيْنَاهُـمْ مَّآءً غَدَقًا)۔
ہم ان پر اپنی رحمتوں کی بارش کریں گے ، اور حیات بخش پانی کے منابع اور چشمےان کے اختیار میں دے دیں گے اور جہاں پانی کی فروانی ہوتی ہے، وہاں پر ہر چیز کی فروانی ہوتی ہے۔ لہذا اس طرح سے ہم نے انھیں انواؑ اقسام کی نعمتوں سے نوازیںگے۔
"غدق" (بروزن شفق) فراواں پانی کے معنی میں ہے۔
قرآنِ مجید نے اس مطلب پر کئی بار تیکہ کیا ہے ، کہ "ایمان و تقوٰی" نہ صرف معنوی برکات کا سرچشمہ ہیں ، بلکہ مادی ارزاق کی زیادتی ، نعمتوں کی کثرت، آبادی و عمران وآبادی برکت کی زیادتی کا مجب بھی ہے۔اس سلسلہ میں ہم ایک تفصیلی بحث، جلد 14 میںسورہ نوحؑ کی آیہ 12 کے ذیل میں "ایمان و تقوٰی کا عمران و آبادی سے رابطہ" کے عنوان کے تحت کر چکےہیں۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس بیان کے مطابق، وہ چیز جو نعمت کی زیادتی کا سبب بنتی ہے، ایمان پر استقامت ہے، نہ کہ اصل ایمان کیونکہ وقتی اور جلدی گزر جانے والے ایمان سے اس قسم کی برکات ظاہر نہیں ہوتیں۔لہذا اہم چیز ایمان ، تقوٰی پر استقامت ہے، جس میں بہت سوں کے پاؤں لنگ کرنے کگتے ہیں اور لرزاں ہوجاتے ہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت میں اسی سلسلہ میں ایک اور حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "مقصد ہی کہ ہم انھیں دفورِ نعمت کے ذریعہ آزمائیں"۔(لنفتنھم فیہ)۔
آیا نعمت کی زیادتی ان کے غرور کا سبب بنتی ہے یا بیداری، شکر گزاری اور خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کا سبب ہوتی ہے۔
اور یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدائی امتحان کے سباب میں سے ایک دفورِ نعمت ہے اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ نعمت کے ذریعہ جو آزمائیش ہوتی ہے ، وہ عذاب کے ذریعہ ہونے والی آزمائیش سے زیادہ سخت اور زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔ کیونکہ نعمت کی زیادتی کا مزاج،سستی۔کاہلی،غفلت اور لذائز شہوات میں غرق ہوتا ہے ، اور یہ ٹھیک ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو خدا سے دور کردیتی ہے، اور میدان کو شیطان کی فعالیت کے لیے آمادہ کردیتی ہے ،صرف وہی لوگ وفورِ نعمت کی زیادتی کے غیر مطلوب عوارض سے امان میں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنہا وہ چیز جو اس بات کا سبب بنی ہے کہ مفسرین کا یہ گروہ اس خدا کا کلام اور جملہ معترضہ سمجھیں "متکلم مع الغیر" کی ضمیریں ہیں جو ان آیات میں استعمال ہوئیں ہیں، ایک جگہ کہتا ہے کہ ہم انھیں فراواں پانی سے سیراب کریں گےاور دوسری جگہ فرماتا ہے کہ : ہدف و مقصد یہ ہے کہ ہم انھیں آزمائیں گے۔ لیکن اگر ہم ان تعبیروں کو نقل بالمعنی جان لیں تو پھر کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی، یہ ٹھیک اس بات کے مشابہ ہے کہ کوئی اپنے دوست نقل کرے اور کہے : فلاں آدمی کا وقیدہ یہ ہے کہ میں اچھا آدمی ہوں البتہ اس نے لفظ "میں" استعمال نہیں کیا ۔ بلکہ اس نے "وہ" کا لفظ استعمال کیا ہے ، لیکن کہنے والا اس قسم کی تعبیر استعمال کرتا ہے۔
______________________________________________________________
رہ سکتے ہیں ، جو ہمشہ خدا کی یاد میں رہیں اور اس کے ذکر کو فراموش نہ کریں اور دائمی یاد کے ذریعہ خانۂ دل کو شیاطین کے نفوز سے محفوظ رکھیں۔ ؎ 1
لہذا اس کے بعد نزید کہتا ہے :"جو شخص اپنے پروردگار کے ذکر سے روگردانی کرے گا ، تو وہ اسے شدید اور روزافزاں عزاب میں گرفتار کرےگا۔"(َمَنْ يُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا)۔
"صعد" (بروزن سفر) صعود کرنے اور اوپر جانے کے معنی میں ہے اور بعض اوقات "گھاٹی" کے معنی میں آتا ہے اور چونکہ گاٹیوں سے اوپر جانے میں مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ اس لی یہ لفظ "مشقت اٹھانے والوں کاموں" کے معنی مٰن استعمال ہوتا ہے ، لہذا بہت سے مفسرین نے اوپر والی آیت کی اسی طرح تفسیر کی ہے کہ اس سے مراد "مشقت والا عذاب" ہے۔ اس کے مشابہ جو سورہ مدثر کی آیہ 17 میں آیا ہے ، جس میں بعض مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے :"سارھقہ صعودًا" "میں اسے مشقت والے عذاب سے ڈھانپ لوں گا"۔
لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اوپر والی تعبیر، اس عذاب کے مشقت بار ہونے کے ضمن میں ، اس کے روزافزوں ہونے کی طرف بھی اشارہ ہو۔
اس طرح اوپر والی آیات ایک طرف تو ایمان و تقوٰی کا ، زیادتی نعمت سے تعلق بیان کرتی ہے ، اور دوسری طرف نعمت کی زیادتی کا ، خدا کی آزمائشات کے ساتھ تعلق بیان کرتی ہیں اور تیسری طرف خدا کی یاد سے روگردانی کا سخت ترین اور روزافزوں عذاب سے تعلق ظہر کرتی ہیں اور یہ ایسے حقائق ہیں ، جن کی طرف ورآن کی دوسری آیات میں بھی اشارہ ہوا ہے۔
جیسا کہ سورہ طہٰ کی آیہ 124 میں آیا ہے : ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشہ ضنکًا:"جو شخص میری یاد سے روگرانی کرے گا تو اس کی زندگی تنگ اور سخت ہو جائے گی۔
اور سورہ نمل کی آیہ 40 میں حضرت سلیمانؑ کی زبانی بیان ہوا ہے : ھذا من فضل ربی لیبلونی ء اشکر ام اکفر "یہ معرے پروردگار کا فضل ہے ، وہ مجھے آزمانا چاہتا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا رہوں یا کفرانِ نعمت کرتا رہوں"۔
اور سورہ انفال کی آیہ 28 میں آیا ہے: وعلموا انما اموالکم واولاد کم فتنۃ "جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھارے لیے آزمائش ہیں"۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیت میں جن مومنین کی زبانی ، دوسروں کو توحید کی طرف دعوت دینے کے موقع پر اس طرح کہتا ہے:"مساجد خدا کے لیے ہیں، ان مساجد میں خدا کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔"(وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّـٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّـٰهِ اَحَدًا)۔
اس بارے میں کہ یہاں "مساجد سے کیا مراد ہے، گوناگوں تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 بعض مفسرین نے یہ احتمال دیا ہے کہ اوپر والی آیت میں "طریقہ" سے مراد ہی کفر کی راہ ہے، اور اس راہ میں استقامت کے بعد نعمت میں جو زیادتی ہوتی ہے وہ حقیقت میں عذاب کا ایک مقدمہ اور نعمت میں استدراج کا مصداق ہوتا ہے، لیکن یہ تفسیر زیرِ بحث آیت اور اس سے قبل و بعد کی آیات کے لب و لہجہ سے بالکل مناسبت نہیں رکھتی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پہلی یہ ہے کہ اس مراد وہ مکان اور جگہیں ہیں کہ جن کے لیے سجدہ ہوتا ہے ۔ جس کامصداقِاکمل، مسجد الحرام ہے اور اس کا دوسرا مصداق باقی مساجد ہیں اور زیادہ وسیع مصداق وہ تمام جگہیں ہیں جہاں انسان نماز پڑھتا ہے اور خدا کے لیےسجدہ لرتا ہے ، اور پیغمبر کی معروف حدیثکے مطابق، جس میں آپ نے فرمایا:
جعلت لی الارض مسجدًا و طھورًا
"تمام روئے زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور (تمیم کرنے کے لیے)طہارت کا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔ ؎ 1 "
اس میں ہر جگہ شامل ہے اور اس طرح سے یہ مشرکین عرب، اور ان جیسے لوگوں کے اعمال کا، جنھوں نے خانہ کوبہ کو بُت کدہ بنا رکھا تھا،ایک جواب یہ ہے، اور منحرف عیسائیون کے اعمال کا بھی، جنھوں نے "تثلیث" کو اپنا لیا تھا اور اپنے لیا تھا اور اپنے گرجوں میں تین خداؤں کی پرستش کرتے تھے قرآن کہتا ہے: تمام عبادت گاہیں خدا کے ساتھ مخصوص ہیں، اور ان عبادت گاہوں میں خدا کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کیا جا سکتا اور اس کے غیر کی پرستش ممنوع ہے۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ مساجد سے مراد، سجدہ کے سات اس اعضاء ہیں۔ ان اعضاء کو صرف خدا کے لیے زمین پر رکھنا چاہیے اور اس کے گٰر کی لیے جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ مشہور حدیث میں نویں امام محمد بن علی الجوادؑسے نقل ہوا ہے کہ "معتصم عباسی" نے ایک مجلس میں جس میں اہلِ سنت کے علماء جمع تھے، سوال کیا کہ چور کا ہاتھ کہاں سے کاٹنا چاہیے؟ بعض نے کہا کلائی سے، اور اس تمیم والی آیت سے استدلال کیا، بعض دوسروں نے کہا کہ کہنی سے اور انھوں نے وضو والی آیت سے استدلال کیا، معتصم نے آپ سے اس سلسلہ میں وضاحت کی درخواست کی تو پہلے توحضرت نے اس سے خواہش کی کہ وہ اپنے سوال سے صرفِ نظر کرے، جب اس نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا کہ جو کچھ ان حضرات نے کہا ہے وہ سب غلط ہے صرف چار انگلیاں جڑ سے کاٹی جانی چاہیں۔ ہاتھ کی ہتھیلی اور انگوٹھا چھوڑ دینا چاہیے۔ جب معتصم نے اس کی دلیل طلب کی تو امام نے پیغمبر صلی اللہ عیلہ و سلم کے اس ارشاد سے استدلال کیا کہ سجدہ سات اعضاء پر ہونا چاہیے۔ پیشانی ، دوہاتھ ، دو نوں گھٹنوں کے سرے اور پاؤں کے انگوٹھوں کے سرے اور اس کے بعد مزید فرمایا کہ اگر کلائی یا کہنی سے کاٹا جائے گا تو ہاتھ اس کے لیے باقی نہیں رہے گا کہ جس پر وہ سجدہ کرے۔ جبکہ خدا نے یہ فرمایا ہے وان المساجداللہ یعنی یہ سات اعضاء خدا کے لیے ہیں اور جو چیز خدا کے ساتھ مخصوص ہو اسے قطع نہیں کرناچاہیے ۔ اس بات پر معتصم کو بہت تعجب ہوا اور اس نے حکم دیا کہ آنحضرتؐ کے حکم کے مطابق چور کا ہاتھ چاروں انگلیوں کی جڑ سے کاٹا جائے۔ ؎ 2
لیکن جو احادیث اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں وہ عام طور پر سند کے بغیر ہیں، یا ان کی سند ضیعف ہے اور اس سے قطع نظر ان میں ایسا نقص پایا جاتا ہے جن کا جواب آسان نہیں ہے۔ مثلًا ہمارے فقہاء کے درمیان یہ بات مسلمہ ہے کہ اگر "چور" دوبارہ چوری کرے (جبکہ اس پر حد جاری ہوچکی ہو) تو اس کے پاؤں کے اگلے حصہ و فظع کریں گے اور پاؤں کی ایڑی کو سالم رہنے دیں گے۔ حالانکہ پاؤں کا انگوٹھا بھی سجدہ کے سات مقامات میں سے ایک ہے اور اسی طرح "محازب" (ڈر کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 وسائل الشیعہ جلد 2 ص 970 حدیث 3
؎2 وسائل الشیعہ جلد 18 ص 490 (ابواب حدالسرقہ باب 4 حدیث 5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈرنے والے) کے بارے میں جس کی سزاؤں میں سے ایک اس کے ہاتھ پاؤں کے ایک حصہ کو قطع کرتا ہے۔
تیسرا یہ کہ "مسجد" سے مراد وہی سجود ہے یعنی سجدہ ہمیشہ خدا کے لیے ہوناچا ہیے اور اس کے غیر کو سجدہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ احتمال بھی آیت کے ظاہر کے برخلاف ہے، اور اس ہر کوئی بھی شاہد موجود نہیں ہے۔
جو کچھ بیان ہو چکا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ آیت کے ظاہر کے مواقع ہے وہ پہلی تفسیر ہی ہے اور توحید اور عبادت کے خدا کے ساتھ مخصوص ہونے کے بارے میں ، قبل و بعد کی آیات سے مکمل مناسبت رکھتی ہے اور دوسری تفسیر آیت کے مفہوم میں وسعت کی قسم سے ہے لیکن تیسری تفسیر پر کوئی شاید نہیں ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اسی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے ، قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی، حد سے زیادہ تاثیر کو بیان کرنے کے لیے مزید کہتا ہے: "خدا کا بندہ(محمد صلی اللہ و عیلہ وسلم عبادت کے لیے کھڑاہوتا اور خدا کو پکارتاہے تو جنون کا ایک گروہ شدت سے اس کے اطراف میں جمع ہوجاتا ہے"۔(وَاَنَّهٝ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّـٰهِ يَدْعُوْهُ كَادُوْا يَكُـوْنُـوْنَ عَلَيْهِ لِبَدًا)۔
"لبد" (بروزن پدر) اس چیز کے معنی میں ہے جس کے معنی میں ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے کے اوپر تہہ بہ تہہ رکھے گئے ہوں، اور یہ تعبیر اس پہلی ملاقات میں، قرآن سننے کے لیے، جن مومنین کے عجیب و غریب ہجوم کو بیان کرتی ہے، اور اسی طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کے حد سے زیادہ قوت جذب کو بیان کرتی ہے۔
اس آیت کے لیے دو اور تفاسیر بھی بیان ہوئی ہیں پہلی یہ کہ مومنین جن پیغمبر کے اصحاب کی حالت کی تشریح کرتے ہیں کہ وہ اتنی کم تعداد ہونے کے باوجود جو مکہ میں ان کی تھی۔ پیغمبرؐ کے ارشادات کو سننے کے لیے اس طرح سر اور کندھے سے بھی اوپر چلے جاتے تھے۔ اور اس کا مقصد یہ تھا کہ گروہ جن انھیں نمونہ بنا کر ایمان کی طرف آئیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ مشرکین عرب کی حالت کا بیان ہے کہ جس وقت پیغمبرؐ نماز اور قرآن میں مشغول ہوتے تھے تو وہ آپ کے اطراف کو سختی سے گھیر لیتے تھے اور استہزاء کرتے، مذاق اڑاتے اور آپ کو تکلیف و آزار پہنچاہتے۔
لیکن آخری تفسیر جن مبلغین کے ہدف و مقصد کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتی، کیونکہ وہ تو یہ چاہتے تھے کہ دوسروں کو ایمان کا شوق دلائیں لہذا مناسب گزشتہ دو معانی میں سے کوئی ایک ہی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 اس تفسیر کے مطابق اور اس بناء پر کہ یہ جملہ جن مومنین کی گفتگو میں سے ہو، "متکلم" کی بجائے "غائب" کی ضمیر کو لاتا ہے باب "الشقات" سے ہے۔ یا یہ اس لحاظ سے ہے کہ ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ کی حالت کو بیان کر رہا تھا۔(غور کیجیئے)